حکمت وتدبر کا امتحان
15 اپریل 2020 2020-04-15

موجودہ حکومت کو اقتدارمیں آئے دوبرس بھی مکمل نہیں ہوئے مگر سیاسی پنڈت معینہ مدت کے حوالے سے تشویش ظاہر کرنے لگے ہیں ایسی صورت میں جب مخالف جماعتوں کا تحریک چلانے یا تبدیلی لانے کے کسی نُکتے پر اتفاق نہیں بلکہ حکومت مخالف سرگرمیوں کا عملاََخاتمہ ہو چکا ہے کسی قسم کی تحریک کا اِس وجہ سے بھی امکان نہیں کیونکہ کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے حکومت سماجی دوری اختیارکرنے اورہجوم کو اکٹھا ہونے سے روکنے کے لیے لاک ڈائون کا سہارالے رہی ہے اِس لیے کسی جماعت کے لیے بھی تحریک چلانا ممکن نہیں یہ صورتحال حکومت کو خطرات سے بے نیاز کرنے کے لیے کافی ہے مگر بظاہر جو حالات اِتنے پُرسکون نظر آرہے ہیںصورتحال یکسر اُلٹ ہے اورسیاسی ارتعاش صاف محسوس ہونے لگا ہے ایسا لگتا ہے دوبرس میں ہی عوام اور اِداروں کی خوش فہمیاں دور گئی ہیں تبھی عوام میںبے زاری جنم لینے لگی ہے جس کا سیاستدانوں کو ادراک ہو گیا ہے اوروہ نئی صف بندی کے لیے میل ملاقاتیں بڑھانے لگے ہیں جو موجودہ سیٹ اَپ کے لیے کسی حوالے سے بھی سود مند نہیں۔

وزیرِ اعظم کھلاڑی رہے ہیں اُنھیں حریف کی چالوں کا توڑ کرنے کا بخوبی تجربہ ہے مگر یہ پہلو نظر انداز کرنامناسب نہیں کہ کھیل کے میدان میں چھکے وچوکے لگانے سے زیادہ مشکل کام سیاست میںسب کو ساتھ لیکر چلنا ہے کھلاڑی تو اپنی قوتِ بازوسے کام لیتا ہے مگر رہنمائی جسمانی کے ساتھ حکمت وتدبر اور ذہنی استعداد کا امتحان ہوتی ہے دیانتداروں سے یہ سوال دریافت کیا جاسکتا ہے جب ساری اپوزیشن بکھری پڑی ہے لوگ عملی طورپر گھروں میں نظر بند ہیں تو وزیرِ اعظم کیوں خود کو خطرات میں گھرامحسوس کررہے ہیں؟ کھیل کے میدان میں طاقت اور سیاست میں حکمت وتدبر کاامتحان ہوتا ہے سیاست میںحکمت وتدبر کے فقدان اور طاقت کے بے جا استعمال سے فائدہ نہیں ہو سکتابظاہرتو طاقت اور مناقشہ کی پالیسی رائج لگتی ہے کچھ کرنے اور قابلیت ظاہر کرنے کی بجائے الزامات کی بوچھاڑسے کام لیا جار ہاہے الزامات میں آتی شدت سے سیاسی نظام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہے جس پر قابو پانے کے لیے سیاسی قیادت میں افہام وتفہیم ناگزیر ہے حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن تو دستِ تعاون بڑھانے پر آمادہ ہے مگر حکومت تامل کا شکار ہے کیا ہی بہتر ہوتا سیاست کو ایک طرف رکھ کر سب اتفاقِ رائے سے کوئی ایسی مربوط حکمت ِ عملی پر اتفاق کر لیتے جس سے کرونا سے لاحق خطرات ومُضمرات کم ہوتے اگر ایسا ہو تا تو لوگوں میں سیاسی اشرافیہ کی قدرومنزلت میں اضافہ ہوتا وائے افسوس کہ ایسا نہیں ہوا مسائل حل کرنے پر توجہ دینے کی بجائے کھینچاتانی کی فضا ہے جس سے سیاستدانوں کا امیج مجروح ہورہا ہے افہام وتفہیم کی سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے مگرخود ساختہ خطرات میں گھراشخص کیسے حواس قابو میں رکھ سکتا ہے خطرے سے محفوظ رہنے کے لیے ہر حد تک چلے جانا انسانی جبلت میں شامل ہے مگر جب خطرہ ہی نہیں تو کیوں حکومتی

صفوں میں سراسمیگی وہراس کی فضاہے؟۔

حکومتوں کی تشکیل کے دوران مسلم لیگ ق نے اپنا وزن تحریکِ انصاف کے پلڑے میں ڈال کر پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت سازی کا سپنا چکنا چور کیا چوہدری پرویز الٰہی نے بطور سپیکر اپنی فہم وفراست سے اسمبلی کا ماحول خراب نہیں ہونے دیا مگر وفاقی حکومت پھربھی ناخوش ہے حالانکہ حمزہ شہباز کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے سپیکر نے حکمران جماعت کی منشا پیشِ نظررکھی مگر حکومت پھر بھی پریشان اور مشکوک ہے جبکہ سپیکر کی واضح جانبداری کے باوجود نواز لیگ مطمئن ہے ایسا کیوں ہے ؟واقفانِ حال تو اِ س کا جواب یہ دیتے ہیںکہ مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کے دوران جے یو آئی نے کسی حکومتی وفد سے تو ملنے اور مذاکرات سے ہی انکار کر دیا مگر چوہدری خاندان سے سے بات چیت پر کیوں راضی ہوگئی؟حکمران اِ س سوال کا جواب تلاش کرنے کی جستجو میں ہیں حالانکہ یہ کوئی فیثہ غورث کا سوال نہیں جو آسانی سے سمجھ نہ آسکے چوہدری خاندان سیاست میں نو آموز نہیں کئی دہائیوں سے ملک میں فعال سیاسی کردار ادا کر رہا ہے انھوں نے سرد وگرم حالات کا قریب سے مشاہدہ کررکھا ہے ہر جماعت کی قیادت کے ساتھ احترام پر مبنی تعلقات استوار کر رکھے ہیں اسی بنا پر کسی سے بات چیت میں اُنھیں کوئی دشواری نہیں ہوتی مگر صبح سے لیکر شام تک حریفوں کو بدنام کرنے کی مُہم میں محولوگوں کو اِس بات کی سمجھ نہیں کہ کوڑھ مغزوں کوکوئی سر آنکھوں پر نہیںبٹھاسکتالیکن مولانا فضل الرحمٰن اور چوہدری خاندان کے تعلق کوحکمران دال میں کالا سمجھنے پر بضد ہیں ۔

رانا ثنا اللہ اورعلیم خان کے درمیان ہونے والی ملاقات کی خبروںسے ہی حکومت کے ہاتھ پائوں پھول گئے اور جھٹ پٹ وزارت دیکر راضی کرلیا ہے مگر علیم خان کو ڈگر پر لانے کے لیے سُرعت کا مظاہرہ کرنے والے اتحادیوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش میں ہیں ۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جہانگیرترین اور چوہدری خاندان میں فرق ہے عدالت سے تاحیات نااہل ہونے اور پھر صاحبزادے علی ترین کی انتخاب میںشکست کے باوجود اُن کے سیاسی وزن سے انکار ممکن نہیں مگرحقائق یہ ہیں کہ جہانگیرترین تحریکِ انصاف کا حصہ ہیں لیکن چوہدری اپنی جماعت کے سربراہ ہیں جہانگیرترین کو فیصلہ کرتے ہوئے جن دشواریوں کا سامنا ہو سکتا ہے چوہدریوں کو ایسی کوئی مجبوری نہیں وہ جب چاہیں حکومت کی حمایت سے دستکش ہو کر راہیں جُدا کر سکتے ہیں حالات سے مترشح ہے کہ اگر حکومت اپنے اتحادی چوہدریوں سے خوش نہیں تو چوہدری بھی ناروارویے پر شاکی ہیں شہباز شریف سے ملاقات کے بعد سعدرفیق کا اپنے بھائی کے ساتھ چوہدری پرویز الٰہی سے گھر جاکر ملنا بہت کچھ ظاہر کرتا ہے اور اِس خیال کو تقویت ملنے لگی ہے کہ دونوں لیگوں میں نہ صرف برف پگھل گئی ہے بلکہ اچھے تعلقات بن رہے ہیں اِس کی وجوہات کیا ہیں ؟حکومت کی ناقص کارکردگی ، ضرورت سے زیادہ اعتماد یا ایسے خطرے کا احساس جس کا کوئی وجود ہی نہیں۔

سازگار حالات سے فائدہ اُٹھاکر عمران خان عوام میں اپنی ساکھ بہتر بنا سکتے ہیں مگراِس کے لیے اُنھیں تحریکِ انصاف کا چیئرمین بننے کی بجائے ملک کا وزیرِ اعظم بننا ہوگا کچھ ڈلیور کیے بغیر ساکھ بہتر نہیں بنائی جاسکتی ہے کرونا وائرس سے جمود کا شکار سیاسی سرگرمیوں میں اچانک تیزی میں کئی پیغام پنہاں ہیں حریفوں کی باہمی ملاقاتیں اور میل ملاپ مگر حکمرانوں کا خوابی کیفیت سے باہر نہ نکلنا سیاسی نظام کو خطرے میں ڈالنے کا موجب ہو سکتا ہے خطرے کو کم کرنا اور نظام بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت خطرات کم کرنے کی متمنی ہے اور اُس میں اتنی استعداد ہے کہ سب کو ساتھ لیکر چل سکے اگر وہ اتحادیوں کو بھی ساتھ لیکر چلنے میں ناکام اوراپوزیشن کو بدنام کرنے کی مُہم سے پیچھے نہیں ہٹتی تومت بھولے کہ نظام تلپٹ ہونے کا سب سے زیادہ نقصان اُسے ہی ہوگا کیونکہ اپوزیشن کے پاس کھونے کو کچھ نہیں نئی سیاسی صف بندی کے باوجود اقتدار بچانا اور سیاسی نفع کشید کرنا وزیرِ اعظم کی صلاحیتوں کا امتحان ہے مستقبل قریب میں اندازہ ہوجائے گا کہ حکمت وتدبر نام کی کوئی صلاحیت اُن میں ہے بھی یا نہیں کیونکہ اپوزیشن کا کام نہیں کہ ناموافق حالات کو حکومت کے موافق بنانے کے لیے اپنا کندھا پیش کرے ناکارہ وزیروں و مشیروں کی فوج کا اعتراف عدلیہ بھی کرنے لگی ہے کیا وزیراعظم بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے کشتی کو ڈوبتا دیکھنے پر اکتفاگے؟ ۔


ای پیپر