ہم کہاں کھڑے ہیں؟
15 اپریل 2020 2020-04-15

پاکستان میں کررونا اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔ یہ سرحدوں سے نکل کر گھروں اور گلیوں سے ہوتا اب جیلوں تک پہنچ گیا ہے۔ جس طرح کے خیالات کا اظہار اور سوالات معزز چیف جسٹس صاحب نے اپنے پہلے سوموٹو میں پوچھے ہیں ان سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ کرونا وائرس عدالتوں میں بھی آ گیا ہے۔ تاہم کرونا اور پاکستانی وائرس دو مختلف چیزیں ہیں۔ کرونا نے دنیا میں پیسے اور طاقت کی برتری اور وقعت کو کم کیا ہے جبکہ ہماری سیاست اور دوسرے معاملات میں ابھی بھی پیسے اور طاقت دکھانے سے ہی اوقات بنتی ہے۔ میری ذاتی رائے میں اس وقت کی ملکی صورتحال کسی وائرس سے زیادہ خارش کا شکار نظر آ رہی ہے۔ ان کرونا زدہ حالات میں بھی سندھ والے کہہ رہے ہیں کہ وفاقی حکومت نے جو پیسہ احساس پروگرام کے تخت غریب عوام کو دیا ہے وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بقایا رقم ہے۔ پنجاب میں شہبازشریف بلدیاتی اداروں کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمان سماجی اور اخلاقی قرنطینہ میں ہیں۔ بندش کے معاملات ہوں یا پھر طبی سامان اور غریبوں میں پیسوں کی تقسیم کا معاملہ کیوں نہ ہو ہر چیز میں سیاست ضرور ہو گی۔

پاکستان نے پچھلے تقریباً دو سالوں میں ترقی یا تنزلی کی کتنی منزلیں طے کی ہیں اس کے بارے میں عوامی رائے قومی انتشار کا شکار ہے۔ اس کی ذمہ داری اور جوابدہی کا ابھی وقت بھی نہیں آیا کیونکہ موجودہ حکومت نے تین سال تک کڑوی گولی نگلنے کی عوامی درخواست دے رکھی ہے۔ اللہ کرے وعدہ کرنے والوں کے تین سال پورے ہو جائیں تاکہ وہ عوامی کٹہرے میں جوابدہ ہو سکیں۔ زمینی حقائق کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ابھی دو سالہ حکومتی جشن تک نہیں منایا ہے مگر پارٹی کے اندر ٹوٹ پھوٹ اور دھڑا بازی کا عمل رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ سیاسی محاذ پر شہباز شریف کی واپسی کے علاوہ لاہور کے خواجہ برادران بھی رہا ہوئے ہیں۔ وقت سے پہلے آٹے اور چینی کے بحران کے ذمہ داروں کے نام سامنے آگئے ہیں۔خواجہ برادران نے جیل سے باہر آنے کے بعد جس شائستگی کا مظاہرہ کیا وہ قابل تحسین ہے۔ دونوں بھائیوں نے پہلے شہباز شریف سے لمبی ملاقات کی ہے اور پھر اسپیکر پنجاب اسمبلی کے گھر بھی پہنچ گئے۔ جناب پرویز الٰہی صاحب سے تین گھنٹے کی ملاقات کے بعد پنجاب کے ایوانوں میں گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی ہیں۔ کیا یہ آٹے اور چینی بحران کے آفٹرشاکس ہیں یا پھر بات اس سے آگے بڑھ چکی ہے یہ فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔ سیاسی

مفاد پرستوں کو لگتا ہے کہ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی کمر ننگی ہو گئی ہے اس لیے پنجاب کابینہ میں علیم خان بھی واپس آ گئی ہیں۔ عمران خان اور وسیم اکرم پلس جو مرضی کہتے رہیں مگر راوی مکمل چین نہیں لکھ رہا ہے۔ بلوچستان میں بھی تین وزراء نے استعفے دے دیے ہیں۔ یہ سب چھوٹے اور بڑے سیاسی گھوڑے کرونا زدہ حالات میں سماجی اور سیاسی فاصلوں کو بھلا کر کیا خود اصطبل سے ریس کے میدان میں آ گئے ہیں یا پھر انھیں نامعلوم افراد کی پشت پناہی حاصل ہے پاکستانی سیاست اس وقت جناب زرداری صاحب کو بھی مس کر رہی ہے۔ ان کی بیماری اور سیاست سے تقریباً کنارہ کشی سے اس مرد سیاست کی خدمات پاکستان کو حاصل نہیں ہیں۔ شہباز شریف خود واپس آئے ہیں یا پھر جانے کے لیے بلائے گئے ہیں اس کا اندازہ اگلے چند ماہ میں قوم کو ہو جائیگا۔ 25 اپریل کو آٹے اور چینی کی رپورٹ پر حکومتی لائحہ عمل بھی بہت کچھ واضح کرہے گا۔

موجودہ خارش کے پیچھے چھپی ایک ظاہری حقیقت یہ بھی ہے کہ سیاستدانوں سے ذرائع آمدن پوچھے جانے پر وہ دباؤ کا شکار ہیں جس سے پاکستانی سیاست میں مندی کا رجحان ہے۔ جھوٹ، مبالغہ آرائی اور تعصب الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہماری سیاست کا حسن بنا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا نے تو سیاست کو ایک بیت الخلاء بنا دیا ہے جہاں اخلاقیات کا جنازہ سرعام نکالا جارہا ہے۔ پاکستان میں سیاسی ساکھ کا لفظ اپنی افادیت تیزی سے کھو رہا ہے۔ ہماری سیاست میں پورا یا آدھا سچ, چھپی حقیقت اور ظاہری اصلیت جیسے لفظوں اور عقیدوں کا کاروبار چلتا ہے۔ پاکستانی سیاست کی ایک اور تلخ حقیقت سیاست اور کاروبار میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ زرداری صاحب کے کاروباری محل ہوں یا میاں صاحبان کی سلطنتیں یہ سب سیاست کی مرہون منت ہیں۔ آج کی سیاست میں چاہے جہانگیر ترین ہو یا خسروبختیار سب سیاست اور اقتدار میں اپنے اثاثوں میں اچھے اضافے کو اپنا سیاسی حق سمجھتے ہیں۔ بد قسمتی سے طاقتور سیاسی مافیہ، مضبوط مقتدر حلقے اور ادارے مل کر پاکستانی سیاست اور حکومت کو چلاتے ہیں۔

ان حالات میں معزز جج صاحبان سے گزارش ہے کہ خدارا ہاتھ ہولا رکھیں۔ حکومت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ زیادہ دباؤ کے بڑھانے سے اگر جمہوریت نہیں تو حکومت کا دم گھٹ سکتا ہے۔ انتظامی اور عدالتی امور میں اتنی اعلیٰ سطح پر ایک باریک سرحد ہی ہوتی ہے۔ ان حدور کو کیسے اور کتنی دفعہ پھلانگنا ہے اس کا انحصار معزز چیف جسٹس صاحب کی صوابدید پر ہوتا ہے۔ اس سے پہلے غریب عوام نے جناب معزز ثاقب نثار صاحب کو بھی ہسپتالوں میں مریضوں کا حال پوچھتے دیکھا ہے۔ معزز چیف جسٹس صاحب سے گزارش ہے کہ اگر کچھ پیشہ ور لوگوں سے بحث اور کچھ مطالعہ کر لیا کریں تو آئندہ عدالت میں ہونے والی بحث غریب عوام کے لیے کسی اچھے نتیجے پر ختم ہو سکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ملکی حالات کے بارے میں جو خبریں اعلیٰ عدلیہ کے پاس ہیں عام آدمی ان سے واقف نہیں ہے۔ اعلیٰ عدلیہ سے گزارش ہے کہ وہ ایسے اعدادوشمار غریب عوام کو بھی بتائیں تاکہ عوام، ادارے، حکومت اور عدلیہ ایک صفحے پر ہوں۔

باقی سیاسی اور انتظامی غلطی کرنے کا عمل انسانی آنکھ سے تو ایک آرٹ لگتا ہے تاہم ہو سکتا ہے مائیکروسکوپ کے ذریعے دیکھنے سے اس میں کوئی سائنس بھی نظر آ جائے۔ اس آرٹ کو سیکھنے اور اس پر مکمل عبور حاصل کرنے کے لیے بار بار غلطی کرنا ضروری ہوتا ہے۔ خوبصورتی یہ ہے کہ اس آرٹ پر آج تک کوئی مکمل عبور نہیں پا سکا ہے۔ تاہم ہم امید رکھتے ہیں کہ ان کرونا زدہ حالات میں پاکستانی حکومت اور سیاستدان کوئی بڑی سیاسی غلطی نہیں کریں گے اور پوری قوم، عدالتیں، ادارے اور ہمارے سیاست دان مل کر اس وباء کا بھر پور اور کامیاب مقابلہ کریں گے۔


ای پیپر