شہیدِ وفا قمرالزمان شہیدؒ!
15 اپریل 2020 2020-04-15

۱۱؍اور۱۲؍اپریل ۲۰۱۵ء کی درمیانی رات بنگلہ دیش کے مقامی وقت کے مطابق ۱۰ بجے عظیم مجاہد، مردِ درویش، عالم اور سیاسی رہنما جناب محمدقمرالزمان کو ڈھاکہ کی سنٹرل جیل میں تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ابھی آسمان کی بلندیوں پر قمرِفلک طلوع نہیں ہوا تھا کہ اس ماہتاب ارضی کو موت کی وادی میں دھکیل دیا گیا۔ وہ اپنے ماں باپ اور خاندان کا ایک روشن ستارہ تھا۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ہر لیڈر اور کارکن کے نزدیک ایک چمکتا ہوا چاند تھا اور سچی بات یہ ہے کہ اس کی روشنی بنگلہ دیش تک محدود نہیں تھی، وہ پوری دنیا میں اپنی کرنوں سے نور بکھیرتا تھا۔ اللہ اس کی قبر کومنور فرمائے اور اسے جنت کی وسعتوں میں بدل دے۔

محمد قمرالزمان شہید پر بھی اسی طرح لغو اور جھوٹے الزامات لگائے گئے تھے، جس طرح جماعت کے تمام رہنماؤں پر لگائے گئے۔ عبدالقادؒر مُلاّ۱۲؍دسمبر۲۰۱۳ء کو اس منزل سے گزر چکے۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے مولانا اے کے ایم یوسفؒ (۹؍فروری۲۰۱۴ء) اور پروفیسر غلام اعظمؒ (۲۳؍اکتوبر۲۰۱۴ء) اپنی جان کا نذرانہ راہِ حق میں پیش کرچکے۔ اب یہ سعادت اس عظیم فرزنداسلام کے حصے میں آئی۔ اللہ اس کی شہادت کو قبول فرمائے اور ظلم کی دیوی کو اپنی گرفت میں لے لے۔ وہ قادر مطلق دیرگیر ہے، مگر ظالم اس کی پکڑ سے بھاگ نہیں سکتے۔ قمر الزمان کے بیٹے اقبال حسن نے اپنے باپ کی شہادت پر کہا تھا کہ ظلم کے یہ فیصلے ہمارے سر نہیں جھکا سکتے۔ ہم نے اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں دائر کر دیا ہے اور وہاں حق و انصاف کے فیصلے ہوں گے۔ عظیم والد کے عظیم بیٹے کا یہ عزم قافلۂ حق کے لیے بہت بڑا پیغامِ عمل اور ہر قسم کے حالات میں پر امید رہنے کی تلقین ہے۔

راقم کو محمدقمرالزمان سے ذاتی تعلقات اور تعارف کا اعزاز حاصل تھا۔ وہ انتہائی شائستہ، نرم گو اور مضبوط ارادے اور اعصاب کا مالک تھا۔ جسم مضبوط اور طاقت سے بھرپور ، سوچ وفکر پاکیزہ اور قلب ونظرپاکیزہ تر! شہید کی پیدایش ایک دیہاتی علاقے مودی پارہ میں ۴؍جولائی۱۹۵۲ء کو ہوئی۔ اس زمانے میں یہ گاؤں ضلع میمن سنگھ میں آتا تھا۔ اب نئی تقسیم کے بعد یہ ضلع شیرپور میں واقع ہے۔ اس کا تعلق علاقے کے معروف ومعزز مسلم گھرانے سے تھا۔ محمد قمرالزمان نے قریبی گاؤں کامری کالی تولہ کے گورنمنٹ پرائمری سکول سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا اور پھر ڈھاکہ یونی ورسٹی سے ۱۹۷۶ء میں صحافت وابلاغ عامہ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔

اپنی تعلیم کی ابتدا سے لے کر آخری مدارج تک قمرالزمان نہ صرف سکالرشب ہولڈر رہا بلکہ اس نے کئی تمغے بھی جیتے۔ دورِ طالب علمی میں قمرالزمان جماعت اسلامی کے ایک رہنما قاضی فضل الرحمن مرحوم کے ذریعے اسلامی جمعیت طلبہ (نیا نام اسلام چھاترو شبر) سے متعارف ہوئے۔ قاضی فضل الرحمن جماعت کے نمایاں بزرگان میں سے تھے۔ بعد میں ان کی بیٹی رشیدہ خاتون جماعت کی طرف سے پارلیمنٹ کی ممبر بھی رہیں۔ قمر بھائی اسلامی جمعیت طلبہ (اسلامی چھاترو شبر) کے مقامی نظم سے لے کر نظامتِ اعلیٰ تک مختلف ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ ان پر جس دور میں قتل و تشدد اور آتش زنی کے جرائم کا مرتکب ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں، ان کے مطابق اس

وقت ان کی عمر ۱۸ سال بنتی ہے۔ جھوٹے اور لچر الزامات لگانے والوں کو ذرا شرم نہیں آئی کہ کل اللہ کو وہ کیا جواب دیں گے۔ اور پھر نام نہاد ٹریبونل اور جعلی عدالتوں کا حال بھی پوری دنیا کے سامنے طشت از بام ہوچکا ہے۔

قاضی فضل الرحمن صاحب کی تربیت کے نتیجے میں قمرالزمان نے اوائل عمری ہی میں اپنے پورے خاندان کو بھی تحریک اسلامی سے متعارف وروشناس کرادیا۔ اپنے دورِ طالب علمی میں قمرالزمان ۱۹۷۴ء سے ۱۹۷۷ء تک ڈھاکہ کی مقامی جمعیت کے ناظم اور مرکزی شوریٰ کے رکن رہے۔۱۹۷۷ء سے ۱۹۷۸ء تک وہ جمعیت کے مرکزی سیکرٹری جنرل رہے، جبکہ جلد ہی انھیں قائم مقام ناظم اعلیٰ کی ذمہ داریاں ادا کرنا پڑیں۔ اس کے بعد وہ دومرتبہ ۱۹۷۸ء اور ۱۹۷۹ء میں جمعیت کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔ اپنی نظامت اعلیٰ کے دور میں قمرالزمان نے ملک بھر میں جمعیت کو منظم اور فعال بنایا۔ اس دور میں انھوں نے ایک بہت عظیم یوتھ کیمپ کا انعقاد کیا، جس میں دنیا بھر سے طلبہ تنظیموں کے نمایندوں کو دعوت دی گئی۔ بنگلہ دیش کی تاریخ میں وہ یوتھ کنونشن آج تک یادگار ہے۔

قمرالزمان نے تعلیم سے فراغت کے بعد شعبۂ صحافت میں قدم رکھا۔ مختلف اخبارات میں اہم ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد قمرالزمان کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ ۱۹۸۰ء میں بنگلہ زبان کے معروف ادبی رسالے ڈھاکہ ڈائجسٹ کے مدیر مقرر ہوئے۔ یہ مجلہ پہلے بھی بہت معروف تھا، مگر ان کی ادارت میں بہت زیادہ مقبول ہوا۔ ۱۹۸۳ء میں بنگلہ زبان میں عالمی شہرت کے حامل ہفت روزہ ’’سونار بنگلہ‘‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ بطور صحافی ان کے بنگلہ دیش ہی میں نہیں، بنگلہ دیش کے باہر بھی مشہور شخصیات سے قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ ان کو دی جانے والی سزا پر مشرق ومغرب کے بے شمار اداروں اور نامور شخصیات نے بنگلہ دیش حکومت اور ٹریبونل کی شدید ترین مذمت اور اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔

حسینہ واجد جب دوسری بار برسر اقتدار آئی تو بھارت کے ایما پر اس نے اپنے مخالفین بالخصوص جماعت اسلامی کو انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے۱۹۷۱ء کی پٹاری کھولی۔ جعلی ٹریبونل اور جھوٹے الزامات کا طوفان بدتمیزی برپا کردیا گیا۔ ۲۹؍جولائی ۲۰۱۰ء کو محمدقمرالزمان کو انھی جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کرکے ڈھاکہ جیل میں بند کردیا گیا۔ شروع میں ان پر الزام یہ تھا کہ ان کی تحریروں میں مذہبی منافرت پائی جاتی ہے۔ اسی دوران جماعت کے دیگر قائدین کے ساتھ ان کو بھی جھوٹے الزامات کے تحت جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا اور ان پر ۲؍اکتوبر۲۰۱۰ء کو فرد جرم عائد کردی گئی۔ محمدقمرالزمان ان جھوٹے الزامات سے ایک لمحے کے لیے بھی گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوئے۔ اللہ نے قمرالزمان کو بڑا دل گردہ دیا تھا۔ انھیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تو انھوں نے ٹریبونل کے سامنے مسکراتے ہوئے یہ کہا: ’’جھوٹ کی بنیاد پر دی جانے والی یہ سزا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رکھتی۔ نہ ہی یہ سزائیں ہمارا سر باطل کے سامنے جھکا سکتی ہیں۔‘‘ اپنے وکیلوں کے مشورے سے قمرالزمان نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کے لیے اپیل کی۔ انھیں معلوم تھا کہ سپریم کورٹ سے کیا فیصلہ صادر ہونا ہے۔ اس کے باوجود اتمام حجت کے لیے انھوں نے اپنے وکلا کا مشورہ قبول کرلیا۔ حسب توقع سپریم کورٹ نے ان کی اپیل مسترد کردی۔

۴؍اپریل ۲۰۱۵ء کو ان کے وکلا ان سے پھر ملے۔ ان کے وکیل مطیع الرحمن اکانڈا نے اس ملاقات کے بعد پریس کے نمایندوں کو بتایا: ’’میں نے اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئراسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور اپنے موکل جناب محمدقمرالزمان صاحب سے جیل میں ملاقات کی ہے۔ ہم نے بڑی مشکل سے انھیں آمادہ کیا کہ ہمیں ریویو پیٹیشن داخل کردینی چاہیے۔ چنانچہ اب ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپلیٹ ڈویژن کے سامنے نظرثانی کے لیے درخواست دے رہے ہیں۔ مسٹراکانڈا نے مزید کہا کہ محمدقمرالزمان کا حوصلہ اتنا بلند ہے کہ وہ استقامت کا پہاڑ کہلانے کا مستحق ہے۔ وہ بہت مضبوط دل ودماغ اورناقابل شکست اعصاب کا مالک ہے۔ اس نے ہمارے سامنے اس بات کا اظہار کیا کہ میں نے اپنے آپ کو بالکل یکسو کرلیا ہے کہ اللہ کی خاطر اپنی جان قربان کردوں گا۔ ‘‘ شہید کے وکیل کا پورا انٹرویوجو پروگریسو بنگلہ دیش میں ۷؍اپریل۲۰۱۵ء کو چھپا، سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔

توقعات کے مطابق نظرثانی کی یہ درخواست بھی مسترد ہوگئی۔ مسٹراکانڈا نے کہا کہ اب بھی محمدقمرالزمان اپنے بارے میں ذرَہ برابر تشویش میں مبتلا نہیں، البتہ انھوں نے بہت دکھ اور کرب کے ساتھ یہ کہا ہے کہ وطن عزیز سے ظالم حکمران اسلام کا نام ونشان مٹانا چاہتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ان شاء اللہ ان آزمایشوں سے تحریکِ اسلامی سرخرو ہو کر نکلے گی اور ظلم کی سیاہ رات ڈھل جائے گی۔ اب حکومت کی کوشش یہ تھی کہ قمرالزمان صدر مملکت کے سامنے رحم کی اپیل کریں۔ دو مجسٹریٹ جیل میں ان سے ۱۰؍اپریل کو ملنے کے لیے آئے اور انھوں نے قافلۂ مودودیؒ وحسن البناؒ کے اس صاحبِ عزیمت راہی کو سمجھایا کہ رحم کی اپیل کردینی چاہیے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ کہا کہ آپ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا اعتراف کرلیں تو جان بخشی کی کوئی صورت نکل سکتی ہے۔ سیدقطبؒ اور عبدالقادر مُلّا کے نقوش پا پر چلنے والا قمرالزمان اس احمقانہ نصیحت پر کان دھرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھا۔ اس نے کہا: ’’نہ بنگلہ دیش کے صدر اور نہ دنیا کی کسی طاقت کے پاس موت وزندگی کے فیصلوں کا حق ہے۔ میں اللہ کے راستے میں اپنی جان قربان کرنے کے لیے بالکل تیار ہوں۔‘‘

ہر رنگ میں راضی برضا ہو تو مزا دیکھ

اسی دنیا میں بیٹھے ہوئے جنت کی فضا دیکھ!

تو طیرِ ابابیل سے ہر گز نہیں کمزور

اپنی بے چارگی پہ نہ جا شانِ خدا دیکھ!

قمرالزمان نے آخری ملاقات میں اپنی بیوی، بچوں اور اعزہ کو کہا: ’’چند لمحات کے بعد ان شاء اللہ، اللہ کے دربار میں حاضر ہوجاؤں گا اور مجھے اس کی رحمت سے امید ہے کہ وہ رحیم وکریم مجھے اپنی رحمتوں کے سائے میں شہدا کی جماعت میں لے جائے گا۔ میرے اٹھ جانے کے بعد تم میں سے کوئی بھی نہ حوصلہ ہارے، نہ کوئی شکوہ شکایت کرے۔ اللہ کے دین کا کام ہم اللہ کی رضا کے لیے کر رہے ہیں۔ کوئی دنیوی مفاد ہمارے پیش نظر نہیں۔ ہم نے جو سودا کیا ہے اس میں نفع ہی نفع ہے۔‘‘


ای پیپر