The federal cabinet approved a ban on Tehreek-e-Libek
کیپشن:   فائل فوٹو
15 اپریل 2021 (13:52) 2021-04-15

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت فوری طور پر پابندی لگانے کی منظوری دیدی ہے۔

وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت کی سفارش پر وفاقی کابینہ کو تحریک لبیک پر پابندی لگانے کی سمری ارسال کی تھی۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے بھی اس پابندی پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ 

خیال رہے کہ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد اس کے کارکنوں نے اپنے دھرنوں کے ذریعے پورے ملک کو مفلوج کر دیا تھا۔ حکام انھیں دھرنے ختم کرانے کیلئے درخواستیں کرتے رہے لیکن ٹی ایل پی کے قائدین کی ہٹ دھرمی جاری رہی۔

ٹی ایل پی کے کارکنوں نے ناصرف ملک بھر میں شاہراہیں بلاک کیں بلکہ عوام کی گاڑیوں، سرکاری اور نجی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ مشتعل مظاہرین نے عوام کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو بھی نہ بخشا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر دو پولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا

پولیس حکام کے مطابق تحریک لبیک کے کارکنوں کے تشدد سے تقریباً 600 پولیس اہلکار زخمی ہو کر مختلف ہسپتالوں میں پڑے ہیں جہاں انھیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

اہم اب ان شرپسندعناصر کیخلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دھرنوں کو ختم کرا کے ٹریفک کا نظام بحال کر دیا گیا ہے۔ عوام نے اس ایکشن پر سکھ کا سانس لیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں جہاں جہاں بھی شرپسند عناصر کی جانب سے دھرنے دے کر قومی شاہراہوں کو بند کیا گیا تھا، انھیں بزور طاقت کھلا دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں خبریں ہیں کہ سیالکوٹ کی مقامی انتظامیہ نے حرکت میں آتے ہوئے مظاہرین سے کامیاب مذاکرات کئے اور انھیں راضی کیا کہ وہ احتجاج کا سلسلہ بند کر دیں۔

ادھر نارووال میں بھی مظاہرین نے تمام ریلوے پھاٹکوں کو کھول دیا ہے جس سے لاثانی ایکسپریس اور علامہ اقبال ایکسپریس اپنی اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہوئیں۔

اس کے علاوہ گجرات اور خانیوال میں پولیس نے سخت ایکشن لیتے ہوئے دھرنے کو ختم کرا دیا ہے۔ خیال رہے کہ گجرات میں شرپسند عناصر کیساتھ احتجاج کے دوران ہونے والے تصادم میں بائیس پولیس افسران اور اہلکاروں کو زخمی کر دیا گیا تھا، جو اس وقت مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

گجرات پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مشتعل مظاہرین پر مقدمات درج کرکے انھیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ ادھر لاہور کے بھی تمام علاقے اور شاہراہیں اس وقت بالکل کلیئر ہیں تاہم چند مقامات پر ابھی تک دھرنوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

کراچی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی سخت کارروائی کرتے ہوئے تمام شاہراہوں کو مذہبی جماعت کے کارکنوں سے کیلئر کر وا لیا ہے۔ اس موقع پر کچھ تصادم بھی ہوا لیکن پولیس نے مشتعل افراد کو پسپائی پر مجبور کیا، اس کارروائی میں درجنوں کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔


ای پیپر