فرخ ظہور کی یاد میں
15 اگست 2018 2018-08-15

تاریخ آدم و عالم اس بات کی شاہد ہے کہ وہ لوگ ہمیشہ کیلئے زندہ ہیں جنہوں نے اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے دوسروں کی بہتری کیلئے کچھ بھی کیا۔ اِنسان درحقیقت اس جہانِ رنگ و بو میں آیا ہی فقط اِنسانیت کے لئے ہے۔ جن لوگوں نے اپنی ذات ، کردار، گفتار اور قول و فعل سے معاشرے سمیت ملک و قوم کی تربیت کی ہے، وہ لوگ آج بھی کہیں نہ کہیں ، کسی نہ کسی طرح ہمارے آس پاس محسوس ہوتے ہیں۔

عام طور پر ہم لوگ ظاہری حسن کو دیکھ کر اُسی پر اکتفا کر لیتے ہیں اور باطنی آگہی کی طرف سفر نہیں کرتے، وہ سفر جو اصلی حسن ہے۔ کوئی کیا ہے، کیسا ہے، ہم اس کے ظاہری اعتبار سے اندازہ کرتے ہیں لیکن اگر ہم ظاہری حسن کے ساتھ ساتھ باطنی خوبیوں پر نگاہ کریں تو یقین جانئے کہ ہم خود میں بھی حسین تبدیلیاں محسوس کرنے لگیں گے۔ کچھ لوگ ایسے ہو تے ہیں جو اپنی ذات میں انجمن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ احساس، درد دِل، خدمتِ انسانیت کے جذبے سے سرشار لوگ، ان لوگوں کی موجودگی شاید ان کی ضرورت کا اِحساس کم دلاتی ہے لیکن جب وہ نہیں ہوتے تو سمجھ آتی ہے کہ وہ کس قدر ضروری تھے۔ اِک ایسی ہی عہد شناس ، فکر انگیز ، روحِ رواں اور دل نشیں شخصیت کا نام ٖ فرخ ظہور ہے! مجھ سمیت بہت سے لوگوں نے دیکھا کہ فرخ ظہور کیا قابل آدمی تھے، ان کی انتظامی قابلیت، اُن کی فہم و فراست، معاملہ فہمی ، معاملہ سازی ، شخصیت سازی خصوصاََ تعلیم کے ساتھ اُن کا میلان۔ ہم سب ان باتوں، ان پہلوؤں پر بہت کچھ کہہ سکتے ہیں، سُن سکتے ہیں ،لکھ سکتے ہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ آج اِک ایسا پہلو کہ جس طرف شاید بہت کم لوگوں کی توجہ ہو، اس سے پردہ اُٹھاؤں ، اپنے احساسات ، جذبات ، کیفیات بالخصوص ان یادوں کو کہ جن میں فرخ ظہور مجھے ساتھ ساتھ محسوس ہوتے ہیں۔ ان یادوں کو الفاظ کے پیرہن میں بیان کروں کہ شاید ہم میں بھی کسی کے اندر کا فرخ ظہور بیدار ہو جائے۔

ہم کیسے لوگ ہیں، کیسے اندھے لوگ ، گونگے بہرے لوگ کہ عظیم لوگوں کی موجودگی سے فائدہ نہیں اُٹھاتے اور اُن کے بعد کفِ افسوس ملتے ہیں۔

کیا فرخ ظہور فقط ایک تعلیمی شخصیت کا نام ہے؟

کیا فرخ ظہور فقط ایک تربیتی میدان کا سوار ہے؟

کیا ہم فرخ ظہور کو مقید کر سکتے ہیں؟

جواب آئے گا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔

وہ اِک ہمہ جہت، ہر دم رواں، ہر دم جواں ایک قافلے کا نام تھا۔ اُس کی بنائی ہوئی چار دیواری کو تو ہم نے دیکھا مگر کس طرح شب و روز کی محنت شاقہ سے اُس نے خونِ جگر سے ہماری بلکہ ہم سب کی نسل در نسل تربیت کے لیے سفر کیا ، ہم اس طرف نہ گئے۔

ہم اُس کے کارناموں کوہر سال دہراتے ہیں مگر اُس کی سوچ، نظریہ، اُس کے زاویۂ نگاہ ، اس کے اندر جنگ کرتے انسان کو کہ جو بہتر سے بہتر کی جستجو میں رہتا تھا، اس سے شناسائی نہ حاصل کر سکے۔ ہم سیمنارز منعقد کر لیتے ہیں ، یادوں کے جھروکوں میں پلکوں کے ساحلوں پر اشک سجا لیتے ہیں، فرخ ظہور کی قبر پر پھول چڑھاتے وقت کتنے لوگ ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے پھول کی پتیاں تو چڑھا دیں کیا فرخ کے نظریہ کو آگے بڑھاتے ہوئے معصوم پھولوں کو حدت کی خزاں سے بچایا؟اگر بتیاں تو جلا دیں لیکن کیا ہم نے فرخ کے روشن کیے ہوئے دیئے کو کہ جس میں تیل کی جگہ جگر کا خون ہے۔ اُسے روشن رکھنے کی کوئی کوشش کی؟

آج اگر وہ نہیں ہے تو اُس کی یادیں تو ہیں۔ ہمیں عہد کرنا ہے اُس کی یادوں سے کہ جو راستہ اُس نے بنایا ہم اُس کے راہی بھی ہو نگے اور راہنما بھی۔ وہ پودا جو فرخ نے لگایا اُس کو تنا آور درخت بنانے میں ہمیں اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ جانے والا تو چلا گیا لیکن اِس سے پہلے کہ ہم بھی اُس سے جا ملیں آئیے! کچھ کام کریں، فرخ کا پیغام عام کریں۔ اُس کے دل میں جو تڑپ تھی، جو لگن تھی ، وہ سفر کرتا تھا ، جاگتا تھا،وہ دوسروں کی بہتری کا خیال کرتا تھا۔ علم کے طالبوں کے لئے کیا کمال نظریات کا حامل اِنسان تھا۔

آج جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہمارا بچہ کس درس گاہ میں جائے کہ جہاں اُس کو کتاب کے ساتھ ساتھ کتابیات اور اخلاق و عمل کا درس بھی ملے۔کون سا نظام ہو جہاں ظاہری و باطنی تربیت ہو رہی ہو، وہ نظام ، وہ درس گاہ ، وہ شعور، وہ آگہی فرخ ظہور کے افکار سے جھلکتی ہے جو ہمیں آج بھی پیغام عمل دیتی ہے ۔ اُس کے افکار ، اُس کے اقوال اور اُس کی شخصیت کو پرکھنے کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارا کوئی بچہ ، ہم میں سے کوئی کہیں ننھا سا دیا روشن کر جائے۔


ای پیپر