یوم آزادی
15 اگست 2018 2018-08-15

نیا پاکستان 71 سال پہلے 14 اگست کو بنا تھا۔بانی اس پاکستان کے قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ کوئی مہم جوکوئی فاتح اعظم کوئی سالار اعلیٰ ہرگز نہ تھا۔ قانون،قاعدے،ضابطے،آئین کی زبان میں بات کرنے والا زیرک لیکن مخلص وکیل تھا۔ جس کے پاس یقین قلب عزم صمیم کی طاقت تھی۔
ہم اہل صحافت بندگان مزدور کے تہوار ایسے ہی گزرتے ہیں۔ خبروں کے پیچھے بھاگتے، ایونٹس کی تلاش میں۔اہل خانہ سے دور البتہ رفقائے کار کے ہمراہ۔ عیدیں، شب برات، یوم آزادی ، مذہبی و تہذیبی، ایام خصوصی۔ سب کے سب۔ ڈیڈ لائن،سامنے نیوز ڈیسک پر خبروں کی بھر مار،ان کا انتخاب،نیوز آئیٹم کی کتربیونت یعنی ایڈیٹنگ وہیں اس ڈیسک پر بیٹھے بیٹھے چائے، پانی، کھانا کبھی کبھار وقفوں سے سکرین پر نظر کوئی خبر رہ تو نہیں گئی۔کوئی چینل آگے تو نہیں نکل گیا۔ کوئی خبر مس تو نہیں ہو گئی۔رپورٹر کی زندگی تو اور بھی مشکل۔ اس نے تو فیلڈ میں دوڑ بھاگ کر کے ہلکان ہو کر چھپی ہوئی پوشید ہ خبروں کو نکال کر منظر عام پر لے کر آنا ہے۔ لیکن دل تو بچہ ہے۔ اور قلم،کیمرہ مزدور کا دل تو اور بھی حساس ہے۔ سارے جہاں کا درد ان کے جگر میں ہے۔ لیکن ان کے اپنے دور کا کوئی درماں نہیں۔ اب دل میں چھپا بچہ تو جشن آزادی منانے کیلئے اکساتا ہے۔ ہوتا کیا ہے۔دل میں آرزو ہو تو طریقے ہزار۔حیلے بہت۔ یوم آزادی تو منانا ہے۔ہر حال میں سو ہم اہل صحافت اپنے ہم وطنوں کی خشیوں، مسرتوں کی پروجیکشن کر کے ان کے چہروں پر پھیلی شفق رنگ لالیوں کو، آنکھوں کی مسرت کو پردہ سکرین پر پیش کر کے اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ آتش بازی، منڈیروں پر لہراتے سبز ہلالی پر چم،ٹوپیاں،بیجز،ٹی شرٹیں پہن کر ٹولیوں کی شکل میں جشن آزادی مناتے بچے، بوڑھے،جوان۔ان سب کی سر گرمیوں کو آغاز سے احتتام تک ناظرین کی بصارتوں کی نظر کرنا بھی تو جشن کی ہی ایک صورت ہے۔ اگر یہ اہل قلم، کیمرہ کے مزدور اپنی خوشیاں قربان نہ کریں تو ڈیرہ بگٹی کی سڑکوں پر پرچم لئے گھومتے جفاکش بلوچ کو کیسے خبر ہو کہ اس کا بھائی وزیر ستان میں کس طرح اس آزادی کا جشن کیسے منا رہا ہے۔ جہاں صبح سویرے قبائلی عمائدین جمع ہوئے پاکستان کا جھنڈا لہرایا۔قومی ترانا پڑھا۔ ان سے زیادہ آزادی کی قدر، قیمت کا احساس اور کس کو ہو گا۔ جن کی سر زمین پر کچھ عرصہ قبل تک اغیارنے تسلط جما لیا تھا۔ عرب ملکوں سے بھاگے ہوئے مفرور، وسطی ایشیا کے خونخوار قاتلوں نے جن کے نزدیک انسانی خون کی کوئی اہمیت نہ تھی۔وہ اس کی سر زمین پر قابض ہوئے۔پورے ملک میں دہشت گردی کا ارتکاب
کیا۔پھر وہ غیور پاکستانی جو کبھی اپنے کشمیری بھائیوں کو مشکل میں دیکھ کر سری نگر تک یلغار کرتے جا پہنچے تھے۔ان کی پاک دھرتی کو امریکی ڈرون حملوں نے ادھیڑ ڈالا۔ لیکن تب حکمران کوئی اور تھا۔وہ جو عوام کو مکے دکھاتا تھا۔ جس کو احتساب کا کوئی خوف نہ تھا۔ جو کسی سے ڈرتا ورتا نہیں تھا۔البتہ رچرڈ آرمٹیج کی ٹیلی فون کال پر اس کی ٹانگیں کانپ جاتیں۔کیونکہ اس کو تو اقتدار کا دوام چاہیے تھا۔ اس کے دور میں تو بلوچستان میں علیحدگی پسند باغی دہشت گرد اس قدر نڈر ہو گئے کہ یوم آزادی منانا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ 14 اگست کو سکولوں، ہسپتالوں، سرکاری عمارتوں پر جھنڈا لہرانا بھی ناممکنات میں سے تھا۔ البتہ محب وطن قبائلی سرداروں کے قتل عام کا دل پسند کھیل جاری تھا۔ پھر 2008کے بعد قوم نے انگڑائی لی۔ بتدریج دور مشرف کی آخری نشانیوں کو نکال باہر کیا۔قوم نے دہشت گردی کو پسپا کرنا شروع کیا۔جیسے جیسے دہشت گرد عناصر پیچھے ہٹتے گئے قوم آگے بڑھتی گئی۔وہ بلوچستان ہو یا کراچی،شمالی علاقہ جات ہویا قبائلی علاقے۔دہشت گردی کے گرفت سے نکلتے چلے گئے۔آج گوادر کے ساحلوں سے لیکر خنجراب کی آسمان کو چھوتی چوٹیوں تک قوم بے فکری کے ساتھ یوم آزادی منا رہی ہے۔ایسے میں یہ میڈیا ہے۔ ٹی وی چینلوں کے دفاتر میں بیٹھے خاموش سپاہی ہیں۔جو ایک ایک لمحہ کو کیمرہ کی جادوئی گرفت میں لیکر سات بر اعظموں کے کونے کونے تک براہ راست پہنچا رہے۔ چاروں صوبوں،گلگت،بلتستان، آزاد کشمیر میں اہل وطن چلتے پھرتے اپنے ڈرائینگ روموں میں بیٹھے ایک دوسرے کے جشن مسرت میں شریک ہیں۔ خوشیوں کی تقسیم، ترسیل کیلئے چھٹی کی قربانی کوئی بڑی بات نہیں۔ تزئین گلستان کیلئے چھٹی کی قربانی کیا چیز ہے۔کوئی ان خاموش سپاہیوں کا نام لے نہ لے۔لیکن اتنا اطمینان کافی ہے کہ ہماراخون بھی گلشن کی ہریالی میں شامل ہے۔ جشن آزادی منانے کے بہت طریقے ہیں۔سبز کرتہ پہنے سبز ہلالی پرچم،واسکٹ یا کوٹ کی جیب، ٹی شرٹ، گاڑی پر آویزاں جھنڈا۔ حالات، فرست، وقت اور وسائل کے مطابق احساس شرکت ہی کافی ہے۔بندہ مزدور مبتدی کالم کار بھی صبح سے شام تک ایسے ہی چکی کی مشقت جشن آزادی کے خوش رنگ ہنگاموں کا شریک کار رہا۔ صبح اٹھ کررفیق درینہ چیئر مین یونین کونسل ملک جہانگیر کے رابطہ آفس میں پرچم کشائی،سینکڑوں مہمانوں ں کے ہمراہ ناشتہ، موسم مزاج کے مطابق لذیذ ناشتے کی محفل اس لطف کو دوبالا کر گئی۔راولپنڈ ی کے دو رفتادہ کونہ سے بھاگم بھاگ ریڈ زون کی پٹی سے کچھ میٹر پیچھے نیشنل پریس کلب جہاں پرچم کشائی کے علاوہ شجر کاری مہم کے آغاز کا بھی اہتمام تھا۔قومی پرچم لہرانے کی سعادت سے بڑھ کر اور کیا خوش نصیبی ہو سکتی ہے۔باقی رہی شجر کاری تو اب ماحولیات بچانے کیلئے جنگی بنیادو ں پر کام کرنا ہوگا۔پانی ہمارے پاس کم ہے۔اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے کیلئے جنگلات،زرعی رقبے ہم نے بیچ کھانے ہیں۔ماڈرن طرز کے ہاؤسنگ پراجیکٹ تو ہمارے پاس بہت ہیں۔زمینیں فروخت کر کے چمچماتی گاڑیاں،جدید مہنگے سیل فون،سامان تعیش تو ہمارے پاس بہت آ گئے لیکن ختم ہواتو سائے کیلئے درخت، پینے کیلئے پانی،کھانے کیلئے خوراک کی دن بدن کمی ہوتی جا رہی ہے۔اللہ نہ کرے یہ کمی قحط کی شکل اختیار کرجائے۔ اس سے پہلے جنگی بنیادوں پر شجر کاری کرنا ہو گی۔پانی کے ذخائر تعمیر کرنا ہونگے۔ 71واں یوم آزادی تو پرانے پاکستان ہی کی فضاؤں میں منایا۔ امید واثق ہے کہ قائد اعظم کا جمہوری پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔ پاکستان کو اپنی مٹھی میں لیکر چلانے کے خواہش مند کئی قبضہ گیر اور چلے گئے۔ نام و نشان مٹ گئے۔ ان نیا پاکستان بنانے والوں کے پاکستان کی عوام کی قربانیوں، جمہوریت کے ساتھ وارفتگی کاکھیل آگے بڑھ رہا ہے۔ اور آگے بڑھتا رہے گا۔جنونیوں کا کوئی طائفہ، فدائیوں کا کوئی گروہ اس کو تبدیل نہیں کر سکے گا۔


ای پیپر