مصیبت ،آزمائش اور وبا کے دوران نماز کی ادائیگی کے بارے میں کیا حکم ہے؟
15 اپریل 2020 (20:35) 2020-04-15

اعجاز مقبول

دنیا میں خوف کے سائے پھیلانیوالے خوفناک وائرس کرونا کے وارجاری ہیں ، اس موذی مرض کاشکار بننے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافے نے کرہ ارض کی واحد سپر پاورامریکہ سمیت ترقی یافتہ ممالک کو ہلاکررکھ دیاہے،، ایک رپورٹ کے مطابق مرنیوالوں کی تعداد اسی ہزار سے کہیں زیادہ ہوچکی ہے اوراس میں روز بروز اضافے نے دنیائے عالم کو بے بس کرکے رکھ دیاہے،اٹلی ،سپین ،ایران ،برطانیہ ،فرانس جیسے ترقیافتہ ممالک بیسویں صدی کی اس نئی وبا کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے ہیں،اورکوئی چارہ نظر نہیں آتا ، وائرس کی ویکیسین اورعلاج کے دعوے بھی تاحال دعوے ہیں اور موت کا ایسا خونی کھیل جاری ہے، جس میں حضرت انسان مکمل طور پر پسپا ہو چکا ہے،،،

وبا کے آغاز سے ہی یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں بڑی تیزی سے منتقل ہو رہا ہے، چین میں سامنے آنیوالے اس پراسرار وائرس کے بارے میں نہ صرف چینی طبی ماہرین بلکہ دنیا بھر میں سائنس سے جڑے افراد متفق ہوگئے تھے کہ اس کا مقابلہ صرف ایک دوسرے سے دور رہنے ،ہاتھوں کی باربار دھلائی اور سماجی فاصلے کم کرکے ہی کیا جا سکتا ہے، چین نے ووہان میں مکمل لاک ڈائون کرکے اس جنگ کو جیت لیا، لیکن امریکہ اور یورپ کے دیگر ممالک اس کی ہولناکی کو سمجھ سکے نہ اس کی تباہ کاریوں کا اندازہ لگا سکے، بلکہ ترقی اورجدید سائنس سے روشناسی کے زعم نے انہیں خواب غفلت میں ہی ڈالے رکھا، اورپھر ننھے سے وائرس نے اس قدر تیزی سے تباہی مچائی کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔۔۔

طبی ماہرین نومبر2019 سے لے کرآج تک اسی بات پر زور دے رہے ہیں کہ صفائی ، ہاتھوں کی بار بار دھلائی ،اور سماجی فاصلوں کیساتھ ساتھ تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، تاکہ اس وائرس کی چین توڑکرلوگوں کو موذی بیماری سے بچایا جا سکے، کرونا کوویڈ19 کے سامنے آنے پر ملکی اورغیر ملکی طبی ماہرین کی طرف سے یہ بھی کہا گیاکہ وضو کرنیوالے کرونا کے وائرس سے بچ سکتے ہیں اور پھر محفلوں میں یہ نعرہ بھی بلند ہوا ہے کہ مسلمان چونکہ وضو کرتے ہیں تو انہیں کوئی ڈر نہیں ، شاید یہی بڑی وجہ تھی کہ جہاں چین ، امریکہ اور یورپ کیساتھ ساتھ یہ موذی وبا دنیا بھر میں پھیلی وہاں مسلمان ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آنے لگے،

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ جو رات قبر میں آنی ہے وہ باہر نہیں آئے گی توکیا پھر ہمارے لئے یہ احتیاطی تدبیر ہی کافی ہے کہ نماز کیلئے پانچ بار وضو کرلیاجائے تو ہم بچ جائیں گے، توکیا ہم صرف یہ سوچ کر لوگوں کیساتھ معانقہ اور مصافحہ کرتے رہیں کہ موت کا وقت مقرر ہے اور یہ اسی وقت آنی ہے۔۔ یہی وہ سوچ تھی جس نے لاپروائی کے عمومی روئیے کو فروغ دیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں بھی کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا، حکومت کی طرف سے لاک ڈائون کرنے کے اقدام کا مذاق اڑایاگیا، مسجدوں میں نماز کی بجائے گھر میں نماز کی اپیلیں بھی نہ مانی گئیں اوراس پر تنقید شروع کر دی گئی اسے تقوی اور توکل کے منافی قرار دیا گیا،، ایسے میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر ساجد میر وہ پہلے عالم دین ہیں جنہوں نے قرآن وسنت اور احادیث کی روشنی میں لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں اور پھر معاملہ تقدیر پر چھوڑنا چاہئے،، انہوں نے مساجد میں نماز کی بجائے گھروں میں نماز پڑھنے کے اقدام کی بھی حمایت کی ، وبا کے دنوں میں انسان کی جان کتنی اہم ہے، بحیثیت مسلمان ہمارے لئے احساس ذمہ داری اور تدبیر کتنی ضروری ہے اس موضوع پر سینیٹر اور عالم دین پروفیسر ساجد میر سے خصوصی گفتگو کی گئی ہے جو قارئین کے رہنمائی کیلئے پیش خدمت ہے،،،

عالم دین اور سینیٹر ساجد میر نے دوران انٹرویو کہا کہ اس وقت پوری دنیا کو جس میں پاکستان بھی شامل ہے ایک ایسے چیلنج اور وباء کا سامنا ہے جو کرونا وائرس کی شکل میں دنیا پر آئی ہے۔ یہ تصورکہ اسلام صرف تقدیر پر ایمان سکھاتاہے، اور اسباب کی اہمیت کو نظر انداز کرتا ہے یہ خیال اور تصور بالکل غلط ہے،، یہ دنیا عالم اسباب ہے،، مسبب الاسباب صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے، یہ عین ممکن ہے اور ایسا ہوتا بھی ہے کہ آپ ایک بہترین سبب اختیارکریں مگر اس کا نتیجہ آپ کی منشا اور اختیار کردہ سبب کے تقاضے کے مطابق نہ نکلے،،، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسباب کو ترک کردیا جائے اور تدبیر اور اسباب کو اختیار نہ کیا جائے۔۔

سوال : بیماری سے بچنے کیلئے کیا احتیاطی تدابیر بھی اتنی ہی اہم ہیں جتناعلاج؟ اسلامی تعلیمات کیاکہتی ہیں؟

سینیٹر پروفیسرساجد میر نے کہا کہ بیماری سے بچنے کیلئے اہک اہم سبب تو دوا ہے یا اس کے متعلقات ہیں جیسے بیماری سے بچنے یا علاج کیلئے سرجری کرا لی جائے وغیرہ،،،، دوسرا احتیاطی تدابیر ہیں۔۔ وہ بھی لازما اختیار کرنی چاہئیں۔ اور اس سلسلے میں اسلامی کی تعلیمات واضح ہیں۔۔ اللہ کے نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوڑھی سے پرہیز کی تعلیم دی ہے، اس حوالے سے غالباً مسلم میں صحیح حدیث ہے کہ ،، نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ کوڑھ والے یا جزام میں مبتلا شخص سے ایسے بھاگو جیسے تم اپنی جان بچانے کیلئے شیر سے بھاگتے ہو،،، ایک مرتبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ثقیف کے ایک وفد سے بعیت لی لیکن وفد میں جوکوڑھی یا مجذوم تھا اس کیساتھ ہاتھ نہیں ملایا اور اسے دور سے کہا کہ تیری بیعت قبول ہے، یہی سے واپس چلاجا، اس سے ہاتھ نہیں ملایا یا اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیا، اس سے یہ سبق ملتاہے کہ احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کرنی چاہئیں تاکہ متعددی بیماری ایک سے دوسرے میں منتقل نہ ہو سکے۔۔،

سوال:لاک ڈائون کے بارے میں اسلام اور شریعت کیاکہتی ہے،خصوصا مسجدوں کا لاک ڈائون ہو تو صورتحال کیاہوگی ؟

سربراہ مرکزی جمعیت اہل حدیث سینیٹر ساجد میر نے کہا کہ لاک ڈائون اور مساجد کی بندش کے حوالے سے فتوے اور اعلامیے بھی جاری کئے گئے ہیں۔ ان معاملات میں بھی اللہ کے سچے دین اور حدیث میں راہنمائی موجود ہے،،کرونا وائرس کی وبا کے دوران یہ ہدایت تو تقریباً سب جان چکے ہیں کہ جہاں طاعون کی بیماری پھیلے اس علاقے سے کوئی دوسری جگہ نہ جائے اور نہ ہی کوئی متاثرہ علاقے میں آئے تاکہ بیماری نہ پھیل سکے، نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ایسی صورت میں صبرکرے اوراپنے گھر میں ہی مقیم رہے، اس سے لاک ڈائون کا جواز واضح طور پرسامنے آجاتا ہے۔ ظاہر ہے جب گھر میں رہے گا تو مسجد میں بھی نہیں جا سکے گا،

پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھاکہ جو علما کرام اس قسم کی آیات سے استدلال کرتے ہیں کہ۔۔۔

ترجمہ: اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی مسجدوں میں جانے سے منع کرے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے۔۔

میں یہاں بڑے ادب اور احترام سے ان علما کرام سے یہ عرض کروں گا کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی تھے ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئیگا،، علما کرام آپؐ کی تعلیم کتاب کے بھی وارث ہیں اور ان کی حکمت کے بھی وارث ہیں۔۔ کتاب و سنت لوگوں کو بتانے اور سکھانے کیساتھ ساتھ حکمت بھی علما کرام کے پیش نظر ہونی چاہئے،، حکمت سے بھی لوگوں کو سکھانا چاہئے۔ یہ استدلال نامناسب ہے کہ لوگوں کو جب مصلحت عامہ کے باعث بیماری اور موت سے بچانے کیلئے روکا جائے تو یہ اعتراضات اٹھائے جائیں کہ مسجدوں میں جانے سے روکنا غلط ہے، یہ دلیل باعث تکلیف ہے،،، یہاں نیت بھی دیکھنی چاہئے کہ کیا مسجدوں میں جانے سے اس لئے روکا جا رہا ہے کہ وہاں بربادی ہو یا ذکر الہی نہ ہو،، دیگر ملسمان ملکوں جن میں سعودی عرب، خلیج ، ترکی اور دیگر شامل ہیں انہوں نے مسجدوں میں نمازیں یا نماز جمعہ بندکیاہے تو ایک مصلحت کے تحت بند کیاہے، تاکہ بیماری نہ پھیل سکے، اور انسانی جانیں ضائع نہ ہوجائیں ، وقت کا تقاضا یہ ہے کہ عقل اورحکمت کیساتھ آیات کی تشریح کی جائے۔۔،

سوال؛ مصیبت ،آزمائش اور وبا کے دوران نماز کی ادائیگی کے بارے میں کیا حکم ہے؟

سینیٹر ساجد میر کاکہنا تھا اس میں حرج نہیں ہے کہ جب مشکلات ، مصیبت ، آزمائش یا وبا آتی ہے تو ان دنوں نماز جمعہ کا خطبہ ، تقریر ، یا درس کا دورانیہ کم کردیا جائے، جیسے جنگ کے دنوں میں نماز مختصر کردی جاتی تھی ، اسی طرح نماز چلتے پھرتے بھی ادا کی جا سکتی تھی، یوں یہ دلیل پکڑ کر اس کی بنیاد پر یہ بھی کہاجا سکتا ہے کہ خطبے کا دورانیہ اور دینی پروگرام کا دورانیہ جتنا بھی ممکن ہوکم یا مختصر کر دیا جائے، تاکہ مسجدیں آباد رہیں۔ اللہ کی تعلیمات اور احکامات پر عمل درآمد اختصار کیساتھ بھی جاری رہے۔۔۔ مقا صد شریعت کی روشنی میں انسانی جان اور صحت کے تحفظ کے لیے خطبہ جمعہ اور نماز با جماعت کو موقوف بھی کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ شریعت کا ایک مقصد جان کی حفاظت کرنا بھی ہے۔

سوال:کروناکے بارے میں ماہرین طب کہتے ہیں کہ سماجی فاصلے بڑھائے جائیں،کیاکہیں گے آپ؟

سینیٹر ساجد میر کاکہنا تھاکہ ایک حدیث میں یوں بھی ہے کہ۔۔۔ ترجمہ: بیمار اورصحت مند کوآپس میں خلط ملط نہ کیا جائے ، یعنی بیمار اور صحت مند کو الگ الگ رکھا جائے،، تاکہ بیمار شخص سے وائرس صحت مند انسان میں منتقل نہ ہو جائیں ، کوئی شخص بیمار ہے اور بیماری اس کے اندر جڑ پکڑ چکی ہے ، اس کے معالج کو بھی علم نہیں ، اس کا ٹیسٹ بھی نہیں ہوا اور علامات بھی ظاہر نہیں ہوئیں ایسا شخص کسی بھی جگہ جاتا ہے بشمول مسجد کے اور وہ صحت مند افرادکیساتھ ملتا ہے تو ایسے میں بیماری کے وائرس ایک سے دوسرے میں منتقل ہو سکتے ہیں اور یوں بیماری پھیل سکتی ہے، دینی تعلیمات ہمیں تنگی کی طرف نہیں بلکہ آسانی کی طرف لے جاتی ہیں،،، اس لئے بیمار کو صحت مند سے الگ رکھنے کی ہدایات کی گئی ہیں،، گھروں میں رہ کر ہم بیماری سے بچ بھی سکتے ہیں اور یوں بیماری پھیلانے کا بھی ذریعہ نہیں بنیں گے۔۔ کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے اسلامی حکومتوں نے جتنے بھی اقدامات کیے ہیں وہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ہیں۔ یہ اقدامات اسلام کے شرعی اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ گھروں میں رہنا کورونا وائرس کے خلاف مضبوط ہتھیار ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے مریض سے دور رہنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس سے بیماری کے جراثیم دوسرے کو منتقل ہونے کا خدشہ ہو۔۔

سوال:ایسے مشکل حالات میں بطور مسلمان ہمیں کیاکرناچاہئے۔۔؟

سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ آفتوں وباؤں یا آزمائشوں کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر یہ ہے کہ پوری زندگی جو انسان کو ملی ہے وہ آزمائش ہی ہے۔ بعض لوگوں کی یہ سوچ ہے جوکسی حدتک درست بھی ہے کہ زندگی میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں آتی ہیں وہ کسی خطا یا گناہ یا کسی کوتاہی کی وجہ سے آتی ہیں۔ اصل مسئلہ آزمائش کا ہے اس حوالے سے اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ اللہ کی طرف پہلے سے بھی زیادہ رجوع کیا جائے۔ اللہ کی نا فرمانیوں سے بچا جائے جو نافرمانیاں ہو چکی ہیں ان پر استغفار کیا جائے اور اللہ کا ذکر کیا جائے۔ وہ دعائیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائیں وہ پڑھی جائیں ، لیکن اگر عربی میں نہیں آتیں تو اپنی زبان میں بھی رب رحیم سے دعا ئیں مانگی جائیں ، اور اللہ کے نام کی برکت پہ یقین رکھا جائے کہ ان تکلیفوں سے بچا جا سکتا ہے اللہ رب کریم ہمیں اس قسم کی وبائوں سے بچائے۔۔

سوال؛توکل کیا ہے اور موجودہ حالات میں اس کی اہمیت کے بارے میں بتائیں؟

سینیٹر ساجد میر کے مطابق مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایمان کے ساتھ توکل علی اللہ پر قائم رہیں۔ اسلام انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی تاکید کرتا ہے۔ اسی بنا پر حکومتوں نے مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کے پیش نظر کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ کرونا کی روک تھام کے لیے ہمارے پاس اللہ کے رسول کا وہی حکم ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کی روک تھام کے حوالے سے بیان فرمایا تھا۔ جو لوگ کہتے ہیں، ہمیں اللہ پر توکل ہے اور احتیاط کی کوئی ضرورت نہیں ، وہ غلط کہتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اونٹ کا گھٹنا باندھو اور پھر توکل کرو۔ گویا اسباب اختیار کرنا توکل ہے، اسباب سے بے نیازی توکل نہیں ہے،،۔ بیماری کے علاج سے احتیاط بہتر ہے۔۔۔

سوال :کوئی پیغام دیناچاہیں گے؟

سینیٹر ساجد میر نے کہا کہ موجودہ حالات میں اپنی سرگرمیوں کو محدود کر دینا چاہیے خواہ وہ معاشی سرگرمیاں ہوں، دینی یا معاشرتی۔ تاہم معاشرتی بقا کے لیے بعض سرگرمیاں ضروری ہیں۔ مثلا ضروریات زندگی کی فراہمی اور ضروری روزگار۔ ان سرگرمیوں کا محدود پیمانے پر جواز ملتا ہے اور وہ بھی احتیاطی تدابیر اپنانے سے مشروط ہیں ،حکومت کوبھی لوگوں کے روزگار اور خوراک کے حوالے سے انتظامات کرنا ہوں گے، پاکستان میں بسنے والے بہت ساری معاشی مشکلات کا شکار ہیں ، ایسے میں جب وبا کے باعث کاروباربند ہوں تو ان کی ضرورت کا خیال رکھنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مذہبی حلقے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے حکمت سے کام لینے کی راہ اپنائیں، کیونکہ ان کے پیغامات لوگوں کو اس بیماری کا ترنوالہ بن جانے سے بچا سکتے ہیں اور اس بیماری سے لڑنے کاحوصلہ بھی دے سکتے ہیں۔ تمام مسلمان اپنے گناہوں کی اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے معافی مانگیں، نماز پنجگانہ کا اہتمام یقینی بنا نے کیساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات پر عمل کریں تو جہاں معاشرہ برائیوں سے پاک ہوجائیگا وہاں ایسی وبائوں کونظم وضبط اور متحد ہوکر شکست بھی دیناآسان ہوگا۔۔۔۔

٭٭٭


ای پیپر