ن لیگ میں انتشار ؟بیانیہ کس کا چلے گا ؟جانئے اندر کی کہانی مشاہد اللہ سے
15 اپریل 2020 (20:47) 2020-04-15

اسد شہزاد:

ہم اس لیے ایک قوم نہ بن سکے کہ ہم نے قائداعظمؒ کی رحلت کے بعد کسی کو لیڈر بننے ہی نہیں دیا، لیاقت علی خان کو بھی تھوڑا وقت ملا اور وہ قتل کر دیئے گئے۔ ایوب خان نے اقتدار کے حصول کے لیے سکندرمرزا کی حکومت ختم کی اور بی ڈی ممبرز کے ذریعے انتخابات میں دھاندلی کراتے ہوئے محترمہ فاطمہ جناحؒ کو ہرادیا اور سیاسی تبدیلیوں کے طوفان میں زیادہ نقصان عوام کا ہوا، جمہوریت کو بار بار ذلیل خوار کیا گیا۔ مارشل لاء ڈکٹیٹرز نے ایسے پودے لگائے جس کا خمیازہ قوم آج بھی بھگت رہی ہے۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیادی وجہ بنگالیوں کو ان کے اصل حقوق سے محروم کرنا تھا۔ زمینی فاصلہ تو تھا ہی ہم نے ان کے ساتھ دلوں کی بھی دوریاں پیدا کردیں اور پھر انتخابات میں ان کی اکثریت کو تسلیم نہیں کیا گیا اور پھر جو ہونا تھا وہی ہوا، آج یہ حکومت کیا کررہی ہے اس نے بھی شہریوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک رکھا ہوا ہے۔

یہ تاثر بھٹو نے دیا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام جبکہ بدقسمتی سے عوام کو آج تک بحیثیت قوم کس نے تسلیم کیا؟۔ گزرے تیس سالوں میں صرف ایک بندہ نوازشریف جس نے اپنے تینوں ادوار میں جس قدر ہوسکتے تھے ترقیاتی کام کرائے، اس کی کوئی ایک مثال کوئی ایک حکمران کوئی ایک قیادت کا نام اور کام گنوادیں۔ پاکستان میں نوازشریف نہیں اس کے ترقیاتی کاموں کی بڑھتی رفتار کسی کو ہضم نہیں ہوئی، اس کے بدلے میں بجائے اس کو عزت وتوقیر دی جاتی اس پر بددیانتی، کرپشن، لوٹ مار کے الزام لگا کر جیلوں میں ڈال دیا گیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے اہم رہنما اور سینیٹر مشاہداللہ خان کا نام ذہن میں آتے ہی قومی اسمبلی اور سینٹ کے فلور سے ہوتی بلندوبانگ تقاریر، حکمرانوں کو ہاتھوں ہاتھ لینا، بڑے بڑوں کی بولتیاں بند کرادینا، ٹی وی ٹاک شوز میں مخالفین پر زوردار حملے اور سچ اور حق کا پرچم بلند رکھنا ان کی سیاست کا وطیرہ ہے۔

شیکسپیئر کا کہنا ہے کہ جو جتنی زیادہ بلندی پر کھڑے ہوتے ہیں انہیں اتنی ہی تندوتیز آندھیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لاکھوں میں کوئی مائی کے لعل ہوتے ہیں جو اپنے حسن تدبر اور جرأت واستقلال کے ساتھ ان آندھیوں کے رُخ موڑ دیتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ 1948ء سے لے کر آج تک ٹوٹنے اور بننے کے عمل سے گزر رہی ہے۔ ہماری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بہت کم قدآور اور ذہین سیاستدان آئے جن کی جرأت، استقامت اور ہر قسم کی آلائشوں سے پاک وصاف سیاست میں آئے۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے ہمیشہ آمریت کے خوفناک جبڑے توڑ کر عوامی حلقوں کو اس کے تیزدھار دانتوں میں کچلے جانے سے بچانے کا ناقابل فراموش کردار ادا کیا اور اس پاداش میں جیلیں اور سزائیں کاٹیں مگر اپنے موقف سے نہیں ہٹے۔ ہمارے ہاں ایسے سیاستدان بھی گزرے جو حکومت اور اپوزیشن میں رہ کر بھی بڑی شہرت کماگئے۔

انہی سیاست دانوں میں ایک نام آتا ہے مشاہداللہ خان کا کہ آج مسلم لیگ ن کو جن رہنمائوں کی رہنمائی حاصل ہے، ان میں ان کا نام شامل ہے۔ بطور سینئر انہوں نے ایوانوں میں حکومتی اراکین کو ہاتھوں ہاتھ لے کر یہ بات ثابت کردی کہ وہ نہ جھکنے اور نہ کچلنے والوں میں سے ہیں۔ ان کی پوری سیاسی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں، انہوں نے حقائق پر زوردار گفتگو کی اور بحث کی بجائے دلیل کے ساتھ جواب دیا۔

گزشتہ دنوں ’’نئی بات ‘‘ کے ساتھ انہوں نے ’’گذرے کل، آج اور آنے والے کل‘‘ کے بارے میں بڑی کھری اور حقائق پر مبنی باتیں کیں جو ذیل کے کالموں میں دی جارہی ہیں۔

آپ کا تعلق پاکستان کی سیاست کے ساتھ بہت طویل عرصہ سے جڑا ہوا ہے اور مختلف ادوار میں آپ حکومتوں کا حصہ بھی رہے، اپنے تجربات، مشاہدات کی روشنی میں یہ بتایئے کہ ہم گزشتہ 73سالوں میں ایک متحدہ تو کیا قوم کے مفہوم کے نزدیک بھی نہ جاسکے، کیا ہوا کہ ہمارے بعد آزادی حاصل کرنے والی قومیں ہم سے بہت آگے جاچکی ہیں، بنیادی وجہ کیا لیڈرشپ کا فقدان تھا؟

پہلی بات تو یہ دیکھیں کہ ہماری قوم کی دوسری قوموں کے مقابلے میں کتنی عمر ہے البتہ اگر تقسیم سے پہلے جائوں تو پھر آپ اس کو ایک بڑی قوم کہہ سکتے ہیں۔ ہماری آزادی کو 73سال گزر گئے اور ہم ایک قوم نہ بن سکے۔ ہماری تاریخ نہ پرانی اور نہ نئی ہے، ہمیں بننے اور بنانے کے لیے جو لوازمات چاہئیں تھے وہ ہمیں بہت کم نصیب ہوسکے اور نہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہمارے سامنے قوموں کے بننے اور ٹوٹنے کے حوالے سے کئی نسلوں کی تاریخ موجود ہے جس کے ہم نہیں تاریخ گواہ ہے کہ وہ کس طرح اُبھرے اور پھر ان کے توڑنے کے کیا عوامل تھے۔ 1947ء سے لے کر آج تک پاکستان کے مسائل سنورنے کے بجائے پیچیدہ تر ہوتے گئے۔ اس سوال پر بڑی بحث ومباحثے ہوئے اور آج بھی ہم قوم بننے کے گزرے یا گزارنے کے پر اسس میں ہیں۔ نظریہ پاکستان اور نفاذ اسلام کے علمبرداروں نے وہ کام نہیں ہونے دیے جو ہماری ایک سمت طے کرتے اور اس کو اصولوں اور قواعد کے تحت لے کر آگے بڑھتے اور یہی وہ باتیں تھیں جس سے ہماری بات متزلزل رہی۔ دیکھیں یہ جو ملک ہوتے ہیں ان کو آپ زمین کا ایک ٹکڑا کہہ سکتے ہیں، جس طرح گھر کا ایک سربراہ اور اس کے بیوی بچے ہوتے ہیں گھر کا ایک نظام ہوتا ہے جس کو ایک طے شدہ سسٹم کے تحت چلایا جاتا ہے اور وہ گھر کہلاتا ہے۔ اگر اس گھر میں چوپٹ راج ہو کوئی کسی کی نہ سنے، نہ مانے، نہ اس گھر کے اصول وضوابط ہوں اور اندھیرنگری ہو تو پھر اس کو کوئی گھر نہیں کہہ سکتا۔ اب خالی پلاٹ اور پکے مکان میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جیسے ہی پاکستان آزادی کے بعد اپنے قیام عمل میں آیا تو سب سے پہلے اس کو ایک آئین دیا جاتا، وہ نہ دیا جاسکا کہ قائداعظمؒ کی رحلت ہو گئی۔ ان کا چلے جانا بھی ابتدائی مرحلے کے پاکستان کے لیے ایک نقصان عظیم ثابت ہوا۔ نیا نیا ملک بناتھا، ایک عجیب وغریب دور تھا۔ قائداعظمؒ کے بعد لیاقت علی خان کو کچھ عرصہ ضرور ملا، اسی عرصہ میں محلاتی سازشوں کی ابتدا ہوئی۔ ملک کی باگ ڈور کی سازشیں ابتدا ہی میں ہمیں بڑے نقصان کی طرف لے گئیں۔ 1952ء سے قبل گزرا عرصہ جو کہ ملک کو سنوانے کا وقت تھا، اس میں اقتدار کی جنگ کا آغاز ہوا، ابتدائی سیاست بھی مشکلات کا شکار ہو گئی تھی۔

ابتدا ہی میں ایک بحث چل نکلی کہ پاکستان اسلام کے نام سے بنا تھا لہٰذا یہ اسلامی ریاست کہلانے اور یہ کہ یہ ملک نظریاتی مملکت ہے اس کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اس کی جغرافیائی سرحدوں سے زیادہ ضروری ہے۔ پھر اسلام اور نظریہ پاکستان کے نام پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ایسی سیاسی قوتوں کو فروغ دیا جنہوں نے بعد میں فوجی آمروں کو پروان چڑھایا۔ ہمارے ہاں سیاسی گٹھ جوڑ کی راہوں کا تعین کیا گیا، طاقت کسی کے پاس رہی اور سیاستدانوں کو شطرنج کے مہرے بنا دیا گیا۔ راتوں رات حکومتیں بدلنے کی باتیں ہونے لگیں۔ ایک نیا ملک جس کو قائداعظمؒ جیسے بلندپایہ لیڈر کی ضرورت تھی جو اس ملک کو آگے کی طرف لے کر چلتا اور قوم کو ایک ویژن دیا جاتا کہ ہمارا یہ نصب العین ہے اور ہم نے ان اصولوں پر چلتے ہوئے ایک مضبوط پاکستان ایک بڑی قوم بننا ہے۔ یہاں ایک اور المیہ ہوا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو اس نظریہ سازی کی اس لیے ضرورت پڑی کہ پاکستان میں شامل ہونے والی جن قومیتوں کی اسٹیبلشمنٹ میں نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی یعنی بنگالیوں، سندھیوں، پٹھانوں اور بلوچوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جاسکے اور وہ جب اپنے حقوق کی آواز اُٹھائیں تو ان کو نظریہ پاکستان کا مخالف یا غدار پاکستان کا لقب دے دیا جائے اور ایسا ہی ہوا۔ اسی طرح جب محنت کش طبقے نے اپنے حقوق اور نمائندگی کی بات کی یا عوام الناس اپنے معاشی، معاشرتی، سیاسی اور جمہوری حقوق کا مظاہرہ کریں تو انہیں بھی اسلام اور نظریہ پاکستان کے نام پر دبا دیا جائے، یہاں ایک اور بڑی بدقسمتی یہ ہوئی کہ نظریہ پاکستان کے نام پر ایک ’’مخصوص‘‘ نظریہ گھڑنے کے لیے قیام پاکستان کی ایک ایسی تاریخ تشکیل دی گئی جہاں اسلامی نظام کا تجربہ کیا جاسکے، اس کے لیے جنرل ضیاء الحق کے دور کی مثال دی جاسکتی ہے کہ اس نظریہ کی ابتداء کیسے ہوئی اور اس کا انجام پورے پاکستان نے بھگتا۔ ہماری بدقسمتی تو یہ بھی ہوئی کہ قیام پاکستان کے واقعات کے بارے میں صریح جھوٹ بولے گئے اور اصل واقعات کو چھپایا گیا۔ ان کے نزدیک تو برصغیر کی تقسیم مسلمانوں کے لیے ایک نظریاتی ریاست کے قیام کے لیے تھی جبکہ ایسا نہیں تھا، آپ پاکستان کی تاریخ کے اوراق پڑھ لیں، ان ادوار کی کہانیاں دیکھ لیں، آپ کے سامنے سب کردار بے نقاب ہو جائیں گے کہ یہاں اقدار کی بجائے اقتدار کے حصول کی ابتداء کی گئی۔

آپ نے لیڈرشپ کی بات کی تو آزادی سے قبل قائداعظمؒ ہی ایک عظیم رہنما کے طور پر اُبھرے اور آزادی کی تاریخ انہوں نے کس طرح مرتب کی اور ہم آج جس پاکستان میں بیٹھے ہیں اس کا حصول کس طرح ہوا، بات بہت لمبی کہانی ہے، تقسیم کے وقت ہی قائداعظمؒ نے ایک متحدہ پاکستان کے لیے برصغیر میں ایک بڑی حکمت عملی کے تحت جنگ لڑی اور جیتی بھی، پاکستان ان کی پہلی ترجیح تھی اورایسا پاکستان چاہتے تھے، جس میں بنگال اور پنجاب منقسم نہ ہوں، تو میں بات کررہا تھا کہ قائداعظمؒ کی رحلت کے بعد حکومتی نظام جس کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت تھی وہ مضبوط نہ ہو پائے، لیاقت علی کے قتل کی ایک ایسی داستان لکھی گئی جس سازش کو آج تک بے نقاب نہیں کیا جاسکا، دراصل ان کا قتل ہی ہمارے ابتدائی نظام کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوا۔ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد فوجی وردی میں ملبوس ایوب خان نے ایک بڑی سازش کا جال بُنا اور اقتدار سنبھال لیا۔ یہ بات 1952ء کی ہے۔ اس کے بعد پھر آپ یہ دیکھیں گو کہ ایوب خان نے ایک آئین تو بنا دیا تھا جو اس وقت کے حالات اور تقاضوں کی ضرورت بھی تھا، کوئی اس کو بہتر تو کوئی دوست بُرا قرار دیتا ہے، اس کو سکندر مرزا نے توڑ دیا، وہ بھی فوجی وردی میں ایوان اقتدار میں داخل ہوا، اب چونکہ ایوب خان نے کہا’’آئین کا لحاظ کچھ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ اس کو اس کی اصل صورت میں نافذ کیا جائے، لہٰذا سکندر مرزا نے دوسرا مارشل لاء لگادیا۔ کچھ عرصہ کے بعد ایوب خان نے سکندر مرزا کو ہٹاکر اقتدار پر قبضہ کرلیا اور پھر دس سال حکومت پر جمے رہے۔ ان کے بعد جتنے لوگ اقتدار میں آئے، ایک بات پر غور کریں، ان میں کسی بھی حکومت کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ یحییٰ کے بعد بھٹو، پھر مارشل لاء، پھر بینظیر، پھر نوازشریف، پھر مارشل لاء نے سیاسی حکومتوں کو توڑا، الزامات عائد ہوئے، چلتی حکومتوں کو گھر روانہ کردیاگیا۔

مارشل لاء کیوں لگائے گئے؟

مارشل لاء اس وقت لگائے گئے جب یہ سمجھا گیا کہ سیاسی لوگ صحیح معنوں میں ڈلیور نہیں کررہے، یہ تو ایک ایجنڈا تھا جس پر عمل کیا گیا اور بعد میں یہ عمل روایت میں بدل دیا گیا۔ ایوب خان، سکندرمرزا، یحییٰ، ضیاء، مشرف ان کی حکومتوں کا حال سب کے سامنے ہے کہ یہ پاکستان اور پاکستان کے عوام کے لیے کس قدر تباہ کُ ن ثابت ہوئیں، تو آپ نے قوم نہ بننے کے بارے میں پوچھا ،تو یہ وہ معاملات تھے، جو قوم کو قوم نہ بناسکے۔ اس قوم کو جولیڈر درکار تھا وہ نہیں ملا۔ دُنیا میں جو ملک بحیثیت قوم پروان چڑھے اور بہت سے شعبوں میں وہ ترقی یافتہ کہلائے وہاں آئین کی سربلندی پر توجہ دی گئی۔ انہوں نے اپنے ایجوکیشن سسٹم سے لے کر صحت جیسے اہم ایشو پر بہترین کام کیے۔ سب سے بڑھ کر ان لوگوں نے قانون کو اپنا رہنما اصول بنایا اور میری بات یاد رکھیں جب قانون کی بالادستی کوتسلیم نہیں کیا جائے گا، آئین موجود نہیں ہوگا، جمہوریت نہیں ہو گی، پارلیمنٹ نہیں ہو گی اور پاکستان کے سیاستدانوں پر اعتماد نہیں کیا جائے گا، ہماری تو بدقسمتی یہ بھی ہے کہ بہت سارے اچھے سیاستدانوں کو کام ہی نہیں کرنے دیاگیا۔ ایوب خان کا پھر ذکر کروں گا کہ جو لوگ ملک بنانے والے تھے ان کو پس پردہ کردیا۔ سیاست دانوں پر ایک ہی الزام رہا کہ انہوں نے کرپشن کی ہے، تو مجھے بتایئے کہ کس ملک میں کرپشن نہیں ہوتی، یہاں تو لگی انڈسٹریاں تباہ کردی گئیں۔ پہلے کارخانے سرکاری تحویل میں لے کر ملک کی معیشت کو نقصانات پہنچائے گئے، یہاں ایک اور المیہ ہوا کہ ملک کو توڑ دیا گیا۔ اس کے ٹوٹنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ساتھ بہت زیادتیاں کی گئیں۔ ان کے حقوق سلب کیے گئے، ان کی آواز کودبا دیا گیا۔ سیاسی، معاشی اور معاشرتی سطح پر وہ لوگ کمزور کیے گئے اور پھر انتخابات ہوئے تو بنگالیوں کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا گیا، وہ لوگ تو ہمارے ساتھ رہنا چاہتے تھے، ہم ان کو ساتھ لے کر چلنا نہیں چاہتے تھے، وہی لوگ پاکستان بنانے والے تھے، کس کس کا نام لوں اور پھر ہم ان کو علیحدگی کے پوائنٹ پر لے آئے، ان کے پاس کوئی چارہ نہ رہا تو وہ لوگ الگ ہو گئے، اس کے ذمہ دار بھی ہم لوگ تھے۔ دیکھیں جو بھی طاقتور ہوتا ہے ذمہ داری بھی انہی کی ہوتی ہے۔

مگر عوام کو بھی تو کسی نے سیاسی، معاشی اور دوسرے اہم ایشوز پر ایجوکیٹ نہیں ہونے دیا؟

عوام اس وقت ایجوکیٹ ہوتی ہے جب آپ کے ملک کے ادارے مضبوط ہوں گے، جہاں اقتدار کے نشے میں اداروں کو کمزور اور مفلوج کردیا جائے تو پھر کیا کام ہوتا۔ اداروں کو تو پہلے ہی تباہ کیا گیا، ان سے غلط قانون بنوائے گئے، غلط فیصلے ہوئے اور جس طرف زیادہ توجہ دینا تھی وہ ہے تعلیم ،جس پر کبھی توجہ ہی نہیں دی گئی اور جس قدر وہاں پیسہ لگانے کی ضرورت تھی وہاں بہت کم پیسہ لگایا گیا، نہ یہاں عوام اور نہ ہی جمہوریت اپنے لیے کوئی فیصلہ نہیں کرسکی اور جولوگ فیصلہ کرتے یا فیصلوں کی قوت ان کے ہاتھ میں تھی تو وہ فیصلے عوامی اُمنگوں کے برعکس کیے گئے۔ نہ صحت، نہ تعلیم، نہ فلاح وبہبود، نہ سوشل ویلفیئراور نہ ہی ایسے اداروں کو چلنے دیا گیا جن کا تعلق براہ راست عوام کی ترقی کی طرف ہوتا تھا۔ میں یہاں نوازشریف کا ذکر کروں گا کہ آپ جو ترقی کے منصوبے دیکھ رہے ہیں یہ نوازشریف کی حکومت میں ہوئے ورنہ یہ بھی نہ ہوتے۔ لوٹ مار اور طاقت کے زور پر ملک کو کھوکھلا اور برباد کیا گیا اور انہوں نے عوام کو رعایا اور غلام بنا دیا گیا۔ ان حالات میں کوئی بھی قوم نہ تو قوم بن سکتی ہے نہ کہلا سکتی ہے۔ ہمارے ہاں تو انتخابات بھی بڑے جبر میں کرائے گئے۔ پاکستان کی تاریخ کا ایک اور اوراق دیکھ لیں کہ یہاں کبھی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نہیں کرائے گئے، اس لیے کہ یہاں جمہوریت کو کمزور رکھا جائے۔ یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کہ ہم قوم نہ بن سکے کہ اس کے ووٹ کے تقدس کو پامال اور خریدا گیا اور جس ملک میں ووٹ کو خریدا جائے تو پھر قوم کی ذہنیت بھی بدل جاتی ہے۔ آپ کے سوال کی بات میں یہاں پر ختم کرتا ہوں کہ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم ایک مضبوط قوم بنیں تو پھر قوم کو کچھ دینا پڑے گا۔ خالی پُرزور الفاظ کے ساتھ نعرے مار کے اس کو اندھیرے میں رکھیں گے تو پھر آپ یہ کام نہیں کرسکتے۔ اب آپ عوام کو دیں گے کیا، پہلے اس کو قانون اور قاعدہ دیں اور یہ کہ یہ قانون سب کے لیے یکساں ہے، یہ نہیں کہ ن لیگ کے لیے الگ تو تحریک انصاف کے دودھ میں نہائے لوگوں کے لیے الگ قانون بنائیں، چوروں کو نیب سے دور رکھیں اور شریفوں پر گھٹیا الزامات لگا کر غلط احتساب کے قانون کی پاسداری کریں۔ دوسری بات یہ کہ قانون کے سامنے امیر اور غریب دونوں یکساں ہو، اس پر سیاسی رنگ نہ کیا جائے، ملک کو چلانے کے لیے تین ستون ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ، ایگزیکٹو اور عدلیہ اگر ان اداروں کی توقیر ختم کردی جائے تو ملک کیسے چلے گا، ماضی اور حال میں عدالتوں کا کردار آپ کے سامنے ہے، گو ان اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے بڑی قربانیاں دیں، مگر آہستہ آہستہ سول اور عوامی بالادستی کو تسلیم کرنے کی روایات پر عملدرآمد نہیں ہونے دیا گیا۔ اگر قربانیوں کی بات کروں تو ہماری جماعت آپ کو سرفہرست دکھائی دے گی، ابھی بھی اس ملک کے حالات اتنے اچھے نہیں ہیں کہ وہ آگے بڑھے، ہماری رفتار کم تو ہے مگر ہم مایوس بھی نہیں ہیں، صرف اس قوم کو رہنمائی کی جتنی آج ضرورت ہے شاید پہلے نہیں تھی۔

پوری دُنیا میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار اپنی الگ شناخت اور رویہ رکھتا ہے، مگر ہمارے ہاں اس کا رول برعکس ہے، کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟

اسٹیبلشمنٹ کا کردار پوری دُنیا میں ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے لیکن ہمارے مقابلے میں وہاں جمہوریت بہت مضبوط بنیادوں پر کھڑی نظر آتی ہے۔ فوج کا کام ملک کی حفاظت کرنا اور دُکھ درد کے معاملے میں عوام کی مدد اس کا فریضہ ہے اور اس کا ایک مخصوص کردار ہی اس کا ضامن ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ کردار ملک کے اندر زیادہ استعمال ہوا اور جس قدر مادرپدر کردار اس کا ہمارے ہاں ہوا اس کی مثال پوری دُنیا میں نہیں ملتی، شاید ایک دو ممالک کی تو بات ہوسکتی ہے۔ میرے نزدیک اسٹیبلشمنٹ کو عوام کے حقوق، کردار اور اس کی آواز کو تسلیم اور سننا چاہیے اور وہ اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔ ایک اہم بات یہ کہوں گا کہ پاکستان کو بین الاقوامی طور پر جس طرح تسلیم کیا جائے گا اور ان کو علم ہو گا کہ ہماری قوم بہتر طریقہ سے زندگی گزار رہی ہے اور وہ مضبوط ہے تو پھر ہر محاذ پر پذیرائی ملے گی۔ اب ہمارے ہاں فوج ہی کو اسٹیبلشمنٹ تسلیم کرلیا گیا ہے، ایسا نہیں ہے اس کے ساتھ اور بھی ادارے اور ایجنسیاں آتی ہیں، ان کے کردار کو بھی دیکھیں۔ اب وہی سیاستدانوں کی بات تو میں یہ بات بلاخوف کہنے کے لیے تیار ہوں کہ ہمارے اکثر سیاستدان اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات ہی کو جمہوریت تصور کرتے ہیں اور پس پردہ ان کے ان کے ساتھ تعلقات بھی ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ طاقتور لوگ ہیں، میرے نزدیک طاقتور ہونا کوئی بُرائی نہیں ہے مگر آپ بجائے تعلقات کے خوداُوپر آنے کا سوچیں، آپ کا جو بنیادی کام ہے اس بارے میں سوچیں اور جمہوریت کے محاذ پر بہتر طریقے سے لڑیں۔ یاد رکھیں جمہوریت مضبوط ہو گی ادارے بہتر کارکردگی دیں گے تو سیاستدان بھی مضبوط نظر آئیں گے، جس کا جو کام ہے اس کو کرنے دیں اور آپ ملک کو چلانے کی طرف بھرپور کام کریں۔

ریاستی اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان طاقت کے استعمال کی جو رسہ کشی ہے اس سے کیسے نکلا جاسکتا ہے؟

پیدائشی طور پر طاقت کا نشہ ہر انسان کے اندر موجود ہوتا ہے، اب یہ طاقت ہر ایک کو نہیں ملتی۔

مگر پاکستان میں طاقت کو اقتدار کا حصہ بنا دیا گیا ہے؟

ہمارے ہاں اس لیے ہو گئی کہ اس طاقتور کو آج تک کسی نے چیلنج نہیں کیا اور جن لوگوں نے چیلنج کرنا تھا اس کو کمزور رکھا گیا۔ ہمارے ہاں تو سیاستدان پھونک پھونک کے قدم رکھتا ہے۔

ہمارے ہاں ایوب خان کے بی ڈی ممبر، پھر بلدیاتی اور پھر طلباء یونین یہ وہ ادارے ہیں جہاں سے قیادت بنتی اور پھر ملکی سطح پر اپنا کردار ادا کرتی ہے، بدقسمتی سے یہ ادارے نہیں چلنے دیئے گئے؟

دیکھیں ایوب خان نے بنیادی طور پر ضلعی اور علاقائی حکومتوں کا جو نظام دیا وہ بہتر تھا مگر آپ کی اس کو چلانے کے لیے نیت صاف نہیں تھی اور اب اس کو صحیح معنوں میں نافذ نہیںکرنا چاہتے تھے تو پھر ایسے نظام بنانے کا فائدہ کیا کہ آپ اپنی حکومتی مشینری کو چلانے کے لیے ان کو سیاسی کردار میں لے آئیں۔ 1962ء میں دیا نظام جب وہ یحییٰ خان کے حوالے کرتے کرتے مارشل لاء لگا کر گئے تو انہوں نے ایوب خان کے نظام کو یکسر مسترد کردیا اور بلدیاتی نظام ایوب خان نے اس لیے بنایا تھا کہ وہ انتخابات جینے کے لیے ان کو اسے استعمال میں لانا چاہتے تھے، لہٰذا مشرقی اور مغربی پاکستان میں اسی نوے ہزار نمائندے بنوا دیئے اور اس سے بڑی بدقسمتی اس ملک وقوم کی کیا ہوسکتی ہے کہ ایوب خان نے بانی پاکستان قائداعظمؒ کی بہن مادرملت فاطمہ جناحؒ کو ہروا دیا۔ ان کا دیا بلدیاتی نظام صرف ان کے اپنے مفاد اور اقتدار کو طوالت دینے کے لیے تھا اور پھر کیا ہوا، ایسے اقدامات سے ملک ٹوٹ گیا اور انہوں نے اپنے بنائے ہوئے آئین کو اپنے پیروں تلے کچل دیا۔

ایوب خان سے عمران خان تک جتنے بھی حکومتی ادوار گزرے آپ کے نزدیک بہترین دور کس حکمران کا تھا؟

اس ملک میں جو بھی پروگریسو چیزیں ہوئیں اور جتنے بھی بڑے ترقیاتی کام ہوئے وہ نوازشریف کے دور کے ہیں۔ 1990ء میں جب نوازشریف پہلی بار وزیراعظم بنے تو اس وقت آپ کو اپنے گھر فون لگوانے کے لیے کتنے پراسیس سے گزرنا پڑتا تھا اور چھ ماہ سے ایک سال کے بعد آپ کو فون دیا جاتا تھا اور نوازشریف کے آنے سے فون 24گھنٹے میں لگنے شروع ہو گئے۔ یہ ایک چھوٹی مثال اس لیے دے رہا ہوں کہ اس زمانے میں چھوٹے چھوٹے کام مہینوں اور سالوں میں ہوتے تھے۔ انہی دنوں میں سٹاک ایکسچینج ریفارمز آئیں۔ کسٹم ریفارمز، بینک ریفارمز، پھر اسی دور میں غیرملکی سرمایہ کاری کی بات ہوئی۔ اس زمانے میں بعض اداروں کو پرائیویٹائزیشن بھی ہوئیں۔ اس وقت بھی نوازشریف کو کام نہیں کرنے دیا گیا، بالآخر ان کی پہلی حکومت کو الزامات لگا کر ختم کردیا گیا اور آپ دیکھیں کہ 90ء سے 93ء تک کتنے ترقیاتی اور رفاعی کام ہوئے اور پاکستان میں پہلی موٹروے کی ابتدا ہوئی۔ ناردرن ایریا سے لے کر پورے ملک میں سڑکوں کا جال بُنا گیا۔ جب وہ دوبارہ اقتدار میں آئے اور بے شمار کام کیے۔ پھر ان کو الزامات لگا کر جیل بھیج دیا گیا۔ پھر جلاوطنی کی کہانی گھڑی گئی۔ آپ گزشتہ 30سال کی تاریخ دیکھ لیں اس ملک میں جتنے بھی کام ہوئے وہ زندہ شکل میں نوازشریف کے تینوں ادوار میں ہوئے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس شخص کو عزت والا احترام دیا جاتا مگر نہیں دیا، وہ پہلا وزیراعظم تھا جو سجاد علی شاہ کی عدالت میں پیش ہوا حالانکہ اس کے علم میں یہ بات تھی کہ یہ بندہ حکومت کا تختہ اُلٹنا چاہتا ہے، اس وقت کا یہ الزام کہ نوازشریف نے عدالت پر حملہ کردیا ہے، سجاد علی شاہ، غلام اسحاق کے ساتھ مل کے حکومت کا خاتمہ کرنا چاہتا تھا، اس زمانے میں عدلیہ کا کردار اچھا نہیں تھا، لیکن آپ یہ دیکھیں کہ اداروں کو جمہوریت کو آئین کو، قانون کی سربلندی کے لیے سب سے زیادہ کام نوازشریف نے کیے۔ اس کے باوجود اس کو انہوں نے کام نہیں کرنے دیا۔ عمران حکومت کو دیکھ لیں کہ اس بندے نے صرف وزیراعظم بننے کے لیے ہر وہ بُرا کام اور روایت ڈالی۔ گزشتہ نصف صدی میں نہیں ملتی، مجھے یہ بتایئے کہ اس ملک سے دہشت گردی کو کس نے ختم کیا۔ 2013ء میں انتخابات جیتنے کے بعد اس نے ملک میں کارخانے بنادیئے، ملک اندھیروں میں ڈوب گیا تھا، بجلی گھر بنادیئے۔ وہ سی پیک بھی لے آیا، گوادر کو بھی بندرگاہ بنا دیا۔ ایئرپورٹ، سڑکیں اور بڑے موٹرویز بنا دیئے۔ اس نے تو گائوں کے اندر سے سڑکیں بنوا دیں۔ میرا اہل اقتدار، عوام اور ان قوتوں سے ایک سوال ہے کہ نوازشریف کے دور میں جتنے کام ہوئے، کسی اور دور کے بارے میں ایک مثال بتا دیں کہ جہاں بڑے کارخانے بڑے ترقیاتی کام ہوئے، موٹرویز بنیں۔

آپ میاں نوازشریف کے بہت قریب رہے، یہ بتایئے کہ ان کے اندر وہ کون سی بات تھی کہ وہ تین بار حکومت میں آئے اور تینوں دفعہ ان کا ٹکرائو اسٹیبلشمنٹ سے ہوا اور وہ اس ٹکرائو کے بدلے میں گھر بھجوا دیئے گئے؟

ان کا تعلق ایک بڑے خاندان سے جڑا ہوا ہے اور خود ان کی زندگی شاندار ماحول میں گزری۔ ان کی سیاست کا آغاز بھی ضیاء الحق کے دور میں ہوا تھا اور پھر اسی ضیاء الحق کی ایک آئینی ترمیم میں تبدیلی ہوئی جو عوام، جمہوریت اور آئین کے خلاف تھی۔ نوازشریف ہی نے 1990ء میں اقتدار میں آتے ہی اس کا خاتمہ کیا حالانکہ اس ترمیم کو 1988ء میں بینظیر کی حکومت کو اسے ختم کرنا چاہیے تھا۔ اگر آپ کے سوال کی طرف آئوں تو میں نے جو خاص بات نوٹ کی کہ وہ اندر سے بہت مضبوط آدمی ہے، طاقتوروں سے ٹکرانا اس کی فطری عادت ہے۔ یہ وہ روایت پسند نہیں، حقیقت کے اندر زندہ رہتا ہے اور سب سے بڑھ کر یاداللہ، نماز اور قوت کے ساتھ ایمان کی پختگی نے اس کو حوصلہ مند انسان بنا دیا ہے۔ کسی بھی کام یا ویژن کے لیے کردار کا بڑا ہونا ضروری ہوتا ہے اور نوازشریف ایماندار آدمی ہے، اس کو کبھی بھی اقتدار کی بھوک نہیں رہی۔ خداتعالیٰ کو اس کی کوئی تو ادا پسند تھی کہ وہ تین بار اقتدار میں آیا اور یہ وہ ریکارڈ ہے جو شاید آنے والی صدی میں بھی نہ ٹوٹ سکے۔ وہ غریبوں سے بہت ہمدردی رکھتا ہے۔ پاکستان کے لیے روتا ہے، اس کے باوجود کراچی نے اس کو ووٹ نہیں دیا۔ اس نے کراچی کے حالات بہتر کر دیئے۔ ایک زمانے میں وہاں گھروں سے نکلنا مشکل ہو گیا تھا، کاروبار خطرے میں پڑ گئے، پھر اسی نوازشریف نے دن رات ایک کر کے کراچی کو امن دیا، وہاں غریبوں کو زمین دی۔ عمران حکومت کہتی ہے کہ انہوں نے ہسپتال نہیں بنائے، ان کے علم میں یہ بات ہونی چاہیے کہ شہبازشریف نے اپنے دس سالہ دورِ وزارت اعلیٰ میں 50بڑے ہسپتال بنائے، یہ وہ حقائق ہیں جس سے کوئی منہ موڑ ہی نہیں سکتا، اس تاریخ کو آپ گندی سیاست کے باوجود نہیںجھٹلا سکتے ہیں۔ وہ ذاتی زندگی میں صبح سویرے قرآ ن پاک کی تلاوت کرتا ہے اور میرے خیال میں ایسے لوگوں کے ساتھ اللہ کی مدد شامل ہوتی ہے اور اللہ کی مدد کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا اور جس قدر اس نے کام کیے یہ اللہ نے کروائے، وہ تو ایک ذریعہ تھا۔

عمران حکومت نے احتساب کا نعرہ دیا اور وہ خود اس احتساب پر عمل درآمد نہ کراسکا؟

دیکھیں پرویزمشرف کے دور میں نیب بنا تھا۔ اس سے پہلے ایک احتساب کمیشن بنا اور لوگ آج سیف الرحمن کی بات کرتے ہیں اس نے کوئی ایسا کام نہیں کیا تھا اور لوگوں کو جیلوں سے نکال نکال کر وزیر بنوایا اور پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے ساتھ اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے بنایا۔ اس نے پہلے پی پی پی کو توڑا، لوگوں کو جیلوں میں ڈالا، اس کا ایک ہی نعرہ تھا کہ وزیر بننا ہے یا جیل میں جانا ہے ،تو لوگوں نے وزیر بننے کو ترجیح دی۔ اب ہماری سیاست میں ہر آدمی تو جیل یا گرفتاری کی تکلیف برداشت نہیں کرسکتا اور نہ ہر آدمی نوازشریف جیسا مضبوط انسان ہے اور وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر جیل چلا جائے صرف عوام کے لیے۔ اب آپ عمران خان کی حکومت لے لیں کہ گزشتہ دو سالوں میں کوئی ایک کام جو انہوں نے کیا سوائے نوازشریف کو توڑنے، بکھیرنے کی سازشوں کے، نیب کو استعمال کر کے ن لیگ کی قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا، دیکھیں جو کام کرنے والے ہوتے ہیں وہ جیلوں سے نہیں ڈرتے اور نہ وہ کرپٹ ہیں اور کرپشن تو وہ لوگ کرتے ہیں جنہوں نے کام نہیں کرنے ہوتے، اب خیبرپختونخواہ میں جس قدر کرپشن ہوئی اس کے وزراء کرپشن میں ثبوتوں کے ساتھ ملوث ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ اگر میں اس حکومت کے خلاف ایکشن لوں تو یہ حکومت گھنٹوں میں گرجائے گی۔ عمران خان کے اردگرد جتنے لوگ بیٹھے وہ سب چور اُچکے اور ڈاکو ہیں اور نیب کے پاس تو ان کے خلاف ایک ایک کام میں کرپشن کے ثبوت موجود ہیں۔ چلیں دور نہ جائیں آج کی بات لے لیں، یہ جو آٹا اور چینی بحران آیا تھا اس میں ایف آئی اے کی تازہ رپورٹ میں جہانگیر ترین، خسروبختیار کا بھائی، ق لیگ کا مونس الٰہی براہ راست ملوث پائے گئے ہیں۔ اب کدھر ہے پاک دامن عمران خان، اب کہاں گیا اس کا احتسابی نعرہ کہ اگر میری جماعت میں کوئی بھی کرپشن میں ملوث ہوا تو میں اس کے خلاف سخت ایکشن لوں گا۔ اب دونوں کے خلاف ایکشن نہیں لیا جائے گا کہ ایک اس کا اے ٹی ایم تو دوسرا اس کا اعتماد ہے تو پھر عمران خان کو اپنے غلط دعوئوں پر عوام سے براہ راست معافی مانگنی چاہیے۔ ایف آئی اے تو اس کا اپنا ادارہ ہے۔ اب نیب بھی نہیں بولے گا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے بے دردی کے ساتھ عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نکلوائے گئے۔ نیب کو تو اس وقت حرکت میں آجانا چاہیے تھا مگر ایسا اس لیے نہیں ہو گا کہ نیب کی لگام عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔ شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعدرفیق، اس کا بھائی خواجہ سلمان رفیق، رانا ثناء اللہ سمیت بہت سے لیگی رہنما نیب کے ذریعے انتقامی طور پر جیلوں میں ڈال دیئے گئے۔ بڑے بڑے جھوٹے کیس بنائے۔ سال ہاسال اندر رکھا تو عدالت نے سرزنش کی نیب کو جھوٹا قرار دیا اور بہت سے لوگ عدالتوں کے ذریعے باہر آئے، یہ تو اس حکومت کا انتقامی احتساب ہے۔ آج اگر اس ملک میں صحیح انصاف ہو، عدالتیں بولیں اور نیب پر سیاسی دبائو ختم کر دیا جائے تو پھر پوری حکومت جیل میں نظر آئے گی۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان کی طرف اربوں روپے نکلے۔ نیب کی ہمت نہیں پڑی کہ اس کو گرفتار کرلے، یہ لوگ زلزلے کے اربوں روپے ڈکار گئے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جب سیلاب آیا تھا وہ اکٹھا کیا گیا اربوں کا پیسہ کس نے کھایا کوئی حساب کتاب نہیں۔

کرونا وائرس میں پھر امداد آرہی ہے؟

یہ پیسہ آرہا ہے مگر غریبوں کے پاس نہیں جارہا۔ لوگ بھوک، خوف سے مر رہے ہیں۔ کرونا کو یہ حکومت کنٹرول نہیں کرسکی۔ روزانہ ٹی وی پر بڑے بڑے بھاشن اور بڑے بڑے خطاب تو ہورہے ہیں، عملی طور پر لوگ لاک ڈائون میں بیٹھے عمران خان کو کوس رہے ہیں۔ یہاں باتوں باتوں میں ایک بات بھول گیا کہ ثاقب نثار جو بنیادی طور پر پی ٹی آئی کا ورکر تھا، وہ ڈیم کے نام پر اربوں روپے ڈکار گیا۔ اس کو ملک سے جاتے وقت کسی نے نہیں روکا، اس نے عمران خان کے حکم پر پیروی کرتے ہوئے نوازشریف کو اقامہ پر سزا دے دی۔ بیگم کلثوم نواز کی وفات اس وقت ہوئی جب ان کو اپنے شوہر کی موجودگی کی شدید ضرورت تھی مگر انہوں نے انتقامی سیاست کرتے ہوئے نوازشریف کو جیل میں ڈال دیا، اب انہوں نے میرخلیل الرحمن جس نے صحافت کی بنیاد رکھی، اس کے بیٹے کو ناجائز مقدمے میں جیل میں ڈال دیا۔

کیا آپ کہتے ہیں کہ ایک بڑے میڈیا ہائوس کے مالک کو گرفتار کر کے حکومت میڈیا کو کوئی پیغام دے رہی ہے؟

انہوں نے کس میڈیا گروپ کو چھوڑا ہے، ان کے اپنے نو صحافی جو آسمان سے اُترے ہوئے اینکر ہیں، اس دورِحکومت میں جو کچھ میڈیا کے ساتھ ہوا ہے، اب میں پورے میڈیا کی بات نہیں کررہا، اسی ایک میڈیا کے گروپ نے عمران خان کو اقتدار میں لانے میں بڑا کردار ادا کیا گو وہ بہت بڑا فراڈ الیکشن تھا اور اس میں ابھی تک بہت ساری چیزیں چل رہی ہیں۔

ایک تاثر ہے کہ میڈیا کو تقسیم کردیا گیا ہے؟

میڈیا کو ایک منصوبہ بندی کے تحت تقسیم کیا گیا ہے اور مخصوص ٹی وی کو تمام تر مراعات سے نوازا جارہا ہے۔ اگر عمران خان کی حکومت بنانے میں جہاں ثاقب نثار کا تعلق تھا وہاں میڈیا کے بھی چند مخصوص لوگ شامل تھے، آج کیا ہورہا ہے اور ان کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے اور کچھ لوگوں کو چینلز سے نکلوا دیا گیا، کچھ کو سزائیں دلوائی جارہی ہیں، وہ لوگ جو کل عمران عمران کرتے تھکتے نہیں تھے وہ اب آہستہ آہستہ بولنا شروع ہو گئے ہیں۔

ن لیگ کے اندر سے بڑے اختلافات کی باتیں سامنے آرہی ہیں، کچھ لوگ پھر وزیراعلیٰ پنجاب سے بھی ملے ہیں آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آنے والے وقت میں مڈٹرم انتخابات ہوئے تو نوازلیگ کہاں کھڑی نظر آئے گی؟

جمہوری اقتدار کی پاسداری کرنے والی سیاسی جماعتوں میں اختلافات کی باتیں جمہوریت کا حسن ہوتی ہیں۔ جس پراسس اور خوف اور جیلوں میں قیادت کو ڈالتے ہوئے ن لیگ کے خلاف جتنے بھی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے وہ اپنی موت آپ مر چکے ہیں، ایسی افواہیں پھیلانے والوں کے لیے یہ بات مسلمہ ہے کہ نوازشریف ہی ن لیگ کا لیڈر ہے۔ ہماری جماعت کے اندر بیانیہ نوازشریف ہی کا چلتا ہے، پارٹی کے اندر لوگوں کی رائے مختلف ہوسکتی ہے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ ہونا چاہیے اور ہوتا رہے گا اور یہ بات بتا دوں کہ انتخابات کے لیے ہماری پارٹی تیار ہے اور جس دن انتخابات ہوئے ن لیگ ہی پورے پاکستان میں پرواز کرے گی اور نوازشریف چوتھی بار پاکستان کے وزیراعظم بنیں گے۔

٭٭٭


ای پیپر