ڈھابان سنگھ کی کچھ یادیں کچھ باتیں
15 اگست 2018 2018-08-15

آج انٹرنیٹ، ای میل، فیس بک، ایس ایم ایس، موبائل فون اور ٹویٹر کی آمد سے نا صرف ٹیلی گرام ، ٹیلی فون جیسے اہم ترین شعبے بند ہو چکے ہیں بلکہ ڈاک ، خط وکتابت اور ڈاکخانے کا تصور ہی بدل کر رہ گیا ہے۔ آج کے معاشرے میں ہماری نوجوان نسل کو اندازہ ہی نہیں کہ ماضی میں خط، چٹھی ، سندیسہ کتنی اہمیت رکھتے تھے۔ اراضی، جائیداد، بادشاہتیں حتی کہ زندگی مرگ کے فیصلے خطوط کیا کرتے تھے۔ خط کی اہمیت سے کبھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ایک ایسا ہی خط گھر کی لائبری میں لکھنے پڑھنے کی میز پر موجود تھا۔ پہلے خط دیکھ کے پھر پڑھ کے کتنی خوشی ہوئی یہ دل ہی جانتا ہے۔ یہ خط بیٹی ازابیل کے سکول سے تھا جو ہمارے 71ویں یوم آزادی کی تقریب کادعوت نامہ تھا۔ یہ ایک ایسے تعلیمی ادارے کی کہانی ہے جو سنگ بنیاد سے لیکر آج کے دن تک میرے شہر کے شہریوں کا علم سے وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سپیشل ایجوکیشن سنٹر اور ڈسٹرکٹ پبلک سکول کے اشتراک سے آج کی پروقار تقریب کی روداد سے پہلے آپ کو تاریخ کے سفر پر چلنا ہو گا۔
یہ 1849کا سال ہے لارڈ ڈلہوزی گورنر جنرل ہے۔ اس نے اعلان عام کرتے ہوئے ہندوستان سے سکھ عملداری کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ اور ان کے تمام علاقے اپنی قلمرو میں شامل کر لئے۔ رچنا دواب سے اوپر کا تمام علاقہ، جموں سے جھنگ تک کا علاقہ، درایائے چناب سے دریائے راوی تک کے علاقے کو گوجرانوالہ میں شامل کرکے اسے ضلع کا درجہ دے دیا۔ شیخوپورہ اس کی تحصیل قرار پائی۔ 1918میں شیخوپورہ کو ضلع کا درجہ دے دیاگا۔1922میں ضلعی مشینری نے اپنے کام کا آغاز کیا۔ ڈھابان سنگھ 16دسمبر1986تک شیخوپورہ تحصیل میں شامل رہا۔ مگر کوئی قابل ذکر کام ایسا نہیں ہے جو ضلع ہونے کے ناطے یہاں کیا گیا ہو۔ 1986میں اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب نواز شریف جو آج کل کرپشن کے کیس میں جیل میں ہیں نے ڈھابان سنگھ کو تحصیل کا درجہ دیا تو دو تاریخی شہر شاہکوٹ اور سانگلہ ہل اس تحصیل کا حصہ قرار پائے۔ مگر آج کے دن تک تحصیل ڈھابان سنگھ کو ضلع شیخوپورہ نے کوئی گرانٹ یا ترقیاتی کام دور کی بات بخار بھی نہیں دیا۔ یہاں نظر آنے والا کام اس شہر کے باسیوں کی ہمت اور کوشش کا نتیجہ ہے یا ضلع ننکانہ کے مرہون منت ہے۔ مشرف کے دور میں جب ننکانہ کو ضلع کا درجہ گیا تو ڈھابان سنگھ کو ننکانہ ضلع کی تحصیل بنایا گیا۔ اور ساتھ میں شاہکوٹ اور سانگلہ ہل کو الگ الگ تحصیلیں بنا دیا گیا۔ مگر چند ازکاررفتہ قسم کے یرغمالیوں کے ہاتھوں ضلع ننکانہ میں نہ رہنے کے فیصلے نے اس علاقے کا ترقی کا راستہ مخدوش کر دیا۔ آج سانگلہ ہل اور شاہکوٹ میں ترقی کی رفار سے اندازہ ہوتا ہے کہ ضلع شیخوپورہ اپنے باقی علاقوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ چند دن کی رفاقت جو ننکانہ کے ساتھ رہی اس عرصے میں ڈھابان سنگھ میں جو ترقیاتی کام ہوئے وہ پوری آب و تاب سے سر اٹھائے زندہ وجاوید ہیں۔انہی میں سپیشل ایجوکیشن سنٹر اورڈسٹرکٹ پبلک سکول کے بچے ہیں جواپنے ملک کے 71ویں یوم آزادی کی تقریب میں پرفارم کرہے ہیں ۔2005ضلع ننکانہ صاحب شعبہ مال کے سربراہ نے یہاں کا سپیشل دورہ کیا تاکہ سپیشل ایجوکیشن سنٹر کیلئے جگہ کا تعین کیا جائے مگر کمال مہارت سے پٹواریوں نے انہیں دو سے تین دن گھمایا پھرایا پھر بڑے احترام کے ساتھ رخصت کر دیا کہ یہاں اس مقصد کیلئے اتنی جگہ نہیں ہے۔ مگر جب اسی شہر میں شعبہ تعلیم سے وابستہ دوستوں نے جگہ کا بتایا تو پٹواریوں کو معافی کیلئے ای ڈی او فنانس افضال احمد کے تلوے چاٹنے پڑے۔کیونکہ کمشنر کی خواہش بھی یہی تھی کہ سپیشل سنٹر ڈھابان سنگھ میں ضرور بن پائے۔جس دن اس سکول کا
سنگ بنیاد رکھا گیا تو شائد کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ علم کے اس مرکز میںآنے والے کل میں یہ سپیشل بچے کچھ ایسا پرفارم کریں گے کہ تاریخ ان پر فخر کرے گی، ان کے اساتذہ کا وقار بلند ہوگا، ریاست کے حصہ میں ذمہ دار شہری آئیں گے۔ ایڈی سن ، گراہم بیل اور آئن سٹائن یہی بچے بنیں گے جنہیں شازیہ دل پذیر جیسے اساتذہ میسر ہیں۔ والدین اور شہریوں کی اچھی خاصی تعداد شریک ہے۔ بچے اپنے اساتذہ کے ساتھ ٹیبلو، ملی نغمے، تقریر، تحریرکا ایسا مظاہرہ کر رہے ہیں جنہیں دیکھ کے طمانیت کا احساس ہو رہا ہے۔
شازیہ دل پذیر اور انکی ساری ٹیم بالخصوص محترمہ ماریہ سمیرہ امیر کے چہروں سے جھلکتا اعتماد اور فخر اس بات کا گواہ ہے کہ ان کے یہ بچے آنے والے کل میں اپنی محنت اور قابلیت سے میری اس دھرتی کا نام روشن کریں گے۔ میرے شہر میں رخشندہ ریاض جیسے اساتذہ بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی بچیوں کی تعلیم کیلئے وقف کر رکھی ہے دوسرا ادارہ ڈسٹرکٹ پبلک سکول ہے جو دو اضلاع کی لڑائی میں گیہوں کی طرح پس گیا۔ مگر آفرین ہے میرے شہر کے شہریوں پہ کہ جنہوں نے اپنی محنت اور محنت کی کمائی سے علم کے میدان میں بڑا پائیدار کام کیا ہے۔ رائے اعجاز احمد خاں سابقہ وزیر جنگلات کے دور میں بنے چار کمرے کام آگئے۔ اور آج چار کمروں سے چالیس کمروں تک کا سفر شہریوں کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہے۔ سب سے پہلا عطیہ دینے والا یاسین رحمانی آج کل دل کے آپریشن کے بعد آرام کررہا ہے۔ خدااسے ہمیشہ صحت اور سلامتی دے۔
سرکار اور اس کے پٹواری تو شہریوں کے عطیات میں بھی ان سے باقاعدہ ہاتھ کرتے آئے ہیں ۔ ان میں سے تو کچھ حقیقت میں اندھے ہو چکے ہیں۔ خدا جانے پٹورایوں کو ملک کی ترقی سے بیر کیوں ہے ۔ پٹواریوں کے متعلق قدرت اللہ شہاب کا پورا شہاب نامہ بھرا پڑا ہے۔ سربراہ ادارہ زیب النساء اور ان کی ٹیم ہم شہریوں کی طرف سے مبارکباد کی مستحق ہیں۔ جس طرح انہوں نے ادارے کی تعمیر اور ترقی میں اپنا کردار ادا کیا ہے ان کانام اور کام ہمیشہ ہمیشہ کیلئے شہر زی وقار میں گونجتا رہے گا۔آج اسی ادارے سے بچے اپنی اپنی دلچسپی کے فیلڈ میں آگے بڑھ رہے ہیں، آج کی تقریب سے اندازہ ہوتا ہے کہ سربراہ ادارہ اور ان کی ٹیم پوری طرح متحد ہے۔ ان کے چہروں سے نظر آتا اعتماد اوربچوں کی فارمنس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے وہ اپنے کام سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ ریاست چاہے انہیں وہ سہولتیں دے یا نہ دے اگر وہ اور ان کی پوری ٹیم اس طرح اپنے کام میں مصروف رہے تو وہ دن دور نہیں جب ہم بھی دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے قابل ہوجائیں گے۔ ڈھابان سنگھ کے شہریوں نے پورے یقین کے ساتھ علم کا یہ محل تعمیر کیا ہے۔ یہاں سے قافلے نکلیں گے اور بالاخر اپنی منزل تک جا پہنچیں گے۔ میرے شہر کے شہریوں نے اپنا فرض اپنے اوپر قرض کی صورت میں پورا کیا ہے۔ اب یہ ریاست کی ذمہ داری ہے وہ اپنے آئین کے آرٹیکل 25-Aکو پورا کرے کہ 5سے16سال کے ہر بچے کومفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔


ای پیپر