آنسو بن گئے موتی !
15 اگست 2018 2018-08-15

پاکستان تحریک انصاف کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں جو حکومت قائم ہونے جارہی ہے اس سے عوام کو بے پناہ توقعات وابستہ ہیں کیونکہ وہ مسلسل اکہتر برس سے بنیادی سہولتوں اور بنیادی حقوق سے محروم چلے آرہے ہیں۔ جو بھی ماضی میں حکومت وجود میں ائی اس نے ان سے کئی وعدے کئے مگر وہ انہیں پورا کرنے میں ناکام رہی اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ اسے ایک گلاسٹرانظام ملا جس میں وہ ایک طرح سے الجھ کر رہ جاتی کچھ اس کی اپنی نیت میں بھی فتور ہوتا کہ اسے پہلے عوام کی نہیں اپنی ذات سے متعلق اقدامات کرنے چاہئیں سو وہ ان میں محورہتی۔ اسے دوسروں کا خیال ہی نہ ہوتا لہٰذا مسائل بڑھتے گئے مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا عوام میں حکمرانوں کے خلاف نفرت پیدا ہونے لگی احساس بیگانگی واحساس محروم بھی جنم لینے لگے تو ایک بہت بڑے بگاڑ میں سامنے آنے لگے مگر اہل اختیار واقتدار کو ذرہ بھر بھی فکر نہ ہوئی وہ اپنے پروگراموں کو لے کر آگے بڑھتے رہے، کتنی فیکٹریاں ملیں اور کارخانے کہاں تعمیر کرنے ہیں کمیشن کتنے فیصد وصول کرنا ہے اور اسے کہاں لے
جاکر دگنا منافعے میں بدلنا ہے اس حوالے سے ہی سوچ بچار میں رہے۔ نتیجتاً ملک معاشی اعتبار سے غیر مستحکم ہوتا گیا۔ عوامی جذبات میں شدت آتی گئی بے چینی نے ان کی نیندیں حرام کردیں ان کے بچے ہراس آسائش کو ترسنے لگے جو ان کے سامنے خراماں خراماں چلتے دولت مندوں کے بچوں کو میسر تھیں۔ وہ اپنے تئیں یہ کہتے کہ آخر عیش وآرام کی زندگی ان سے کیوں کوسوں دور ہے جبکہ وہ اپنے بڑوں کے ساتھ برابر ان کے جیون کی دوڑ میں شریک ہیں۔ مگر انہیں کیا معلوم کہ ان کے بڑے اور وہ خاص ہاتھوں کے مرہون منت ہیں جو ملکی وسائل پر قابض ہیں مکاری، عیاری اور ہوشیاری سے اختیارات کو اپنی تحویل رکھتے ہوئے کروڑوں عوام پر مسلط ہوکر انہیں باور کرایا کہ وہ ہی ان کے حکمران ہوسکتے ہیں اگر انہوں نے کوئی ایسی کوشش کی تو وہ ناکام رہیں گے اور پورا انتظامی ڈھانچہ شکست وریخت سے دوچار ہوجائے گا۔ لوگ بھی سچ سمجھ بیٹھے۔ کہ عین ممکن ہے وہ اقتدار کی باگ اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں تو پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں یہ نظام جیسا بھی ہے شدید متاثر ہوسکتا ہے ۔ لہٰذا وہ سر جھکائے نعروں پر ہی اکتفا کرتے رہے مگر انہیں یہ خبر ہی نہ ہوئی کہ ان کے امیر شہر نے ان کے گرد خاردار باڑیں کھڑی کردی ہیں جس کے اندر ہی وہ رہ کر اپنے زندگی کے لمحات گزاریں گے۔ اور کوئی جنبش بھی کی تو زخمی ہو جائیں گے۔ مگر کہتے ہیں کہ جب جسموں پر لگے گھاؤ گہرے ہوتے جائیں تو ان کو مندمل کرنے کا مرہم بھی دریافت ہوجاتا ہے۔ پھر تغیر وتبدیل کی دنیا کا اپنا قانون ہے اسے کیسے اس پر عملدرآمد کرانا ہے اسے سب علم ہوتا ہے لہٰذا روایتی حکمرانوں کی چالاکیاں، حکمت عملیاں اور پالیسیاں جو انہوں نے تاحیات حکمرانی کرنے کے لیے اختیار کررکھی تھیں جدوجہد کی موجوں سے ٹکرانے لگیں۔ شعور نے کروٹ بدلی، ضروریات نے دہائی دی، مشکلات نے راستہ تلاش کیا اور منزل، پکارنے لگی۔ جی ہاں، سیاست کے نگر میں ایک ہلکاساحیات نو کا جھونکا آیا۔ کچھ نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ آتا اور جاتا ۔ اس کے ساتھ خلوص ، محبت اور محنت کی خوشبو بھی تھی جو نہ تھکنے والے مزدوروں کسانوں ،کارکنوں اور نوجوانوں کے دماغوں میں گھستی گئی۔ لوگ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔ دھیرے دھیرے ایک انسانی دائرہ بننے لگا۔ جو پھیلتا گیا۔ اجتماعی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ مظالم کے خلاف ایک شخص نے نعرہ مستانہ بلند کردیا۔ پھر کیا تھا ایک کارواں منظر پے ابھر آیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں اپنا مسکن بنا لیا۔ استحصالی ٹولے کو پریشانی لاحق ہوگئی وہ سرجوڑ کر بیٹھ گیا کہ اب کیا کیا جائے۔ بہت روڑے اٹکائے گئے اس کی جانب سے بہت منصوبے بنائے گئے کہ کس طرح عوامی موجیں روک دی جائیں مگر انہیں تو ساحل سے آن ملنا تھا کہ وہ ایک عرصے سے مشکلات کی سمندر میں تڑپ رہی تھیں اب کہاں رکتیں لہٰذا پچیس جولائی کو وہ پورے جوش وجذبے کے ساتھ نمودار ہوگئیں۔ !کہا گیا، کہا جارہا ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی جیتی نہیں جتوائی گئی۔ مسلم لیگ ن کو کچھ زیادہ ہی زعم ہے کہ وہ تو عوام میں مقبول ہے اسے وہ دل وجان سے چاہتے ہیں ان کی خواہش ہے کہ وہی ہمیشہ ان پر حکمرانی کرے کیونکہ وہ ان کے طرزعمل سے خوش ہیں وہ تھانوں میں ان کی پشت پر جتنے چاہے چھتر مارے ، ان کے بچوں کو تعلیم وصحت کی سہولتوں سے محروم رکھے، کمیشن کھائے، بیرون ملک قومی دولت لے جائے۔ اربوں کھربوں کا ہیر پھیر کرے سب انہیں منظور ہے۔؟
کیا منطق ہے کیا عوام کا شعور پیش کیا جا رہا ہے۔ یقیناًایسے کچھ لوگ ہوں گے بھی کہ وہی اقتدار میں رہے مگر یقین جانیے کہ یہ وہ ہیں جو خرابیوں کو خرابیاں نہیں کہتے بدعنوانی نہیں سمجھتے اور تاریک راہوں پر گامزن ہیں وگرنہ غالب اکثریت کا یہی کہنا ہے کہ بدعنوانی ختم ہو، سرکاری اداروں میں موجود اہلکار اس سے خنداں پیشانی سے پیش آئیں امانت دیانت کا عملی مظاہرہ کریں ۔انصاف عام اورسہل ہو۔ ملاوٹ، ناجائز منافع خوری کا خاتمہ ہو۔ بھوک ننگ اور کسمپرسی کا نشان تک نہ رہے جہالت بھی کہیں نظر نہ آئے اور امن خوشحالی کسی بلبل کی طرح ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی پر کودکود جارہی ہوں۔
بہرحال ایک آس کاد یا روشن ہوا ہے۔ عمران خان کی صدارت اکہتربرس پر محیط اداس زندگی کے چہرے پر خوشی کی پرچھائیاں پڑ رہی ہیں۔ مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اسے عوام کی بے کیف حیات میں ایک نیا جوش پیدا کرنے سے روکنے کے لیے پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) متحد ہوگئی ہیں جبکہ کپتان ان سب کو ساتھ لے کر چلنے کا اعلان کررہا ہے۔ کہ آؤ دکھی انسانیت کو غموں سے نجات دلائیں جو برسوں سے ایک انحراف کے کونے میں پڑی کراہ رہی ہے۔ مگر ان جماعتوں کو ڈر ہے کہ اگر عمران خان نے عوام کو چند بڑے ریلیف دے دیئے تو ان کو آنے والے عام انتخابات میں سخت ہزیمت کا سامنا ہوگا۔؟
ایسا ہوکر رہے گا کیونکہ عمران خان یہاں تک پہنچ گیا ہے تو عوام کی خدمت کے لیے ان کی دہلیز پر بھی ضرور پہنچے گا یہ اس کا عزم ہے اور بادشاہ گروں کی بھی یہ خواہش ہے کہ مسلسل چیختے چلاتے سسکیاں لینے اور آہیں بھرتے ملک کے محنت کشوں اور محب وطن کو آسانیاں فراہم کی جائیں کیونکہ اب مزید ان کو آزمائش میں نہیں ڈالا جاسکتا اگر دونوں بڑی جماعتیں پی ٹی آئی کی راہ میں حائل ہوں گی تو بھی وہ عوام کی نطروں سے گر جائیں گی۔ لہٰذا ہوسکتا ہے ان کی عقل کے خانے میں یہ بات آجائے۔ کچھ کچھ پی پی پی سمجھ بھی چکی ہی اسے شریفوں کو نہیں عوام کو خوش کرنا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری لازمی عوامی سوچ لے کر سامنے آئے ہیں۔ لہٰذا وہ آہستہ آہستہ انکل عمران خان کے قریب ہو جائیں گے۔ قریب ہونے کا آغاز جناب چیئرمین عمران خان نے کردیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون عوامی فلاح کی خاطر ان سے بغلگیر ہوتا ہے حرف آخر یہ کہ عمران خان امید کی شبنم کا وہ جھلملاتا قطرہ ہے جو تازگی دے کر ہی ڈھلکتا ہے لہٰذا رت بدلے گی ، گل مہکیں گے اور پھر آنسو بھی موتی بن جائیں گے۔ !


ای پیپر