لمن الملک الیوم
15 اپریل 2020 2020-04-15

اللہ اللہ… یااللہ ! بے شک تیرے ہی ہاتھ میں بادشاہت ہے، کل بھی تیری بادشاہت تھی، آج بھی تیری ہی بادشاہت ہے اور آنے والے کل میں بھی تو ہی اس ملک ِ وجود کا بلاشرکت غیرے مالک ہوگا، بے شک تیرے اِذن کے بغیر کوئی شفاعت نہیں کرتا، تیرے محرم تیری مشیت کے بھی محرم ہیں، وہ تیرے اِذن اور منشا کے بغیر کسی کی سفا رش نہ کریں گے۔ آج سفارش کرنے والوں نے بھی اپنے کواڑ بند کر رکھے ہیں۔

لمن الملک الیوم ، للہ الواحد القہار… مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ جب یہ آیت پڑھتے تو اُن کی آواز کے زیر و بم سے محفل میں ایک عجب جلال کی کیفیت طاری ہو جاتی، اُن کا حال تھا ، ہمارا قال… لیکن بسا اوقات سننے والوں پر بھی حال طاری ہو جاتا ہے۔

جب سے کرونا ئی وبا نے کرہ ٔارضی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے‘ جا بجا قرآنی آیات کانوں میں گونج رہی ہیں، معلوم نہیں کیوں‘ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے یہ آیات پہلی بار سن رہے ہیں۔ لمن لملک الیوم … اس نے اپنی فوج کے ادنی سپاہیوں میں سے ایک لشکر بھیجا تو دنیا کی سپر پاورز کے لشکر بے دست و پا ہو گئے۔ بے شک… وللہ جنود السمٰوٰتِ والارض… اور زمین و آسمان میں اللہ ہی کے لیے ہیں سب لشکر … وہ جس لشکر کو چاہے ‘ استعمال کر لے ‘ اور اپنی مشیت کی تکمیل کرے۔ ہلاکو خان بغداد کو تاارج کرنے کے بعدجب جامع مسجد کی سیٹرھیاں چڑھ رہا تھا تو اُس کے منہ سے ایک تاریخی جملہ نکلا، تاریخ کے صفحات نے محفوظ کیا اور عبرت کی آنکھوں سے تاریخ پڑھنے والے اُولی الابصار نے اسے اپنے خانۂ ہوش و گوش میں اُتار لیا، اس نے کہا تھا‘ مسلمانو! تم جس خدا کو پکارتے ہو‘ میں اُس کا قہر ہوں۔

نیویارک کے ہسپتال میں کام کرنے والے میرے ایک کلاس فیلو ڈاکٹر نے اپنے کیمرے سے خفیہ طریقے سے وڈیو بنا کر بھیجی۔ چھ چھ فٹ کے تنو مندانسانوں کے لاشے پلاسٹک بیگوں میں ہسپتال کے کوریڈور میں اس طرح بکھرے پڑے تھے کہ… ایک قرآنی آیت یاد آ گئی ‘ جس میں ایک عذاب زدہ قوم کا یوں تذکرہ کیا گیا ہے کہ ان کے لاشے اس طرح پڑے ہوئے تھے جس طرح کھجور کے تنے کٹ کر گرے ہوتے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں‘ احساس ہے۔ اِحساس کی کوئی زبان نہیں ہوتی۔ کوئی زبان احساس کی ترجمانی نہیں کر سکتی۔ احساس تو ایک خود کلامی ہے۔

ایک اور آیت پر نظر پڑی ، فکر و نظر مبہوت ہو کر رہ گئی، سورۃ الفجر کی آیت … ولا یوثق وثاقہ احد… … اور نہ کوئی اس کے جکڑنے کی طرح کوئی جکڑ سکے گا۔ لوگ کہتے ہیں یہ روزِ قیامت سے متعلق کہا گیا ہے۔ موت بھی تو ایک قیامت ہے۔ مفہوم ِ حدیث ِ مبارکہ کے مطابق ‘جس پر موت آ گئی ‘اُس پر گویا قیامت قائم ہو گئی۔قیامت کبریٰ سے قبل اس روئے زمین پر کئی بار قیامتِ صغریٰ بیت چکی ہے۔ ایک اور آئت یاد آئی ‘جس میں ایک خوشحال قوم کا تذکرہ کیا گیا کہ اسے خوب نعمتوں

سے نوازا گیا، لیکن انہوں نے کفر کی روش اختیار کی اور کہا کہ ہمارے درمیان فاصلے بڑھا دیے جائیں ‘ سو اُن کے فاصلے بڑھا دیے گئے۔ آج کل سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ہُو کے عالم میں ایسے لگتا ہے جیسے بھرے پُرے شہر میں فاصلے اچانک بڑھ چکے ہیں۔

انسانی لمس …شفا، محبت اور ہمدردی کی اساس ہوا کرتا ہے۔ بنی نوعِ انسان پر یہ کیا قیامت گزر گئی کہ انسان اپنے ہم جنس کے لمس سے دُور کر دیا گیا۔ شاید ہم نے مادیت کے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی تھی‘ جس کی پاداش میں ہم پر بھی سامری سا عذاب اتارا گیا… اَن تقول لا مساس… کوئی اِسے نہ چھوئے ‘اور وہ کسی کو نہ چھو سکے۔

گزشتہ چار صدیوں سے انسان کو اِس کرہ ارض پر تھوڑا سا مادی تصرف کیا دے دیا گیا، یہ اپنی اوقات ہی بھول گیا، اپنا مخلوق ہونا اور اُس ذات کا خالق و مالک ہونا بھول گیا، یہ انکار کو بہادری اور اقرار کو بیوقوفی قرار دینے لگا، اس نے سائینس کو مذہب کے مقابلے میں کھڑا کر دیا… اور خود اپنے خالق کے رُوبرو ہونے کے بجائے دُوبدو ہونے لگاا۔ علم اور اختیار انسان کی اصل آزمائش تھے۔ انسان اس آزمائش میں پورا نہ اُتر سکا۔ مادی تصرفات حاصل ہوتے ہی فرعونیت کا مظاہرہ کر نے لگا، خلانوردی کا اِذن ملا تو فرعون کے نقش ِ فکر پر چلتے ہوئے کہنے لگا‘ مجھے خلا میں خدا کہیں نظر نہیں آیا، فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے یہی کہا تھا‘ میرے لیے بلند عمارت بناؤ کہ میں اس پر چڑھ کر ذرا دیکھوں کہ موسیٰؑ کا خدا کدھر ہے۔انسان عجب ہے … جس خدا کو اپنے اندر تلاش کرنا تھا ‘اسے باہر تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے، اگرباہر کی تلاش میں بھی اس کی کوشش میں عزم اور خلوص شاملِ حال ہوتا تو اس کا یہ حال نہ ہوتا، اسے اندر کا راستہ مل چکا ہوتا۔

سائینس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے انسان نے فطرت سے دُوری اِختیار کرنے کی صلاحیت کو ترقی سمجھ لیا تھا۔ فطرت سے بھاگا ہوا انسان اب دوبارہ فطرت کی طرف بھاگ رہا ہے۔ دورافتادہ گاؤں ‘ شہروں سے زیادہ محفوظ پائے گئے، ہمارے محلے میں کئی خاندا ن واپس گاؤں شفٹ ہو گئے ہیں، انہیں اب اپنی زمین کی گندم اور چاول کی قدر معلوم ہوئی۔عمودی طرز پربنائے اسکائی اسکریپر غیر محفوظ قرار پائے ، یہاں کئی ہزار انسان تھوڑی سے جگہ کو بہت زیادہ آلودہ کر رہے ہیں اور نتیجے میں وائرس کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ کھلے گھر، کھلے میدان اور کھیت کھلیان آج بھی انسان کیلئے پناہ گاہ ثابت ہو رہے ہیں۔ گھر سے نکلا ہوا انسان واپس اپنے گھر لوٹ رہا ہے۔ اپنے گھر کا راستہ نہیں بھولنا چاہیے۔ گھر ہی عافیت کدہ ہوتا ہے، اسے اپنے درشت رویوں سے آفت سے دوچار نہیں کرنا چاہیے۔

جو قومیں اس وقت گرفت میں ہیں‘ جن کی بابت ہم سمجھتے ہیں کہ مغضوب ہیں اور راہ گم گردہ ہیں… اب ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ ان سے فکری قرنطینہ بھی اختیار کیا جائے۔ غضب یافتہ قوموں کے طرزِ فکر و عمل سے فاصلہ اختیار کیا جائے۔ انہیں ترقی کا ایفل ٹاور نہ سمجھا جائے، اُن کی طرزِ آزادی کو مجسمۂ آزادی نہ بنایا جائے۔ احادیث میں وارد ہے‘ جس نے کسی برائی کو پسند کر لیا گویا اُس نے اُسے اختیار کر لیا۔ اگر ماضی میں ایسا کچھ طرزِ فکر و عمل ہماری زندگی کا حصہ رہا ہے تو اِس پر صدقِ دِل سے توبہ کی جائے، اپنی توبہ پر کاربند رہا جائے، بار بار کی توبہ شکنی ایمان شکن بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ مسلمان کیلئے خطرہ یہ نہیں کہ وہ مشرک اور کافر ہو جائے گا، بلکہ مسلمان کیلئے خطرہ یہ ہے کہ وہ منافق نہ ہو جائے۔منافقین کیلئے عذاب دہرا ہے۔ وہ "فی الدرک الاسفل" ہیں… عذاب کی گہری پاتال میں ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہمارے فکر و عمل میں فرق اتنا گہرا نہ ہوجائے کہ زندگی ختم ہوجائے اور یہ فرق ختم ہونے میں نہ آئے… ایسا نہ ہو کہ ہمارا جسم مسلمانوں کی گلی کوچوں میںپھرے اور دل کفار کی شاہراہوں پر ہمکتاہوا نظر آئے ۔عمل سے زیادہ فکر کی کجی منافقت کے عذاب میں مبتلا کر دیتی ہے۔ توبہ کرنے والے ، سچے دل سے توبہ کرنے والے عذاب سے محفوظ رہتے ہیں… اور منافقت سے بڑا عذاب… کیا عذاب ہوگا!!

پھر یہ آیت بھی نظر کشا ثابت ہوئی… کان الناس امت واحدہ ( سب انسان ایک ہی امت تھے) ۔ زمانہ اپنے اصل کی طرف لوٹ رہا ہے۔ کیا ہم دوبارہ ایک ہی اُمت بننے جا رہے ہیں۔ سائینس اور ٹیکنالوجی نے آواز اور تصویر کی مدد سے فاصلے سمیٹ دیے ہیں۔ ہوائی سفر نے جغرافیائی فاصلوں کو بے معنی کر دیا ہے۔ اب ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ فکری فاصلے بھی سمیٹ دیے جائیں۔ ون ورلڈ ایجنڈا تو ہمارے لائحہ عمل میں ہونا چاہیے، ہم مسلسل اسے یہودی سازش قرار دے کر بحیثیت اُمت اپنے فرائض سے کوتاہی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اہل یہود تو بس ایک نسل تک محدود ہیں، اُن کے پاس گلوبل پیغام نہیں۔ وہ مادّی قوت سے اہل ِ زمین کو زیر نگیں کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس دعوتِ عام ہے، ہماری دعوتِ فکر و عمل ہر خاص و عام کیلئے ہے، ہمارے پیغام سے جسم آرام پاتا ہے اور روح راحت۔ کامل انسانؐ کے دیے ہوئے پیغامِ فوز و فلاح سے کُل عالم کے انسان عافیت پاتے ہیں۔ ہمارا ہتھیار قوت نہیں ْ بلکہ اخلاق و اخلاص ہے۔ ہماری دعوتِ فکر پر ہر رنگ و نسل کا آدمی ہمارا مہمان ہے۔ ہم کسی کومادّی قوت سے خوف زدہ نہیں کرتے ‘بلکہ ہم متوازن و متواضع ہیں… محبت کے لنگر سے آنے والوں کی تواضع کرتے ہیں۔ قوموں کی امامت کا فریضہ تو اِس اُمت کے پاس ہے۔’’ مسلم ہیں ہم وطن ہیں ‘سارا جہاں ہمارا‘‘… ہمارا ہی نعرۂ مستانہ ہے۔ ساری روئے زمین کو اِسی اُمت کیلئے مسجد بنا دیا گیا ہے۔ ہمارادین ‘ دین ِ فطرت ہے… اور دین ِ فطرت کو فطرت کی تحقیق کرنے والوں کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اللہ کے شیر‘ جنہیں روباہی نہیں آتی ‘ اپنی کچھاروں سے نکلیں اور اسلام کا حقیقی و روحانی پیغام پوری انسانیت تک پہنچائیں۔

انسان نے دیکھ لیا ہے‘آج کس کی بادشاہت ہے۔ آج جس کی بادشاہت ہے ‘ اُسی کے دین کا سکہ اِس روئے زمین پر چلے گا۔


ای پیپر