کیا 26 اپریل پاکستان کی سیاست کے رُخ موڑ دیگا ؟اہم ترین رپورٹ
15 اپریل 2020 (20:27) 2020-04-15

منصور مہدی:

عمران خان جب سے برسر اقتدار آئے ، انھیں متعدد بحرانوں سے نبرد آزما ہو نا پڑا، ایک کے ایک بحران نے عمران خان کیلئے ایسے ایسے مسائل پیدا کیے کہ وہ اپنے منشور پر عمل درآمد کروانے کی بجائے سروائیول کی جنگ میں ہی مصروف رہے۔ لیکن رواں سال کے ابتدا میں ایک ایسے بحران پیدا ہوا کہ جس نے پی ٹی آئی کو بھی ہلا کر رکھ دیا، وہ بحران آٹے اور چینی کا بحران تھا کہ جس نے مہنگائی کی آگ میں جھلستی عوام کو مزید جلا کر رکھ دیا۔ اس بحران سے جہاں شہریوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوا وہاں عمران خان حکومت کی ساکھ بھی دائو پر لگ گئی۔ کیونکہ اس بحران کے ذمہ داروں میں جہاں دیگر آٹا اور چینی کے بڑے بڑے برج ملوث تھے وہاں پی ٹی آئی کے اپنے لوگ بھی شامل تھے۔اس بحران کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ اس سکینڈل میں جو شخص بھی ملوث ہوا۔ قانون کی گرفت سے محفوظ نہیں رہے گا۔ چنانچہ اس کی تحقیقات کروائی گئی اور اب تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر آ گئی ہے جس نے ایک تہلکہ برپا کر دیا ہے، اس رپورٹ میں تمام انگلیاں حکومتی رہنماؤں پر اٹھ رہی ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی بحران میں حکمران سیاسی خاندانوں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ جہانگیر ترین اور وفاقی وزیر خوراک خسرو بختیار کے بھائی نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔

عوام کی اکثریت ایف آئی اے کی جانب سے آٹا،چینی بحران کے ذمے داران کیخلاف جاری کردہ رپورٹ کو مثبت اور بہتر قرار دیتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جس طرح سے چینی اور آٹا بحران کے ذمے داران کیخلاف رپورٹ کو ظاہر کیا ہے اس پر ان کو داد دینی چاہیے لیکن عوام اس وقت مطمئن ہونگے جب حکومتی صفوں میں موجود آٹا اور چینی چور وں کے سرغنہ کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ،حکومت بار بار جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کو بے قصور قرار دیتی رہی ہے لیکن ایف آئی اے کی رپورٹ میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ آٹے اور چینی کے بحران کے کرتا دھرتا جہانگیر ترین ،خسروبختیار اور مونس الٰہی ہیں۔عوام کا دوٹوک مطالبہ ہے کہ جس طرح رپورٹ ظاہر کرکے جرات کا مظاہرہ کیا گیا ہے اسی طرح رپورٹ میں بحران کے ذمے داران کیخلاف فوری اور موثر کارروائی کرکے چینی چوروں اور آٹے کا بحران پیدا کرکے عوام کو اربوں روپے کا ٹیکا لگانے والے مافیاکو قانون کی گرفت میں لیکر سخت سزادی جائے۔عوام یہ جان چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ نواز، یا تحریک انصاف سب ایک ہی سکے کے رخ ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعدآٹے اور چینی کے بحران کے حوالے سے کارروائی شروع ہوگئی ہے، وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں ردوبدل کردیا ہے۔ خسرو بختیار سے وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کا قلمدان واپس لیکر ان کو وزیر اقتصادی امور مقرر کردیا گیا۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کو صنعت و پیداوار کا وفاقی وزیر بنا دیا گیا۔ بابر اعوان کو ایک بار پھر کابینہ میں شامل کرتے ہو ئے مشیر پارلیمانی امور بنا دیاگیا۔عبدالرزاق دائود کو مشیر صنعت و پیداوار اور شوگر ایڈوائزی بورڈ کے عہدے سے بھی فارغ کردیا گیا،تاہم بطورمشیرتجارت برقرار ہیں۔کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام کو وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کا قلمدان دیدیا گیا۔ وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی کو انسداد منشیات کی وزارت دیدی گئی۔ خالد مقبول صدیقی کا استعفیٰ منظور کر کے ایم کیو ایم کے ہی امین الحق کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سونپ دی گئی۔ وزیر اعظم نے مشیر اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب اور سیکرٹری وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی ہاشم پوپلزئی کوعہدے سے فارغ کر دیا۔ عمر حمید نئے سیکرٹری وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی ہونگے۔ جہانگیر ترین کو زراعت کی ٹاسک فورس کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا۔

ادھر پنجاب میں آٹا سکینڈل کے بعد وزیرخوراک پنجاب سمیع اللہ چودھری نے استعفیٰ دیدیا جسے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے منظور کرلیا۔ ذرائع کے مطابق سمیع اللہ چودھری نے اپنا استعفیٰ وزیراعلیٰ سے ملاقات میں پیش کیا اور کہا کہ مجھ پر محکمہ خوراک میں اصلاحات نہ کرنے کا الزام ہے اورجب تک خود کو ان الزامات سے کلیئر نہیں کرلونگا حکومتی عہدہ واپس نہیں لونگا۔خود کو ہر فورم پر احتساب کیلئے پیش کرنے کیلئے تیارہوں۔دریں اثنا وزیراعلیٰ پنجاب نے کمشنرڈی جی خان نسیم صادق کواوایس ڈی بنادیا۔ذرائع کے مطابق انہوں نے رضاکارانہ طورپراوایس ڈی بنانے کیلئے وزیراعلیٰ کو درخواست دی تھی،نسیم صادق 2019 میں بطور سیکرٹری خوراک کام کررہے تھے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے سابق ڈائریکٹر فوڈ ظفر اقبال کو بھی او ایس ڈی بنادیا۔

دریں اثنا ذرائع کے مطابق چینی ایکسپورٹ یا امپورٹ ہوئی یا نہیں اس حوالے سے تحقیقات کیلئے ایف آئی اے نے پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کی شوگرملوں سمیت مختلف شوگر ملز پر چھاپے مار کر ریکارڈ قبضے میں لے لیا۔ ذرائع ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کے چیف فنانشل آفیسر سے بھی تحقیقات کی گئی ہے اور جہانگیر ترین کے دفاتر میں موجود ریکارڈ اور کمپیوٹر بھی تحویل میں لے لئے ہیں۔دوسری جانب جہانگیر ترین نے چینی بحران رپورٹ کی روشنی میں ایگریکلچر ٹاسک فورس کی سربراہی سے ہٹانے کی خبر پر کہا کہ وہ کسی ٹاسک فورس کے چیئرمین نہیں رہے۔شوگر انکوائری کمیشن کم و بیش 10 ملوں کے حوالے سے سرگرم عمل ہے جن میں سے 3 میری ہیں۔ ہم طلب کردہ تمام ریکارڈ شیئر کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے سرور تک مکمل رسائی دی۔ کچھ بھی ضبط نہیں کیا گیا کیونکہ ہم تمام طلب کردہ مواد فراہم کر رہے ہیں۔

ایف آئی اے حکام نے چینی بحران کی انکوائری کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے اور مختلف سیاسی رہنمائوں کی12 شوگر ملز کا ریکارڈ حاصل کر کے فرانزک آڈٹ شروع کر دیا ہے۔فرانزک آڈٹ سال 2017سے 2019تک کا کیا جائیگا کہ شوگر ملوں نے کیا کمایا، کتنا ٹیکس جمع کرایا ،گزشتہ تین سالوں میں کتنی آمدن ہوئی ،کاشتکاروں کو گنے کی کتنی رقم ادا گی۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے حکام نے اس حوالے سے شوگر ملوں کے چیف فنانشل آفیسر کے بیان بھی ریکارڈ کر لئے اور مزید افراد کو بیان ریکارڈ کرانے کیلئے بلایا گیا۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق شوگر ملز مالکان کے بعض فنانشل آفیسر ایف آئی اے کے سوالوں کے جواب نہیں دے سکے اور انہیں مکمل ریکارڈ بھی فراہم نہیں کیا ۔جس پر ایف آئی اے کی ٹیموں نے از خود دفاتر سے ریکارڈ لے لیا اور انکا فرانزک آڈٹ شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے حکام نے خسرو بختیار، جہانگیر ترین، میاں برادران سمیت دیگر سیاسی رہنمائوں کی شوگر ملز کا پہلے فرانزک آڈٹ شروع کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ تحقیقاتی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے آٹا بحران پیدا ہوا۔ اسی طرح چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا۔ایف آئی اے کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا۔ دوسرا بڑا فائدہ خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد ق لیگ کے چودھری مونس الًہی نے اٹھایا۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حکومت پنجاب نے کس کے دباؤ میں شوگر ملز کو سبسڈی اور اقتصادی رابط کمیٹی نے برآمد کی اجازت دی۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کہتے ہیں کہ انہیں عمران خان پر پورا یقین ہے وہ پورا انصاف کریں گے۔ البتہ جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ تین ارب روپے میں سے اڑھائی ارب کی سبسڈی ن لیگ کے دور میں دی گئی۔ انہیں جس وقت اڑھائی ارب کی سبسڈی ملی۔ اس وقت اپوزیشن میں تھا۔ میری کمپنیوں نے سوا بارہ فیصد چینی برآمد کی۔یہ چینی پہلے آئیں اور پہلے پائیں کی بنیاد پر برآمد کی گئی۔ واضح رہے اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی پی ٹی آئی رہنما اور وفاقی وزیر پر چینی بحران کا الزام عائد کر چکی ہیں۔

جبکہ آٹا چینی بحران کی کمیشن رپورٹ کے اثرات،گندم خریداری کیلئے پنجاب حکومت نے سخت فیصلے کر لیے ۔نجی افراد،فیڈ ملوں اور غیر رجسٹری سیف کمپنیوں کی گندم خریدنے ہر پابندی لگادی.:چیف سیکرٹری پنجاب اعظم سلیمان خان کی زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئیے۔یہ پالیسی طے ہوئی ہے کہ گندم خریداری کی صرف لائسنس یافتہ افراد کو اجازت ہوگی۔ذاتی استعمال کے علاوہ ٹرانسپورٹیشن یا سٹوریج پر بھی پابندی ہوگی ۔پنجاب میں گندم خریداری مہم کا ہدف45لاکھ میٹرک ٹن مقرر کر دیا گیا ۔گندم کی ذخیرہ اندوزی پر بھی سخت کارروائی ہوگی ،بار دانہ کی تقسیم میں پہلے آئیے پہلے پائیے کی پالیسی پر عمل کا حکم دیا گیا ہے ۔باردانہ کی حد 200سے1000بوری تک مقرر کردی گئی ہے۔واضح رہے جنوری اور فروری میں ملک میں گندم بحران کی وجہ سے آٹا 70 روپے کلو فروخت ہوا تھا۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس بحران پر قابو پانے کیلئے تین لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی تجویز دی تھی۔ تب ماہرین نے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ درآمدی گندم ملک میں آتے آتے مقامی فصل تیار ہو جائے گی اور پھر گندم کی زیادتی سے ملک میں ایک نیا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔وزیراعظم کی ہدایت پر آٹے کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے گندم ذخیرہ کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی۔ اس حوالے سے وزیراعظم نے بحران کی وجوہات کا پتہ لگانے اور تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی اور وزراء کو بحران کی وجوہات جانے کا ٹاسک سونپا تھا۔ وزیراعظم کو آٹا بحران کی رپورٹ بھجوا دی گئی جس میں افسران اور بعض سیاسی شخصیات ملوث ہیں۔

اب یہ دیکھنا ہے فرانزنک رپورٹ جو توقع کی جاہی ہے کہ رواں ماہ کی 25تاریخ تک آ جائے گی، عمران خان اس پر کس طرح کی کارروائی کرتے ہیں، کیا یہ کارروائی ہمارے ملک میں سیاست کا رخ موڑ دے گی اور کیا عمران خان اپنے اقدامات سے عوام کو مطمئن کر پاتے ہیں یا نہیں۔ یہ وقت ہی بتائے گا جو اب زیادہ دور نہیں ہے۔

٭٭٭


ای پیپر