Image Source : Naibaat MaG

الیکشن 2019ء کانگریس یا بی جے پی۔۔۔اقتدار کا ہماکس کے سر پر بیٹھے گا؟
15 اپریل 2019 (18:53) 2019-04-15

کس کے امکانات زیادہ ہیں؟؟؟

امتیاز کاظم:

سچر کمیٹی رپورٹ 17نومبر 2006ءجب وزیراعظم من موہن کو پیش کی گئی تو مسلمانوں کو انڈیا میں اپنے حقوق میں بہتری کی اُمید پیدا ہوئی تھی۔ یہ کمیٹی ”جسٹس ریٹائرڈ راجندرسچر“ کی قیادت کانگریس نے 2005ءمیں تشکیل دی۔ یہ کمیٹی جب مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لینے گجرات پہنچی تو گجرات کا وزیراعلیٰ یہی نریندر مودی تھا۔ آج یہی مودی اقرار کرتا ہے کہ اُس کمیٹی کے ارکان نے جب مجھ سے پوچھا کہ ”میں نے مسلمانوں کے لیے کیا کیا ہے“ تو میں نے (مودی) جواب دیا کہ میری حکومت نے مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں کچھ کرے گی اور پھر مودی نے 2005ءسے آج تک بلکہ اس سے پہلے بھی یہ ثابت کر دیا کہ اُس نے مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کیا بلکہ ان کی زندگی اجیرن کر دی بلکہ اس وقت بھی جب یہ 403 صفحات پر مبنی رپورٹ مسلمانوں کی اقتصادی وسماجی صورت حال کی 76 سفارشات کے ساتھ پیش کی گئی تو کابینہ کے دو سیکرٹریوں ”بی کے چتردیدی اورکے ایم چندر شیکھر“ نے اس کے ہر نکتے پر اعتراض اٹھائے تھے اور نافذ نہیں ہونے دیا تھا۔ 2006ءمیں ہی پہلی دفعہ وزارت اقلیتی امور قائم ہوئی تھی اور اس وزارت کے پہلے سیکرٹری ”ایم این پرساد“ بنے تھے۔

او ایس ڈی (آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی) سید ظفر محمود، چترویدی اور چندر شیکھر کو جب رپورٹ کی پریزینٹیشن دے رہے تھے تو اس کی 76 سفارشات میں سے ہر نکتے پر اعتراض اٹھایا گیا اور جب ایم این پرساد نے وزارت اقلیتی امور کے اختیارات مانگے تو ویدی اور شیکھر دونوں نے پرساد کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ اس رپورٹ کو نافذ کروانے کے لیے اپنا خون خشک نہ کریں اور اب 2019ءکے انتخابات میں مودی اپنی تقریروں میں خود اقراری ہے کہ اس نے نہ تو مسلمانوں کے لیے کچھ کیا اور نہ ہی وہ مستقبل میں کریں گے۔ یہ الیکشن سٹنٹ انہوں نے ہندو ووٹروں کو مائل کرنے کے لیے استعمال کیا ہے جب کہ عملی طور پر بھی اس الیکشن میں مودی نے کسی مسلمان لیڈر کو بھاجپا کی طرف سے ٹکٹ جاری نہیں کیا۔ الیکشن سے پہلے مودی سے یہی اُمید تھی کہ وہ بابری مسجد، مسلم دُشمنی (ہندوتوا) اور کشمیر کارڈ کے علاوہ پاکستان دُشمنی کا کارڈ کھیلیں گے لیکن وہ یہ سارے کارڈ اب الیکشن میں کھیل رہے ہیں مثلاً بابری مسجد کے متعلق بھی انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستان کا کون سا ہندو ہے جو بابری مسجد نہیں بنانا چاہتا ہے۔ کشمیر میں آئے دن قتل وغارت اور ریاست کا گھیراﺅ جلاﺅ، پاکستان سے دُشمنی یعنی محدود حملہ، جہازوں سے سرحدی خلاف ورزی، بلااشتعال فائرنگ سے سرحدوں کی شہری آبادی اور دیہاتی آبادی کو نشانہ بنانا۔ ڈرون حملے اور ایل او سی پر سرحدی خلاف ورزی، یہ سب کچھ ثابت کر رہا ہے کہ مودی کو اگر ہندوجنتا دوبارہ منتخب کرتی ہے تو یہ ہندوستان سمیت مسلمانوں اور اقلیتوں (مسیحی دلت، پارسی بلکہ سکھ کیلئے بڑی بدقسمتی ہو گی۔ ابھی ایک دو دن پہلے کا واقعہ ہی لے لیں کہ ریاست چھتیس گڑھ میں اقلیتی مسیحیوں کو مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کی مقدس کتاب بائبل کو پھاڑ دیا گیا اور تامل ناڈو میں انہیں ایک مندر میں لے جا کر بھگوان کی پوجا پر مجبور کیا گیا جبکہ راجستھان میں ہندو انتہاپسندوں نے عبادت میں مصروف مسیحیوں پر پتھر پھینکے۔ دلت اور آدی واسی بھی ہندوستان میں مجبور اور بے بس ہیں بلکہ یہ سب اقلیتیں مودی کی دوبارہ الیکشن میں کامیابی سے خوفزدہ ہیں اسی لیے اقلیتوں کا ووٹ بھاجپا کو نہیں جا رہا ہے۔ کانگریس اور آزاد اُمیدوار یہ ووٹ سمیٹ رہے ہیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ ہندو بھی مودی کی پالیسیوں سے نالاں ہیں تو یہ صحیح ہو گا کیونکہ کٹر ہندو ریاستوں سے مودی کا ہارنا اس بات کی دلیل ہے۔ دسمبر 2018ءمیں چند نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں سے مدھیہ پردیش اور ریاست چھتیس گڑھ جہاں بھاجپا 15 سال سے برسراقتدار تھی، الیکشن ہار گئی بلکہ دیگر تین ریاستوں سے بھی الیکشن ہارنا بھاجپا کی خراب کارکردگی کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور چھتیس گڑھ کی 90 نشستوں میں سے 68 پر کانگریس کی جیت راہول گاندھی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ راجستھان انڈیا کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والی ریاست ہے کیونکہ یہاں کی 199 نشستیں اسے اہمیت دلاتی ہیں جبکہ یہاں سے بھی کانگریس 101 نشستیں جیت کر بھاجپا کو ٹف ٹائم دے چکی ہے، اگرچہ یہ صوبائی سطح کا الیکشن تھا لیکن اہمیت کا حامل ہے جبکہ مدھیہ پردیش اس سے بھی زیادہ اہم ہے کہ کل 230 نشستوں میں سے 116 کانگریس جیت کر یہاں سے بھی بھاجپا کو ہرا چکی ہے۔

دوسری طرف کانگریس اقلیتوں کو تحفظ دینے کے لیے کئی بیانات دے چکی ہے۔ مودی کا ہندوتوا کارڈ اور مسلم دُشمنی آج سے نہیں ہے بلکہ آٹھ سال کی کچی عمر سے ہی اس کی برین واشنگ اس طرح سے کی گئی ہے کہ اب اس میں مسلم درستی آہی نہیں سکتی۔ 8 سال کی عمر میں ”لکشمن راﺅ انعامدار (وکیل صاحب) نے مودی کو ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس میں جونیئر کیڈٹ کے طور پر متعارف کرایا یعنی 17ستمبر 1950ءکو ویدنگر ضلع مہسانہ بمبئی سٹیٹ (موجودہ گجرات) میں دمودرداس مُلچند کے چھ بچوں میں سے تیسرے نمبر پر پیدا ہونے والا مودی 1958ءمیں ہی آر ایس ایس کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔ پھر اس کا گجرات میں مسلمانوں کے ساتھ سلوک جب یہ گجرات کا وزیراعلیٰ بنا اور پھر 26 مئی 2014ءکو تو اس کے وارے نیارے ہو گئے۔ جب یہ انڈیا کا 15واں وزیراعظم بنا اور مسلمانوں سے گن گن کر بدلے لینے لگا اور رائزنگ انڈیا کو ٹائٹنگ انڈیا بنا دیا۔ شاید یہ بڑھا سٹھیا گیا ہے بلکہ اس سترسالہ بابے کو سٹھیائے ہوئے بھی دس سال گزر چکے ہیں۔ مودی نے ہر طبقہ فکر کو فکر مند کر دیا ہے حتیٰ کہ صلح پسند اور اچھی سوچ رکھنے والے ہندو طبقے کو بھی۔ مودی نے تو انڈیا میں ”نیچ جاتیوں“ کو قطعی نہیں چھوڑا۔ ان پر بھی زندگی تنگ کر دی حالانکہ مودی خود نیچ جاتی طبقہ (مودھ گھانچی) سے تعلق رکھتا ہے۔ دلت اور آدی واسی (OBC) بھی اس کی دست برد سے محفوظ نہ رہے۔

اروناچل پردیش کا شہرت سے متعلق بل بھی ہندوتوا کے بول بالا کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے جس پر کانگریس نے اب اروناچل کی جنتا سے وعدہ کیا ہے۔ اکھلیش یادو کہتے ہیں کہ مودی فوج کو الیکشن کے مقاصد کے لیے استعمال کرنا بند کرے۔ ششی تھرور کا کہنا ہے کہ بھاجپا الیکشن کو ”خاکی الیکشن “ (فوجی وردی کارنگ) میں تبدیل نہ کرے اور اب حال یہ ہے کہ ہیمامالنی، امیت شاہ اور مودی مل کر الیکشن مہم چلا رہے ہیں اور ہیما مالنی کی شہرت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جب کہ امیت شاہ گجرات کی تمام 26 نشستیں جیتنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ دوسری طرف جنتا نعرہ لگا رہی ہے کہ ”اس بار مودی بے روزگار“ ۔ دوسری طرف ارجن سنگھ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ”ترنمول پارٹی“ کے 100 ایم ایل اے بھاجپا سے الحاق کر رہے ہیں۔ مودی تلنگانہ میں اپنی پوزیشن کو پھر سے مضبوط کرنے کے لیے بہت کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا 29 مارچ کا تلنگانہ کا دورہ اس کی عکاسی کرتا ہے جبکہ وہاں بھی انہوں نے گﺅرکھشا کے گیت الاپے ان کے دورہ پر ہی چندر ابابو نائیڈو نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ ”مودی جرائم یافتہ لوگوں کا چوکیدار ہے“۔ اترپردیش میں ایس پی اور پی ایس پی کا اتحاد یقینا مودی کے ووٹ کو متاثر کرے گا۔ مغربی بنگال میں ممتا بینر جی اپنی پوزیشن مضبوط رکھے ہوئی ہیں لیکن مودی بھی اپنے منفی ہتھکنڈے بڑی ہوشیاری سے آزما رہا ہے اور اس کے منفی ہتھکنڈوں کی فہرست ہے بھی بہت طویل۔ عملی طور پر یہ 2002ءکے گجرات کے ہندو مسلم فسادات سے سامنے آیا (27 فروری 2012ءگودھرا ریلوے سٹیشن پر گاڑی کو آگ لگنے کا واقعہ) گجرات کا الیکشن اس نے انڈین نیشنل کانگریس کے آشون مہتہ کو ہرا کر جیتا تھا۔ اس نیچ جاتی کو نیچ جاتی ہی ہرا سکتے ہیں کیونکہ لوک سبھا کی کُل نشستوں میں سے 84 نشستیں دلتوں کی ہیں اور 47 نشستیں شیرولڈ کاسٹ (OBC) یوں 131 نشستیں اُمید کی جاتی ہیں کہ مودی کو نہیں ملیں گی۔ کانگریس اگر ہوشمندی سے الیکشن کو سنبھال لے تو مودی کو ہار سے کوئی نہیں بچا سکتا کیونکہ ایس پی اور بی ایس پی اتحاد بھی یقینا مودی کے خلاف جائے گا تاہم گجرات جیسی کچھ ریاستیں اسے سیاسی طور پر زندہ ضرور رکھیں گی تاکہ یہ چوکیدار ان کی چوریوں میں سے حصہ وصول کر سکے۔

اس حوالے سے سینیئربھارتی صحافی اجیت ساہی کہتے ہیں کہ ’مودی نے اپنے آپ کو ایک ایسے کونے میں پھنسا لیا ہے جہاں نہ تو انھیں مسلمان ووٹ دیں گے اور نہ الیکشن کے بعد وہ پارٹیاں حکومت سازی میں بی جے پی کا ساتھ دینے کا خطرہ مول لیں گی جو خود مسلمانوں کی حمایت پر انحصار کرتی ہیں۔‘

مسلمانوں میں مودی کے برسراقتدار آنے پر اگر پریشانی نہیں تو فکر ضرور ہے لیکن وہ اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کی بھی مثال دیتے ہیں: ’بی جے پی کی پہلی حکومت نے ہی ہمارا کیا بگاڑ لیا تھا۔۔۔؟ ایک رائے یہ بھی ہے کہ مسلمان آج بھی صرف اپنی سکیورٹی کو لے کر پریشان ہیں، کسی بھی جمہوری نظام حکومت میں یہ تو ان کا بنیادی حق ہے لیکن وہ آج بھی اسی کشمکش میں مبتلا ہیں۔‘لیکن اجیت ساہی کہتے ہیں کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں، کھل کر کسی بھی حکومت کے لیے کوئی ایسا قدم اٹھانا ممکن نہیں ہے جو کسی ایک فرقے کے خلاف ہو، لیکن درپردہ تو بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔۔۔‘بہر حال، حکومت تو وہ ہی بنائے گا جسے عوام کی اکثریت ووٹ دے گی لیکن نیا رہنما حکمرانی سب پر کرے گا۔ اس لئے بھارت میں مودی اور مسلمانوں سے زیادہ یہ جمہوریت کی آزمائش ہے۔


ای پیپر