Rising sugar prices and unavailability of sugar in some markets are on the rise in Pakistan these days.
15 اپریل 2021 (11:38) 2021-04-15

پاکستان میں ان دنوں چینی کی قیمتوں میں اضافہ اور بعض مارکیٹوں میں چینی کی عدم دستیابی کا مسئلہ سر چڑھ کر بول رہا ہے اور 120 روپے فی کلو گرام چینی کے نرخ پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین سطح ہے اور یہ کچھ عرصہ میں 65روپے چینی کے نرخ سے یکدم اتنا اضافہ یقیناً ہر عام آدمی کے ہوش اڑ گئے ہیں۔

جہاں تک عام اشیائے صرف کی قیمتوں میں رد و بدل بلکہ پاکستان کی حد تک مسلسل اضافے کا تعلق ہے تو یہ معاملہ مشکل نہ ہونے کے باوجود عام آدمی سے لے کر پاکستان کے تمام سرکاری ماہرین معاشیات کی سمجھ سے باہر ہے کہ ایک طرف حکومت کے اپنے بیان کے مطابق چینی کی فی کلو لاگت زیادہ سے زیادہ 60 روپے کلو ہے اور دوسری طرف بازار میں اس کی قیمت 110 سے 120 روپے ہے جب نہ ملک میں قلت ہے اور نہ ہی دنیا میں۔

حکومت  تمام تر اعلانات، اقدامات اور دعوؤں کے باوجود سرکاری نرخوں پر چینی کی فروخت یقینی نہیں بنا سکی ہے۔ انتظامیہ جب 85روپے کے نرخ پر عملدرآمد کی کوشش کرتی ہے تو کریانہ سٹور مالکان کا مٔوقف ہوتا ہے کہ سو روپے یا اس سے زیادہ میں خریدی گئی چینی اس نرخ پر کیسے فروخت کریں۔

گزشتہ سال بھی حکومت نے چینی کی سرکاری قیمت 70 روپے فی کلو گرام مقرر کر کے اس کے نفاذ کی کوشش کی تھی جو ناکام ہو گئی تھی اور ویسی ہی صورتحال اس وقت ہے۔یوں آنے والے دنوں میں کم ہونے کی بجائے یہ بحران شدت اختیار کرتا نظر آ رہا ہے اور یہ سب کچھ اس حقیقت کے باوجود ہو رہا ہے کہ مقامی سطح پر چینی کے نرخوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے لاکھوں من چینی درآمد بھی کی گئی قیمتوں کا مسئلہ وہیں کا وہیں ہے اور طلب اور رسد کے نظام کو جلد کنٹرول نہ کیا گیا تو چینی کی قلت اور قیمتیں مزید بڑھ جانے کے اندیشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

حکمران پی ٹی آئی یا پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ (ن) یا کوئی اور تقریباً 100 فیصد شوگر ملز مالکان کسی نہ کسی اسمبلی یا سینٹ کے یا تو خود ممبر ہیں یا یہ ان کے کسی نزدیکی رشتہ دار کی ملکیت ہیں۔  چینی بحران کی تحقیقات کے دوران بے نامی اکاؤنٹس، جائیدادوں اور اثاثوں کے بعد اب اربوں روپے کے بے نامی چینی کاروبار کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

تحقیقات کے دوران پتہ چلا ہے کہ چینی بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے بھی خریدی گئی ہے۔ جس کے مطابق ٹرک ڈرائیوروں، سکیورٹی گارڈز اور ذاتی ملازموں کے اکاؤنٹس کھلوا کر اس میں سے چینی کی خرید و فروخت کے لئے اربوں روپے کی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ یہاں تک کہ چینی کے اس بحران سے کئی سو ارب روپے غریبوں سے طاقتور طبقے کے پاس چلے گئے۔

شوگر مل مافیا کے خلاف جوں جوں کارروائی آگے بڑھ رہی ہے نت نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں جو نا صرف پریشان کن اور تشویشناک ہیں بلکہ ان کی وجہ سے خاص طور پر گزشتہ حکومتوں کی کارکردگی اور مافیاؤں کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے ناقص حکمتِ عملی پر بھی سوالیہ نشان لگتا ہے۔ تازہ انکشاف یہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی9 بڑی شوگر ملیں ایسی ہیں جن کے ذمے کسانوں کے تقریباً 10 ارب روپے واجب الادا ہیں اور وہ اب تک کارروائی سے صرف اس لئے بچتی چلی آ رہی ہیں کہ سیاسی اثر رسوخ کی حامل ہیں۔ متذکرہ شوگر ملوں میں سے دو حکمران جماعت کے دو اہم رہنماؤں ہمایوں اختر اور ہارون اختر کی ہیں جن کے ذمے کسانوں کے دو ارب 86 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔ وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی مخدوم عمر شہریار کی رحیم یار خان اور سلانوالی شوگر ملز نے کسانوںکے ایک ارب 28 کروڑ روپے ادا کرنے میں۔ میاں شہباز شریف کے صاحب زادے سلیمان شہباز کی رمضان شوگر ملز نے بھی کسانوں کے 81 کروڑ روپے دبا رکھے ہیں۔ یہ صورتحال اس لئے بھی پیدا ہوئی کہ شوگر ملز مالکان پنجاب حکومت کی جانب سے شوگر کنٹرول ایکٹ ختم کئے جانے کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے علاوہ انتہائی بارسوخ بھی تھے چنانچہ ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہو پا رہی تھی۔

پاکستان میں چینی اور آٹے کا بحران پیدا کر کے مال بنانا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ یہاں دہائیوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے کہ گلی گلی محلے محلے با آسانی دستیاب ہونے والی چینی اور آٹے کو منصوبہ بندی سے نایاب کر کے غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے دور کر دیاجاتا رہا ہے۔ رپورٹ میں بے نقاب ہونے والے افراد ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے عمل کے پرانے اور عادی مجرم ہیں مگر پہلی دفعہ ان کا مکروہ دھندا اور چہرے بے نقاب ہوئے ہیں۔

بلا شبہ یہ پہلے کبھی نہیں ہوا کہ کوئی وزیرِ اعظم کمیشن بنائے اور ایک ایسی رپورٹ کو من وعن پبلک کر دے جس میں اس کی اپنی حکومتیں اور قریبی ساتھی ذمہ دار ٹھہریں ۔ انہوں نے ملکی سیاست اور سماج کو ایک نئی سوچ دی ہے اور ایک نئے طرزِ احساس اور جمہوری اقدار سے وابستگی کے سفر میں ایک لازوال جد و جہد کا منظر نامہ سجا کر دیا ہے جب کہ عوامی سیاست کے جو رنگ انہوں نے قومی سیاست کے فرسودہ ڈھانچے میں بکھیرے ہیں ان کی چمک دمک پچھلی تین چار دہائیوں میں دھیمی پڑ چکی ہے۔ جب قومی دولت اور عوام کو لوٹے جانے کا سدِ باب کرنے کی بجائے خود بھی کرپشن کرے اور دوسرے کرپٹ لوگوں کی کی سرپرستی بھی کرے تو پھر ملک کا کیا بنے گا۔ 

ہم نے گزشتہ 72 سال میں بہت سی غلطیاں کیں اور ہر وقت اپنے اعمال کا حساب بھی نہیں کیا لیکن اس سارے تاریک سفر نامے کا ایک روشن باب یہ بھی ہے کہ اب ہم بطور قوم آہستہ آہستہ اپنے اصل اور چھوڑے ہوئے راستے پر مڑ رہے ہیں۔ بظاہر اس وقت ہر طرف افراتفری اور آشوب در آشوب کی سی صورتحال ہے لیکن غور سے دیکھا جائے تواسی خرابی میں سے تعمیر کی ایک صورت بھی، ٹکڑوں میں ہی سہی، بنتی دکھائی دے رہی ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ اب عوام نہ صرف دائرے کی شکل و صورت سے آگاہ ہو رہے ہیں بلکہ اس کے حصار میں آویزاں ان مکڑی کے جالوں اور ان کے لگانے والوں سے خبردار ہوتے جا رہے ہیں۔ جن کے طلسم سامری نے ان کی زندگیوں کے 72 برسوں کو ان بے شمار رنگوں سے محروم رکھا، جو ان کا حق بھی تھے، ورثہ بھی، سرمایہ بھی۔

آپ اسمبلیوں میں دیکھیں کہ انہی لوگوں کی اکثریت ہے کچھ نئے چہرے بھی دکھائی دیں گے جو زیادہ تر انہی کی سرپرستی کے طلب گار ہوتے ہیں۔ یہ لوگ دولت کی طاقت سے آگے بڑھتے ہیں۔ یہ اپنے آپ کو کسی لیڈر کے لئے ناگزیر بنانے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ اسی تجربے اور مہارت پر وہ اقتدار کی سیاست کرتے چلے آ رہے ہیں عمران خان نے ان کو عزت دی جلسوں میں اپنے دائیں بائیں اس امید پر کھڑا کیا کہ وہ اس کے ذہن کو سمجھتے ہوئے اپنے ماضی کو بیچ میں نہیں لائیں گے لیکن انہوں نے وہی کچھ کیا جو وہ پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ جب کہ عمران خان کو حمایت اس کرپٹ نظام کا حصہ بننے پر نہیں بلکہ اس کرپٹ نظام کو توڑنے کے وعدے پر ملی تھی۔

اس حقیقت میں تو کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ہماری جمہوریت پر ہمیشہ امراء و روسا کا قبضہ رہا ہے۔ یہ لوگ حصولِ اقتدار صرف شہرت یا عام زندگی کی بہتری کے لئے نہیں چاہتے بلکہ برسرِ اقتدار آنا ان کے نزدیک زرگری کے لئے اشد ضروری ہے۔  عمران خان سٹیٹس کو توڑنے اور اصلاحات کے ذریعے پر امن انقلاب لانے کے آرزو مند ہیں۔

وہ معاشی استحکام اور ریاستی اداروں میں جوہری اصلاحات لانے میں سنجیدہ ہیں۔ بلا شک عمران خان عوام کے مسائل کا پورا ادراک رکھتے ہیں اورا ن کو حل کرنے کا قابلِ عمل منصوبہ بھی ان کے ذہن میں موجود ہے۔ ان کے اس عمل سے ان کی نیت بھی ظاہر ہو رہی ہے۔ عمران خان کی گزشتہ بائیس سال کی سیاسی و سماجی جد و جہد پر نظر دوڑائیں تو اس میں یہی بات نمایاں نظر آتی ہے کہ وہ عام آدمی کی زندگی میں سدھار لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ دوسرا وہ کرپشن اور بے ایمانی کے خلاف سینہ سپر نظر آتے ہیں۔ عمران خان جانتے ہیں کہ کتنے طاقتور لوگ ہیں اور اس سارے معاملے سے نمٹنے کے لئے ایک بڑی مزاحمت کی ضرورت ہے جس میں عوام سمیت ہر کسی کو ان کا ساتھ دینا چاہے۔


ای پیپر