مساجد کو کبھی کسی نے لاک ڈائون نہیں کیا: فردوس عاشق اعوان
15 اپریل 2020 (18:10) 2020-04-15

اسلام آباد :وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ میٹھا ، میٹھا ہپ اور کڑوا، کڑوا تھو یہ وہ پالیسی ہے جو سندھ کی قیادت نے پہلے دن سے اختیار کی ہوئی ہے۔ یہ جو وزیر اعظم پاکستان کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتے ہیں۔

ایک انٹرویو میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ تمام صوبوں کے وزراء اعلیٰ کی مشاورت کے بعد وزیر اعظم نے لاک ڈائون میں توسیع کے حوالہ سے اعلان کیا اس کے بعد سندھ حکومت کا کوئی ردعمل آنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ میں سمجھتی ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان نے سندھ کی قیادت ، ایگزیکٹو یا وزیر اعلیٰ کو ان کی سپیس دے دی ہے اگر وہ نہیں کرنا چاہتے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے صوبے کے لئے مفید نہیں ہے یا وہاں کے عوام کے لئے کوئی بہتر چیز نہیں ہے تو پھر 18ویں ترمیم کے بعد صوبے انتظامی طور پر آزاد ہیں توو ہ اپنے صوبے پر اس کو نہ لاگو کریں۔پنجاب ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان نے کہا ہے ہم دو محاذوں پر جنگ لڑ ررہے ہیں ،ایک محاذ کوروناکا ہے اور اس کو روکنا ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں اور عوام کو اس وبا کے منفی اثرات سے بچانا ہے اور دوسرا محاذ غربت، افلاس اور بیروزگاری کا ہے، اس محاذ کا مقابلہ بھی کرنا ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سندھ حکومت سے صرف ایک سوال کر لیں کہ جب انہوں نے لاک ڈائون کیا تھا اور اعلان کیا تھا کیا اس وقت انہوں نے وزیر اعظم سے پوچھ کر کیا تھا، اس وقت انہوں نے خود فیصلہ کیا اور گذشتہ روز وزیر اعظم نے ان کو اختیار دیا ہے کہ اگر آپ نے لاک ڈائون کرتے ہوئے ہماری رائے نہیں لی تھی تو آج بھی آپ آزاد ہیں اور اپنی مرضی سے چاہتے ہیں کہ اس کو جاری رکھنا ہے تو جاری رکھیں اور ا گر اس کو مزید سختی سے نافذکرنا چاہتے ہیں تو کریں اور اگر آپ ریلیف دینا چاہتے ہیں تو ریلیف دے دیں لیکن جو باقی صوبے ہیں ان کو تو یرغمال نہ بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی ، اسٹیبلشمنٹ اور صوبوں کی انتظامیہ کے لئے سب سے آسان ترین کام ہے کہ وہ لاک ڈائون کرکے لوگوں کو گھروں میں بند کردیں تاکہ ان کو کوئی کام نہ کرنا پڑے۔ مساجد کو کبھی بھی کسی نے لاک ڈائون نہیں کیا، مساجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے گھر میں کوئی تالا نہیں لگا سکتا۔ مساجد کے حوالہ سے کچھ ایس او پیز اور ترجیحات علماء کی مشاورت سے طے کی گئی تھیں، ہم علماء کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔


ای پیپر