خانقاہیں امن گاہیں۔۔۔ ان کی حقیقت ؟
15 اپریل 2020 (20:40) 2020-04-15

خانقاہیں بھائی چارے ،اخوت ومساوات اور انسانی اقدار وروایات کی امین ہیں جہاںاللہ ہُوکی مقدس صداؤں اور خوشگوار فضاؤں میں بڑے بڑے گنہگاروں، خطا کاروں کو اپنے دامن کرم میں جگہ دے کر ایسی روحانی تربیت کی کہ انہیںانسانیت کاسچا علمبرداربنادیاگیا،ان درویش صفتوںنے ٹوٹی پھوٹی چارپائیوں،چٹائیوںپربیٹھ کرخدمت انسانیت ہی کو اوڑھنا ،بچھونا بنالیا ،کہیں پیر مکی شاہ سرکارؒ تو کہیں امام بری سرکارؒ کہیں مادھولال حسین ؒ تو کہیں میراں حسینؒ کہیں میاں میر سرکارؒ تو کہیں نورمحمد مہاروی سرکار ؒکہیں پیر جماعت علی شاہ ؒتو کہیں پیر آف گولڑہ شریفؒ کہیں حضرت نو لکھ ہزاریؒ تو کہیں صوفی سالار والے ؒکہیں عنائت شاہ قادری ؒتو کہیں بلھے شاہ سرکارؒکہیں بابا فریدسرکا رؒ تو کہیںمیاں محمد بخش ؒ کہیں شیر محمد شرقپوریؒ ؒکہیںبی بی پاکدامنؒتو کہیںموسیٰ پاک شہیداور دیگر سینکڑوں مزارات انوارتجلیات کا مرکز بنے ہوئے ہیں، کہا جاتا ہے کہ حضور داتا صاحب کے پاس ایک شخص آیا تین دن تک آپ کے پاس رہا ایک دن کہنے لگا یا حضرت میں نے تو آپ کا بڑا چرچا سنا تھا مگر مجھے تو کچھ نظر نہیں آیا شائد وہ کوئی شعبدہ بازی دیکھنے آیا ہو گا جو ان میں تھی نہیں، خیر آپ داتا صاحب اس شخص سے مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ بتا اذان ٹائم پر ہوئی وہ شخص بولا جی ہاں پھر آپ نے فرمایا کہ میں نے وضوٹائم پہ کیا وہ بولا جی پھرعلی ہجویری نے فرمایا میں ٹائم پہ نماز پڑھی تو اس نے کہا جی پڑھی تو حضور داتا صاحب نے فرمایا کہ اور تو مجھ میں کیا دیکھنا چاہتا تھا، کہ با شرع ہوں اس پروہ شخص آپ کے پائوں پڑ گیا اور معافی کا طلب گار ہوا،قارئین اولیا ء جہاں بھی گئے، دین اسلام کا علم بلند کیا، بھٹکے ہوئوں کو راہ راست پر لایا گیا،آپ نے اخلاق حسنہ کی بنیادپرلاکھوںافرادکوکفروشرک ضلالت وگمراہی کی تنگ وتاریک وادی سے نکال کرباغ ارم کامسافراورمومن کامل بنادیا، خدمت خلق کا شمار سب سے عظیم اور مقبول عبادت میں سے ہے اور خدمت خلق خانقاہوں کی ہمیشہ سے ہی ترجیح رہی ہے اولیاء کی جماعت نے خود بھوک و پیاس کی شدت برداشت کر کے عوام الناس کے کھانے پینے کا معقول انتظام کیا اور انسانیت کی فلاح و صلاح کے لئے ہر ممکن اقدام کی کوشش کی عشق الہی اور عشق رسالت ﷺسے اپنے اذہان و قلوب کو منور کیا برصغیر پاک وہند میں جب ہر سو جاہلیت کا دوردورہ تھا جب انہیں اولیا نے اپنی اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دیں اوراللہ کریم کے پیغام کوعام کیا، قارئین ہماری نسبت ایک، ہمارا عقیدہ ایک اور وہ ہے اللہ رب العزت کی توحید اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت، ان کے حقوق کی ادائیگی کے بعد اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عزت و احترام، پھر اولیاء کرام کے ساتھ نسبت ہے،اب ایک بات توجہ طلب ہے کہ ولی اگر کوئی عمل کرے تو یاد رکھ لیں وہ باعث خیرو برکت ثابت ہوتا ہے مگر وہ شریعت میں حجت نہیں بنتا،شریعت میں حجت نبی کا عمل بنتا ہے، نبی کا عمل سنت نبوی ہوتی ہے اور وہ شریعت میں حجت ہوتا ہے، ولیوں کی تلاش میں جانا نبیوں کی سنت ہے، اب جو شخص اس نکتہ کا انکار کرے اسے نہ قرآن کی خبر ہے نہ انبیاء کی سنت کی خبر ہے، ولی کو اللہ کے خزانے میں سے خزانہ خاص سے رحمت خاص ملتی ہے اور اس کے خزانہ خاص سے علم ملتا ہے اور اس کی برکت اور علامت یہ ہے کہ موت حیات میں بدلتی ہے، مردہ دل زندہ ہوتے ہیں،حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ نے قرآن کو سات حروف اور قرات میں نازل کیا، ہر ہر حرف کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے۔ کسی کو ظاہر ملا اور کسی کو باطن ملا مگر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو دونوں علم عطا کئے اس لئے حضورﷺ نے انہیں باب العلم کہا ،جو شخص شریعت کو مانے، علم ظاہر کو مانے مگر علم باطن اور علم تصوف کو نہ مانے اور اس کی نفی کرے تو اس نے تصوف کی اہل سنت کے علماء کی اور اولیاء کی اور صوفیاء کی نفی نہیں کی اس نے قرآن پاک کی نفی کی ہے، اس نے علوم محمدی کی نفی کی ہے،اس نے فرائض پیغمبرانہ کی نفی کی ہے، طریق تصوف طریق سلوک طریق تزکیہ طریق ایصال کی وادیاں عبور کئے بغیر کوئی امام نہیں بنا سب اماموں کے امام جن کے در سے ہر ایک کو علم کی امامت ملی، جن کے علم کے فیض سے مذاہب نکلے وہ امام اعظم سیدنا ابوحنیفہ، وہ حضور داتا گنج بخش کے بھی امام ہیں، پوری امت کے امام ہیں، اس علم تصوف اور علم باطن کی بات کررہا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں وہ شیخ طریقت بھی تھے، امام اعظم ابوحنیفہ پہلے مرید ہوئے پھر شیخ اور مراد ہوئے پھر جس طرح امت کے امام علم تھے، اس طرح امام طریقت و معرفت بھی تھے، آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ آپ کے چار ہزار اساتذہ اور شیوخ ہیں جن سے آپ نے پڑھا،ان ہزاروں اساتذہ میں ایک استاد بہلول مجذوب بھی ہے،ایک مجذوب کے بھی شاگرد ہیں یہ وہ مجذوب ہے جو دریائے دجلہ کے کنارے گھروندے بناتے تھے ،ہارون الرشید کی بیوی ملکہ زبیدہ نے پوچھا کتنے کا بیچتے ہو فرمایا، دس درہم میں، دس درہم لے کر مکان گرادیا، فرمایا جائو جنت میں الاٹ ہوگیا، ہارون الرشید نے مذاق اڑایا اور کہا کہ اس طرح جنت میں مکان ملتے ہیں ایسے پیسے بربادکئے کسی غریب کو دیئے ہوتے تو کام آتے،ہارون الرشید نے رات کو خواب دیکھا کہ جنت میں محل ہے جب وہ اندر داخل ہونے لگا تو فرشتوں نے روکا تو کہا یہ میری بیوی کا گھر ہے اندر جارہا ہوں، انہوں نے کہا یہ آپ کا نہیں آپ کی بیوی کا گھر ہے اور وہی اس میں جائیں گی،پھر کیا ہوا کہ ان کی آنکھ کھل گئی تو بیوی کو اٹھایا اورکہنے لگے اسی مجذوب کے پاس پھر سے چلو بہلول مجذوب کے پاس آئے، اب ہارون الرشید پوچھتا ہے بہلول مکان بیچتے ہو فرمایا،بیچتا ہوں، ہاں پوچھاکتنے کا ہے، فرمایادس ہزار کا ہے،کہنے لگے اتنی مہنگائی کل تو 10 درہم کا بیچا تھا آج دس ہزار درہم کاکیوں، حضرت بہلول رحم اللہ علیہ نے فرمایا کل کے گاہک نے بن دیکھے لے لیا آپ آج کے گاہگ دیکھ کر آئے ہو،جس سے ثابت ہوا کہ اللہ والوں کی ہر ادانرالی اور اس میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے، جن ہستیوں نے اللہ سے کارروبار کیا وہ دنیا میں بھی نام کما گئے اور آخرت میں بھی سرخروہوئے انہیں دنیا کی حرص نہ تھی تبی توآج ہر شخص ان کا نام ادب واحترام سے لیتا ہے اورآج ان کے آستانے ہدایت کے سر چشمے ہیں ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہمیں اپنی زندگیوں کو غلاظت سے پاک کرکے اپنے آپ کواللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات پر عمل پیرا کرکے روشنی کی امید بننا ہو گا،آج دنیا بھر میں وبائی امراض نے ہر شخص کو جکڑ رکھا ہے لیکن کوئی نہیں سوچتا کہ ایسا کیو کوئی اگر یہ سوچ لے کہ اللہ سرکشی کرنے والوں کو پکڑ میں لے لیتا ہے تو کوئی بھی اپنے آپ میں’’میں‘‘ نہ رکھے بلکہ صوفیا ء کی زندگیوں کو مشعل راہ بنا لے تے پھر بیڑا پار ہو جاتا ہے اللہ والوں نے اللہ سے ’’لو‘‘لگائی ہو تی ہے اورہم نے دنیا والوں سے اسی لئے آج خسارے میں ہیں نہیں یقین تو قرآن کھولیں اورسورہ نصر پڑھ لیں آنکھیں کھل جائیں گی ،صالحن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جاہلوں سے نہیں الجھتے بلکہ وہ ان کا جواب تک نہیں دیتے اور کنارہ کشی کرتے ہیں، اسی طرح باطل اور جھوٹی مجالس سے ’’کنی ‘‘ کتراتے ہیںجناب حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںتیرا اپنی نیکیوں پر اترانا، ان نیکیوں کو اپنے نفس سے منسوب کرنا اور خلقِ خدا میں اپنی راست بازی پر فخر کرتے پھرنا صریحاً شرک اور گمراہی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ صراطِ مستقیم پر گامزن ہونے اور نیکیوں کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی تائید و توفیق اور فضل و کرم سے ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اللہ والوں نے کبھی بھی تکبر کو قریب نہیں آنے دیا کیونکہ یہ اللہ کریم کو پسند نہیں اللہ کی برگزیدہ ہستیوں کی ایک صفت استقامت ہے اس کو قرآن حکیم ان الفاظ میں بیان کرتا ہے بے شک جِن لوگوں نے کہا ہمارا رب ایک ہے اوراِس پر وہ مضبوطی سے قائم ہوگئے، تو اُن پر فرشتے اترتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو امام بخاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںاور اللہ کے ہاں دین میں پسندیدہ ترین عمل وہ ہے جس کا کرنے والا اس کودائمی طورپرکرے کتاب وسنت میں ہے کہ استقامت کودین میں بڑی اہمیت حاصل ہے، انبیاء کرام میں استقامت پائی جاتی ہے، اسی طرح اولیائے کرام میں بھی صفتِ استقامت ہوتی ہے،اسی لئے آج ان کے نام لیوا ہر جگہ پائے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مشکلات و مصائب ان ہستیوں کے پائے استقامت میں لغزش پیدا نہیں کرتے، راہِ حق میں ایسی استقامت ان کے بلند کردار کی دلیل ہوتی ہے۔ تصوف میں استقامت کو کرامت سے بڑھ کر تسلیم کیا جاتا ہے،ایسے لوگ جو ایمان لائے اور ہمیشہ تقویٰ شعار رہے، ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی عزت و مقبولیت کی نویدہے اور آخرت میں بھی، حضور غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ راہِ سلوک میں پہلا قدم تقویٰ ہے اور دوسرا قدم حالتِ ولایت ہے اور جب تک مکمل تقویٰ اختیار نہ کیا جائے، درجہ ولایت کی تحصیل ناممکن ہے حضرت بایزید بسطامی کے نزدیک ولایت کا معیار تو سراسر اتباعِ شریعت، اوامر و نواہی کی پابندی، حدودِ الہٰی کی محافظت اور اتباع سنت ہے ،اولیاء و صالحین عبادت، ریاضت اور تقویٰ و ورع کے سبب اس مرتبہ و مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ ان کے حواس کی قوتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے امام فخرالدین رازی رضی اللہ عنہ اس حدیثِ قدسی کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب اللہ کے جلال کا نور اس کی سمع ہوجاتا ہے تو وہ دور و نزدیک کی آوازوں کو سن لیتا ہے اور جب یہی نور اس کا بصر ہوگیا تو وہ دور و نزدیک کی چیزوں کو دیکھ لیتا ہے اور جب یہی نورِ جلال اس کا ہاتھ ہوجائے تو یہ بندہ مشکل اور آسان، دور اور نزدیک چیزوں میں تصرف کرنے پر قادر ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو یہ مقام عطا فرماتا ہے کہ وہ جو بھی دعا کریں قبول کی جاتی ہے،بزگان دین کی شخصیات اس قدر مؤثر ہوتی ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والے افراد بہت سی روحانی نعمتوں سے مالا مال ہوجاتے ہیں اور یوں ان کی صحبت میں بیٹھنے والے اپنی بدبختیوں کو خوش بختیوں میں بدل لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صادقین کی معیت کا حکم دیا ہے،اولیاء کے کردار کے اثرات میں سے ایک اہم اثر یہ ہے کہ ان کی تعلیمات سے متاثر ہوکر لاتعداد لوگوں کے اعمال و کردار کی اصلاح ہوتی ہے اور دین اسلام کو مدد و نصرت ملتی ہے۔ صوفیاء کی تبلیغ میں تاثیر کی بنیادی وجہ تبلیغِ دین کے اصولوں پر عملدرآمد ہے۔ صوفیاء و اولیاء کے قول و فعل میں یکسانیت و ہم آہنگی، حسنِ اخلاق، اندازِ تربیت، نرم گفتاری، رواداری، بصیرت و فراست اور حکمت و دانائی کے باعث لوگوں نے اسلام قبول کیا ،آج جوکرونا وائرس وبائی امراض کے باعث حالات بنے ہیں ہمیں اپنے گناہوں کی سچے دل سے اللہ سے معافی معافی مانگنی ہو گی آخر میں صرف اتنا ہی کہ ملک میں لاک ڈائون کے باعث مزارات بھی بند ہیں حکومت کو چاہیے کو ان مزارات کو قرنطینہ سنٹربنادے اس سے ہمیں سٹنرز بنانے میں جو مشکلات پیش آ رہی ہیں پر قابو پایا جا سکے گااور اور اولیا ء جو ہمارے لئے ر ول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں کے مزارات انسانی فلاح کیلئے کام آئیں گے اگر کسی کو ناگوارنہ گزرے توملک بھر کے گرجا گھربند پڑے ہیں انہیں بھی قرنطینہ سنٹرکے طورپر استعمال کرنے میں کوئی قباحت نہیں جس طرح تحریک پاکستان میں اقلیتوں کا کردار ہے ہمارے مسیحی بھائی بھی اس مشکل کی گھڑ ی میں اس کار خیر میں حصہ ڈالنے میں دیر نہیں کریں گے انسانیت کی فلاح کیلئے علماء کو حجروں سے مشائخ کو خانقاہوں سے نکلنا ہو گا۔

٭٭٭


ای پیپر