سماجی فاصلہ ۔ طبقاتی تقسیم اور فلسفہ بیگانگی
15 اپریل 2020 2020-04-15

کرونا وائرس کی تباہ کاریاں اپنی جگہ مگر اس میں بھی دو رائے نہیں کہ اس نے بہت سے بُتوں کو گرا دیا اور دنیا اور خاص کر ترقی پذیر اور پس ماندہ ممالک کے حکمرانوں اور اقتدار اور وسائل پر قابض طبقات کا وہ چہرہ دکھا دیا ہے جسے ان طبقا نے مصنوعی ترقی کے پیچھے چھپا رکھا تھا۔ترقی یافتہ ممالک جہاں کی اوسط عمر اسّی سے پچیاسی برس ہے،جس کا سبب خالص خوراک، ماحول، صاف پانی اور میڈیکل سائنس میں ترقی کی سہولیات کا ہونا ہے۔وہاں کچھ عرصے پہلے تک یہ سوچا جارہا تھا کہ اگرمیڈیکل سائنس اسی رفتار سے اپنی صلاحیت میں اضافہ کرتی رہی تو انسان کی اوسط عمر نہ جانے کہاں جاکر رُکے گی؟ اور جہاں موت کو موت دینے کی کوششیں ہورہی تھیں۔ لیکن ابھی یہ خیال ہی تھا کہ کرونا وائرس نے انسانی زعم اور تکبّرکو زمین بوس کردیا ۔بقو ل یاس یگانہ چنگیزی:

خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا

خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا

اس وباء سے ترقی یافتہ ممالک بھی آج اسی طرح پریشان ہیں جس طرح ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک ۔ قرآن حکیم ہمیں بتاتا ہے کہ ہرمشکل کے بعد آسانی ہے، تو خدا کرے کہ کرونا کا مرض اس دنیا میںاسلحے کی دوڑ اور معاشی استحصال کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوسکے۔ وہ ممالک جو قومی دولت کا ایک بڑا حصہ اسلحے کی خرید اور دفاعی قوت میں اضافے پر خرچ کرتے چلے آرہے ہیں، ممکن ہے کہ اس وبا کے بعد تعلیم اور صحت کی سہولیات کو اپنی قومی قوت کا پیمانہ قرار دیں۔

کرونا کی وباء سے بچائو کے لئے سماجی فاصلہ رکھنے کی تاکید اور نصیحتیںہر سطح پرکی جارہی ہیں۔ لیکن ایک سماجی تقسیم اور فاصلہ ازل سے موجود ہے جسے ترقی پسند فکر طبقاتی تقسیم سے تعبیر کرتی ہے۔ جس کی تقسیم ہمارے جیسے ترقی پذیر اور پس ماندہ معاشرے میں دن بہ دن گہری ہوتی چلی جارہی ہے ، اور ستم یہ ہے کہ ہماری سیاست، ثقافت، اخلاقیات ، ٹیکنالوجی اور ایک حد تک ادب بھی بجائے اس تقسیم کو کم یا ختم کرنے کے اسی تقسیم کے محور کے گرد گھومتے ہیں اور ان کا وزن ہمیشہ

طاقت ور کے پلڑے میں گرتا ہے۔ طبقاتی تقسیم کے دو بنیادی کردار ہیں ایک سرمایہ دار طبقہ اور دوسرا مزدور طبقہ۔ سرمایہ دار کی زیادہ منافع کی حِرص اور مزدور پر ہونے والے مظالم نے ان دونوں کو ثقافت اور اخلاقیات سے بیگانہ کردیا ہے اور آج یہ بیگانگی اس سطح کے قریب ہے جہاں پہنچ کر زوال اور تباہی معاشروں کا مقدر بنتی ہے۔ بیگانگی جسے فلسفیانہ زبان میں ALIENATIONکہا جاتا ہے، کی ابتداء عہدزراعت سے ہوئی جب ذرائع پیداوار عوام کی بجائے چند افراد کی ملکیت میں آگئے اور جہاں سے غلامی کے ادارے کا آغاز ہوا اور زرعی غلامی اور اجرتی غلامی کی شاخیں نکلیں۔ جوں جوں استحصال طاقتور ہوا اسی طرح بیگانگی کی کیفیت بھی شدت اختیار کرتی گئی اور صنعتی سر مایہ دارانہ دور میں یہ طاقت اور شدت اپنی انتہائوں پر پہنچ گئیں۔

بیگانگی کے حوالے سے اہم تحقیق کارل مارکس کی ہے جس نے انسانی تاریخ میں پہلی بار پیداوار پر نجی ملکیت ، نظامِ زر اور صنعتی سرمایہ داری نظام کے معاشرہ اور انسانی روح اور نفسیات کا تجزیہ پیش کیا۔مارکس نے بتایا کہ اس نظام معیشت نے فرد کو اس کی محنت سے، محنت کو اس کی اپنی پیدوار سے بیگانہ کردیا ہے۔ انسانوں کے درمیان نفرت کو پروان چڑھایا ہے اور انسان کو ان خصوصیات سے جو اسے حیوان سے جدا کرتی ہیں ، بیگانہ کردیا ہے۔انسان محنت اور پیداوار سے بیگانگی اور علیحدگی کے باعث معمولی مگر بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محرومی کے سبب علم کے حصول اور تربیت ذات جیسے اعلیٰ انسانی اوصاف سے محروم ہوگیا ہے۔

یہ بیگانگی ہی کی ایک قسم ہے کہ آج حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے لاک ڈائون کو بہتر حل سمجھتی ہے اورتاجر اور مزدور طبقہ کاروباری اور مزدوری کی سرگرمیاں جاری رکھنے پر بضدہیں ۔ ایسے نازک موقع پر بھی بدقسمتی سے سیاست کاری کا عنصر ہر پریشانی اور آفت پر غالب ہے۔ دیہاڑی دار مزدور کی پریشانی تو سمجھ میں آتی ہے کہ اس کے گھر کا چولہا تب ہی جلے گا جب وہ کما کر لائے گا۔ اگرچہ حکومت اپنے تئیں پوری کوشش کررہی ہے کہ اس طبقے کو راشن فراہم کرے لیکن وہی فلسفہ بیگانگی والی بات کہ یہاں بھی کرپشن اور اقرباء پروری کی داستانیں رقم ہورہی ہیں اور خدا ہی جانے حقدار کو حق مل رہا ہے کہ نہیں۔ مگر تاجر طبقے کی پریشانی سمجھ سے بالا تر ہے۔ وہ طبقہ جو ٹیکس نیٹ میں آئے بغیر ہر تیسرے مہینے عمرہ کی سعادت حاصل کرتا ہے، رمضان میں افطاری کے دسترخوان سجاتا ہے، بارہ ربیع الاول پر مٹھائیاں اور چراغاں کا اہمتام کرتا ہے، اس قدر لاچار اور بے بس ہے کہ ایک ماہ یا اس سے زائد کچھ دن کے لیے اپنے اور اپنے کاروبار سے وابستہ افراد کے گھر کا چولہا جلائے رکھنے سے قاصر ہے۔ ہر چینل پر یہ خبر جاری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کا فیصلہ جو بھی ہو وہ کرونا وائرس سے بچائو کی احتیاطی تدابیراختیار کرتے ہوئے پندرہ اپریل سے تجارتی سرگرمیاں شروع کردیں گے اور ہمارے مذہبی طبقے کا بھی یہ کہنا ہے کہ وہ مساجد میں پنج وقتہ نماز با جماعت ، جمعہ کی نماز اور تراویح کا اہمتام روایتی انداز سے ہی کریں گے اور کرونا سے بچائو کی حفاتی تدابیر بھی اختیار کریں گے۔(اگرچہ تاجر برادری نے دو دن کے لیے اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہے)۔

اس صورت حال میں بھی فلسفہء بیگانگی غالب آیا ۔ پاکستان کی سیاست سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ مسلم لیگ ن کو سب سے زیادہ حمایت تاجر طبقے کی حاصل ہے اور ایک حد تک مذہبی طبقے کی بھی۔شہاز شریف کی پاکستان آمد، مریم نواز کا پس منظر میں بیٹھ کر سیاست کی بساط پر مہروں کو ترتیب دینا ، تاجر اور مذہبی طبقے کا حکومتی اقدام کے برعکس رویہ اختیار کرنا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسے نازک موقع پر بھی اس وبا اور اس کے معاشی اور سماجی اثرات سے بچائو کی بجائے سیاست کا عنصر ہمارے معاشرے پر غالب ہے۔ حکومت کی کارکردگی پر کاری ضرب اور سوالیہ نشان عدالتِ عظمیٰ کے ریمارکس نے لگادیئے اور کابینہ کے غیر معمولی بڑے حجم کے باوجود کرونا وائرس پر کیئے جانے والے ناقص انتظامات پر حکومت کی سرزنش کی۔ ایسی صورتحال میں کیا اُمید کی جاسکتی ہے کہ ہم کرونا وائرس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی، سماجی اور نفسیاتی مسائل سے عہدہ براہوسکیں گے؟ ایسے میں احمد ندیم ؔقاسمی کے الفاظ میں یہ ہی آرزو کی جاسکتی ہے کہ:

خدا کرے کہ میری عرضِ پاک پر اُترے

وہ فصلِ گُل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے اِک بھی ہم وطن کے لیے

حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو


ای پیپر