ہر بھنور سے نہ اُلجھتے تو کنارے ہوتے
15 اگست 2018 2018-08-15

13اگست کو نواز شریف کی عدالت پیشی پر بکتر بند گاڑی میں جو تصویر دیکھی وہ پوری ایک کہانی بیان کر رہی تھی۔نواز شریف کے چہرے پر باقاعدہ ایک اضطراب تھا اور آنکھیں کسی گہری سوچ میں ۔شائد نواز شریف سوچ رہے ہوں گے کہ اگر 13جولائی کو ان کا بھائی شہباز شریف ائیر پورٹ پہنچ جاتا تو آج کا منظر کچھ مختلف ہوتا۔ایک بڑے کہنہ مشق اور شریف فیملی کے قریب سمجھے جانے والے صحافی نے بتایا کہ جب لوہاری میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز عوام کا لہو گرمانے کی سعی لا حاصل کر رہے تھے تو انہوں نے حفاظتی ذمہ داری پر مامور ایک اہم آدمی سے پوچھا کہ ائیر پورٹ کب تک پہنچ جائیں گے تو اس نے جواب دےا کہ ایسا کوئی پلان مجھے تو نہیں بتاےا گیامیرے علم میں تو بس یہی ہے کہ مال روڈ تک جائیں گے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ شہباز شریف کو لالی پاپ دےا گیا تھا کہ جناب سو سے زیادہ سیٹیں آپ کی ہیں کیوں اتنی دھوپ میں خوار ہونا ہے جو ڈرامہ لگانا ہے وہ ادھر ہی لگا لوائیر پورٹ جا کر کیا کرو گے۔جب حرص ولالچ مہرومحبت پر غالب آجائے جب خون کے رشتوں اور تقدس کے آگے عہدوں اور کرسیوں کی دےوار آجائے تو پھر یہی ہوتا ہے جو آج شریف برادران کے ساتھ ہوا ہے۔شائد اب شہباز شریف پچھتا رہے ہوں مگر اب پچھتائے کےا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔سنا ہے کہ ستمبر کے مہینے مےں ڈائس پر مائیک گرانے والے سیاستدان کے خلاف بھی شکنجہ کس لےا جائے گا اور پھر سوائے ماتم کے کوئی چارہ نہ ہو گا ۔کہتے ہےں کہ ہاتھوں سے لگائی گئی گرہیں دانتوں سے کھولنی پڑتی ہےں ۔

نواز شریف سوچ تو رہے ہو نگے کہ ان کے نام پر جو© ن لےگی امےدوار الیکشن جےتے ان مےں سے کوئی بھی ان کو استقبال کےلئے احتساب عدالت نہیں آےا ۔وہ تمام ن لےگی رہنما جو نواز شریف کا بیانیہ کہتے تھکتے نہیں تھے اُنھوں نے احتساب عدالت آنے کی بجائے قومی اسمبلی میں حلف لینے کو ترجیح دی۔ ٹی وی کیمروں کے سامنے دھواں دار تقریریں کرنے والے اور مائیک گرانے والے صاحب نواز شریف کی پیشی پر اسلام آباد میں ہی موجو تھے مگر انہوں نے بھی زحمت نہیں کی کہ دو منٹ احتساب عدالت کے سامنے رُک جاتے۔ صاحبِ دانش بتاتے ہیں کہ جناب والا اپنے خلاف آنے والے مقدمات سے خوف زدہ ہیں، ماڈل ٹاون سانحہ کی جے آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے پنجاب کی نئی آنے والی حکومت پر پریشر ہوگا اور اس کی تفتیش کو دوبارہ کھولا جائے گا۔ احد چیمہ کی گرفتاری ، میٹرو بس ملتان اورنج لائن ٹرین ، قائد اعظم سولر پاور پراجیکٹ اور صاف پانی کمپنی کیس میں شہباز شریف کے سر پر نا اہلی کی تلوار مسلسل لٹک رہی ہے اور جناب احتجاجی سیاست کی بجائے کوئی درمیانی راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ ویسے بھی ن لیگ کے پاس سٹریٹ پاور اُس طرح نہیں جس طرح پیپلزپارٹی، تحریک انصاف یا جماعت اسلامی اور جے یو آئی ف کے پاس ہے۔ ن لیگ کے حامیوں میں زیادہ تر تاجر طبقہ ہے جو احتجاجی سیاست کا قائل نہیں ہیں۔ لگتا ہے کہ بڑے میاں صاحب جس انکار پر اتنی بڑی قیمت چُکا رہے ہیں شہباز شریف شاید وہ انکار کر نہیں سکتے اور مجھے لگتا ہے کہ واحد اعجاز نے یہ شعر اس لئے لکھا ہو گا کہ شہباز شریف بڑے میاں صاحب کو سُنا سکیں۔

تُم کو انکار کی خو مار گئی ہے واحد

ہر بھنور سے نہ الجھتے تو کِنارے ہوتے

ویسے آج کل لگتا ہے لولی پاپ کا موسم چل رہا ہے جو لولی پاپ شہباز شریف کو دیا گیا وہی لالی پاپ شاید آصف علی زرداری کوبھی دیا گیا۔ انتخابات سے قبل زرداری صاحب نے دعویٰ کم بیان دیا تھا کہ مرکز میں پی پی پی کی حکومت ہوگی لگتاہے اس کی یقین دہانی بھی بالائے پارلیمان قوتوں کی طرف سے کروائی گئی حیرت کی بات ہے کہ جمہوری اقدار اور جمہوریت کا راگ الاپنے والی جماعت کیسے بالائے جمہوریت قوت کا آلہ کاربن گئی۔ 29 بے نامی اکاونٹس شاید اسی لئے نکال کر رکھ لئے ہیں کہ جب بھی پی پی پی کو جمہوریت ، جمہوری اقدار اور اپنی مرضی کے فیصلے کرنے کا مروڑ اُٹھے تو ساتھ ہی صاحب کی دو چار پیشیاں ڈال دیں تو ساتھ ہی آفاقہ ہو جائے گا۔ ویسے باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نواز لیگ کے ساتھ ڈبل گیم کر رہی ہے اور خورشید شاہ کو سپیکر قومی اسمبلی منتخب کروانے کیلئے عمران خان کے ساتھ اندر کھاتے کوئی ڈیل بھی ہو سکتی ہے۔ صاحب عقل بتاتے ہیں کہ ن لیگ اور پی پی پی کے درمیان ابھی تک اعتماد کا رشتہ قائم نہیں ہوا۔ ماضی میں زرداری صاحب کافی دفعہ ن لیگ اور نواز شریف کی بے وفائی کا تذکرہ کر چکے ہیں۔ شاید اب بھی پیپلز پارٹی ن لیگ کے ساتھ اصُولی موقف کے بجائے تحریک انصاف سے وقتی فائدے کے لئے سودے بازی کرے۔ شہرِ اقتدار میں افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد آسکتی ہے اور ن لیگ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کراپنا چیئرمین سینٹ لا سکتی ہے مگر یاد رکھا جائے کہ صادق سنجرانی کو چیئرمین پیپلز پارٹی نے ہی بنوایا تھا اور اب وہ صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹا کر مقتدر قوتوں کی ناراضگی مول نہیں لے سکتی اور نہ ہی اس کی متحمل ہو سکتی ہے۔ اسلام آباد میں جب اے پی سی میں ن لیگ سمیت تمام چھوٹی بڑی جماعتوں کے سربراہان نے شرکت کی ، آصف زرداری اور بلاول بھٹو اُس دن اسلام آباد میں ہی موجود تھے مگر کسی معقول مصروفیت کے باوجود انھوں نے اے پی سی میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی آج کے دن تک ن لیگ کے صدر شہباز شریف سے کوئی باقاعدہ یا رسمی ملاقات کی ہے۔ خیر پیپلز پارٹی کو سندھ میں تو حکومت مل گئی اب دیکھیں شہباز شریف کو کیا ملتا ہے کیونکہ زرداری صاحب نے ابھی تک اپنے سارے پتے نہیں کھیلے اور شہباز شریف کے پاس خالی ہاتھوں کے سوا کچھ بھی نہیںجس کے وہ خود ذمہ دار ہیں جناب نے اپنے ہی ہاتھوں سے وہ شاخ کاٹ ڈالی جس پہ وہ خود بیٹھے تھے اور جو ن لیگ کو سایہ فراہم کر رہی تھی۔

خیر انسان خسارے میں ہے سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ اور کچھ اچھے کام کرنے والوں میں پنجاب کونسل آف آرٹس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ثُمن رائے بھی ہیں جو فارن کوالیفائیڈ ہیں اور اپنی ان تھک محنت اور کوششوں سے اس کونسل کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں جس کو ایک مدت سے نظر انداز کیا جا رہا تھا۔ فنکار کسی بھی معاشرے کا اہم جزو ہوتے ہیں مگر ہمارے معاشرے میں فنکاروں کو بُری طرح نظر انداز کیا جاتا ہے مگر رائے صاحبہ نے فوک سٹوڈیو کو شروع کر کے پنجاب بھر کے فنکاروں کو حوصلہ دیا اور 35سال سے جس اوپن ائیر تھیٹر کو بدلنے کی کسی نے ہمت نہیں کی اُس کو سجانے کا سہرا بھی اسی خاتون کو جاتا ہے۔ میوزیمز یا آڈیٹوریم کی تعمیر ہو یا کلچر پالیسی ہر سطح پر کام کیا۔ فنکاروں کی فلاح کے لئے پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے ذریعے فنکاروں کی غیر مشروط مالی معاونت کی جا رہی ہے۔ شاید ثُمن رائے جانتی ہے کہ جو ہنر اور مہارت نسلوں اور انسانوں سے ٹرانسفر ہوتا ہے اُن کی جگہ مشینی چیزیں نہیں لے سکتی۔ خیر ایک وہ عورت ہے اور اُوپر سے محنتی بھی اب دیکھیں کہ کب تک اُ سے کام کرنے دیا جاتا ہے کیونکہ ہمارے جیسے معاشروں میں ٹانگ کھینچنا معمولی بات ہے۔


ای پیپر