شہیدوں کو بھُولنے والی قومیں مِٹ جاتی ہیں۔۔۔!
15 اپریل 2019 2019-04-15

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے GHQمیں افسروں، جوانوں اور شہداء کی فیملیز کو اعزازت دینے کی تقریب سے خطاب کے حوالے سے اخبارات میں چھپنے والی خبر کی یہ شہ شُرخی یقیناًہمارے دِلوں کے تاروں کو جھنجھوڑنے والی ہے کہ ’’ شہیدوں کو بھُولنے والی قومیں مِٹ جاتی ہیں ‘‘۔جنرل باجوہ جو اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں 35افسروں کو ستارہِ امتیاز مِلٹری ، 36افسروں اور جوانوں کو تمغہ بسالت اور 7جوانوں کوUNOایوارڈ دینے کے موقع پر خطاب کر رہے تھے ،نے اپنے خطاب میں کیا کُچھ کہا اِس کے اہم نکات کا تذکرہ کرنے سے قبل ایک بڑے قومی معاصر میں ایوارڈ دینے کی تقریب کے حوالے سے چوکھٹے میں چھپنے والی چار تصاویر کا ذکر کیا جاتا ہے ۔اِن میں سے تین تصاویر میں جنرل باجوہ علی الترتیب ایک فوجی افسر اور2جوانوں اور چوتھی تصویر میں کِسی شہید کے خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون (غالباًشہید کی والدہ یا شاید اُس کی بیوہ ) کو اعزازات دیتے دِکھائے گئے ہیں ۔اِن تصاویر میں جنرل باجوہ کے چہرے کے تاثرات سے لگتا ہے کہ اُن کے لیے اپنے جذبات پر قابو پانا مُشکل ہو رہا ہے ۔اُنہوں نے فوجی افسر اور جوانوں کے چہروں کو بڑے مُشفقانہ اور اپنایت بھرے انداز میں اپنے ہاتھوں میں لے رکھا ہے ۔وہ اُن سے کُچھ کہہ بھی رہے ہیں ۔خاتون کو ایوارڈ دیتے ہوئے وہ جھُک کر کوئی بات کرتے نظر آتے ہیں ۔بلاشبہ ایوارڈ دیتے ہوئے جنرل باجوہ کا انداز کچھ ایسا ہے جیسے کوئی خاندان کا سربراہ ،بُزرگ یا والد اپنی اولاد کے کارناموں پر فخر محسوس کرتے ہوئے اُن کی تحسین کر رہا ہو۔اِن تصاویر کو دیکھ کر میری بوڑھی آنکھیں بھی اس حوالے سے احساسِ تشکر سے کچھ پُر نم ہیں کہ کامیابیوں ،بہادری اور جرأت کے شاندار کارناموں اور بے مثال قُربانیوں کا ایک تسلسل ہے جِسے ہماری بہادر افواج قائم رکھے ہوئے ہیں ۔میں اِس بات پر بھی کچھ نازاں ہوں کہ فوج کی موجودہ اعلیٰ ترین کمانڈ میں شامل دوفور سٹارز اور بعض تھری سٹارز جنرلز ایسے ہیں جنہوں نے اپنی سکول کی تعلیم اُس تعلیمی ادارے (ایف جی سر سید سکینڈری سکول راولپنڈی)سے حاصل کر رکھی ہے جہاں میں نے اکتوبر 1969ء سے اکتوبر 1994ء تک اپنی زندگی کے پچیس قیمتی سال درس و تدریس میں گُزارے ۔ مُجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ہی نہیں چئیر مین جوائینٹ آف سٹاف کمیٹی جنرل زُبیر محمود حیات اور اُن کے برادران خورد لفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات اور میجر جنرل احمد حیات کے ساتھ سکول کی کسی نہ کسی کلاس میں میرا براہِ راست اُستاد کا رشتہ رہا ہے ۔خیر زمانہ بیت گیا یہ چار ،پانچ عشرے قبل کی باتیں ہیں کسی کو یاد ہو گا یا نہیں کُچھ نہیں کہا جا سکتا ۔واپس جنرل قمر جاوید

باجوہ کے خطاب کی طرف آتے ہیں ۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا خطاب بلاشبہ بڑا متوازن ،حقیقت پسندانہ اور بہادری کے اعزازات دینے کے موقع پر ایک سپہ سالاار کے جذبات کی بھرپور عکاسی کرتا ہے ۔اُن کا یہ کہنا درست ہے کہ قوم ساتھ کھڑی ہو تو ہر مسئلے کا حل نکل آتا ہے ۔مادرِ وطن کے لیے اپنی جان وار دینے سے بڑھ کر کوئی قربانی نہیں۔شہدا ء کو فراموش کر دینے والی قومیں مِٹ جاتی ہیں ۔ ہمارے اصل ہیرو ہمارے شہید اور غازی ہیں ۔دہشت گردی کا خاتمہ اور امن و استحکام کا قیام اِن کی قربانیوں کا ثمر ہے ۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اِس مُلک میں ایسے باپ موجود ہیں جو اپنے بیٹوں کو مُلک پر قربان کر نے کے لیے تیار ہیں ۔جنرل باجوہ کے خطاب کے یہ تمام نکات ہی اہم ہیں تاہم ان میں دو باتیں یا نکات ایسے ہیں جِن پر زرا سیر حاصل گُفتگو ہونی چاہیے ۔اِن میں پہلی بات یہ ہے کہ قوم ساتھ کھڑی ہو تو ہر مسئلے کا حل نکل آتا ہے ۔بلاشبہ یہ بات سوفیصددرست ہے ۔قیامِ پاکستان سے اب تک کی پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں قدم قدم پر اِس بات کا ثبوت مِلتا ہے کہ قوم نے جب بھرپور ساتھ دیا، اتحاد یکجہتی اور اتفاقِ رائے کا مظاہرہ کیا تو وہ تمام مسائل کو حل کرنے میں ہی کامیاب نہیں ہوئی بلکہ اعلیٰ ترین مقاصد کو حاصل کرنے میں بھی سر خرو رہی ۔انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے اور برصغیر جنوبی ایشاء کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ آزاد مُلکت حاصل کرنے کے لئے تحریک کا آغاز ہوا تو قوم اپنے عظیم قائد محمد علی جناح کی قیادت میں اتحاد اور یکجہتی کامظاہرہ کرتے ہوئے ’’بن کر رہے گا پاکستان ،بٹ کر رہے گا ہندوستان‘‘کے نعرے بلند کرتی میدانِ عمل میں آئی تو مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے قیام کا مطالبہ جِسے مخالفین دیوانے کا خواب قرار دے رہے تھے چند ہی برسوں میں حقیقت کا روپ دھار کر سامنے آگیا۔

قیامِ پاکستان کے بعد جب بھی کوئی مُشکل وقت آیا قوم کو آزمائش کا سامنا کرنا پڑا اور قوم نے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہر کرتے ہوئے قیادت کا ساتھ دیا تووہ تمام مسائل کا حل ڈھونڈنے میں کامیاب رہی ۔قیامِ پاکستان کے فوراً بعد بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جماتے ہوئے اپنی فوجیں کشمیر میں بھیج دیں تو نوزائیندہ مُملکت پاکستان جس کے قیام کو ابھی کچھ ہی ماہ ہوئے تھے اور اُسے طرح طرح کے مسائل کا سامنا تھا لیکن وہ قوم کے اتحاد یکجہتی اور ساتھ دینے کی بناء پر کشمیر سمیت بھارت کے پیدا کردہ دیگر تمام مسائل کو حل کرنے میں اُسے کامیابی حاصل ہوئی ۔ستمبر1965ء میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو قوم سیسہ پلائی دیوار کی شکل میں اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے دُشمن کے مقابلے میں ڈٹ گئی اور بھارت کے پاکستان کو شکست دینے کے نا پاک منصوبے کو ناکام بنانے میں کامیاب رہی ۔ 1971ء میں پاکستان کو ایک اور طرح کی صورتحال کا سامنا تھا مشرقی پاکستان میں بھارت کی شہ پر شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ بغاوت پر تُلی بیٹھی تھی پاکستان کی فوجی حکومت کو قوم کی طرف سے وہ حمایت اور ساتھ حاصل نہ ہو سکا جِس کی ضرورت تھی اور اس کا نتیجہ پاکستان کی شکست و ریخت کی صورت میں برآمد ہوا ۔ زیادہ تفصیل میں جائے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ کی طرف آتے ہیں ۔2002ء کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی ایسی لہر آئی کہ اِس کا تدارک کرنا کسی حد تک ناممکن دِکھائی دینے لگا ۔آئے روز کی دہشت گردی کی کاروائیاں ،خودکُش حملے ،مساجد ،امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں کو بموں کا نشانہ بنانا اتنا عام ہوا کہ قوم کو ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانی نہیں دینی پڑی بلکہ کروڑوں اربوں روپے کے نقصانات بھی برداشت کرنے پڑے ۔رہشت گردی اِس حد تک بڑھی کہ مسلح ا فواج کی اہم تنصیبات بھی دہشت گردی کی کاروائیوں کا نشانہ بننے لگیں۔اِس انتہائی مشکل وقت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت جواب دینے کی منصوبہ بندی کی گئی۔قوم کی تائید اور حمایت کے ساتھ اپریشن ضربِ عضب شروع کیا گیا جِس نے شمالی وزیر ستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ملیامیٹ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔تقریباً اڑھائی سال قبل جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی چیف کا منصب سنبھالا تو رہشت گردی کے خلاف اپریشن ردالفساد کا آغاز ہوا جو قوم کی حمایت اور تائید کے ساتھ پورے مُلک میں کامیابی کے ساتھ اب بھی جاری ہے اور خدا کا شُکر ہے کہ دہشت گردی کی کاروائیوں میں بہت کمی آچُکی ہے اور دہشت گردی کے واقعات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں ۔یہ سب کچھ قوم کی حمایت اور ساتھ کھڑے ہونے کا ہی مرہونِ مِنت ہے ۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ کہنا درست ہی نہیں بلکہ درست سے بڑھ کر درست ہے کہ شہداء کو فراموش کردینے والی قومیں مِٹ جاتی ہیں ۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ پاکستانی قوم جِس کا اللہ کے پاک کلام قرآنِ مجید اور اللہ کے پاک نبیؐ کی تعلیمات پر پختہ ایمان اور یقین ہے کہ وہ شہدا ء کو فراموش کر سکے ۔قرآن پاک میں شہداء کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں مُردہ مت کہو اور یہ زندہ ہیں تو پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ شہدا کی قربانیوں کو فراموش کیا جا سکے ۔علامہ اقبالؒ نے بھی کیا خوب کہہ رکھا ہے۔

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

نہ مالِ غنیمت نہ کِشور کُشائی

پاکستانی قوم یقیناًاحسان فراموش نہیں وہ اپنے شہدا کی قربانیوں کی صورت میں بھُلا نہیں سکتی ۔مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے شہداء اُس کے ماتھے کا جھومر ہیں جن پر پاکستانی قوم ہمیشہ سے نازاں رہی ہے اور آنے والے وقتوں میں بھی نازاں رہے گی۔


ای پیپر