فیصل آباد میں مسلم لیگ (ن) کی شکست کے اسباب

15 اگست 2018

خالد بھٹی
فیصل آباد میں مسلم لیگ (ن) کی شکست کے اسباب
فیصل آباد میں مسلم لیگ (ن) کی شکست کے اسباب

ضلع فیصل آباد میں 25 جولائی کے عام انتخابات میں تبدیلی کی ہوا پورے زوروشور سے چلی ہے۔ ضلع فیصل آباد کی 10 میں سے قومی اسمبلی کی 9 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف نے 6 نشستیں حاصل کیں جبکہ مسلم لیگ ( ن ) کے حصے میں محض 2 نشستیں آئیں جبکہ ایک نشست پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ مگر تبدیلی کی یہ ہوا صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر اس زور سے نہیں چلی کیونکہ 22 صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں سے 21 پر انتخابات منعقد ہوئے جن میں سے 10 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں اور حیران کن ہے کہ جو مسلم لیگ ( ن ) قومی اسمبلی کی نشستوں پر بری طرح شکست کھا گئی وہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر اپنی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئی۔
2013ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ( ن ) نے ضلع فیصل آباد کی قومی اسمبلی کی تمام 11 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ صوبائی اسمبلی کی 22 میں سے 20 نشستوں پر بھی کامیاب ہوئی تھی۔ 2013ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے حصے میں کوئی نشست نہیں آئی تھی۔ مسلم لیگ ( ن ) کے واضح سیاسی غلبے اور کامیابی کو محض 5 سال کے عرصے میں واضح ناکامی میں بدلنے میں سب سے اہم کردار پاور لومز اور ٹیکسٹائل صنعت کے بدترین بحران نے اہم کردار ادا کیا۔ مسلم لیگ ( ن ) کی مرکزی حکومت پاور لومز اور ٹیکسٹائل کی صنعت کو اس بحران سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکی جس کا سامنا یہ صنعت کئی برسوں سے کر رہی ہے۔ 2013ء میں پاور لومز اور ٹیکسٹائل ملوں کے مالکان اور محنت کشوں نے اس امید پر مسلم لیگ ( ن ) کو ووٹ دیئے تھے کہ وہ اقتدار میں آ کر ان کے مسائل حل کرے گی اور اس صنعت کو بحران سے نکالے گی۔ مگر فیصل آباد کے صنعت کاروں اور محنت کشوں کی یہ امیدیں اور توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ مسلم لیگ ( ن ) کی حکومت نے اس اہم ترین شعبے کو بہت حد تک نظر انداز کیا۔ مسلم لیگ ( ن ) کی قیادت کا خیال تھا کہ انہوں نے صنعتوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دے کر بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنا دیا جو کہ ان کے انتخابات جیتنے کے لئے کافی ہو گا مگر ایسا نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ فیصل آباد شہر کی قومی اسمبلی کی چاروں نشستوں پر مسلم لیگ ( ن ) کے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق وزراء عابد شیر علی ، اکرم انصاری اور رانا افضل تحریک انصاف کے امیدواروں سے ہار گئے۔ جبکہ ٹی وی چینلز پر قیادت کا پرجوش دفاع کرنے والے میاں منان بھی شکست سے دو چار ہوئے۔ ٹیکسٹائل اور پاور لومز کی صنعت کے مسائل اور بحران کو حل نہ کرنے کی سزا مسلم لیگ ( ن ) کو بھگتنی پڑی ہے۔ فیصل آباد کی معیشت کا دارومدار پاور لومز اور ٹیکسٹائل کی صنعت پر ہے۔ اس صنعت سے لاکھوں محنت کش وابستہ ہیں۔ اس صنعت پر جب بھی بحران آتا ہے تو اس سے لاکھوں خاندان متاثر ہوتے ہیں۔ بے روز گاری اور معاشی بدحالی میں اضافہ ہوتا ہے۔ فیصل آباد ریونیو کمانے کے لحاظ سے پاکستان کا دوسرا اہم ترین ضلع ہے۔ جس کا پاکستانی برآمدات میں بھی نمایاں حصہ ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت اگر اس صنعت کے بحران اور مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی تو اسے بھی اسی قسم کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے اس وقت مسلم لیگ ( ن ) دوچار ہے۔
مسلم لیگ ( ن ) کی شکست میں دوسرا اہم ترین کردار امیدواروں کے غلط انتخابات نے ادا کیا۔ مسلم لیگ ( ن ) نے کئی حلقوں میں ایسے امیدواروں کو دوبارہ ٹکٹ جاری کئے جو کہ ووٹروں میں اچھی شہرت کے حامل نہ تھے۔ مثلاً جس حلقے این اے 105 سے میرا اپنا تعلق ہے اور میں نے وہیں پر اپنا ووٹ ڈالا یہ بات بہت پہلے سے واضح تھی کہ سابق ایم این اے میاں فاروق دوبارہ منتخب نہیں ہو سکیں گے مگر اس کے باوجود ان کو دوبارہ ٹکٹ جاری کیا گیا اور نذیر فیملی کے نوجوان امیدوار چوہدری مسعود نذیر کو نظر انداز کیا گیا۔ چوہدری مسعود نذیر نے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑا اور مسلم لیگ ( ن ) کے ٹکٹ ہولڈر سے زائد ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے۔ اس طرح میاں منان این اے 109 میں ووٹروں کے پسندیدہ امیدوار نہیں تھے یہی وجہ ہے کہ وہ بھاری مارجن سے شکست کھا گئے۔ مسلم لیگ ( ن ) کی قیادت کے نزدیک ان کے ساتھ وفاداری اور ان کا ہر صورت میں دفاع ہی شاید شکش کا واحد پیمانہ اور معیار ہے۔ مسلم لیگ ( ن ) کے امیدواروں کی طرف سے اپنے حلقوں میں وقت نہ دینے اور ووٹروں سے رابطہ نہ رکھنے کی وجہ سے بھی ووٹر ناراض تھے۔ انہوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی ناراضگی اور ناپسندیدگی کا اظہار کر دیا۔
مسلم لیگ ( ن ) کے کمزور امیدوار گزشتہ انتخابات میں اس لئے کامیاب ہو گئے تھے کہ تحریک انصاف اس وقت بہت کمزور تھی اور آزاد ووٹروں نے مکمل طور پر مسلم لیگ ( ن ) کو ووٹ دیا تھا۔ اس طرح آزاد ووٹروں نے تحریک لبیک اور تحریک انصاف کو ووٹ دیا اور مسلم لیگ ( ن ) کے امیدوار محض اپنے ووٹ بینک کے بل بوتے پر کامیابی نہ سمیٹ سکے۔ البتہ عابد شیر علی اور رانا افضل تبدیلی کی لہر کا شکار ہوئے۔ دونوں نے ڈٹ کر مقابلہ یکا مگر شکست سے دوچار ہوئے۔ یہی صورت حال طلال چوہدری کے حلقے میں بھی تھی۔ وہ نواب شیرویر سے ہار گئے۔
مسلم لیگ ( ن ) کی ناکامی میں ایک اہم وجہ مسلم لیگ ( ن ) کے اندر کے دھڑے بندی بھی ہے۔ مسلم لیگ ( ن ) شہر میں واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہے۔ ایک دھڑے کی قیادت چوہدری عابد شیر علی کرتے ہیں تو دوسرا دھڑا رانا ثناء اللہ کی قیادت میں متحرک ہے۔ عابد شیر علی اور رانا افضل کی شکست میں دیگر عوامل کے علاوہ آپسی اختلافات اور دھڑے بندی نے بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ گزشتہ عام انتخابات اور 2015ء کے بلدیاتی انتخابات میں بھی یہ دونوں دھڑے آمنے سامنے تھے مگر مرکز اور پنجاب میں حکومت کا فائدہ مسلم لیگ ( ن ) کو پہنچا اور وہ دھڑے بندی کے باوجود جیت گئے۔ اس جیت نے دونوں دھڑوں کو ضرورت سے زیادہ پر اعتماد بنا دیا جو بالآخر ان کی شکست کی وجہ بنا۔ نہ صرف یہ کہ عابد شیر علی ، اکرم انصاری اور رانا افضل قومی اسمبلی کا انتخاب ہارے بلکہ رانا ثناء اللہ ، شیخ اعجاز اور نواز ملک صوبائی نشستیں ہار گئے۔ مسلم لیگ ( ن ) کی سینئر قیادت ان انتخابات میں ہاری ہے۔ اگر یہ دھڑے بندی برقرار رہی اور یہ رہنما آپس میں لڑتے رہے تو فیصل آباد شہر سیاست میں مسلم لیگ ( ن ) کی واپسی اتنی آسان نہیں ہو گی۔
مسلم لیگی رہنماؤں کو رانا ثناء اللہ کی صوبائی نشست پر ناکامی سے سبق سیکھنا چاہئے۔ انہوں نے اپنے حلقے میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے۔ مگر طاقت کے نشے میں انہوں نے ایسے اقدامات کئے جس سے ان کی مقبولیت کم ہوئی اور انہیں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں اور اپنے مخالفین کے ساتھ سلوک بھی اخلاق اور انسانیت کے اعلیٰ معیار اور روایات کے مطابق ہونا چاہئے۔
سیاست میں نظریات ، اصول اور پروگرام اگرچہ رخصت ہو چکے ہیں مگر شائستگی رواداری اور انسانی اقدار ہر صورت میں برقرار رہنی چاہئیں ورنہ سیاست محض گالی گلوچ، لڑائی جھگڑے، نفرتوں اور باہمی رنجشوں میں اضافے کا ذریعہ رہ جاتی ہے۔
فیصل آباد میں تحریک انصاف کی حمایت کی لہر نے مسلم لیگ ( ن ) کی شکست میں ضرور کردار ادا کیا ہے اور تحریک انصاف کی مقبولیت بڑھی ہے مگر اس سے بھی اہم کردار عوام کی توقعات اور امیدوں کو پورا نہ کرنے ، امیدواروں کے غلط انتخاب اور آپسی لڑائیوں نے ادا کیا ہے۔

مزیدخبریں