ہم ایسا کریں گے تو قوم بنیں گے
15 اپریل 2020 2020-04-15

حکومت اور اپوزیشن دونوں کیا کر رہے ہیں یہ ایک الگ موضوع ہے۔ ہم چونکہ سب عام لوگ ہیں اور دنیا بھی عام آدمی ہی کے نام سے ہمیں جانتی ہے تو کیوں نہ حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے ان لوگوں کو کوسنا بند کردیں جو پچھلے کئی دہائیوں سے صرف خون چوسنے میں لگے ہوئے ہیں اور منہ کھولتے ہی خدمت کا دعوٰی ایسے کرتے ہیں جیسے ان کا اوڑھنا بچھونا ہی خدمت ہو۔ مجھے ان سے کم از کم آج کوئی سروکار نہیں اور وجہ جس کی وہ بوڑھی عورت ہے جو گاؤں کی ایک گلی میں شناختی کارڈ ہاتھ میں لئے تیز تیز چل رہی تھیں اور گلی میں گزرنے والے دوسرے لوگ اگر احتیاط نہ کرتے تو ااس کے ساتھ ٹکر لازمی تھی۔

خوش قسمتی سے یا بدقسمتی سے میرا بھی گزر اس وقت اسی گلی سے ہورہا تھا جس سے وہ کچھ ہی دیر بعد میرے سامنے آنے والی تھیں۔ دائیں ہاتھ کے دو انگلیوں میں قومی شناختی کارڈ اور بدحواسی اتنی شدید کہ کندھوں پر لٹکتے دوپٹے کا جو سر سے آدھا سرک چکا تھا بھی اس کو احساس نہ تھا۔ مجھ سے جو پہلا سوال پوچھا اس سے اندازہ ہوا کہ راستے میں آنے والے تمام لوگوں سے وہ یہی سوال پوچھ چکی ہے لیکن شائد کسی کے بھی جواب سے اطمینان نہ ملا تھا۔ پوچھنے لگی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں میرا نام نہیں آرہا اور اب جو نیا پروگرام اس حکومت کی طرف سے آیا ہے اس میں بھی مجھے یہی کہہ کر شامل نہیں کیا گیا کہ آپ کا نام شامل ہے ہی نہیں۔ مجھے بتاؤ میں کیا کروں۔ گھر میں فاقوں کے ڈھیرے شروع ہوچکے ہیں۔ بڑے بیٹے کی دکان بند پڑی ہے۔ ایسے میں جس سے بھی پوچھتی ہوں کہ ہمارا کیا ہوگا تو ہر کوئی کہتا ہے ماں جی حکومت تو چارمہینے کے لئے مستحق لوگوں کو بارہ ہزار روپے دے رہی ہے۔ میں تودوڑتے دوڑتے تھک چکی ہوں اب کیا کروں تم ہی بتاؤ۔ کرونا کا ڈر اور لوگوں کی طرح مجھ پر بھی ایک عرصے سے حاوی ہوچکا ہے ایسے میں میں گلی کے عین وسط میں اس بوڑھی عورت کو کیا کہتا۔ ماں جی اللہ خیر کرے گا بس تھوڑا اور صبر یہی میرے الفاظ تھے جن سے دلاسے والا کام میں نے چلانا شروع کیا لیکن سامنے مجھے صاف نظر آرہا تھا کہ دو انگلیوں کے درمیان موجود قومی شناختی کارڈ کا دم گویا گھٹ رہا ہے اور وجہ جس کی یہ تھی کہ لمحہ بہ لمحہ اس پر اس عورت کی گرفت مظبوط بنتی جارہی تھی۔ آپ یقین کیجیے اس کے چہرے پر غصہ عیاں تھا اور مجھے پہلی بار براہ راست احساس ہورہا تھا واقعی بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے۔

اس کا غضب سے بھرپور رد عمل ، میلے کچیلے کپڑے ، بکھرے بال اور ویران چہرہ مجھے اندیشوں میں مبتلا کررہا تھا۔ میں دلاسہ دینے کا سوچ رہا تھا لیکن میرا دلاسہ کام کیسے کرتا باتوں سے خالی پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔ مجھے خاموش پاکر وہ اور بھی سیخ پا ہوئی اور بددعاؤں پر اتر آئی۔ اللہ حکمرانوں پر کرونا کا عذاب مسلط کردیں۔ میرے گھر میں سب بھوکے ہیں راشن کب کا ختم ہوچکا ہے۔ میں اور میرا بیٹا دن بھر انہی چکروں میں گھومتے رہتے ہیں کہ کہیں سے ہمارا نام شامل کیا جائے لیکن نظر کرم سے ہم کوسوں دور ہیں۔ تم بھی اوروں کی طرح بس اللہ خیر کرے گا تھوڑا صبر ہی کہتے رہو۔

وہ مجھے کافی دیر تک گھورتی رہی اور میری طرف سے کوئی بھی تسلی نہ پاکر مایوسی کے عالم میں جب چلنے لگی تو اس کا سارا غصہ آنسوؤں میں تبدیل ہوچکا تھا۔ جاتے جاتے بس یہی کہتی رہی۔ میرا شناختی کارڈ ختم ہوچکا ہے اب بس بھوک اور پیاس ہی ہمارا مقدر ہے۔

اس ملاقات کے بعد مجھے بھی کچھ عجیب سا لگا چار مہینوں کا بارہ ہزار اور وہ بھی قسمت سے۔ قسمت اچھی ہو تو مل جاتے ہیں اور بری ہو تو پھر اللہ ہی مالک۔ ملک میں قومی اسمبلی ، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں جو خاص لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر آج کل نظروں سے اوجھل بھی ہیں ان کو مہینے میں کیا تین ہزار کی تنخواہ ملتی ہے۔ قومی ، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے نمائندوں کی تعداد کل ملا کر ایک ہزار سے زیادہ ہے۔ احتیاط کے ساتھ اگر غور و فکر کی جائے تو مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی تین ہزار میں گزارا کرسکے گا۔ ایک مہینے کا ان میں سے ہر ایک کو لاکھوں ملتے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مصیبت کے ان دنوں میں ایک دو مہینوں کی تنخواہ اور دوسری مراعات یہ نہ لیتے لیکن چونکہ اس کالم میں ہم ان کے ذکر کو طول نہیں دینا چاہتے اس لئے ہم عام لوگوں کی بات کرتے

ہیں جو آسانی سے بات کو سمجھ لیتے ہیں۔

ہم کیوں نہ کرونا کے اس عالمی کرائسز میں یہ عہد کرلیں کہ جب تک یہ ختم نہیں ہوگا ہم میں سے ہر ایک خود حکومت بنے گا اور وہ ایسے کہ جس کی جتنی رعیت ہے وہ اسی میں خود کو ذمہ دار ٹہرائیں۔ ہم اس عہد کے ساتھ ایک بات یہ بھی شامل کرلیں کہ اس کرائسز کے خاتمے تک ہم حکومت کو نہیں کوسیں گے۔ ہم انفرادی سطح پر قطرے قطرے سے سمندر بنائیں گے۔ ہمارے لئے کتنا آسان ہے اگر ہم میں سے ہر ایک اپنے ہمسائے کا خیال رکھنا شروع کردیں اور کھانے پینے کے اوقات میں ان کا دروازہ کھٹکھٹائے۔ ایسا اگر پورے ملک میں شروع ہوا تو یقین کیجیئے کوئی بھی بھوکا نہیں سوئے گا۔ ہم مصیبت کے ان دنوں میں ضرورت مندوں کو ہر چیز میں حصہ دار بناسکتے ہیں اگر ہم نے ہمت دکھائی۔

ہمارے پاس کھانے کے علاوہ اگر زیادہ کپڑے اور جوتے ہیں تو بے شک ان میں بھی ہم مستحق لوگوں کو حصہ دار بنائیں۔ جن کے کاروبار بند پڑے ہیں ان کی طاقت بنے تو افراتفری ہوگی اور نہ حالات کی ستم ظریفی کا رونا۔

آؤ کہ آج عہد کرلیں کہ ہم خود حکومت بنیں گے اور خود ہی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ جب تک یہ کرائسز ختم نہیں ہوتا ہم اس حوالے سے حکومت سے کوئی گلہ نہیں کریں گے۔ ہم ایسا کریں گے تو قوم بنیں گے ورنہ تاریخ اسی طرح خود کو دہراتی رہے گی اور ہم گلہ کرتے رہیں گے۔


ای پیپر