امام کعبہ کی پاکستان آمد
15 اپریل 2019 2019-04-15

امام کعبہ الشیخ ڈاکٹر عبداللہ بن عواد الجہنی پاکستان کے سات روزہ دورہ پر ہیں ۔ وہ جمعرات کو اسلام آباد پہنچے جہاں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری اور دیگر حکام نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ اسلام آباد میں قیام کے دوران انہوں نے فیصل مسجد میں نماز جمعہ پڑھائی اور پیغام اسلام کانفرنس سے خطاب کیا۔ اپنے اس دورہ کے دوران وہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان، صدر ڈاکٹر عارف علوی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین، جید علماء کرام اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ ڈاکٹر عبداللہ بن عواد الجہنی کو اللہ رب العزت نے اسلام کی چار متبرک مساجد جن میں مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد قبااور مسجد قبلتین شامل ہیں‘ کی امامت کا شرف عطا کیا ہے۔ بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی دنیا کی مقدس ترین جگہیں مانی جاتی ہیں۔ مسجد قبا مدینہ منورہ کی وہ تاریخی مسجد ہے جس کی بنیاد رسولؐ اللہ نے خود رکھی تھی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس مسجد کی تعریف بیان فرمائی ہے۔ اسی طرح مسجد قبلتین مدینہ منورہ کی تین تاریخی مسجدمیں سے ایک ہے۔اس کی دو محرابیں ہیں۔ ایک مسلمانوں کے قبلہ اوّل مسجد اقصیٰ بیت المقدس کی طرف اور دوسری بیت اللہ شریف کی طرف ہے، کیونکہ اس کی تعمیر تحویل قبلہ سے پہلے ہو گئی تھی۔ان چاروں بابرکت مساجد کی امامت کا شرف حاصل کرنے والی عظیم شخصیت فضیلۃالشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عواد الجہنی 13 جنوری 1976ء کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے تھے ،ان کے والدین دین سے خاص شغف رکھتے تھے۔انھوں نے بچپن ہی میں قرآن کریم مکمل حفظ کر لیا تھا۔ 16 سال کی عمر میں دو مرتبہ بین الاقوامی مقابلہ حسن قراء ت میں پہلی پوزیشن حاصل کی ۔ مدینہ منورہ کی معروف عالمی یونیورسٹی (الجامعہ الاسلامیہ) میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور کلیۃ القرآن سے تدریسی سرٹیفکیٹ اعلیٰ اعزاز کے ساتھ حاصل کیا۔ امام کعبہ ڈاکٹر عبداللہ بن عواد الجہنی کو 21 برس کی نوجوانی کی عمر میں پہلی مرتبہ مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلے پر تراویح کی امامت کا شرف حاصل ہوا۔ اس سے پہلے آپ مسجد قبلتین میں دو سال تک امام رہے اور پھر چار سال تک مسجد قبا کی امامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ 2005میں مسجد الحرام بیت اللہ شریف مکہ مکرمہ میں تراویح کی نماز کی امامت کی اور پھر وہاں آپ کو مستقل امام مقرر کردیا گیا۔آپ امامت کے ساتھ ساتھ درس وتدریس سے بھی شغف رکھتے ہیں۔ مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد مدینہ منورہ میں اساتذہ فیکلٹی میں معلم کے فرائض انجام دیتے رہے اور اب مکہ مکرمہ کی اْم القریٰ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔

امام کعبہ ڈاکٹر عبداللہ بن عواد الجہنی نے فیصل مسجد میں خطبہ جمعہ کے دوران کہاکہ اسلام بھائی چارے کا نام ہے اور یہ دین امن وامان سے زندگی گزارنے کا حکم دیتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب توحید کی بنیاد پر قائم ہوئے۔ وطن عزیز پاکستان تمام مسلمانوں کا محور ہے، مسلمانوں کو اتحاد کی سخت ضرورت ہے، وہ تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کریں۔ امام کعبہ نے کہا کہ رمضان المبارک مسلمانوں کیلئے اللہ کا تحفہ اور تمام مہینوں کا سردار ہے، اس کی آمد کا ابھی

سے اہتمام شروع کردیں اور رمضان میں صدقات اور خیرات کا اہتمام کریں۔ انہوں نے فقیدالمثال استقبال پرحکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کی دعائیں کیں۔ امام کعبہ نے خطبہ جمعہ اور دیگر ملاقاتوں میں پاکستان کیلئے بے پناہ محبت کا اظہار کیا ہے۔ سعودی حکمران ہوں یا آئمہ حرمین ‘ ان کی پاکستان سے والہانہ محبت اور چاہت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ سعودی حکام پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہیں اور انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیاہے کہ وہ ہر مشکل وقت میں وطن عزیز پاکستان کے ساتھ ہیں۔ سعودی عرب کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے۔ جب کبھی زلزلہ ، سیلاب یا تھرپارکر جیسے علاقوں میں قحط سالی کی صورتحال پیدا ہوئی سعودی عرب اسی وقت وطن عزیز پاکستان کے مصیبت زدہ عوام کا سہارا بنا ہے۔1965ء کی پاک بھارت جنگ ہو، روس کے افغانستان پر حملہ کے وقت افغان پناہ گزینوں کی امداد کا مسئلہ ہو، آزاد کشمیر و سرحد میں آنے والا خوفناک زلزلہ یا 2010ء اور 2011ء میں آنے والے خوفناک سیلاب ہوں سعودی عرب کبھی پیچھے نہیں رہا۔مسئلہ کشمیر پر برادر اسلامی ملک نے ہمیشہ پاکستانی موقف کی حمایت کی ۔ پاکستان کے ایٹمی دھماکے کرنے پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی بات کی گئی تو اس نازک اور مشکل وقت میں یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے پاکستانی حکمرانوں کا حوصلہ بڑھا یااور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ اس طرح اگر یہ کہاجائے کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں میں مملکت سعودی عرب کا بھی اہم کردار ہے تو یہ بات غلط نہ ہو گی۔ غرضیکہ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں۔ حالیہ دور حکومت میں بھی جب پاکستان مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔بیرونی قرضے اداکرنے کیلئے خطیر رقم اور معیشت بہتر بنانے کیلئے بڑے سرمایے کی ضرورت ہے سعودی عرب نے پاکستان کی مدد کرتے ہوئے وطن عزیز پاکستان میں 10ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا جبکہ اس سلسلہ میں چھ ارب ڈالر پاکستان کے حوالے بھی کر دیے گئے ہیں۔

سعودی عرب کے پاکستان کے ساتھ تعلقات برادرانہ ہیں،حرمین شریفین ایک ایسا نشان منزل ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہے اس وجہ سے ہر پاکستانی کے دل میں سعودی عرب کے لئے محبت اوراحترام کا رشتہ موجود ہے۔دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیاہے۔ سعودی عرب نے قیام پاکستان سے قبل ہی پاکستانیوں کو مکمل تعاون فراہم کیا۔ پاک سعودی تعلقات بہت گہرے ہیں اور اس مثالی دوستی کو پوری دنیا جانتی ہے۔ پاکستان سعودی تعلقات میں ہرگزرنے والے دن کے ساتھ مزید وسعت اور گہرائی پیدا ہورہی ہے۔ دونوں ملک مضبوط تاریخی ، دینی اور ثقافتی رشتے میں منسلک ہیں اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان پرخلوص بھائی چارے کا رشتہ ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب گزشتہ ستر سال سے زائد عرصہ سے باہمی دوستی کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستان میں ایک منجھے ہوئے سفارتکارنواف بن سعید المالکی کو سفیر مقرر کررکھا ہے جو انتہائی کم عرصے میں پاکستانی حکام اور عوام میں مقبول ہو چکے ہیں ۔وہ پاکستان دوست ہیں اسی لئے وہ پاکستان سے اور پاکستانی قوم ان سے محبت کرتی ہے۔ امام کعبہ ڈاکٹر عبداللہ بن جواد الجہنی کے حالیہ سات روزہ دورہ سے بھی پاکستان اور سعودی عرب کے عوام میں دوستی، محبت اور بھائی چارے کے جذبات میں ان شاء اللہ مزید اضافہ ہو گا۔ان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ موجود ہ حالات میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو باہم متحدہونے کی اشد ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی طاقتیں منظم منصوبہ بندی کے تحت پاکستان ، سعودی عرب اور دیگر مسلمان ملکوں میں دہشت گردی اور تکفیر کے فتنوں کو پروان چڑھانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ان سازشوں اور تکفیر کے فتنوں کا خاتمہ قرآن و سنت کی دعوت پھیلانے اور اتحادویکجہتی کا ماحول پیدا کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔


ای پیپر