میڈیا کو سوچنا چاہئے

15 اگست 2018

میاں عمران احمد

7اگست 2018ء کو دوپہر تین بجے تمام قابل ذکر نیوز چینلز پر خبر یہ تھی کہ عمران خان کے پانچوں حلقوں سے کامیابی کے نوٹیفیکیشن روک دیے گئے ہیں۔نوٹیفیکیشن روکنے کی واحد وجہ عمران خان کا ووٹ کی رازداری کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی بتائی گئی۔یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا افواہوں کی لپیٹ میں آ گیا۔ عمران خان کے وزیراعظم بننے پر شک و شبہات جنم لینے لگے۔ چینلز نے خبر چلائی کہ اب عمران خان وزیراعظم کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں۔ بلکہ کچھ چینلز نے تو یہ بھی چلانا شروع کر دیا کہ عمران خان کے کامیابی کے نوٹیفیکیشن رکنے کے بعد اگلے وزیراعظم کون ہوں گے؟ خبر چلنے کے فورا بعدخصوصی نمائندوں نے بیپر دیا اور کنفرم کیا کہ عمران خان کے تمام حلقوں سے جیت کے نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہو ئے ہیں لہذا اب وہ وزیراعظم نہیں بن سکتے۔خصوصی نمائندوں کے بعد باری تھی سینیر تجزیہ کاروں کی۔ ایک چینل نے حامد میر صاحب کا بیپر لیا۔ حامد میر صاحب نے فرمایا کہ عمران خان صاحب کی جیت کے نوٹیفیکیشن الیکشن کمیشن نے روک لیے ہیں۔ لہذا اب وہ وزیراعظم کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں۔ایک گھنٹے تک یہ خبریں چلتی رہیں کہ اچانک الیکشن کمیشن جاگا اور اس نے بیان دیا کہ عمران خان کے صرف دو حلقوں سے کامیابی کے نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے روکا گیا ہے۔ باقی تین حلقوں سے کامیابی کے نوٹیفیکیشن نہیں روکے گئے۔لہذا عمران خان وزیراعظم کی دوڑ سے باہر نہیں ہیں۔
آپ اس واقع کا بغور جائزہ لیں تو بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں جن کا جواب شاید کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ مثلا کہ میڈیا نے جھوٹی خبر کس انفارمیشن کی بنیاد پر چلائی؟ کیا ان کے پاس الیکشن کمیشن کا کوئی لیٹر موجود تھا؟ کیا ان کے پاس الیکشن کمیشن کے کسی آفیسر کا بیان موجود تھا؟ کیا تحریک انصاف کی جانب سے انھیں یہ خبر دی گئی تھی؟اگلے سوالات جناب تجزیہ کاروں سے ہیں کہ جب آپ اس معاملے پر بیپر دینے لگے توکیا آپ نے بیپر دینے سے پہلے الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا؟ کیا آپ نے ان سے پوچھا کہ جو خبر میڈیا پر چل رہی ہے وہ سچ ہے یا جھوٹ؟ کیا آپ نے اپنی رائے دینے سے پہلے الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کی گئی لسٹ پڑھی تھی؟ اگر آپ نے وہ لسٹ نہیں پڑھی تھی تو آپ کو میڈیا ہاوس سے معذرت کر لینی چاہیے تھی کہ میں ابھی کنفرم نہیں ہوں لہذا اپنی رائے نہیں دے سکتا اور اگر آپ نے وہ لسٹ پڑھی تھی اور اس پر لکھی گئی انگریزی زبان کا مطلب سمجھ نہیں سکے تب بھی آپ کو اپنی رائے نہیں دینی چاہیے تھی۔ کیونکہ صحافت کے جس معیار پر آپ کھڑے ہیں آپ کی زبان سے نکلی ہوئی بات خبر ہوتی ہے۔ لوگ آپ کے بیان پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں۔ آپ کے دعوے اور نعرے عوام کی سوچ اور فیصلے بدلنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
میڈیا کو سوچنا چاہیے کہ اس طرح کی جھوٹی خبروں کا ہماری معیشت پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے بروقت میڈیا میں آ کر ان جھوٹی خبروں کی تردید کی ۔ اگر الیکشن کمیشن تردید نہ کرتا تو اگلے چوبیس گھنٹوں میں انویسٹرز نے بہت سے فیصلے اس جھوٹی خبر کی بنیاد پر کر لینے تھے۔ جس کا نقصان صرف پاکستان کو ہونا تھا۔
یہاں مجھ سے اگر یہ سوال پوچھا جائے کہ آخر میڈیا میں آنے کا کوئی معیار طے بھی ہے کہ نہیں؟ میں بغیر کسی شک کے یہ جواب دوں گا کہ نہیں۔ میڈیا میں آنے کا کوئی معیار نہیں ہے۔ جو پسند آیا، جو دو چار لفظ کیمرے کو دیکھ کر بول لے اسے ٹی وی سکرین پر نمودار کر دیا جاتا ہے اور پھر وہ سچ جھوٹ بھول کر عوام کو گمراہ کرتا ہے اور معصوم عوام یہ سمجھ کر اس کی باتیں سنتی رہتی ہے کہ ٹی وی سکرین پر بیٹھا ہے تو کوئی معتبر شخص ہی ہو گا اور جو کچھ کہہ رہا ہے وہ سچ ہی ہو گا۔ میڈیا ہاؤسز کی یہ بدمعاشی اس وقت تک ختم نہیں کی جا سکتی جب تک میڈیا کے احتساب کا سلسلہ نہ شروع کیا جائے۔ میڈیا کے احتساب کا یہاں مطلب صرف میڈیا ہاؤسز نہیں ہیں بلکہ ان میڈیا ہاوسز میں کام کرنے والے صحافی حضرات بھی ہیں۔ بدقسمتی کا عالم یہ ہے کہ صحافی حضرات پیمرا میں رجسٹرڈ نہیں ہوتے۔یہ کون لوگ ہوتے ہیں، کہاں سے آتے ہیں، کس کے لیے کام کرتے ہیں، ان کی تعلیم کیا ہے؟ صحافی حضرات حکومت کو ان تمام سوالات کے جوابات دینے کے پابند نہیں ہیں۔یہ صحافی حضرات پریس کلب نامی ایک باڈی کے ممبر ہوتے ہیں۔ اس باڈی کے ممبر بننے کے بعد کوئی بھی شخص صحافی بن سکتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ بہت سے اینکر حضرات اس پریس کلب کے ممبر نہیں ہوتے۔ یعنی کہ صحافی بننے کے لیے جو تھوڑا بہت معیار رکھا بھی گیا ہے اس پر بھی پورا نہیں اترتے اور ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر ان کے پرائم ٹائم میں عوام کو گیان دے رہے ہوتے ہیں اور بتا رہے ہوتے ہیں کہ صحافت کی آزادی کیا چیز ہے؟ اور ہر جھوٹی سچی خبر پر بغیر علم کے تجزیہ پیش کر رہے ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ نیوز چینلز کے لائسنس جاری کرنے کے بھی کچھ اصول وضوابط نہیں ہیں۔ اگر کسی کے پاس اربوں روپیہ ہے تو وہ آزادی رائے کا علمبردار بن کر نیوز چینل کھول لیتا ہے اور پھر اس کی آڑ میں اپنے کاروباروں کی حفاظت کرتا ہے۔ لائسنس جاری ہونے کے بعد یہ صحافت ناآشنا مالکان پڑھے لکھے نوجوانوں اور پوری قوم کو یہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ آزادی صحافت کیا ہوتی ہے۔ خبر کی کیا اہمیت ہے اور خبر کو پرکھنے کا کونسا طریقہ بہترین ہے۔ جب آزادی صحافت کا یہ معیار ہو گا تو پھر میڈیا کا بے لگام ہونا واجب ہے۔

مزیدخبریں