جو آگے پیچھے دیکھے اُس کی شامت آئی جے
15 اپریل 2020 2020-04-15

ہمارے ہاں سیاست کے روشن ستارے بنانے والی ریسرچ کمیٹی کے مفکرین کی تین خصوصیات بہت اہم ہیں۔ پہلی یہ کہ بے ہنگم مجمع میں سے ایسے فرد کو پہچان لیتے ہیں جو اپنی خاص صلاحیتوں کی بنیاد پر مفکرین کے مفاد کی مستقبل کی سیاست کا سٹیئرنگ سنبھال سکتا ہے۔ دوسری یہ کہ کمیٹی کے مفکرین جس فرد کا انتخاب کرتے ہیں اُسے یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ اس جیسی تاریخ ساز شخصیت نہ پہلے کبھی پیدا ہوئی نہ آئندہ پیدا ہونے کا امکان ہے اور یہ کہ گھاس پھوس جیسے عوام کی خوش قسمتی کہ وہ بربادی کے ان لمحوں میں قوم کا لیڈر بن کر سامنے آیا۔ اِن مفکرین کی تیسری ادا بڑی دلفریب ہے۔ وہ یہ کہ اپنے محبوب کے ساتھ چلتے چلتے ایک دم اکتا جاتے ہیں یا یوں کہیے کہ عاشقی کا بوجھ زیادہ دیر اٹھائے رکھنے کے عادی نہیں ہوتے۔ یعنی عمربھر ساتھ نبھانے کی قسم اِن مفکرین کی ڈکشنری میں نہیں ہوتی۔ دوسری طرف جو درویش چپ چاپ سیاست کی آنی جانی دیکھتے رہتے ہیں وہ مندرجہ بالا تینوں اعمال کے نتیجے میں مستقبل میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا پہلے سے پتا دینے لگتے ہیں۔ انہی سیاسی درویشوں کا اندازہ ہے کہ عمران خان کے حوالے سے وہ مفکرین اپنے پہلے دو عمل بہت کم عرصے میں مکمل کرچکے ہیں اور اب تیسرے اختتامی عمل کے دائرے میں داخل ہوگئے ہیں۔ عمران خان کے سلسلے میں ان مفکرین نے پہلے دو عمل بڑی تیزی سے پار کیے۔ اب تیسرا عمل مکمل ہونے کا سب کو انتظار ہے۔ تیسرا عمل مکمل ہونے میں تاخیر کا سبب امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان فروری 2020ء میں ہونے والا معاہدہ ہے جس کے تحت تقریباً 14ماہ کے اندر غیرملکی افواج افغانستان سے واپس چلی جائیں گی۔ اِن 14ماہ کے دوران امریکہ پاکستان میں حکومتی تبدیلی کے حق میں نہیں ہے لیکن مفکرین کی اپنے معشوق کے ساتھ قدم بقدم چلنے سے اکتاہٹ کا اظہار بھی کھل کر ہونا شروع ہوگیا ہے۔ جہانگیر ترین بہترین تھے یا کم ترین ہیں یہ الگ بات لیکن یہ کون نہیں جانتا کہ وہ کس کے قریب ترین ہیں۔ ہماری شوگر ملز کے مالکان کا حدود اربعہ پتا کریں تو حیرت انگیز انکشاف ہوتا ہے کہ ملک کی تقریباً تمام شوگر ملیں بڑے سیاسی خاندانوں کی ملکیت ہیں۔ یعنی شوگر ملوں کے مالکان میں ایسے مالکان نہ ہونے کے برابر ہیں جو صرف کاروباری ہوںاور ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہ ہو۔ بجلی گھروں کے 1994ء میں ہونے والے آئی پی پیز معاہدوں کی بات کریں تو اُن دنوں کے اخبارات گواہ ہیں کہ اُس وقت بینظیر بھٹو کی حکومت جب یہ مہنگے معاہدے کررہی تھی تو بہت مخالفت ہورہی تھی۔ یہاں تک کہ پیپلز پارٹی

کے اندر بھی ان معاہدوں کی مزاحمت موجود تھی لیکن اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے بینظیر بھٹو کو انٹرنیشنل دبائو کے آگے چپ سادھنی پڑی اور معاہدے ہوگئے۔ نواز شریف جب دوبارہ وزیراعظم بنے تو انہوں نے ان معاہدوں کو ختم کرنے کی ہرممکن کوشش کی۔ یہاں تک کہ آئی پی پیز کمپنی مالکان کو حسب معاہدہ ایک خطیر لم سم رقم دے کر معاہدوں سے عوام کی جان چھڑانے کی کاروائی بھی شروع کی گئی لیکن سونے کے انڈے دینے والی مرغی کو ایک دفعہ ہی ذبح ہوتے دیکھ کر آئی پی پیز کمپنیوں میں الارم کی گھنٹی بج گئی اور نواز شریف کو اس کی سزا بھگتنا پڑی۔ چینی اور گندم سبسڈی سکینڈل ہویا آئی پی پیز سے پاور کنٹریکٹ کی انکوائری رپورٹیں ہوں ان دونوں میں وہ حلقے موجود ہیں جو پاکستان کی معیشت اور روزمرہ زندگی پر 80فیصد تک اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ غلط کاموں کو نہ روکا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک یہ حلقے آپ کے ساتھ ہوتے ہیں تو اُس وقت تک اچھے کیونکر ہوتے ہیں؟ یہاں یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ ایسی رپورٹیں جو حکومت کو مشکل میں ڈال دیں یعنی نہ تو حکومت انہیں نگل سکے اور نہ ہی انہیں تھوک سکے، کس کے اشارے پر سامنے آتی ہیں؟ اور حکومت کے جاتے ہی یہ رپورٹیں دب کیوں جاتی ہیں؟ عدلیہ کی طرف سے مشیران کی کارکردگی اور کابینہ کی فوج ظفر موج پر آبزرویشن بھی عمران خان کے استحکام کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اس کے علاوہ شہباز شریف کا بغیر کسی اہم وجہ کے ملک واپس آجانا، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی پرویز الہٰی سے تقریباً دو دہائیوں بعد ملاقات ہونا وغیرہ کو بیک گرائونڈ کی ہلکی پھلکی موسیقی کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔ کٹیا میں بیٹھے سیاسی درویش کہتے ہیں کہ مفکرین اپنے تیسرے عمل کو مکمل کرنا چاہتے ہیں لیکن افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاء کا عرصہ رکاوٹ ہے۔ ہوسکتا ہے سیاست کے روشن ستارے بنانے والی ریسرچ کمیٹی کے مفکرین اس کا بھی کوئی حل نکال لیں اور پرامن حکومتی تبدیلی افغانستان سے غیرملکی افواج کے پرامن انخلاء پر اثرانداز نہ ہو۔ جب کمپیوٹر اور موبائل کی ناقابل علاج وباء نہیں تھی تو اُس وقت کے نوجوان لڑکے لڑکیاں اپنے اپنے طور پر چاندنی راتوں میں ایک کھیل کھیلا کرتے تھے جسے ’’کوکلا چھپاتی‘‘ کہا جاتا۔ کھیل میں حصہ لینے والے افراد ایک بڑے دائرے کی صورت میں زمین پر بیٹھ جاتے۔ ان میں سے ایک فرد کپڑے کا موٹا رسا بنا لیتا۔ زمین پر بیٹھے سب لوگ آنکھیں بند کرکے سرگھٹنوں میں دبا لیتے۔ کپڑے کا موٹا رسا پکڑے ہوئے وہ فرد زمین پر بیٹھے افراد کے دائرے کے اِردگرد دوڑتا اور بلند آواز میں کہتا جاتا ’’ جو آگے پیچھے دیکھے اس کی شامت آئی جے‘‘۔ رسے کو ہاتھ میں لیے بھاگنے والا فرد دائرے کے گرد بھاگتے بھاگتے اچانک چپ چاپ کسی کے پیچھے وہ رسا رکھ دیتا اور خود اسی رفتار سے بھاگتا جاتا۔ اگر اس فرد کو جس کے پیچھے رسا رکھا جاتا پتا چل جاتا تو وہ ایک دم اٹھ کے رسا اٹھا لیتا اور رسا رکھنے والے کے پیچھے بھاگنا شروع کردیتا تاکہ اس کی رسے سے پٹائی کرسکے۔ اگر رسا رکھنے والا فرد تیزی سے بھاگتے ہوئے اٹھنے والے کی جگہ پر بیٹھ جاتا تو مار سے بچ جاتا۔ اگر جس کے پیچھے رسا رکھا جاتا اُسے رسا رکھنے کی خبر نہ ہوتی تو بھاگنے والا دائرے کے گرد چکر مکمل کرکے دوبارہ رسا اٹھا لیتا اور بے خبر بیٹھے اس فرد کی پٹائی شروع کردیتا۔ اس کے علاوہ اگر زمین پر بیٹھا کوئی فرد آنکھ بچاکر اِدھر اُدھر رسا تھامے بھاگنے والے فرد کو دیکھتا تو اُس موٹے رسے سے اس کی پٹائی شروع ہو جاتی اور وہ سزا یافتہ قرار پاتا۔ ہماری سیاست کے دائرے میں بھی آنکھ بچاکر اِدھر اُدھر دیکھنا منع ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایسا کرے تو وہ سزا یافتہ قرار پاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان نے بھی آنکھ بچاکر اِدھر اُدھر دیکھنے کی کوشش کی ہے؟


ای پیپر