ایک اور ڈوبتی کشتی
15 اپریل 2019 2019-04-15

امریکہ میں مقیم اپنے دوست عفت چوہدری سے معذرت کے ساتھ ، تین دہائیوں سے زائد عرصہ سے وطن عزیز میں اقتدار کی کشتی تو چند قوتیں ہی تیار کرتی ہیں جبکہ عوام آخری منظرنامے میں دکھائے جاتے ہیں کہ ظاہر کیا جائے حکومت عوام کی امنگوں کی عکاس ہے اُس کی تیاری اور ترانوں میں جو آوازیں قلم اور سوچ مستعار لی جاتی ہے اُن کی حیثیت شیخ رشید کی طرح شامل واجے سے زیادہ کچھ نہیں ہوا کرتی۔ ایک پنجابی گانے کے بول ہیں ’’میں نئیں بولدی، میرے وچ میرا یار بولدا‘ میں نہیں میر ے اندر میرا دوست بولتا ہے مگر اقتدار کی نوبت بجے تو ہمارے ہاں عوام کی چیخیں اُس کی نوبت پر مچنے والی دھما چوکڑی میں دب جایا کرتی ہیں۔ ہاتھوں پر دستانے ہی نہیں دستانوں پہ دستانے اور چہروں پر نقاب ہی نہیں نقابوں پر بھی نقاب ہیں ان گنت ٹی وی چینلز اور اخبارات ہیں پھر بھی سچ کا قحط ہے۔

مجھے یاد ہے گیلانی کی حکومت میں بجلی کی جان لیوا لوڈشیڈنگ کے سدباب کے لیے وفاق اور صوبوں کے نمائندے شدید گرمی میں اجلاس کرتے جن میں وزیرعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی ہوتے، صنعتکاروں اور تاجران کے نمائندے اُن کا کہنا مانتے تھے اجلاس کی ملاقات ٹی وی پر جو دیکھی جاتی عوام تو گرمی اور لوڈشیڈنگ میں ہوتے مگر ہمارے زعما ارمانی کے پینٹ کوٹ سوٹوں میں ملبوس ہوتے۔ایئر کنڈیشنڈ ہالوں میں بیٹھے دیکھ کر مجھے سخت حیرانی ہوتی اور غصہ بھی آتا کہ اللہ کے بندوں کم از کم کرتا شلوارقمیص ہی پہن لو کہ عوام سمجھیں یہ ہمارے اپنے نمائندے ہیں۔ موجودہ تبدیلی سرکار بھی کمال کی سرکار ہے۔ ان کے نمائندے ٹی وی پر جس طرح اداکاری ، مسکراہٹوں، سوٹوں، بوٹوں میں ملبوس اور موبائل سے کھیلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور بیان چھپتا ہے کہ عوام کی چیخیں نکلیں گی۔ اگلے دن جناب اسد عمر جس طرح تمسخر اڑاتے ہوئے لہجے میں فرما رہے تھے کہ آئی ایم ایف نے نہیں کہا کہ کریلے 350 روپے کلو کر دیں مجھے تو صرف کریلوں کی بات کرنے پر یہ ’’مولا خوش رکھے‘‘ عجیب عقل و قبیل کے باشندے دکھائی دیئے۔ ڈالر مہنگا ہونے کا علم آپ کو اور وزیراعظم کو ٹی وی کی خبروں سے ہوتا ہے جبکہ گورنر سٹیٹ بینک اس کے برعکس بیان دیتے ہیں ۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات کا کریلے کے بھاؤ کا ذکر کیا ہوا۔ او بھائی! لوگ مہنگائی کے ڈریکولا کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں۔ پنجاب میں شہباز شریف کی گورننس کے اثرات تھے جو جرائم پر قدرے کنٹرول تھا۔ عورتوں کے بیگ، مردوں کے پرس، موبائل چھیننا شروع نہیں انتہا کو پہنچ گئے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور اس سے بڑھ کر مایوسی اور اس پر حکومتی زعما کا غیر سنجیدگی اور اوور ایکٹنگ کا رویہ لوگوں کے صبر کو قہر میں بدل کر رکھ دے گا یہ سہمے ڈرے مایوس اور مرے ہوئے لوگ بھپرے ہوئے لوگوں میں بدلنے کو تیارہیں، فلاں چور، فلاں ڈاکو، فلاں بدمعاش کی فلم اب مزید نہیں چلے گی۔ آپ اب ذمہ دار ہیں اپوزیشن نہیں ہیں۔ کسی کی انگریزی پر اعتراض تو کسی کی خاموشی پر اعتراض ۔ یہ باتیں عوام کو روٹی، دوائی، انصاف اور پناہ نہیں دے سکتیں اور ظلم یہ ہے کہ دور دور تک محرومیوں اور دکھوں کا مداوا یا ازالہ نظر نہیں آتا۔ غور کرنے کی بات ہے حکمران آج صرف اُن لوگوں کی مدد ،حمایت اور منت سماجت سے حکومت کر رہے ہیں جن کو نیازی سب سے بڑے ڈاکو کہتے تھے چپڑاسی رکھنے کو تیار نہ تھے ان دروں پر دستک دے رہے ہیں جن پر جانے سے خودکشی کو ترجیح دیتے تھے۔ مہنگائی نے بازار سونے کر دیئے۔ بڑے دسترخوانوں والے سکتے میں آ گئے ۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ حکمرانوں کو سوائے کریلے ، دال دوائی کی قیمت کا بھی علم نہیں۔ ڈاکٹروں سکولوں فیسوں کا علم نہیں ، ہسپتالوں کے باہر علاج کو ترستے ہوئے دم توڑنے والوں کی تعداد کا علم نہیں۔ ڈاکٹروں کی غفلت سے مرنے والوں کا علم نہیں۔ بیورو کریسی کی فرعونیت کے ہاتھوں ماتحت ملازمین کی غلامی سے بدتر سزا پر مبنی زندگی اور کسمپرسی کا علم نہیں اور ظلم یہ ہے کہ سننے ، سمجھنے کو بھی تیا رنہیں۔ ہر بات کا ملبہ سابقہ حکومتوں پر ڈالتے ہیں۔۔ کمال ہے ! بقول حکومت لُوٹا میاں صاحبان اور زرداری صاحب نے ہے جبکہ مہنگائی کا جن ریکووری عوام سے کر رہا ہے ۔

چالیس سال کے گند کی بات کرتے وقت بیس سال ضیاء اور مشرف کے بھول جاتے ہیں ارے بھائی! آپ نے تو چالیس سال میں اگر کچھ بہتر ہوا تھا اُس کا بھی بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا۔ ادارے بے مہار ہو گئے، نیب غیر ملکی ادارے جیسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے متعارف کروایا ہو بنا دیا اور اوپر سے سانحہ یہ کہ ایف آئی اے بھی نیب کے اختیارات مانگتی ہے جبکہ حکومتی وزیر با تدبیر کے اختیارات میں اضافے کا یہ عالم ہے کہ فرماتے ہیں بادشاہ ہوتے تو لوگوں کو لٹکا دیتے۔ بدعنوانی ، بے انصافی ضربیں کھانے لگیں۔ میں نے اپنی زندگی میں اب تک ایسی حکومت نہیں دیکھی اور عوام کو اس قدر لاوارث نہیں پایا۔ بڑے بڑے کاروباری ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں۔ ملک میں کوئی ایک کاروبار نہیں چل رہا ہے سوائے حکومت کے گلشن کے کاروبار کے۔ حکومت کے بدلتے ہوئے بیانات آئے روز تباہ کن فیصلے اور پالیسیوں کی وجہ سے خاموش ہو گئے، ششدر ہو گئے ورطۂ حیرت میں چلے گئے۔

قوم بنانے کی بات کرنے والوں نے قوم کو حصوں ٹکڑوں اور متحارب گروہوں میں تبدیل کردیا۔ بڑھ چڑھ کر بدتمیزی کے بیانات اور الزامات کے علاوہ حکومتی پالیسی ہے ہی نہیں جس کو وزراء بیان کریں بس مہنگائی ہے، ڈھٹائی ہے اور عوام کی بے بسی مگر حکمران بھول گئے ہیں کہ اس ملک کے محب وطن ادارے ان کے عشق میں وطن عزیز کے عوام کو کراہتے ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے الہام ہوتا ہے نہ کوئی چڑیا پال رکھی ہے۔ بحریہ ٹاؤن سے واقفیت ہے نہ ہی کسی خاص گھر کے کسی راہی سے تعلق ہے جس گھر میں چڑیا بھی پر نہ مار سکے لیکن دیکھ رہا ہوں کشتی تیار کرنے والے دانشوراران قوم نے اپنی تحریروں ، تجزیوں کے ذریعے کشتی سے اپنا سامان اتارنا شروع کر دیا ہے۔

اس کشتی کی تیار ی میں شیخ رشید، فواد چوہدری، فیاض الحسن چوہان، مراد سعید، واوڈا و دیگران کے بیانات کشتی کے سوراخ ہی ثابت ہوں گے شاید یہ ساتھی نہیں سوراخ ہی تھے اور اس پر المیہ یہ ہوا کہ ملاح نے اپنے چپو کو کشتی کو کنارے لگانے کی بجائے مخالفین کے لیے تلوار کی طرح چلایا جس سے کشتی آگے تو نہ بڑھ پائی البتہ قوم چلا اٹھی ہے کہ کاروانِ تبدیلی، کاروانِ تباہی و انتقام بن گیا۔ غیر سنجیدگی، نا اہلیت اور دوسروں کی کردار کشی، غیر موزوں لوگوں کو ذمہ داری دینا کاروان عوام کی بجائے کاروان نیب میں دکھائی دینے لگا۔ کشتی کو کنارے کی بجائے، بے حسی اور گہرے پانیوں میں لے جانے کی وجہ سے تیار کرنے والوں نے سامان اتارنا شروع کر دیا ہے مگر افسوس کے ملاح نے سوراخ بند نہ کیے اور چپو کو چیو نہیں تلوار ہی سمجھے رکھا۔ ایک دانشور اگلے روز فرماتے ہیں عمران سے جتنا کام لینا یا اُس نے جتنا کام کرنا تھا کر دیا (مخالفین یا سابقہ حکمرانوں) کو رُلایا بھی اور رولا بھی۔ اللہ پناہ! اگر یہی کچھ منشور تھا تو عوام کو ریلیف کیا ہوا، امریکہ، لندن، فرانس کی ریاست مدینہ کی باتیں کیا ہوئیں۔ مزید فرماتے ہیں کہ آئین کو ریسٹ دیا جائے سبحان اللہ! جس آئین کی دی ہوئی آزادی کے تحت بات کرتے ہیں اس کو اگر ریسٹ دے دیا تو موصوف خیر سے کسی ڈان کا نام لینے سے بھی گبراتے ہیں۔ دراصل سابقہ حکمرانوں کو اس حکومت نے زیادہ مقبول کر دیا یہی وجہ ہے ایک اور کشتی ڈوبنے کو ہے۔


ای پیپر