ضیا شاہد۔۔۔چند یادیں چند باتیں
15 اپریل 2021 2021-04-15

جنگ اور نوائے وقت کا طوطی بولتا تھاضیا شاہد نے جنگ سے فراغت کے بعد روزنامہ پاکستان کا آغاز کیا اور اس دور میں کامیاب کر ڈالا جب چند اخبارات کی اجارہ داری تھی لیکن سلسلہ کچھ زیادہ دیر نہ چل سکا اور وہ روزنامہ پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔بالآخر بے سروسامانی کے عالم میں روز نامہ خبریں نکالنے کا فیصلہ کیا جب جیب میں صرف چھ ہزار تھے۔ کمپنی بنائی گئی ،ڈائریکٹر اکٹھے کئے گئے اور پنج محل روڈ سے 26ستمبر 1992کو روزنامہ خبریں کا آغاز کر دیا گیا۔ 26ستمبر 1992کو ہی مجھے مجاہد حسین نے کہا کہ میگزین سیکشن میں ایک بندے کی ضرورت ہے آپ ادھرآجائیں نوکری کی ضرورت تو تھی میں چلا گیا ضیا شاہد کے بارے میں سنا تھا کہ وہ بہت سخت انسان ہیں ابھی میں مجاہدحسین سے ملنے پہنچا ہی تھا کہ ضیا شاہد ڈیزائننگ کے کمرے میں آ گئے اور خوب ہنس ہنس کر ڈیزائنر سے باتیں کرنا شروع کر دیں لطیفے سناتے رہے اور اخبار کی ڈیزائننگ کے متعلق ہدایات دیتے رہے۔یہ میری ضیا شاہد سے پہلی ملاقات تھی قصہ مختصر میں بھرتی ہو گیا میرا باقاعدہ صحافتی سفر ظفر اقبال نگینہ جو معروف فیچر رائٹر ہیں کے ساتھ شروع ہوا اوچند ماہ میں سنڈے میگزین تک پہنچ گیا۔ضیا شاہد کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ وہ چونکہ خود میگزین کے آدمی ہیں اس لئے ان کے ساتھ میگزین میں کام کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ انہیں کسی کا میگزین پسند ہی نہیں آتا تھا۔میری خوش قسمتی کہ اچھے استاد مل گئے اور انہوں نے مجھے میگزین کے گر سکھا دیئے ، جن میں پرویز حمید ، حسن نثار، سلیم چوہدری سہیل ظفر،خالد یزدانی۔ سجاد انور ، ظفر اقبال نگینہ ،اطہر عارف ، ڈاکٹر انور سدید، وسیم گوہر اور ہمایوں ادیب جیسے لوگ شامل تھے۔پھر میرا بنایا ہوا میگزین پسند بھی آتا اور مجھے اکثر انعام ملتا رہتا۔ضیا صاحب اگر کوئی اچھا کام کرے تو کبھی تعریف میں کنجوسی نہیں کرتے تھے اور اگر کوئی اچھا کام نہ کرے تو سارا آفس دیکھتا تھا کہ اس کی کیسی کلاس ہو رہی ہے۔لیکن ایک بات ہمیشہ تھی کہ وہ جتنی مرضی کلاس لیتے اس دوران وہ یہ بھی بتا تے رہتے کہ ایسے نہیں ایسے کرنا چاہئے تھا یعنی ان کا سکھانے کا عمل ہر وقت جاری رہتا،ہم لوگ اکثر کلاس کے دوران بھی ان سے سیکھتے تھے۔میگزین میں شائع ہونے والا مین انٹرویو خود ایڈٹ کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ اتنے لمبے پیرے نہ لکھا کرو کوئی فل سٹاپ قومہ ، کوئی پیرا بنانا ہوتا ہے۔سب سے مشکل کام ان سے جمعہ میگزین میں ان کا کالم جمعہ بخیرلکھوانا ہوتا تھا۔منگل کو جب میگزین کی آخری کاپی جانا ہوتی اس دن ہم گھر سے یہ سوچ کے آتے تھے کہ آج رات ادھر ہی رہنا ہے۔ضیا شاہد صاحب کو یاد کرا دیا جاتا تھا کہ آج کالم لکھنا ہے پھر وہ ابھی لکھتا ہوں ابھی لکھتا ہوںکہنے کے بعد کہتے کہ یار گھر سے جا کر فیکس کر دوں گا۔جونہی وہ گھر پہنچتے میں انہیں فون کر کے یاددہانی کرا دیتا کہ کاپی لیٹ ہو رہی ہے۔ لیکن اکثر صبح ہو جاتی پھر عابد اکرم پریس انچارج غصے میں میرے پاس آتے کہ ابھی تک کاپی نہیں آئی میں انہیں بتاتا کہ کالم کا انتظار ہو رہا ہے وہ پھر خود فون کرتے پھر صفحات آنے شروع ہو جاتے امتیاز گھمن صاحب خود ٹائپ کرتے اور زبیر احسان مرحوم اس کی پروف ریڈنگ کرتے تاکہ کوئی غلطی نہ رہ جائے۔ اور جو تحریر لکھی ہوئی آتی اسے پڑھ کر ساری تھکن دور ہو جاتی پھر اگر ایک لفظ بھی کاٹنا ہوتا تو وہ خود کاٹتے اس دوران جب تک کاپی پریس نہ چلی جاتی ضیا شاہد جاگتے رہتے اور اگر کبھی لکھنے کا موڈ نہ بنتا تو پھر بھی وہ صبح ہی بتاتے کہ لکھنے کا موڈ نہیں بنا یا میری کوئی مصروفیت رہی ہے کوشش کے باوجود ٹائم نہیں ملا کاپی لیٹ ہو رہی ہے تو کچھ اور لگا کر بھیج دو۔پھر روشن باتیں کے نام سے ایک کالم جو پہلے ہی تیار ہوتا لگا کر کاپی پریس بھیج دی جاتی تھی۔کاپی پریس میں جانے کے بعد پرنٹ ہونا شروع ہوتی تو میں پروف چیک کر کے گھر جاتا۔ 

بلا شبہ ا نہوں نے صحافت میں بہت سی جدتیں دیں جن میں ایک کا ذکر کرنا ضروری ہے۔لاہور میں دوپہر کا اخبار کبھی کامیاب نہیں ہوا تھا۔ صحافت کے نام سے دوپہر کا اخبار شروع کیا اور وہ اتنا کامیاب ہوا کہ ہر دکان پر رکھنا فیشن بن گیا۔ پھر اس طرز پر لشکر، تصویر پاکستان ،مقابلہ سمیت بہت سے اخبارات نکالے گئے جو کامیاب ہوئے۔ انکی کامیابی کا سہرہ بھی ضیا شاہد کو جاتا ہے کیونکہ انہوں نے ہی ٹرینڈ بنایا تھااور دوپہر کو اخبار فروخت کرنے کا سسٹم بھی دیا۔

ایک دفعہ بہترین ایڈیشن شائع کرنے پر دفتر کے سینئر افراد کے سامنے مجھے بلا کر ایک ہزار انعام دیا۔ہم سب نے پروگرام بنایا کہ اس کی پارٹی کی جائے کچھ ہی دیر بعد ایک اعلیٰ ترین شخصیت کا فون آیا اور اس نے اس ایڈیشن پر برا منایا۔مجھے پھر طلب کر لیا گیا اور انہی سینئر افراد کے سامنے خوب ڈانٹ پلائی اور مجھے بتایا گیا کہ آپ نے بہت اچھا ایڈیشن بنایا ہے لیکن یہ ادارے کے لئے نقصان دہ ہے ، اس دوران عدنان شاہد نے جن کے ساتھ شام کو باغ جناح میں پارٹی کا پروگرام تھا چپکے سے مجھے کہنے لگے کہ غصہ میں پیسے مت واپس کر دینا میٹنگ میں جن لوگوں نے سنا وہ ہنسنا شروع ہو گئے کلاس نصیحت میں بدل گئی اور کہنے لگے کہ تم میں صحافت کے اچھے جراثیم موجود ہیں میرے ساتھ کم از کم پانچ سال کام کرو اس کے بعد ناکامی کبھی نہیں ہو گی ۔ میں نے بھی وہ بات پلے باندھ لی اور خوب محنت کی جس کا ثمر مجھے آج تک مل رہا ہے۔ 

ایک نصیحت جو ضیا شاہد نے کی کہ اگر جرنلزم میں کامیابی حاصل کرنا ہے تو گھڑی دیکھنا چھوڑ دو اس دن کے بعد سے میں نے گھڑی پہننا چھوڑ دی پھر دفتر آنے کا تو ٹائم ہوتا جانے کا نہیں۔ خبریں پر مالی بحران آیا تو سنڈے میگزین بند کر دیا گیا میری ڈیوٹی پرویز حمیدصاحب کے ساتھ لگا دی گئی کہ ہم نے روزانہ ایک اچھا انٹرویو دینا ہوتا جو بہت معیاری ہونا چاہئے تھا اللہ کے فضل سے کئی ماہ ہم روزانہ ایک انٹرویو دیتے رہے اور ہر انٹرویو کے بعد شاباش بھی حاصل کرتے اور اکثر انعام بھی۔ایک مرتبہ میں نے اس وقت کے ایک معروف شاعر محسن نقوی کا انٹرویو کیا جو انکی ذاتی زندگی سے متعلق تھا۔ضیا شاہد کو وہ انٹرویو پسند نہ آیا انہوں نے روک دیا۔ اگلے دن جب میں دفتر پہنچا تو استقبالیہ سے مجھے پیغام ملنے شروع ہو گئے کہ فوری چیف صاحب کے کمرے میں پہنچو۔ میں نے سوچا کہ آج خیر نہیں اور سوچنے لگا کہ آج کیا غلطی کی ہے۔بہرحال اندر پہنچا تو کہنے لگے کہ کل جو محسن نقوی کا انٹرویو کیا تھا وہ کدھر ہے لے کرآﺅ۔ میں نے دوبارہ انٹرویو دیا تو ایڈیٹ کرنے کے بعد کہنے لگے کہ اسے نیوز میں دے دوصبح سپر لیڈ لگے گی میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ کل توآپ نے کچھ اور کہا تھا کہنے لگے تمہیں نہیں علم کہ محسن نقوی کو کسی نے قتل کر دیا ہے اور یہ ان کا آخری انٹرویو ہے۔یہ تھا ضیا شاہد کا پروفیشنلزم۔یقین نہیں آ رہا کہ وہ آج ہم میں نہیں ہیں بلا شبہ وہ صحافت کی بہترین یونیورسٹی تھے اور مجھے فخرہے کہ میں نے اس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔اللہ تعالی ان کی مغفرت کرے اور ان کے درجات کو بلند کرے۔


ای پیپر