آرٹ کی تالا بندی (لاک ڈاؤن) ممکن نہیں
15 اپریل 2020 2020-04-15

دنیا کی ہر تہذیب کے کیلنڈر کا شجرۂ نسب یونانی تہذیب سے جا ملتا ہے جس کی تاریخ ارسطو اور سقراط کے ادوار سے آگے تقریباً خاموش ہے یہ وہ دور تھا جب مجسمہ سازی آرٹ کا سب سے بڑا فیچر تھا۔ یونانی چونکہ دیوی دیوتاؤں کی پوجا کرتے تھے لہٰذا مجسمہ سازی کا سب سے بڑا موضوع بھی دیوتاؤں کے گرد گھومتا تھا اس دور میں بھی pratagoras جیسے فلاسفر موجود تھے جس نے کہا کہ "Man is tha measure of every thing" کہ ہر چیز کا پیمانہ (دیوی دیوتا نہیں ) بلکہ انسان کی ذات ہے مگر اس نظریے کو جائز مقام نہ مل سکا یہ سن 420قبل مسیح کی بات ہے۔

یونانی تہذیب کے بعد کا ایک ہزار سالہ دور تاریخ میں رومی سلطنت کا دور تھا جس کے زوال کی پیش گوئی قرآن مجید کی سورۂ روم میں موجود ہے جس کے بعد اسلام کی فتوحات کا دور ہوتا ہے یورپی تاریخ میں سن 1400عیسوی سے لے کر 1600تک کا عرصہ Renaissance period یا حیات نو کہلاتا ہے جس نے دنیا کو ہر شعبے میں ایک نیا ورلڈ آرڈر دیا۔ یہ فنون لطیفہ اور سپاہ گری کا دور تھا۔ اس وقت تک کاغذایجاد ہو چکا تھا جس کی وجہ سے مجسمہ سازی آہستہ آہستہ صفحۂ قرطاس پر ڈھلنے لگی اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ دنیا کی توجہ دیوی دیوتاؤں سے پلٹ کر عشق و محبت اور فتوحات جیسے دو شعبوں کی جانب رواں دواں تھی جس نے شاعری مجسمہ سازی، صفوری ، داستان گوئی جیسے فنون پر افکار تازہ کی آبیاری کی۔

یہ دور چلتے چلتے پہلی اور دوسری جنگ عظیم تک پہنچتا ہے جس کے بعد دنیا نے ایجادات اور سائنس کی ترقی کی طرف تیزی سے سفر شروع کیا۔ اس دور کے اہل دانش نے عشق و محبت اور فتوحات اور جنگ سے بے زاری کا اظہار کر کے عام آدمی کے روز مرہ مسائل کو اپنی ادب معنی کا فوکس بنایا۔ کہا جاتا ہے کہ جنگ عظیم دوم کے بعد ادب اور آرٹ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔

دنیا کی تاریخ اٹھا لیں جب بھی تاریخ میں غیر معمولی واقعات رونما ہوئے تو اس کے ردعمل میں جو ادب وجود میں آیا اس نے ان سانحات کو بطور خاص اپنا موضوع بنایا ان ادبی تخلیقات نے آنے والی نسلوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب کیے۔

آج ہماری عالمی تہذیب ایک نئے موڑ پر پہنچ چکی ہے جس نے گزشتہ 200 سال میں ہونے والی سائنسی ایجادات اور کمپیوٹر یا آئی ٹی کی دنیا کے اتنے بڑے انقلاب کو پلک جھپکنے میں Reverse کر دیا ہے۔ ہم جس دور میں زندہ ہیں چند ماہ پہلے تک اس کا تصور بھی محال تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب انسان خود کو بچانے کے لیے تنہائی اختیار کرے گا۔ پتھر کے زمانے میں دشمن کا خوف ہمیں مل کر رہنے پر مجبور کرتا تھا کیونکہ جنگلی جانور اور ڈائنو سار انسانوں کو کھا جاتے تھے مگر آج وقت کا دھارا الٹا بہنے لگا ہے ہمیں کرونا جیسے نادیدہ دشمن نے انسان نے سماجی فاصلوں کا نیا سلوگن دے دیا ہے۔ جب حالیہ دور کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں کرونا وائرس کا ذکر جلی الفاظ میں آئے گا۔

اس وقت پاکستان میں بھی شعر و ادب کے میدانوں میں اس پر بہت کام ہو رہا ہے۔ ملک میںہر شخص تالا بندی جیسے اردو کے لفط کو ترک کر کے لاک ڈاؤن قرار دینے پر مصر ہے۔ ہماری عصر حاضر میں بہت بڑے بڑے صحافی اور لکھاری موجود ہیں مگر کوئی بھی لاک ڈاؤن کو تالا بندی کہنے کا رسک نہیں لے رہا۔

کرونا کی ہمارے عصری ادب میں در اندازی بھی اتنی ہی جبری ہے جتنا یہ انسانی نظام پر زبردستی حملہ آور ہوا ہے۔ ہمیں سماجی رابطے یا سوشل میڈیا پر حال ہی میں ہونے والی ایک تصویری نمائش کے بارے میں آگاہی ہوئی ہے جس میں اہتمام آرٹ ٹی وی پاکستان جو کہ ایک ڈیجیٹل چینل ہے انہوں نے کیا تھا۔ جس میں پورے ملک سے مصوروں نے اپنی کاوشات پیش کیں۔

اس ایگزی بشن کی ایک تصویر نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا ہے جو میرے اس کالم کا سبب بھی ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ عوام الناس کو بتایا جائے کہ یہ

وقت گھر سے نکلنے کا نہیں بلکہ گھر میں محفوظ رہنے کا ہے۔ کسی انسان کا گھر اس کے احساس تحفظ کا سب سے بڑا قلعہ ہوتا ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جب عوام سے کہا جاتا ہے کہ آپ اپنے گھر میں محفوط ہیں مگر ان کی ضد ہے کہ ہم نے باہر جانا ہے۔

یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد میں شعبۂ آرٹ کی لیکچرار محترمہ کرن خالد کی بنائی گئی تصویر ایک قیمتی دستاویز ہے۔ اس تصویر کو کرن خالد نے Bound Slave کا نام دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عنوان انہوں نے 1516ء میں اٹلی کے شہرہ آفاق مجسمہ ساز مائیکل اینجلو کے ایک شاہکار مجسمے کے عنوان سے مستعار لیا ہے جس میں پتھروں کے درمیان جکڑا ہوا ایک غلام اپنی ناگفتہ بہ حالت کے باوجود نہ صرف زندہ ہے بلکہ اس کا حوصلہ بلند ہے۔

محترمہ کرن خالد کی یہ پینٹنگ فن مصوری سے دلچسپی رکھنے والوں اور تجریدی آرٹ (Abstract Art) سے محبت کرنے والوں کو دعوت فکر دیتی ہے۔ یہ ایک دوشیزہ کا بلیک اینڈ وائٹ امیج ہے جس کے چہرے پر ماسک نظر آتا ہے اس کے ارد گرد اور اس کے گھر کی چار دیواری تک کا علاقہ روشن ہے جسے زرد رنگ سے ظاہر کیا گیا ہے مگر گھر کے باہر پودے اور درخت اندھیرے میں ہیں جہاں خوف اور بے یقینی کا راج ہے۔ گھر سے باہر دور دور حد نظر تک خاموشی اور ویرانی کی حکرانی ہے۔آسمان پر سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں مگر بادلوں کی اوٹ میں چاند کی موجودگی اور اس سے نکلنے والی روشنی امید کا استعارہ ہے انگریزی کہاوت ہے کہ A picture speaks thousand words کہ ہزاروں الفاظ وہ بات نہیں سمجھا سکتے جو ایک تصویر آپ کو ایک لمحے میں دکھا دیتی ہے۔ Seeing is believing یعنی مشاہدہ عین الیقین ہے۔

اس موقع پر ہمیں محترمہ کرن خالد کی ایک اور پینٹنگ کے مشاہدہ کا موقع ملا جو کسی شہر کی سنسانی کا منظر ہے۔ اس کا عنوان An unknown city یا شہر بے نام ہے شہر کے در و دیوار پر اداسی کا سماں ہے کوئی بشر کوئی پرندہ یا کتا بلی کچھ بھی نہیں ہے جہاں تک نظر جاتی ہے کوئی ذی روح دکھائی نہیں دیتا کرن خالد نے یہ منظر بھی کرونا سے منسوب کیا ہے۔ بہرحال کرن کا نام ان کی شخصیت کا آئینہ دار ہے۔

آج کے اس پر آشوب دور میں جہاں ہر شخص کی دن بھر کی جدوجہد پیسہ کمانے کی دوڑ ہے ، وہاں شاعر اور آرٹسٹ یا فنون لطیفہ سے محبت کرنے والے تخلیق کار قابل ستائش ہیں کہ ان کی سوچ معاشرے سے مختلف ہے۔ کرن خالد کے آرٹ ورک پر جناب محمود شام کا حالیہ شعر بر محل ہے:

عجیب مرض ہے جس کی دوا ہے تنہائی

بقائے شہر ہے اب شہر کے اجڑنے میں


ای پیپر