بچوں کی تربیت
15 اپریل 2019 2019-04-15

واک پر نکلتے ہی راحیل نے ایک سوال کر دیا۔ ابو ! یہ بچوں کی تربیت کیسے کی جا سکتی ہے۔ اور کیا اس کے لیے کوئی خاص قائدہ قانون ہے ؟ ہمارا معمول ہے۔ ہم روزانہ واک پر جاتے ہیں۔ اور واک کے دوران ہم کسی نہ کسی موضوع پر گفتگو بھی جاری رکھتے ہیں۔ یوں واک بھی ہو جاتی ہے اور دماغ کی ورزش کا سامان بھی ہو جاتا ہے۔ ہمارے موضوعات میں کافی ورائٹی ہے۔ اور یہ عموما سیاست، تاریخ، ادب، فلاسفی ، سائیکولوجی، سوشیالوجی ، کرنٹ افیئرز ، میڈیسن اور روز مرہ کی زندگی کا احاطہ کرتے ہیں۔ میں راحیل کا سوال سن کر ہلکا سا مسکرایا۔ کل یہی سوال نبیل نے مجھے کیا تھا۔ گویا یہ دونوں بچے آج کل ایک ہی طرح سوچ رہے تھے۔ میں نے راحیل کی جانب دیکھا اور کہا۔ تم ماشااللہ اب خاصے بڑے ہو۔ شادی شدہ ہو۔ ڈاکٹر ہو۔ سمجھ دار ہو۔ مجھ سے بہتر جانتے ہو۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میرا اور تمہارا باپ بیٹے کا رشتہ کھلی کتاب کی مانند تمہارے سامنے ہے۔ اسی رشتے اور تعلق کے اندر سے کچھ اصول وضع کر لو۔ جو باتیں اچھی لگتی ہیں۔ انہیں اپنا لو۔ جہاں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔ وہاں بہتر کر لو۔ لو، بن گیا قانون و قائدہ۔ راحیل میری بات سن کر مسکرانے لگا۔ آپ بلٹ پوائنٹس میں مجھے بتائیں تاکہ یاد رہیں۔ اور بوقت ضرورت کام آئیں۔ یار راحیل، یہ تو ایک مسلسل عمل ہے۔ زندگی کا اوڑھنا بچھوڑنا ہے۔ ضرورت نہیں پڑتی ، سانسوں کی مانند یہ تربیت چلتی رہتی ہے۔ کوشش کرو۔ بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارو۔ ان سے دوستی کرو۔ ان سے اپنی اور ان کی باتیں شیئر کرو۔ انہیں اتنی اجازت دو۔ وہ اپنے جذباتی اور نفسیاتی مسائل تمہارے ساتھ شیئر کر سکیں۔ بطور باپ اپنے بچوں کے ساتھ خوف اور ڈر اور تصنوع کا تعلق قائم نہ کرنا۔ یہ جو مائیں بچوں کو دہمکاتی رہتی ہیں۔ ابو کو بتا دوں گی۔ گویا ابو نہ ہوا۔ بھاو بلا ہو گیا۔ اور کئی باپ بھی اس میں مزہ لیتے

ہیں کہ ان کے بچے ان سے ڈرتے ہیں۔ اولاد عزت کرتی ہے۔ اور محبت بھی کرتی ہے۔ لیکن یہ عزت اور محبت وہ باپ سے باپ کے طور پر کرتی ہے۔ اپنا فرض سمجھتی ہے۔ میرا کہنا کچھ اور ہے۔ اولاد اور ماں باپ میں بے تکلفی ، دوستی اور احترام دوستوں کی مانند ہونا چاہیے۔ جب باپ کام سے گھر آتا ہے۔ تو تھکا ہوتا ہے۔ ادھر بچے بھی باپ کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ یہ ایک مشکل وقت ہوتا ہے۔ جو باپ یہ سمجھتے ہیں وہ اپنے بچوں کے لیے محنت کرتے ہیں ان کے آرام اور آسائش کے لیے کماتے ہیں۔ تاکہ ان کی خواہشات پوری کر سکیں۔ وہ ایک تکنیکی غلطی کرتے ہیں۔ بچوں کو باپ کا ٹائم بھی چاہیے۔ کوشش کرو۔ گھر آ کر کچھ دیر بچوں کے ساتھ گزارو۔ کوئی گیم کرو۔ اور ہاں اپنا موبائل فون ، لیپ ٹاپ اور ٹی وی بھی بند کر دو۔ بچہ اگر آپ کے پاس آنا چاہ رہا ہے۔ تو بیوی کو آواز دے کر نہ کہیں۔ اسے لے جاو۔ مجھے تنگ کر رہا ہے۔ تنگ تو آپ اسے کر رہے ہیں۔ بچہ اگر کوئی قابل ستائش بات کرتا ہے۔ تو اس کی دوسروں کے سامنے بھی تعریف کرو۔ اگر کوئی ناپسندیدہ بات کرتا ہے۔ تو اسے چھپا لو۔ بچوں کو اعتماد دینا بہت ضروری ہے۔ ان کی انسلٹ مت کرو۔ کبھی گھور کر نہ دیکھو۔ اور جسمانی طور پر مارنے کا تو سوچو بھی نہیں۔ اگر بچہ ضد کرتا ہے۔ تو اس کا دھیان ہٹا دو۔ توجہ ادھر ادھر کر دو۔ کبھی ضد پوری بھی کر دو۔ لیکن وہ اس کا عادی نہ بن جائے۔ بچوں کے ساتھ ان ڈور اور آوٹ ڈور گیمز کرو۔ اور ہاں، بچوں کو کبھی براہ راست اخلاقی اور خشک لیکچر نہ دو۔ بچوں میں شعوری طور پر مزاحمت کا مادہ ہوتا ہے۔ آپ کے خشک لیکچرز اس پر اثر نہیں کرتے۔ ہاں ، ان ڈائریکٹ طور پر انہیں سمجھا لو۔ کوئی قصہ، کوئی کہانی، تاریخ سے کوئی صفحہ ، کوئی داستان، لیکن افسانوی نہیں، حقیقت اور زندگی کے قریب ، بچوں کو بے معنی خواب نہ دکھائیں۔ بچوں کا تخیل اور تصور بہت طاقتور ہوتا ہے۔ وہ کہانیوں اور واقعات سے خود نتائج اخذ کر لیتے ہیں۔ آپ ان کے سامنے ایک سچوئیش رکھ دیں۔ وہ خود کو بہتر کرتے جائیں گے۔ اگر آپ کے ذرائع آمدن کم ہیں۔ تو اپنے بچوں سے یہ بھی شیئر کریں۔ انہیں بتائیں ان کی پڑھائی ، محنت اور قابلیت چند سالوں میں کم ذرائع آمدن کو ختم کر دیں گے۔ یقین کریں۔ بچے آپ کی صورتحال کو سمجھ لیں گے۔ خاص طور پر انہیں اس ماحول اور گفتگو سے بچائیں جو انہیں انتہاپسندی کی جانب لیجا سکتا ہے۔ بچوں کے ذہن کو کھلا رہنے دیں۔ وہ تنقید اور سوال کرتے رہیں۔ اور آخر میں میں پھر یہی کہوں گا۔ وہ آپ کا احترام کسی خوف یا فرض کے تحت نہ کرے۔ محبت اور دوستی اس کی بنیاد ہونی چاہیے۔ آپ کا بچہ یہ سوچے۔ میں نے اپنے ابو کو ناراض نہیں کرنا۔ اس لیے نہیں کہ اس سے گناہ ہوتا ہے بلکہ اس لیے کہ اس کی محبت آپ کی ناراضگی کی متحمل نہ ہو سکے۔ شادی سے پہلے آپ اپنے حصے کی آزاد اور انفرادی زندگی گزار چکے ہیں۔ جن بچوں کو آپ اس دنیا میں لائے ہیں۔ اب آپ کی زندگی پر ان کا حق ہے۔ آپ محنت کریں۔ پیسے کمائیں۔ بچوں کی ضروریات پوری کریں۔ لیکن ایسا نہ ہو۔ آپ کے بچے آپ کو ایک ایسی پروڈکٹ سمجھنا شروع کر دیں۔ جس کا کام محض پیسے کمانا اور ان کی خواہشات اور ضروریات پوری کرنا ہے۔ اولاد اور ماں باپ کے رشتے کی یہ بدترین شکل ہے۔ میں ایسے گھروں سے واقف ہوں۔ جہاں باپ اپنے ہی گھر میں آوٹ سائیڈر بن جاتا ہے۔ اور یا پھر بچے گھروں کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ خاص طور پر وہ باپ جو بسلسلہ روزگار دوسرے ممالک میں چلے گئے۔ ایک وقت آتا ہے۔ جب وہ چھٹی پر گھر اتے ہیں۔ اور بچے ان کی آمد کو اپنی زندگی میں مداخلت سمجھنے لگتی ہے کیونکہ وہاں رشتوں میں کشش اور محبت ختم ہو جاتی ہے۔ اپنے رشتے کو خوبصورت بنائیں۔


ای پیپر