پاکستان کو دیوانوں کا معاشرہ بننے سے بچائیں
15 اپریل 2019 2019-04-15

محسو س ایسا ہوتا ہے کہ سوچوں پر جیسے بڑے بڑے قفل پڑ گئے ہوں اور سمجھنے کی ہر کوشش ناکام و نا مراد ٹہر کر واپس لوٹ آتی ہے ۔ یہ سب ایسے معاشرے میں ہورہا ہے جو پاکستان کا مطلب کیا؟لاالہ الااللہ کے نعرے پر لیا گیا۔ جہاں رب العالمین اور رحمتہ اللعالمین کی نازل کردہ اور آپؐ کی مبارک زبان سے نکلنے والے اور خود عمل کرکے پوری دنیا کو دیکھانے والے نظام کو نافذ کرنے کے دعوے کئے گئے ۔ وہاں پہلے تو اس نعرے سے مکمل رو گردانی کی گئی اور لوگوں کی نفسیات سے بخوبی واقف، لوگوں کے رب کے نظام کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دوسری قوموں کے چھوڑے ہوئے نظام کو یہاں نافذ کر دیا گیااور اس پر فخر کیا گیا۔ یہی وہ بڑی وجہ تھی کہ اُس روز سے ہی پورے معاشرے کی تباہی کا آٖغاز شروع ہو گیا۔ حکمران، سیاسی آقا اور عوام سب پھر جس کے نتیجے میں اپنی اپنی مرضی کے مطابق زندگیاں بسر کر نا شروع ہو گئے اور پھر کسی کو کسی کی پرواہ نہ رہی کہ کیسے لوگوں کی اخلاقیات کو بہتر بنا نے کے لئے نصاب میں ایک خاص حصہ رکھا جائے ، کوئی ادارے بنائے جائیں جو لوگوں میں مثبت روئیوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار اداء کر سکیں ۔

بد قسمتی کے ساتھ ان کئی عشروں میں نہ تو پاکستان کے حکمرانوں کو یہ زحمت گوارہ ہوئی اور نہ ہی پالیسی ساز اداروں کو یہ تو فیق حاصل ہوپائی اور یوں پورے معاشرے کو شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دیا گیا ۔ جس کے نتیجے میں حکمرانوں کے غلط فیصلوں، ملک کی ابتر صورتحال ، بیروزگاری، مہنگائی اور اداروں کی ناانصافی کی وجہ سے لوگوں میں تیزی سے عدم برداشت کا کلچر پروان چڑھنا شروع ہو گیا۔ لوگ بالکل معمولی معمولی باتوں پر لڑنا شروع ہوگئے، ایک دوسرے کو قتل کر نا، اوراپنے مخالف کو

آخری حد تک نقصان پہنچانا ، ان کا وطیرہ بن چکا ہے ۔ ظلم تو یہ ہے کہ اس خوفناک صورتحال کے باوجود بھی کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور ’’نئے پاکستان ‘‘ میں بھی مدینہ کی ریاست کا تصور دینے کا نعرہ مستانہ بلند کر نے والے حکمرانوں کی آنکھیں بھی ان سارے معاملات کو دیکھنے سے قاصر ہیں ۔

قارئین کرام ! عدم برداشت، ڈپریشن اور فرسٹریشن کی حدوں کو چھوتے ہوئے اب ہمارامعاشرہ تمام اخلاقی حدوں کو بھی پار کرتا جا رہا ہے اور جس کی وجہ سے مقدس رشتوں کے تقدس کا سر بازار پامال کیا جا رہا ہے ۔ حالیہ دنوں میڈیا میں دو خبریں شائع ہوئیں جس میں اسے ایک یہ ہے کہ لاہور کے علاقے شالیمار کی حدود میں باپ اپنی سگی 13سالہ بیٹی کو 2سال تک زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ جبکہ دوسری خبر یہ ہے کہ چونڈہ میں نو عمر لڑکوں کی آپس میں شادی ، ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی ۔ یہ دونوں ایسی خبریں ہیں جو رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہیں اور مجھ جیسے کئی لوگ اس سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ اب باپ اور بیٹی جیسا مقدس رشتہ بھی زخم زخم ہو رہا ہے ۔ وہ مقدس رشتہ جس کے بارے رحمتہ اللعالمینؐ نے ہمیں تعلیمات دیں کہ جب جگر گوشہ رسولؐ ، سرادار خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الزہراؓ اپنے والد کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپؐ اپنی جگہ سے اُٹھ کر اپنی چادر بچاتے اور وہاں انہیں بٹھاتے ۔ ایسا پروقار اور محبت بھرا رشتہ جسے ہم نے کیا بنا ڈالا؟ پھر چونڈہ میں دو نو عمر لڑکوں کی شادی کر نے کا واقعہ بھی معاشرے کی پستی کو چیخ چیخ کر لوگوں کے سامنے رکھ رہا ہے ۔

قارئین محترم !اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے معاشرے کو پستی سے نکالنے کا کام شروع کردیں ۔ اس کے لئے پچھلے کئی سالوں سے معروف ماہر تعلیم و نفسیات جناب قاسم علی شاہ اپنے تئیں کام کر رہے ہیں اور اب تو انہوں نے اس کام کے لئے باقاعدہ ایک ادارہ بھی بنا دیا ہے ۔میں یہاں وزیر اعظم پاکستان کو یہ مشورہ بھی دیتا ہوں کہ لوگوں میں منفی ذہنیت کے خاتمے اور مثبت تبدیلی کے آغاز کے لئے باقاعدہ حکومتی سطح پر ادارہ بنایا جائے تو جو آپ کی زیر نگرانی ہو اور اس کے لئے قاسم علی شاہ اور ان جیسے مزید لوگوں کی خدمات حاصل کی جائیں اور ہنگامی بنیادوں پر مزید ایسے واقعات کے رونما ہو نے کا انتظار کئے بغیر کام کا آغاز کر دیا جائے۔

دیر آید ، درست آید کے مصداق اگر مزید وقت ضائع کئے بغیر ہم نے اپنے لوگوں کی تربیت کے لئے کام کا آغاز کر دیا تو مجھے یقین ہے کہ فوری طور پر اس کے مثبت نتائج ملنا شروع ہو جائیں گے ۔ اگر خدانخواستہ ہم نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اور ان کے پس پردہ وجوہات کے خاتمے کے لئے کوئی واضح پالیسی نہ بنائی تو پھر مقدس خونی رشتے مزید پامال ہوتے رہیں گے اور یوں کوئی بیٹی اپنے باپ پر اور باپ بیٹی پر اعتبار نہ کرے گا بیوی ، شوہر پراور شوہر بیوی پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے رہیں گے، بہن ، بھائی ، ماں اور باپ جیسے رشتے اپنا اعتماد کھو بیٹھیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں میں ایسا سب کچھ ہونا شروع ہوجائے تو وہ معاشرے اخلاقی پستی کا شکار ہو کر تباہی و بر بادی کے رستے کے مسافر بن جاتے ہیں اور پھر جہاں کوئی کسی پر اعتبار نہیں کرتا ۔ جہاں سب رشتے مادیت کا شکار ہو کر اپنا وقار کھو بیٹھتے ہیں اور پھر پاس بیسیوں لوگوں کے ہوتے بھی انسان اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے اور پھر اپنی تنہائی کے خوف میں مبتلا ہو کر دیوانہ ہو جاتا ہے اور پھر وہ معاشرہ دیوانوں کا معاشرہ بن جا تا ہے ۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو !!


ای پیپر