امریکا بھی روتا ہے
15 اپریل 2019 2019-04-15

امریکی ، امریکا کو' نئی دنیا 'ٹھیک ہی کہتے ہیں۔وہاں آپ کو ملنے والا ہرچار میں سے ایک امریکی ، امریکی نہیں ہوتا۔ وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے کسی اور ملک سے آیا اور گرین کارڈ لے لیا۔پھر فخر سے اپنا تعارف ایفر و،ا سپینش ، فلپائنی ، پاکستانی اور انڈین کے ساتھ امریکن لگا کر بتانے لگا۔ پاکستان سے امریکا پہنچے چار ہفتے ہوچکے تھے۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں روز ہی بریفنگ ، تھنک ٹینک گروپوں سے ملاقاتوں میں پالیسی امور پر سوال جواب چلتے رہتے ۔دن بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد جیسے ہی صحافیانہ ذمہ داریوں سے جان چھوٹتی ، فوری طور پر جاگر پہنتے اور گلی گلی گھومنے نکل پڑتے۔ یہ یکسر مختلف تجربہ ہوتا۔ عام امریکیوں سے ملنا ، گپ شپ کرنا ، کبھی کبھی تو یوں لگتا جیسے اندرون لاہورکے تھڑے باز مل گئے ہیں۔جیواور جینے دو کے محاورے کرتے ہنس مکھ ، بات بات پر قہقہہ لگانے والے زندہ دل ، پرائی کیا پڑی ، اپنی نبیڑ تو، کی تصویر بنا یہ عام امریکا صرف خود میں جینا چاہتا تھا۔واشنگٹن سے شروع ہونے والا سفر لاس اینجلس اور ریاست میسی سپی سے ہوتا ہوا واپس واشنگٹن میں داخل ہوا۔ تو امریکا کیا سوچتا ہے ؟ اور امریکی کیا سوچتے ہیں ؟ اس کا فرق سمجھ میں آنے لگا۔

لاس اینجلس جاتے جاتے گروپ میں شامل کچھ مردوزن کی طبیعت خراب ہوگئی۔ ہمارے پاس امریکی حکومت کے جاری کیے گئے ہیلتھ کارڈ موجود تھے۔ گروپ کا ایک کوآرڈی نیٹر بیمارساتھیوں کو اسپتال لے گیا۔ کئی گھنٹے بعد جب واپسی ہوئی تو ہربیمار امریکی ہیلتھ سسٹم سے گلے شکوے کرتا نظر آیا۔ ہم نیگروپ کوآرڈی نیٹر سے شکوہ کیا۔ وہ ا یک سکول کی پرنسپل تھیں اور رضاکارانہ طور پر چھٹیوں میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ بطور گائیڈ وابستہ ہوجاتی تھیں ۔ہمارا سخت لہجہ سن کر نرمی سے بولیں۔ آپ بالکل ٹھیک نشاندہی کررہے ہیں۔ ہم خود بھی اس نظام سے بہت تنگ ہیں۔ میں تو کہتی ہوں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو اپنے فیڈ بیک میں اس کا ذکر ضرور کرنا۔ پاکستان جاکر لکھنابھی ضرور۔ شاید ہماری حکومت کو بھی عام امریکیوں کا کچھ خیال آہی جائے۔ یہ سن کر مجھے لگا۔ امریکا ہویا پاکستان ، عوام ، عوام ہی ہوتے ہیں۔

واشنگٹن میں قیام کے آخری دن گروپ فیلوز نے نے ہلہ گلہ کرنے کا پروگرام بنایا۔ فیڈ بیک سیشن ختم ہوتے ہی سب شہر کے وسط میں واقع ایک کلب میں وقت سے پہلے ہی جاگھسے۔ کاؤنٹر پر جاکر اپنے امریکا میں آخری دن کی

دہائی دی تو ان کے دل بھی پسیج گئے۔ فوری طور پر شریفانہ انداز میں لگائی میزیں ہٹا کر میوزک آن کردیا ۔ تیز موسیقی سنتے ہی سب اپنے اپنے انداز میں ہاتھ پاؤں چلانے لگے۔ کچھ دیر اس ہاؤ ہو میں شامل رہنے کے بعد پتہ نہیں جی میں کیا سمائی۔ ہم چپ چاپ آہستہ آہستہ سرکتے ہوئے باہر نکل آئے اور امریکی روزمرہ زندگی کو اپنے مشاہدے کا حصہ بنانے لگے۔

چند قدم دور تین ٹین ایچ لڑکیاں پاؤں سڑک پر رکھے فٹ پاتھ پر بیٹھی تھیں۔ ان میں سے دو پاپ کارن کا لطف اٹھارہی تھیں اور ایک ساتھ بولتے ہوئے ہنستی بھی جارہی تھیں۔ تیسری لڑکی کان سے موبائل فون لگائے قدرے اونچی آواز میں کسی سے جھگڑ رہی تھی۔ لہجے میں شکوہ ، شکایتیں ، غصہ اور رنج سب ہی شامل تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ دوسرے طرف وہ ہے ، جس سے اس عمر میں کیے جانے والے کئی وعدے وعید ہوئے۔ زندگی کے حسین لمحے گزارے گئے لیکن اب محبت کے پھول میں لگے کانٹے چبھنے لگے ہیں۔ جو سب سے اچھا لگتا تھا ، اب ذرا اچھا نہیں لگتا۔ لہجے کی نرمی اب تلخی میں بدل گئی ہے ۔ فون پر ہونے والی تکرار بڑھتی ہی جارہی تھی۔ مجھے کوئی کام نہ تھا اس لیے چپ چاپ یہ منظر دیکھنے لگا۔بھلا کیسے عام آدمی کے دل میں امریکا کیسے ٹوٹتا ہے ، کیسے جڑتا ہے ؟ اس کی دونوں لاتعلق بنی سہیلیوں کو دیکھ کر یہی لگا ، جسے کہہ رہی ہوں۔ تمہاری زندگی ہے ، تم ہی جانوں۔ ہم تو اپنی زندگی جی رہی ہیں۔

اچانک لڑکی کی آواز میں فیصلہ کن تلخی آگئی۔ غصے میں بولی۔" آئندہ کیتھی کا نام بھی زبان پر مت لانا ،اب تم جہنم میں جاؤ "یہ کہہ کر لڑکی جس نے اپنا نام کیتھی بولا تھا ، زور سے موبائل فون کا بٹن پریس کرکے برسوں کا تعلق لمحے میں منقطع کردیا۔ صدمے سے اس کی آنکھوں سے آپوں آپ آنسو نکل پڑے۔ کچھ اہم کھو دینے کا احساس اس کے سرخ ہوتے چہرے پر داستان بن کر ابھرنے لگا۔ آنکھوں سے پانی نکلا تو سرخ ہوتی ناک بھی سسکیاں بھر کر ساتھ دینے لگی۔ کیتھی ہارے ہوئے جواری کی طرح زارو قطار رورہی تھی۔

میرے لیے یہ منظر کچھ عجیب ساتھا۔ کیا امریکا بھی روتا ہے ؟ میرے سامنے کیتھی ایک عام مشرقی لڑکی کی طرح نیر بہا رہی تھی۔ امریکا میں قیام کے دوران جو کئی تصور پاش پاش ہوئے ، ان میں یہ بھی شامل ہوگیا۔ ابھی میں حیرت کی انہی لمحوں میں گم تھا۔ اتنے میں پاپ کارن کھاتی دونوں لڑکیوں نے کیتھی کو اپنی طرف متوجہ کیا اور مجھے ایک نئے منظر سے روشناس کرادیا ۔ سہیلیوں کے متوجہ کرتے ہی گھٹنوں میں سر دے کر رونے والی کیتھی نے اپنے آنسو صاف کیے اور اچانک اس کے چہرے کی بشاشت لوٹ آئی۔ روتی آنکھیں صاف ہوکر دوبارہ سے مسکرانے لگیں اور وہ اپنی سہیلیوں سے پاپ کارن چھینتے ہوئے ویسے ہی ہنس ہنس کرباتیں کرنے لگی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔مشرق سے آئے اجنبی کیلئے مغرب کا یہ انداز بالکل نیا تھا۔ میں سوچنے پر مجبور ہوگیا۔ تعلق ٹوٹے تو ہماری طرح امریکا بھی ٹوٹتا ہے ، روتا ہے لیکن اسے زندگی کا روگ نہیں بناتا۔ امریکا اپنا غم چھپانا بھی جانتا ہے ۔شاید امریکا آج میں جیتا ہے اس لیے۔۔۔

کیتھی کے بدلتے رنگ دیکھ کر جانے ابھی ذہن کیا کچھ سوچتا۔ اتنے میں ایک ہاتھ میرے کندھے میں آیا ، مڑ کر دیکھا تو سری لنکا سے آیا صحافی دوست کھڑا تھا۔ وہ کچھ کہے بغیر مجھے واپس کلب میں لے گیا۔ جہاں تیز میوزک بج رہا تھااور مختلف قومیتیں الٹا سیدھا ناچ کر امریکا سے تعلق کو یادگار بنارہی تھیں ۔


ای پیپر