کس چیز کی آزادی ؟
15 اگست 2018 2018-08-15

قومی اسمبلی کا بطور ممبر حلف اُٹھانے کے بعد، جو پہلا بیان ، جسے میں اخلاقاً پھلجڑی یا ”شرلی“ کہنے سے اجتناب کرتا ہوں، مگر یہ ضرور کہوں گا، کہ عمران صاحب نے جو بیان داغا ہے ، کہ ووٹ خریدنے والوں کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے، اور احتیاطاً، یہ نہیں کہا کہ وہ ”اب“ ووٹ خریدنے کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے۔
یہ بیان ان کا مطلوبہ ممبر پورے کرنے اور ”آزادامیدوار“ خریدنے کے بعد کیوں آیا ہے؟ اور جہانگیر ترین کا ”خریدوفروخت“ کرنے کے بعد یہ کہنا کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد وہ سیاست سے ”ریٹائر“ ہو جائیں گے، مگر اللہ کی شان دیکھئے کہ جہانگیر ترین ، جن کے والد غالباً پولیس میں ڈی ایس پی تھے، اور ان کے بیٹے جو الیکشن میں ہار گئے تھے، بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والے، قوم کے اس بیٹے کو انتخاب لڑنے کا قطعی شوق نہیں ہے۔ عمران خان کی وجہ شہرت چونکہ ”فراغی دل“ والی نہیں ہے، ورنہ تو اکثر امیدواران پارلیمان جیتنے کے بعد لاﺅڈ سپیکر پہ اعلان کراتے ہیں کہ حضرات ، چوہدری صاحب، خان صاحب یا بٹ صاحب، اب الیکشن جیت چکے ہیں، لہٰذا آپ لوگ کل سے کھانا اپنے گھروں سے کھایا کریں۔ لیکن ہرانسان کو دوسرے کی مثبت باتوں پہ نظر رکھنی چاہیے، قومی اسمبلی میں پہنچنے کے بعد جہاں وہ قومی اسمبلی کا ممبر ہونے کے باوجود ”مہمان اداکار“ ہوتے تھے، ملک کے چوروں، ڈاکوﺅں، لٹیروں اور غاصبوں سے جاکر ہاتھ ملایا، بلکہ ان کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوا کر اخوت، تحمل، بردباری اور عفوودرگزر کی شاندار روایت قائم کردی، بڑے لوگ صحیح ہی تو کہتے ہیں ، بلکہ جنید جمشید ساری عمر یہ دعا مانگتے رہے کہ
میرا دل بدل دے
میراغفلت میں ڈوبا دل بدل دے
کروں قربان میں اپنی ساری خوشیاں
حتیٰ کہ اب تحریک انصاف کے ترجمان ، فواد چوہدری ، صلح، صفائی، پیار، مروت اور اخلاق کی باتیں، اور مل کر بیٹھنے، اور چلنے کی باتوں کے علاوہ کوئی بات نہیں کرتے ....میں الزامات سے بچنے ، اور افواہوں کی زد میں آنے سے بچنے کے لیے اُنہیں مشورہ دیتا ہوں کہ انتخاب جیتنے سے پہلے اور جیتنے کے بعد کی تصویر وہ ضرور مشتہر کردیں ....تاکہ لوگوں کو پتہ چلے، کہ وہ پہلے ہی سے مولانا فضل الرحمن، شیخ رشید کی طرح ہیں .... اگر وہ مولانا طاہر اشرفی کی طرح ہو گئے، تو وہ عمران خان کو الزام بالکل نہ دیں،کہ انہوں نے اپنے عہدے داران کی تربیت نہیں کی ....خود وہ رات دن، ورزش کرنے، واک کرنے اور جاگنگ کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ تھوڑی سی توجہ ادھر بھی دے دیں.... مگرمیں سب سے ضروری بات یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اسمبلیوں میں اگر، انگریزی جس کے بارے میں یہ طے ہوچکا ہے کہ آئندہ پاکستان کی ”دفتری“ زبان بھی اردو ہوگی .... تو پھر انگریزی ، سندھی، اور اردو میں کیوں حلف اُٹھایا گیا ؟ کیا بلوچی اور پشتو پاکستان کی زبانیں نہیں؟ کیا اقتدار واختیار پہ صرف پنجاب وسندھ کا حق ہے؟
سندھ میں یہ تعصب لسانیت اور عصبیت ،قومیت، کس وجہ سے پھیلایا جاتا ہے اگر متحدہ اس پہ احتجاج کرتی ہے، تو حق بات کرنے پر وہ طعنہ زنی کی زد میں آجاتے ہیں، حالانکہ پاکستان بنانے والے قائداعظم ؒ کا بیان تو یہ ہے، جو انہوں نے اسی سندھ اسمبلی میں یہ فرمایا تھا، کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی، اور یہ کہ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد صرف کلمہ توحید ہے، نہ وطن نہ نسل .... ہندوستان کا جب پہلا فرد مسلمان ہوا تو وہ پہلی قوم کا فرد نہیں رہا تھا، وہ ایک الگ قوم کا فرد بن گیا تھا، کیا آپ نے غور فرمایا، کہ پاکستان کے مطالبے کا جذبہ محرکہ کیا تھا؟ اس کی وجہ نہ ہندوﺅں کی تنگ نظری تھی، نہ انگریزوں کی چال.... اسلام اس کی بنیادی وجہ تھی۔
قارئین یہ تقریر انہوں نے پاکستان بننے سے بہت پہلے 1944ءمیں علی گڑھ یونیورسٹی میں کی تھی.... قارئین محترم ہم نے پون صدی کو خاک میں ملا دیا، اور قائداعظمؒ کی امیدوں پہ پانی پھیر دیا ....سوائے اس کے کہ ہم نے اپنے محلوں میں مسجدیں بنانے کے علاوہ کون سا کام کیا ہے؟ عملی زندگی میں تو ہم ایک ٹکے کا کام نہ کرسکے، نہ ہمارا معاشرہ اسلامی ہے، اور نہ قانون۔ قائداعظم ؒ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میں نے بہت دنیا دیکھ لی ہے، اللہ تعالیٰ نے عزت، دولت اور شہرت بھی بے حساب دی، اب میری زندگی کی ایک ہی تمنا ہے کہ مسلمانوں کو باوقار اور سربلند دیکھوں، میری خواہش ہے کہ جب مروں تو میرا دل گواہی دے کہ جناح نے اللہ کے دین اسلام سے خیانت، اور پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی امت کے ساتھ غداری نہیں کی ، مسلمانوں کی آزادی ، تنظیم، اتحاد اور مدافعت میں اپنا کردار ٹھیک ٹھیک ادا کیا، اور میرا اللہ کہے کہ اے میرے بندے، بے شک تو مسلمان پیدا ہوا، اور بے شک تو مسلمان مرا .... مگر ہم نے قائد کے پاکستان کو توڑکے رکھ دیا قائداعظمؒ نے یہ تقریر وفات سے کچھ عرصہ پہلے کی تھی۔ اب میں نے سنا ہے ، کہ ہمارے ملک کے صف اول کے کالم نگار نے پورا زور لگاکر، جس کی تشریح جناب آفتاب اقبال اور برادرم توفیق بٹ حالت غضب میں مجھ سے بہتر الفاظ میں کرتے ہیں۔ موصوف نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جنرل یحییٰ خان، نہایت محب وطن ، محنتی مخلص، وفادار قسم کا انسان تھا .... صدقے جاﺅں میں ایسے، خیالات ونظریات پہ، اور جھوٹ بھری داستان پاسبان وطن کو سنانے والوں پہ، اور سب سے بڑھ کر اس دکھ بھری باتوں پہ ایمان لانے والوں پہ ہم نے قائد ؒ کے پاکستان کے ساتھ کیا کیا، یہ ایک الگ کہانی ہے، مگر مزار قائد کے تہہ خانوں اور عمارات پہ، جو ہم عزت وتکریم کرتے ہیں، اس پہ دل جلے اقرار الحسن نے پوری ڈاکومنٹری بناڈالی ہے۔
ہمیں تو صرف اپنے اللہ پہ یقین ، اور اس کے حبیب کے اس فرمان نے حوصلہ زیست دے کر زندہ رکھا ہوا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں، اسے دین کی سمجھ عطا فرمادیتے ہیں۔ میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا تو اللہ ہی ہے، اور یہ ”امت“ ہمیشہ اللہ کے حکم سے قائم رہے گی جو شخص اس کی مخالفت کرے گا ،اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا ، یہاں تک کہ اللہ کا حکم قیامت آجائے، اللہ کی اس خوشخبری سننے کے بعد ہماری بھی قارئین کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں، ہمارے اس چھوٹے سے ملک میں سوسے زیادہ سیاسی پارٹیاں ہیں، کچھ رنگ ونسل کے نام پر اور کچھ زبان کے نام پہ باقی علاقائی وصوبائی تعصبات کا نام لے کر، جبکہ پٹھان، اعوان، آرائیں، بلوچ، گجر، میو، نیازی، راجپوت وغیرہ غرضیکہ ہرزبان کی الگ سے ایک جماعت وجود میں آئی ہوئی ہے جو کارکردگی بناپر نہیں زبان کی بنیاد پہ ووٹ لے جاتی ہے، کیا آزادی اس کا نام ہے؟ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے ہر چینل پہ صبح کے شوز پہ رقص وسرود پہ پابندی لگانے کا حکم دیا تھا، اور خاص طورپرساحر لودھی پہ پابندی لگائی تھی۔ پابندی کے حکم کی تعمیل کس نے کی کسی نے بھی نہیں کی ....کیا آزادی اس کا نام ہے ؟ جونیئر سکول کے معصوم بچوں سے فیشن شوز کرانا، اور پھر کیٹ واک پہ مجبور کرنا، یہ آزادی کا ثمر ہے؟ یا آزادی یہ ہے اسلامی اقدار، اور روایتی حسن سلوک کا جنازہ نکال کر والدین جیسی عظیم ہستیوں کو بیمار اور ضعیف ہونے پر بجائے خود خدمت کرکے جنت میں جگہ بنانے انہیں ”اولڈ ہومز“ میں بھیجنے کا رواج چل نکلا ہے، یا پھر ہم اس بات پہ آزاد ہو گئے ہیں کہ قبر میں پاﺅں لٹکائے ہوئے کی شادی افلاس زدہ خاندان کی نوعمر بچی سے کردیتے ہیں، آخر میں جناب غیاث ڈیروی کے چند اشعار
آج قائد کی اُمنگوں کو ملی ابدی حیات
آج تھا جوش خطابت میں مگن شیر بنگال
آج کے دن گونج اُٹھی تھی فضا لاہور کی
آج ہر پیروجواں میں ولولہ تھا لازوال
آج نشتر اور لیاقت بن گئے بازوئے حق
آج اللہ کی رضا تھی جوش مسلم بے مثال
اب آنے والی حکومت سے گزارش ہے کہ ہم مسلم حدودوقیود میں رہ کر آزادی چاہتے ہیں، عمران خان نے اب تک اپنے اتالیق خاص کو تو دیکھ ہی لیا ہے، اب محمد نواز، اگر آپ وطن کو ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں، تو آپ کی رہنمائی کرے گا، اس وقت آپ کو یہ کہنا چھوٹا منہ بڑی بات لگ رہا ہو گا ، مگر انشاءاللہ اگلے کالموں میں کلمہ حق سامنے آجائے گا، ویسے ریاست مدینہ کے اصول اوریا جان مقبول ، اور سوات سے روحانی پیشوا سید مظفر حسین شاہ آپ کو بتاسکتے ہیں ، مگر یہ سعادت میں حاصل کروں گا۔
آپ کی رائے کے لیے رابطہ نمبر 0300-4383224


ای پیپر