ڈسکہ میں پی ٹی آئی بمقابلہ پی ٹی آئی!
15 اپریل 2021 2021-04-15

ڈسکہ کا ضمنی الیکشن نون لیگ نے جیت لیا، اس سے پارلیمنٹ میں تو ظاہر ہے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ نون لیگ کی سیٹ نون لیگ کے پاس واپس چلی گئی، مگر قومی سیاست، خصوصاً پی ٹی آئی کی حکومت اور سیاست پر اس کے برے اثرات ہوں گے، اپنی بے شمار نااہلیوں، حماقتوں، اور پنجاب میں ایک انتہائی نکمی ٹیم کی وجہ سے گزشتہ تین برسوں میں پی ٹی آئی کو جو نقصان پہنچا اُس کی تلافی یا ازالہ اگلے دوسالوں میں شاید ممکن نہ ہوسکے، مگر ہم اب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں وزیراعظم عمران خان سیاسی و انتظامی طورپر درست ٹیم کا انتخاب کرلیں، اپنا ظرف اپنے عہدے کے مطابق کرلیں، خصوصاً ایسی ” امپورٹیڈشخصیات “ جن کے ساتھ ان کا تعلق صرف اور صرف ان کے اقتدار کی وجہ سے جُڑاہوا ہے اُن سے جان چھڑواکر اپنے ایسے پرانے سیاسی جانثاروں کے مشوروں کو اہمیت دیں جنہیں عہدوں کا کوئی لالچ نہیں، تو ایسی صورت میں ممکن ہے اگلے دوبرسوں میں کوئی ایک آدھ ایسا کارنامہ وہ کر جائیں جس کی بنیاد پر لمحہ موجود کایہ ثاتر شاید کمزور پڑ جائے کہ اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوں گی ....ڈسکہ کے ضمنی الیکشن پر وفاقی وزیر فواد چوہدری کا ایک ٹوئیٹ بڑا زبردست ہے، اُن کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو وزیراعظم کے سامنے دیگر کبھی وزراءکی طرح صرف ”بھاگ لگے رین “ کی کاسی لیسی کا راگ نہیں الاپتے رہتے، وہ سچی بات کہنے میں بڑی آسانی محسوس کرتے ہیں، مختلف ٹاک شوز میں وہ جب وزیراعظم یا اپنی جماعت کو ڈیفینڈکررہے ہوتے ہیں ان کے چہرے کا کرب کچھ اور پیغام ہی دے رہا ہوتا ہے، پر ظاہر ہے جس کشتی کے وہ سوار ہیں اُس میں سے اچانک باہر چھلانگ لگادینے سے فی الحال بہتر یہی ہے سچ بولنے اور صحیح مشورے دینے کے حوالے سے اپنے حصے کا چراغ وہ جلاتے رہیں، .... ڈسکہ میں پی ٹی آئی کے اُمیدوار علی اسجد ملہی کی شکست پر انہوں نے فرمایا ” اس الیکشن میں نون لیگ نہیں جیتی پی ٹی آئی ہاری ہے“ .... کچھ لوگوں کو ان کی اس گہری بات کی شاید دیر سے سمجھ آئے، اُنہوں نے بالکل ٹھیک فرمایا، پنجاب کی نااہل ٹیم تھوڑی سی مزید محنت اگر کرلیتی، خصوصاً پی ٹی آئی سیالکوٹ کے کچھ عہدہ ومراعات پسند نمائشی رہنما اپنے ذاتی مفادات پر پارٹی مفادات کو ترجیح دیتے، منافقتوں سے گریز کرتے، میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں، اِس کے باوجود کہ لوگ پی ٹی آئی کی حکومت کی ناقص پالیسیوں سے تنگ آئے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ اِس یقین میں مبتلا ہوچکے ہیں، یہ کچھ بھی کرلیں، کوئی بہتری ان سے نہیں ہونی، پی ٹی آئی کا اُمیدوار جو چند ہزار ووٹوں سے ہارگیا چند ہزارووٹوں سے جیت بھی سکتا تھا، .... میں اُس کی شکست کے کچھ اندرونی اسباب سے ذاتی طورپر واقف ہوں، ہارنے کے بعد جو گفتگو علی اسجد ملہی نے کی اُس میں اچھی بات یہ تھی نون لیگ کی کامیاب امیدوارہ کو اُنہوں نے مبارک دی، اور بڑی بات یہ تھی طنزیہ طورپر الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا، اب ظاہر ہے اپنی جماعت کے کچھ منافقین کو تو سرعام ذمہ دار وہ نہیں ٹھہرا سکتے، پر اُنہیں چاہیے اپنی شکست کے اصل اسباب وزیراعظم کو جاکر بتائیں، ایجنسیوں کی رپورٹیں بھی اُنہیں مل چکی ہیں، پر وہ ذاتی طورپر اُنہیں آگاہ کریں کیسے کیسے سانپ آستین میں اُنہوں نے پالے ہوئے ہیں، .... پی ٹی آئی کے بارے میں اکثر لوگ جو یہ کہتے ہیں ” پی ٹی ائی کو صرف پی ٹی آئی نقصان پہنچا سکتی ہے، اُس کی ایک مثال ایک بار پھر ڈسکہ کے الیکشن میں سامنے آئی، اِس سے پہلے لاہور میں عبدالعلیم خان کے الیکشن میں بھی سامنے آچکی ہے، وہ بھی اپنی ہی جماعت کے کچھ سانپوں کی سازش کا شکار ہوئے تھے، چند روز قبل، ڈسکہ کے ضمنی الیکشن سے دو روز پہلے میرے ایک عزیز دوست مجھ سے ملنے آئے، اُنہوں نے پی ٹی آئی سیالکوٹ کے ایک نمائشی رہنما کا جو ”واٹس اپ مسیج“ مجھے سنایا، میں حیران ہوا جو شخص الیکشن کمپین میں پی ٹی آئی کے اُمیدوار علی اسجد ملہی کے سجے کھبے کھڑا دکھائی دیتا ہے وہ کس منافقانہ انداز میں اندرونی طورپر اُن کے خلاف چل رہا ہے، .... مجھے ایک شعر یاد آگیا، ....”میرے دشمن نے کیا وار سینے پہ میرے....میری پشت میں میرے یار کا خنجراُترا“....علی اسجد ملہی بلاشبہ ایک پڑھا لکھا انسان ہے، شریف انسان کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں، 2013کا الیکشن انہیں نون لیگ کے امیدوار ظاہرے شاہ نے ہی ہروایا ہوگا، پر 2021کا ضمنی الیکشن اسے ظاہرے شاہ کی بیٹی نے نہیں ان کی اپنی جماعت کے کچھ منافقین نے ہروایا، دس ہزار ووٹوں کا فرق زیادہ نہیں ہوتا، علی اسجد ملہی کو بار بار ہارنے کا اگر چسکا نہ پڑ جائے، اُنہیں چاہیے اب اپنے حلقے کو زیادہ سے زیادہ ٹائم دیں، لوگوں کے دُکھ سُکھ میں زیادہ سے زیادہ شریک ہوں، جس قدر ممکن ہو اپنے حلقے کے لوگوں کے جائز مسائل حل کریں۔ تھوڑی بہت ”نوابی“ اُن کے دل ودماغ میں جو سمائی رہتی ہے اُسے مستقل طورپر نکال کر پھینک دیں، .... پی ٹی آئی کے کچھ وزیر شذیر اپنی نالائقیوں کی خفت یہ کہہ کر نہیں مٹاسکتے کہ حکومتی اُمیدوار کی شکست اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نے فری اینڈ فیئر الیکشن کا اہتمام کیا، اس الیکشن کو جیتنے کے لیے ہر جائز ناجائز حربہ آزمایا گیا، پر جس احمقانہ انداز میں آزمایا گیا اُس کا اُلٹا نقصان ہی ہوا، یقین کریں مجھے حیرت ہے پی ٹی آئی کی اِس قدرنالائقیوں کے باوجود پی ٹی آئی کا اُمیدوار صرف دس ہزار ووٹوں سے کیسے ہارا؟۔اُسے کم ازکم پچاس ہزار ووٹوں سے ہارنا چاہیے تھا، .... میں اس موقع پر گوجرانوالہ کی انتظامیہ انتہائی زیرک کمشنر گوجرانوالہ ذوالفقار گھمن، انتہائی ایماندار آرپی او گوجرانوالہ راﺅعبدالکریم اور انتہائی صابر شاکر ڈی پی او سیالکوٹ عبدالغفار قیصرانی اور دیگر افسران کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا، اُنہوں نے بڑی سمجھداری سے کوئی ایسا واقعہ یا سانحہ نہیں ہونے دیا جو حکومت پنجاب یا حکومت پاکستان کے لیے مزید بدنامیوں اور شرمندگیوں کا باعث بن جاتا، اس سے قبل ضمنی الیکشن کے موقع پر ریاض نذیر گاڑھا آرپی او گوجرانوالہ تھے، اُن کی شہرت بھی ہرگز ایسی نہیں غیر قانونی احکامات پر منہ چک کے عمل کردیں۔ وہ ایک انتہائی دیانتدار اور خداترس پولیس افسر ہیں، اس وقت کے ڈی پی او سیالکوٹ حسن اسد علوی کی شہرت بھی بہت اچھی ہے۔ اصل خرابی، یا یوں کہہ لیں ڈسکہ کے پچھلے ضمنی الیکشن میں حکومت کے لیے اصل شرمندگی یا خفت کا باعث ان کے کچھ ایسے ماتحت افسران بنے تھے جن کی تقرریوں کا اختیار یا مرکز ظاہر ہے کہیں اور تھا۔ 


ای پیپر