قومی حکومت… چہ معنی
15 اپریل 2020 2020-04-15

قومی حکومت کی آوازیں ایک مرتبہ پھر بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں… یہ مطالبہ کسی عوامی نمائندے یا منتخب گروہ کی جانب سے نہیں کیا جا رہا… نہ ملک کے کسی مقام پر عوام نے کسی بڑے اور قابل ذکر اجتماع میں کھڑے ہو کر اس کا تقاضا کیا ہے… ہر دور کی مانند کسی نظر نہ آنے والے گوشے سے چند منتخب ہائے روزگار دانشوروں اور اینکر پرسنز کو قومی حکومت نام کا نسخہ ترکیب استعمال سمجھا دیا جاتا ہے اور وہ اپنی عالی دماغی اور قلم و بیان کے زور پر پرانی شراب کو نئی بوتلوں میں بھر کر پیش کر دیتے ہیں… آج تک ملک میں قومی حکومت تو نہیں بنی لیکن ہر بحران کے موقع پر اس کا غلغلہ ضرور بلند کیا جاتا ہے… اس لئے قطعی الفاظ میں کسی کو معلوم نہیں کہ مجوزہ قومی حکومت کی آئینی بنیاد کیا ہو گی… اسے کس کا مینڈیٹ حاصل ہو گا… اس کے خدوخال کیا ہوں گے اگر مختلف سیاسی پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں کو اس میں شریک کیا جائے اور کچھ منظور نظر قسم کے ٹیکنوکریٹس کو ان کا ساتھی بنا دیا جائے گا تو اپنے مختلف اور متضاد خیالات کی بنا پر کسی مشترکہ پالیسی پریکسو اور اکٹھے ہو جائیں گے… یہاں تو محفوظ پارلیمانی حکومتوں کو چلانا مشکل ہو جاتا ہے اور جیسا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے تازہ ترین حکم نامے جمع آبزرویشن میں سخت الفاظ پر مشتمل ریمارکس دیئے ہیں موجودہ حکومت جو بظاہر منتخب اور پارلیمانی و جمہوری ہونے کا دعویٰ کرتی ہے غیرمنتخب مشیران گرامی اور معاونین خصوصی کی بھرمار کر دی گئی ہے… اہم تر اور زیادہ اختیارات کی وزارتیں ان کے پاس ہیں… وہی پالیسیاں بناتے ہیں عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ سے بہت کم رجوع کیا جاتا ہے… حکومت محترم چیف جسٹس کے الفاظ میں اس کے باوجود نہیں چل رہی… واقفان حال اس کی ایک وجہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اصل اور حقیقی اختیارات سول اور غیرآئینی مقتدر حلقوں میں بٹے ہوئے ہیں… اسلام آباد دارالحکومت ہے اور راولپنڈی قوت و طاقت کا مرکز… سو اگر قومی حکومت بن بھی گئی تو اندازہ لگایئے اسے کہاں کہاں سے ہدایات موصول نہ ہوں گی، کون سی جماعت بظاہر اپنے آپ کو جو اقتدار اور بااثر بنانے کے لئے طاقت کے کسی مرکز کے قریب رہنے کی کوشش نہ کرے گی… کون سا ٹیکنو کریٹ کہاں سے موصول ہونے والی ہدایات کی پیروی کرنے میں عافیت خیال کرے گا… اس سارے کھیل تماشے میں منتخب پارلیمنٹ کا اگر وجود باقی رہ گیا حقیقی کردار کیا ہو گا… جبکہ آج کی صورت حال یہ ہے جیسا کہ وزیراعظم کے نئے مقرر کردہ مشیر برائے پارلیمانی اور گھاگ سیاستدان بابر اعوان نے کہا ہے پارلیمنٹ کے اندر قانون سازی کا کام نہیں ہو رہا… ساری قوم کو معلوم ہے صدارتی آرڈیننسوں سے کام کیا جاتا ہے… اہل وطن کو کورونا کے اتنے بڑے ناقابل بیان ہلاکت خیز بحران کا سامنا ہے… اس کا مؤثر مقابلہ کرنے کی خاطر پارلیمنٹ سے ایک دن بھی رجوع نہیں کیا گیا… نہ اس کا اجلاس بلایا گیا ہے… تمام فیصلے سول حکومت اور غیرآئینی اداروں کے طاقت ور افراد مل کر کر رہے ہیں… ان میں سے کس کی رائے کو حتمی بالادستی حاصل ہوتی ہے اس سے ملک و قوم کا ہر صاحب نظر فرد واقف ہے… حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو یہ حکومت کسی حد تک منتخب اور کافی حد تک مقتدر قوتوں کے سہارے کے بل بوتے پر سانس لے رہی ہے اس کے باوجود کھڑی ہونے کے قابل نہیں اسی واسطے اسے چھوٹی موٹی پارلیمانی جماعتوں کی بیساکھیوں پر کھڑا

کیا گیا ہے… وہ ایک خفیہ اشارے پر پیچھے ہٹ جائیں تو ساری حکومت دھڑام سے نیچے آن گرے گی… جمہوریت کے اس کمزور تر ڈھانچے کو اس کی مبینہ ناکامیوں کی بنا پر ترک کر کے آپ قومی حکومت قائم کریںگے تو اندازہ لگا لیجئے رہے سہے عوامی مینڈیٹ سے عاری ہونے کی صورت میں وہ کتنا کھوکھلا اور کتنا ناپائیدار ثابت ہو گا… یہ ہچکولے کھاتا رہے گا… ایک کے بعد دوسرا بحران جنم لیتا رہے گا…

علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی… وہ حل جسے دنیا کی تقریباً ہر کامیاب قوم اپنا کر ترقی کی منازل طے کر چکی ہے یا اس کی جانب گامزن ہے… جب تک ملک کے عوام میں جو اس کے اصل مالک ہیں یہ احساس یقین اور اعتماد منتقل نہیں ہو جاتا کہ جس حکومت کے سایہ تلے وہ زندگی بسر کر رہے ہیں وہ خالصتاً ان کی آزادانہ مرضی کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے… اسے ان کا مکمل مینڈیٹ حاصل ہے اور ہر حالت میں ان کی بھرپور نمائندگی کرنے والی ہے… اس کی تشکیل میں کسی بھی غیرآئینی اور غیرنمائندہ طاقت کی مرضی شامل نہیں… اسے انتخابات کے موقع پر درست پارلیمانی عمل (vote of confidence) کے ذریعے اور اکثریت حاصل ہے حکومت کا حق بھی وہی رکھتے ہیں اس وقت تک کوئی حکومت حقیقی معنوں میں جمہوری کہلا سکتی ہے نہ عوام کے اندر اپنے بارے میں اس درجے کا اعتماد اور سرشار پیدا کر سکتی ہے جو اس کی پالیسیوں کو قومی اثاثہ سمجھتے ہوئے ان پر دل و جان سے عمل کریں… خوشدلی کے ساتھ ٹیکس ادا کریں گے… ہر بحران کے موقع پر بغیر کسی اپیل کے اس کے پیچھے کھڑے ہوں گے… بصورت دیگر حکومت کو خواہ کتنے زرق و برق کے سامنے لایا جائے اپنا خیال کریں گے یا اس کی ownership لیں گے بصورت دیگر ہر ایسی حکومت ناکام کہلائے گی… جیسا کہ موجودہ حکومت ہے… لڑکھڑاتی رہے گی… لوگ اس کے خاتمے کی تاریخیں گننا شروع کر دیں گے… اس سے جان چھڑانے کی خاطر آپ قومی حکومت کا کوئی بھی ڈھانچہ کھڑا کر لیں گے تو وہ اس سے بھی زیادہ شاخ نازک پر بننے کی وجہ سے بدرجہ اتم ہوا کے تیز جھونکے برداشت کرنے کے قابل نہ ہو گا… بہتر بلکہ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہے کسی قسم کی قومی یا دو تین برس کے لئے نام نہاد اور آئین مملکت کی روح اور الفاظ سے اجنبیت رکھنے والی بلکہ اس سے متعارض نگران انتظامیہ کے شوشے چھوڑنے کی بجائے آزادانہ اور شفاف ترین انتخابات کے ذریعے عوام کی صحیح معنوں میںنمائندگی کرنے والی حکومت کو وجود میں آنے کا موقع دیا جائے… اس مقصد کی خاطر تمام پارلیمانی جماعتوں کے قائدین نہایت آزادانہ فضا میں سر جوڑ کر بیٹھیں… کسی دید و نادیدہ قوت سے خوفزدہ نہ ہوں… نہ اس کی جانب سے کسی اشارے کے منتظر رہیں… انتخابی اصلاحات میں جو سقم باقی رہ گئے ہیں انہیں دور کریں… اپنی مرضی اور اتفاق رائے سے تین ماہ یا نوّے روز کے لئے وفاق اور صوبوں میں نگران حکومتیں قائم کریں (حالانکہ اصولی اور عملی طور پر یہ حکومتیں کچھ زیادہ مفید ثابت نہیں ہوں گی… لیکن ایک ترمیم کے ذریعے آئینی ضرورت ہے اس لئے عمل کرنا ہو گا… اس طریقے اور انداز سے بغیر کسی خطرناک یا نہ نظر آنے والی مداخلت کے آزادانہ چنائو کرایا جائے جو کہ نہ صرف شفاف ہوں بلکہ نظر بھی آئیں… ان کی کوکھ سے جو بھی اکثریتی حکومت قائم ہو گی خواہ ایک جماعت پر مشتمل ہو یا مخلوط اس کے پیچھے آئین مملکت اور عوامی مینڈیٹ کی طاقت نہ کہ قدم قدم پر مداخلت کرنے والی غیرنمائندہ قوت کی اشیرباد جس کا اصل کام سرحدات کی حفاظت کرنا اور اپنے آپ کو آئین کا پابند رکھنا ہے… جیسا کہ تمام ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے… ایسی حکومت کو اقتدار سے باہر نکال پھینکنا مقصود ہو تو یہ کام بھی عوام اگلے عام انتخابات کے موقع پر بیلٹ بکس پر پہنچ کر کریں… اگر وہ پارلیمانی طاقت سے محروم ہوتی نظر آئے عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے… کوئی نام نہاد عدالتی فیصلہ جو کسی بوگس الزام پر مشتمل آئین اور جمہوریت کو دوام نہیں بخشتے…

پاکستان کے لئے یہ کوئی انوکھا تجربہ نہ ہو گا… دنیا کی ہر کامیاب جمہوری ریاست اور اس کے عوام نے اسے اپنایا اور سرخ رو ٹھہری ہیں… پاکستان کیوں نہ اس شاہراہ پر چل نکلے… ہمارے لئے تو خاص طور پر اس طرز عمل اورطریق حکومت و ریاست کو حرز جان بنا لینا اس لئے بھی ضروری اور عین فطری ہے کہ اس ملک کا قیام ہی خالص جمہوری عمل اور آزادانہ انتخابات کا رہین منت ہے… انگریز اور ہندو کانگریس وقت کی سب سے بڑی ریاستی طاقتیں اور مسلمانان ہند کے لئے علیحدہ مملکت کی سخت مخالف… لیکن اقبالؒ کے طاقتور ویژن اور بیرسٹر محمد علی جناحؒ کی زبردست قیادت میں مسلمانوں کی بے لوث جدوجہد نے یہ سب کچھ کر دکھایا… ایسے پاکستان کے قالین پر آپ ٹاٹ کے پیوند لگاتے رہیں… تو چاند کو گرہن لگا رہے گا اور ہماری جانوں کو روگ بنا کر جسد قومی سے چمٹا رہے گا۔


ای پیپر