آﺅ ہم سب خود تبدیل ہوجائیں
15 اگست 2018 2018-08-15

نوشیرواں عادل شاہ ایران کے لیے کسی شکار گاہ میں شکار کے کباب بنائے گئے مگر نمک نہ تھا، ایک غلام گاﺅں میں گیا تاکہ نمک لائے۔ نوشیرواں کو تشویش ہوئی تو قریبی لوگوں نے کہا :” اتنی کم مقدار سے کیا فرق پڑتا ہے؟“
نوشیرواں نے جواب دیا :”ظلم کی بنیاد دنیا میں تھوڑی ہوتی ہے جو آیا اُس نے اس میں اضافہ ہی کیا اور ظلم اپنی انتہا کو پہنچ گیا“۔
اگر بادشاہ رعایا کے باغ سے ایک سیب کھائے تو اس کے غلام درخت کو جڑوں سے اکھاڑ دیں گے اگر بادشاہ پانچ انڈوں کے لیے ظلم کو دوست سمجھتا ہے تو اس کے سپاہی ہزار مرغ سیخ پر چڑھا کر کھالیں گے“۔
کس قدرفکر انگیز کہاوت ہے۔ سوچنے والوں کا خیال ہے کہ احتساب ہمیشہ اوپر سے ہونا چاہیے۔ بڑے اور اثرورسوخ والے لوگوں کو ”اچھائی“ کی مثال بننا چاہیے۔ ان دنوں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہورہی ہے۔ ابھی ”حلف ِ عمران “ باقی ہے مگر حریفان پی ٹی آئی، ان کے بچت قناعت اور سادگی کے دعوﺅں کا مذا ق اڑا رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے اب جو ہونے لگا ایساکبھی ہوا ہی نہیں، ہاں قائداعظم ؒ کچھ عرصہ مزید زندہ رہ جاتے تو شاید سادگی بچت قناعت کی رسم پڑ جاتی بلکہ پختہ ترہوچکی ہوتی۔ عمران نے اگر یہ کہہ دیا ہے کہ انہیں وزیراعظم ہاﺅس استعمال کرنے میں شرمندگی محسوس ہوتی ہے ایک مقروض قوم وزیراعظم ہاﺅس کے اربوں کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہے، کیا سادگی اپنانا کوئی بری بات ہے ؟ کیا یہ کوئی سوال ہے کہ عمران رہائش کہاں رکھیں گے؟ توقعات تو یہی ہیں کہ عمران خان اپنے سبھی ناقدین کو حیران کردیں گے۔ تب ان شاءاللہ یہی ناقدین عمران خان کے قصائد پڑھنے لگیں گے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان نے بلاول سے ہاتھ ملایا۔ اکٹھے تصاویر بھی بنائی گئیں۔ مسلم لیگ نون نے بھی بہت درست فیصلہ کیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کو حکومت کرنے کا موقع دے گی۔ یہ بہت اچھا فیصلہ ہے اگر سبھی سیاسی جماعتیں عہد کرلیں کہ اب پاکستان کو ان خطرات سے نکالنا ہے اور پھر عمران خان کو کام کرنے کا موقع دیں تو یقینا ہم ایک فلاحی ریاست کے قیام کی طرف جاسکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اسمبلیوں میں بیٹھنے والے اور لاکھوں روپے خرچ کرکے الیکشن جیتنے کے بعد وزیر بننے والے ”سراپا ایثار“ بن جائیں اور سچ تو یہ ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ قربانی دینا اور بے لوث کسی کے کام آنا اس صدی کے انسان کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ بغیر مطلب کے تو ہم مسکرا بھی نہیں سکتے۔
ادھر پی ٹی آئی کے ”تبدیلی“ کے نعرے کا ہرجگہ تذکرہ ہے، جیسے عمران خان کے بطور وزیراعظم حلف اٹھاتے ہی سارا سماں بدل جائے گا۔ اور آناً فاناً تبدیلی آکر ہماری زندگیوں کو بدل دے گی۔
اللہ کے بندو!عمران خان نے آکر بھی یہی کرنا ہے، یہی کہنا ہے کہ آﺅ ذاتی مفاد کے بجائے ملکی مفاد اور وقار کو ملحوظ رکھیں۔ کیا یہ سب ہم نہیں جانتے۔ “
کیا عمران خان نے آکرکسی پیٹرول پمپ پر پیٹرول بھرنے والے نوجوان کو کان سے پکڑ کر کہنا ہے کہ پیٹرول کا پیمانہ درست چلاﺅ۔ بیشتر پیٹرول پمپوں پر نہ صرف پیٹرول کا پیمانہ غلط ہے اور پیسے وصول کرکے بھی پیٹرول کم ڈالا جاتا ہے بلکہ پیٹرول میں ملاوٹ بھی کی جاتی ہے۔ کیا ہم سب کو دیانت دار ہونے کے لیے عمران کے حلف اٹھانے کا انتظار کرنا ہوگا۔
ٹریفک کے اصولوں پر کاربند ہونے کے لیے عمران کے شیروانی پہننے کا انتظار کرنا ہوگا؟ ۔ منڈیوں میں قربانی کے جانوروں کے نقلی سینگ لگا کر فروخت کرنے والوں کو عمران خان نے آکر گریبان سے پکڑنا ہے کہ یہ تم لوگوں کو دھوکہ دے کر قربانی کے لیے نااہل جانور کیوں بیچ رہے ہو؟؟ اور تو اور بکروں اور دُنبوں کو بیسن والا پانی پلا کر انہیں صحت مند دکھاکر منافع کھرے کرنے والوں کو پی ٹی آئی کی حکومت نے آکر ٹھیک کرنا ہے؟ ایسی اخلاقی بیماریوں سے ہم سب دوچار ہیںاور ہم جانتے بوجھتے بھی یہ سب غلط کام کرتے ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ ہمارا دین ہمیں اس جعل سازی دونمبری، بددیانتی اور دھوکہ دہی سے منع کرتا ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ ”جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں“ اس کے باوجود جعلی مشروبات مصالحہ جات اور کھانے پینے کی اشیاءاور دوائیں ناخالص ہیں۔ ہم اپنے منافع سے غرض رکھتے ہیں ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ جعلی اور دونمبر دواﺅں اور غذاﺅں سے لوگ بیمار ہوں گے مگر اس کے باوجود ہم باز نہیں آتے۔ دین کی راہ پر ہم نہیں چلتے۔ دین ان باتوں سے ہمیں منع کرتا ہے۔
مگر ہم اپنا ایمان داﺅ پر لگا کر زندگی گزاررہے ہیں۔ ایمان سے بڑھ کر یا پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ سے بڑھ کر ہمیں کچھ پیارا نہیں ہم اگر ان کی بتائی گئی باتوں پر عمل نہیں کرتے تو عمران خان نے ہمیں کیسے تبدیل کرنا ہے؟ عزیز قارئین!ہمیں ہرحال میں پہلے اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہے۔ ہمیں آج سے عہد کرنا ہوگا کہ ہم کوئی غیر اخلاقی غیرقانونی کام نہیں کریں گے۔ زندگی کے سنہرے اصولوں پر عمل کریں گے اور وہ سنہرے اصول ہم سب کو پتہ ہیں۔
سو عمران خان کی تبدیلی کے بجائے اپنے من میں جھانک کر خود کو راہ راست پر لانے کی کوشش کریں اگر ہرشخص اپنے ضمیر کے مطابق کام کرنے لگے تو تمام اخلاقی روحانی بیماریوں پر قابو پاسکتے ہیں۔
عمران خان کو وزارت عظمیٰ کا حلف لیتے ہی بس ایک کام کرنا ہے یعنی قانون کی حکومت قائم کرنی ہے۔ قانون سب کے لیے برابر کردیا جائے۔ کرپشن کی سزا موت کردینی چاہیے۔ ملاوٹ اور جعلی اشیاءفروخت کرنے والے صرف دوتین مجرموں کو سرعام پھانسی پر لٹکا دے تو سارا معاشرہ سزا کے خوف سے خود ہی ٹھیک ہوجائے گا۔ پولیس کا نظام درست کرکے انصاف اور میرٹ کا نظام لاگو کرایا جائے تو حقیقی تبدیلی آسکتی ہے۔ قوم کو اچھا لگا کہ آنے والا وزیراعظم سفید شلوار قمیص میں کسی قسم کے احساس کمتری سے بالا ہوکر دکھائی دے رہاہے۔ اگر ساری کابینہ ایسی ہو جائے۔ قناعت پسند حکومت آجائے تو ہم درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔
صرف عمران خان کو تبدیلی کا ذمہ دار مت ٹھہرائیں ۔آئیں ہم سب بھی تبدیل ہو جائیں۔ دوسروں کو تبدیل کرنے کے بجائے ہم سب اپنے اندر جھانکیں اور اپنی عادات وخصائل بدلیں ایثار قربانی کا جذبہ پیدا کریں اور دوسروں کے لیے سوچنا شروع کریں آپ بھی بھلائی کی زد میں آجائیں گے ان شاءاللہ :
آخر میں یہ شعر کرپٹ افراد کی نذر :
کوئی کم بخت کسی روز چُھراگھونپ دے گا
اپنے ہی پیٹ کو ہروقت نہ آگے رکھو“


ای پیپر