شہباز شریف: ن لیگ کی بقا کا دارومدار
15 اگست 2018 2018-08-15

پاکستان کی لہراتی اور بل کھاتی سیاست انتخابات کی آب و تاب کے بعد اب ایک نئے دور کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی پر فتح کے ڈونگرے آہستہ آہستہ مدہم ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ سنجیدگی آ رہی ہے۔ نئی حکومت کے باگ ڈور سنبھالنے سے پہلے یوم آزادی کے موقع پر پوری قوم کی طرف سے شدت سے انتظار ہے کہ تحریک انصاف کے دامن میں ان کے لیے کیا ہے۔ شاعر مشرق نے فرمایا تھا کہ زمانے کے انداز بدلے گئے نیا راگ ہے ساز بدلے گئے۔ اس نئے ماحول میں پرانے چہرے بھی اپنے لیے رول کی تلاش میں ہیں۔

اس پس منظر میں شہباز شریف کے لیے ایک بہت بڑا جیلنج یہ ہے کہ حالات کا کس طرح مقابلہ کرنا ہے ایک محاورہ ہے کہ چھوٹا کتنا ہی بڑا ہو جائے وہ چھوٹا ہی رہتا ہے۔ نواز شریف کے دور میں کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ شہباز شریف کا سیاسی قد کاٹھ اپنے بڑے بھائی سے بڑھ چکا ہے مگر نواز شریف کی قیادت کی وجہ سے ان کا کردار ان کے سائے میں چھپا رہتا ہے مگر وقت پڑنے پر یہ مفروضہ غلط ثابت ہوا۔ شہباز شریف پارٹی اور مداحوں پر ہو سحر طاری نہ کر سکے جو میاں نواز شریف کی ذات کا حصہ تھا۔ مرزا غالب نے ایسے ہی موقع پر کہا تھا کہ:

بھرم کھل جائے ظالم تیری قامت کی درازی کا

اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے

نواز شریف کی اقتدار سے محرومی اور پھر قید کے بعد زمام کار شہباز شریف کے ہاتھ آئی تو ان کی قیادت کا بھرم کھل گیا۔ پارٹی ہوا کے تھپیڑے برداشت نہ کر سکی، اور ارکان زرد پتوں کی طرح گرتے چلے گئے۔ شہباز شریف جو اپنی جذباتی تقریروں کی وجہ سے مشہور تھے۔ کچھ نہ کر سکے ان کی پارٹی اقتدار سے باہر ہو گئی اور انہوں نے عجلت میں پیپلز پارٹی کے ساتھ قربتیں بڑھا لیں۔ مگر پیپلز پارٹی کو نا کی کمزوریوں کا پتہ ہے کہ ان کے بادبان کسی بڑے طوفان کا جھٹکا نہیں سہہ سکتے اس لیے پیپلز پارٹی

نے انہیں آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں۔

شہباز شریف وہ سیاسی لیڈر ہے جو اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی خونی انقلاب کی پیش گوئیاں کیا کرتے تھے اور جلسوں میں جیب جالب کی بغاوت بھری نظمیں پڑھا کرتے تھے جو معنی و مفہوم میں ان کے لیے خلاف ہوتی تھیں وہ جتنا طویل عرصہ اقتدار میں گزار چکے ہیں اتنا عرصہ کسی پرندے کو پنجرے میں رکھا جائے تو وہ اڑنا بھول جاتا ہے۔ اقتدار کے پنجرے سے آزاد ہو کر دیکھتے ہیں کہ شہباز کی پرواز کی بلندی کیا ہوتی ہے۔ ایک طرف تو انہیں تحریک انصاف جیسی پاپولر پارٹی کا مقابلہ کرنا ہے جبکہ دوسری طرف اپنے گزشتہ ادوار میں اپنے اعمال کا جواب دینا ہے جس کے لیے احتساب بیورو میں ان کے خلاف اربوں روپے کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں پارٹی کو یکجا رکھنے کا چینلج سب سے بڑا چیلنج ہے۔ کیونکہ جب اقتدار کی کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو پاکستان میں اسے بچانے کے لیے بوجھ اتارنا نہیں پڑتا بلکہ مفاد پرست ساتھی خود ہی سمندر میں چھلانگ لگا دیتے ہیں اور پارٹی لہروں کی نزز ہو جاتی ہے۔ یہ ہماری تاریخ ہے جس کا سب سے زیادہ شکار مسلم لیگ ن ہی ہوتی رہی ہے۔

خادم اعلیٰ کا خود ساختہ لقب رکھنے والے شہباز شریف کے سر پر ماڈل ٹاؤن واقعہ کی انکوائری۔ 56 کمپنیوں میں بد عنوانی اور بد انتظامی کے سنگین الزامات ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے پاس ن لیگ کے گھر کے بھیدی موجود ہیں جو کسی وقت بھی شہباز شریف کی لنگا ڈھا سکتے ہیں۔ پنجاب کے نامزد گورنر چوہدری سرور اور نامزد سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی دو ایسے بندے ہیں جو شہباز شریف کی پارٹی میں فارورڈ بلاک بنوا کر حیرت انگیز نتائج سامنے لا سکتے ہیں۔ یہ دونوں چوہدری ن لیگ اور شریف فیملی کے خلاف پرانے حساب چکانے کے لیے بے تاب ہیں۔ چوہدری سرور گورنر پنجاب تھے مگر وہ کس ی ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو فون کرتے تھے تو انہیں بتایا جاتا تھا کہ شہباز شریف نے ہمیں آپ کے احکامات پر عمل نہ کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ مجبوراً انہوں نے ن لیگ بھی چھوڑ دی اور گورنری بھی۔ اسی طرح چوہدری پرویز الٰہی یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ پوری کی پوری ق لیگ نواز شریف کے قدموں میں گڑگڑا کر معافی مانگ کر واپس چلی گئی اس وقت نواز شریف کی طرف سے ق لیگ کے لیے یہ عام معافی کا اعلان کیا گیا مگر اس میں چوہدری برادران کو باہر رکھا گیا۔ حالیہ انتخابات کے بعد زخم خوردہ ن لیگ نے پرویز الٰہی سے اتحاد کے لیے رابطہ کیا مگر وہ اپنا زخم بھولے نہیں تھے انہوں نے اپنا وزن انصاف کے پلڑے میں ڈال دیا۔

شہباز شریف کے Caliber کا اندازہ اب ہو گا۔ انہیں اچھا ایڈمنسٹریٹر کہا جاتا ہے۔ مگر ان کی ایڈمنسٹریشن یہی تھی کہ جہاں کوئی واقعہ ہوتا تھا وہاں ان کا ہیلی کاپٹر فوراً جا اترتا تھا حالانکہ اگر in-bulit سسٹم موجود ہو تو اس طرح کے کریش پروگرام کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ہو بیورو کریسی اور پولیس کو ہینڈل کرنے کے ماہر ہیں مگر بطور اپوزیشن لیڈر انہیں ایک اور طرح کا رول دیا گیا ہے جس کا بیوروکریسی سے کوئی تعلق نہیں۔

انہیں گہرے سمندر میں تندو تیز بہاؤ کے مخالف سمت میں تیرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ جس میں ان کے پاس کوئی لائف جیکٹ نہیں ہے لہٰذا ان کی حکمت و () کا اندازہ اب ہو گا کہ وہ کتنے بڑے لیڈر ہیں۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو انتخابات کے بعد منظر سب سے زیادہ بدلا ہوا اگر کسی کے لیے ہے تو وہ شہباز شریف ہی ہیں پیپلز پارٹی سے تو اپنی 2013 ء والی پوزیشن بر قرار رکھی ہوئی ہے ۔ شہباز شریف پہلی دفعہ قومی سیاست میں آئے ہیں یہ پنجاب کی حکمرانی سے مختلف کام ہے یہاں انہیں پاکستان کو دیکھنا ہے اگر وہ بھر پور سیاست کرتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ نواز شریف پر قائم مقدمات میں ان کے لیے عدالتوں سے ریلیف کی کوئی صورت نکل آئے۔

بحران کے مد مقابل ہی انسان کی شخصیت کا اصل چہرہ ابھرتا ہے کچھ لوگ مرد بحران ہوتے ہیں وہ ایسے موقوں پر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ ابھرتے ہیں مگر کمزور ہو جاتے ہیں۔ شہباز شریف کو ان دو انتہاؤں کے درمیان اپنا دائرہ کار متعین کرنا ہے۔ فیصلہ وقت کرے گا۔


ای پیپر