کورونا کی وبا نے کیا سکھایا
15 اپریل 2020 2020-04-15

کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں بالکل اسی طرح جہاں کورونا نے نظام زندگی مفلوج کیا ، دنیا کی معیشت تباہی کے دہانے پرلا کر کھڑی کر دی ہے ، لوگوں کو اپنے پیاروں سے سماجی فاصلہ رکھنے پر مجبور کر دیا، شاپنگ مالز اور تفریح گاہیں بند کر کے لوگوں کی تفریح کا سامان ختم کر دیا، لوگوں کو تنہائی میں نفسیاتی مریض بنا دیا او رتیز رفتاری سے اڑان بھرے ہوئے معاشرے کے انجن کو اچانک خراب کر کے مسلسل کام میں مصروف لوگوں کو فراغت کے چند دن عطا کیے وہاں کورونا نے منافقت ، جھوٹ ، دوسروں کا حق مارنے ، گرانفروشی کرنے اور بہت سے دوسری منفی سرگرمیوں کو بھی محدود کر دیا ہے ۔ دنیا بھر میں اب تک کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 20 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے اور 1لاکھ 27 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں ۔ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کی صورتحال کے باعث عالمی معیشت کو 5ہزار ارب ڈالر کے نقصان کا خدشہ ہے ۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں مارچ کے ماہ میں ملکی معیشت کو30 ارب کا مالی خسارہ اٹھانا پڑا ہے اور20 لاکھ افراد بے روزگار ہوئے ہیں جبکہ لاک ڈاؤن اپریل کے آخر تک بڑھنے کے باعث ملک میں 1 کروڑ افراد کے بے روز گار ہونے کے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ کورونا کے باعث تیزی سے چلتی مشین کے دور میں معاشرے کاانجن خراب ہوا تو انسان کو بیٹھ کر سوچنے کا موقع ملا کہ وہ کہاں کھڑا ہے ؟ اسکا معاشرے میں کردار کیا ہے ؟ اور اسکی زندگی کا مقصد کیا ہے ؟جھوٹ بولنے والے کو پتہ چلا کہ جھوٹ پر جھوٹ بول کر جو دنیاوی فائدہ اٹھانا تھاوہ اصل میں گھاٹے کا سودا ہے۔ ناپ تول میں کمی کرنے والے کو بھی شائد احساس ہو ا ہو کہ ہر ایک کو رزق وہی ملنا ہے جو مقدر میںلکھا گیا ہے ۔ اپنے چھوٹے سے ذہن کی ہوشیاری سے تم بظاہر تو کسی کا رزق چھین کر خوش ہو سکتے ہو مگر حقیقت میں جو تمھیں ملتا ہے وہ تمھارا ہی مقدر ہے البتہ حلال یا حرام طریقے سے حاصل کرنے کا اختیار رب نے تمھیں دے دیا ہے ۔ کورونا کی وبا نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو بے بس کر کے ثابت کر دیا ہے کہ انسان کے پاس وہی علم ہے جو رب نے اسے عطا کیا ہے۔ کورونا نے انسان کو قدرت کے نظام کو سمجھنے کا ایک موقع یوںبھی دیا ہے کہ جنگلات اور سبزے کو ختم کر کے بنائے گئے شہر سنسان ہوئے تو جنگلی جانور اپنے مسکن کی جانب لوٹتے نظر آ رہے ہیں ۔گلوبل وارمنگ کے مسئلے پر سالوں سے دنیا کے تمام ممالک روتے نظر آ رہے تھے، ہر سال بین الاقوامی کانفرنسز ہوتی تھیں مگر اسے قابو کرنے کے لئے کوئی ملک اپنی سرگرمیاں محدود کرنے کو تیار نہیں تھا ۔اب قدرت نے اپنا توازن برقرار کرنے کے لئے تمام ممالک کی سرگرمیاں خودبخود ہی محدود کر دیں تو انسان جدید ترین ٹیکنالوجی کا حامل ہونے کے باوجود بے بس ہے ۔ انسان نے قدرتی وسائل کا بیہمانہ استعمال کچھ ایسے کیا کہ ماحول کا توازن برقرار رکھنے والے چرند پرند کو پور ے پورے مسکن سمیت جلا کر راکھ کر دیا ۔انسان پانی کے استعمال پر آیا تو زیر زمین پانی کی سطح ہی کم ہو گئی ۔ کورونا کی وبا نے ہمیں یہ حقیقت بھی سمجھائی کہ صفائی کو نصف ایمان کیوں کہا گیا ہے ۔ کھانے سے پہلے بعد میں یا مختلف کاموں سے پہلے ہاتھ دھونے کی اہمیت اپنی طرف سے 21ویں صدی کا جدید انسان آج سمجھ رہا ہے ۔ ہمیں آج سمجھ آ رہا ہے کہ سماجی فاصلہ کیوں اہم ہے ، ہم آج جا ن رہے ہیں کہ قطار بنانے سے ہجوم زیادہ ہونے کے باوجود پر امن کیسے رہتا ہے ؟انسان نے ترقی کی تو قدرتی طریقہ کا ر سے دور ہوتا گیا ۔ انسان نے جہاز کے ذریعے ہوا کو مسخر کیا تو فضائی آلودگی پھیلانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ۔ بحر پر جہاز چلانے کا موقع ملا تو بحری آلودگی کے ذریعے پانی میں رہنے والی مخلوقات کا ماحول خراب کر دیا۔آج جب قدرت نے ہمیں ایک اور موقع فراہم کیا ہے تو ہمیں اپنے ارد گرد ہونے والے وقوعات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ہمیں مشاہدہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے کونسے اقدام ایسے ہیں جو قدرت کے خلاف جا رہے ہیں؟ ۔ہمارے معاشرے میں لوگ سیاسی قیادت کے بجائے مذہبی و سماجی قیادت کی زیادہ سنتے ہیں ۔ حکومت اگر اجتماعات پر پابندی لگاتی ہے تو لوگ اس پر کان دھرنے کے بجائے اپنے مذہبی رہنمایا کسی روحانی پیشوا کی زیادہ سنتے ہیں ۔ان حالات میں معاشرے پر اثر و رسوخ رکھنے والے میڈیا اینکرز ، سماجی رہنماؤں اور مذہبی قیادت کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ لوگوں کو درست گائیڈ کریں ۔ بدقسمتی سے وبائی صورتحال میں جہاں ہمیں یکجا ہونے کی ضرورت ہے وہاں ہماری سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ مذہبی رہنما اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہیں اور سماجی مفکر کسی نہ کسی ایجنڈے کو سیٹ کرنے پہ گامزن ہیں ۔قرآن پاک کی سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ انسان کی بیک وقت اچھی اور بری فطرت کو کچھ اس طرح بیان کرتا ہے:

’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اْسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے‘‘۔

یہ درست ہے کہ انسان بڑا ظالم ہے اور دوسری مخلوقات کے ساتھ ساتھ اپنے بھائی پربھی ظلم کرتا ہے ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کو اپنی صفات کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے ۔وبا کے ان دنوں میں ہمار ے پاس ایک یہ موقع بھی موجود ہے کہ اپنی تخلیق کا مقصد سمجھ سکیں ۔ کیونکہ رب العزت اگر انسان کو ظالم اورجاہل قرار دیتا ہ ے تو ساتھ یہ بھی فرماتا ہے کہ

’’آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں، دن اور رات کے آنے جانے میں اہل دانش کیلیے نشانیاں ہیں‘‘۔


ای پیپر