احساسِ پاکستان
15 اگست 2018 2018-08-15

احساس کی دُنیامیں کچھ دیر کے لیے سوچئے ۔۔۔کیا آج ہم پیارے پاکستان کا حال کرائے داروں کی طرح نہیں کر رہے؟آپ کے مشاہدے میں یہ بات تو یقیناًآئی ہوگی کہ پٹھا ن ٹرک ڈرائیورز اپنے ٹرکوں کو دلہن کی طرح سجاتے ہیں ،اوراگر راستے میں کوئی اینٹ پتھر وغیرہ آ جائے تو خود نیچے اُترتے ہیں، یا پھر اپنے ہیلپر کو نیچے اتار کر پتھر ہٹانے کو کہتے ہیں ،کیونکہ ٹرک ڈرائیور جانتا ہے ،کہ میرا روزگار ٹرک کے ساتھ وابستہ ہے ،اگر میں نے راستے سے پتھر نہ اُٹھایا تو میرے ٹرک کا ٹائر پھٹ سکتا ہے اور ٹرک بھی الٹ سکتا ہے ،جانی نقصان بھی ہوسکتا ہے پٹھان ڈرائیور زٹرک کا خیال اپنے بچوں کی طرح رکھتے ہیں، ا ور راستے میں آنے والے دریاؤں اور نہروں پر ٹرک کھڑا کر کے دھوتا بھی ہے، ٹرک اور ٹرک مالک کا خیال اوراحساس بھی کرتا ہے ،کیا ہمارے پیارے ’’ پاکستان‘‘ کے ساتھ پٹھان کے ٹرک جیسا سلوک نہیں کر سکتے ،کیا ہم اپنے وطن عزیز کا حال کرائے کے مکان جیسا کرنے کے متمنی ہیں؟ اشرف المخلوقات کے خطاب سے نوازے گئے انسان کے بعد مشاہدات کی دُنیا میں آپ نے ایک ننھی منی سی مخلوق کو تو دیکھا ہوگا ،جسے ہم شہد کی مکھیاں کہتے ہیں ،ہمارے کل کے افلاطون پھٹی پتلون اورآج کے سقراط وبقراط نما خودغرض سیاستدانوں سے تو بہتر حکمرانی کر لیتی ہیں،اس ننھی مُنی سی مخلوق کے بھی کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں، جس کے تحت ہزاروں مکھیاں اپنے چھتے کی حفاظت کرتی ہیں ،اور دور دراز سے پھولوں کا رس چوس کر اپنے چھتے نما گھر میں رکھتی ہیں اس کمزور ناتواں پرندے کا نظامِ زِندگی انسانی سیاست اور حکم رانی کے اصول کے مطابق ہے،چھتے کا تمام انتظام ایک بڑی مکھی کے پاس ہوتا ہے،وہ تما م مکھیوں پر عدل کے ساتھ حکم رانی کرتی ہے،وہ اپنی رعایا کو مختلف کام سونپتی ہے ،ان میں سے کچھ چوکیداری کے فرائض انجام دیتی ہیں اور یہی چوکیدار مکھیاں کسی نامعلوم اور بیرونی مکھی کو اندر آنے سے روکتی ہیں اور ہر طر ح سے اپنے گھر کی حفاظت کرتی ہیں، دِل چسپ اور حیران کن بات یہ ہے، ان میں سے اگر کوئی مکھی گندگی پر بیٹھ جائے یا پھر شرارتی اور فسادی سرگرمیوں میں ملوث پائی جائے تو چھتے کے چوکیدار اسے باہر ہی روک لیتے ہیں اور اسے مار دیا جاتا ہے، یا اس کو سزا دی جاتی ہے نہ کوئی پیشی نہ تاریخ اور نہ کسی کی سفارش بروقت فیصلہ اور بروقت سزا ، جبکہ ایک طرف ہمارے محافظ حکمران ہیں کہ ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ،پیارے پاکستان میں دشمن بڑی شان وشوکت سے موجیں کر رہے ہیں ،جس کا جہاں دل چاہتا ہے جائے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ،خون خرابہ کریں ، بھتہ نہ دینے کی پاداش پر سینکڑوں غریب ورکرز سمیت فیکٹری کوآگ لگا دیں ، بے قصور لوگوں کو گھر وں سے اٹھا لیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اٹھا کر لے جائیں اور ریمنڈ ڈیوس جیسے سفاک قاتل ، پاکستان میں ڈرون حملوں، دہشت گردی کی کارروائیوں کے ماسٹر مائنڈ،ہزاروں معصوم شہریوں کو رزقِ خاک کرنے والے قومی مجر موں کو باعزت رہا کردیا جائے، پاکستان ہمیں بنابنایا مل گیا ہے ، پاکستان حاصل کرنے کے لیے کس نے کتنی قربانیاں دِیں یہ تاریخ کے طالب علم یا پچاسی،چھیاسی سالوں کے مہاجربزرگوں سے پوچھ کردیکھ لیں اورجن لوگوں نے پاکستان کے بننے پر اعتراض کیا اور مخالفت کی وہ آج کے محب وطن ٹھہرے، قربانیوں والے آج بھی ملک کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور موشگافیوں والے آج بھی اپنا کردار ادا کررہے ہیں میرے تجزیے کے پیش نظر اگر پاکستان نہ ہوتا تو ہمارے وزیر ،مشیر،سفیر جو کالے شیشوں والی قیمتی گاڑیوں میں عیاشی اور بدمعاشی سے گھوم پھر رہے ہیں وہ آج کالی قمیض اور سفید شلوار پہن کر ریڑھی بان ہوتے یاپھر گدھا ریڑھیوں پر سبزیاں اور مٹی کا تیل بیچ رہے ہوتے،کوئی ٹرین میں قلفیاں بیچ رہا ہوتا ،کوئی کالی ماتا کے مندر کے سامنے پھولوں کے ہار پرو رہا ہوتا ،کوئی بھگوانوں کے مجسموں کو پالش کر رہا ہوتا ،کوئی چمٹا بجا رہا ہوتا اور کوئی رکشا چلا رہا ہوتا،کوئی چوہے مار دوائی بیچ رہا ہوتا،کوئی بال کاٹ رہا ہوتا اور کوئی جوتے گانٹھ رہا ہوتااور کوئی چوڑی پاجامہ پہن کر پان کا کھوکھا بنا کر بیٹھا ہوتامودی سرکارکے غنڈے اس سے مفت میں پان لیتے اور دو چار گالیوں سے نواز کر آگے چلے جاتے جیسا کہ آج وہاں کے مسلمانوں کا حال ہے آج ان بے ادب،بے علم اوربے عمل حکمرانو ں،شعبدہ بازوں اور سیاسی پنڈتوں نے پیارے پاکستان کوبدحال اوراپنے خاندان کو خوشحال بنا دیا ہے حکمرانوں کے بیٹے،بیٹیاں،بھانجھے ،بہنوئی،داماد اورسمدھی اکانومی کے ہر چوراہے پرسانپ کی طرح پھن پھیلائے جھوم رہے ہیں نہ کوئی میرٹ ،نہ کوئی چال نہ کوئی حال،جیسے اندھا بانٹے ریوڑیاں یاپھر ایسے جیسے اندھے کے پاس ٹارچ ہو،بہرہ ریڈیو سن رہا ہو،لنگڑا فٹ بال کھیل رہا ہو،گونگا بانسری بجارہا ہو اور گنجا کنگھی کررہا ہو پاکستان کا قیام کروڑوں دِلوں کی آوازتھا کروڑوں زندگیوں کا نصب العین تھاایک عزم تھااور ایک سچا جذبہ تھا جس نے پاکستان کو ایک وجود بخشا ہندوؤں،انگریزوں کی تمام تر مذموم سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجودپاکستان بن گیا اور ہم ہندوؤں کی غلامی سے تو آزاد ہوگئے لیکن انگریزوں کی غلامی ابھی تک ہمارے ذہنوں میں سمائی ہوئی ہے ۔


ای پیپر