ہزاروں سال پہلے شاہ یمن کی جستجو رسول
15 اپریل 2019 2019-04-15

دنیا بھرکے درخت قلم بن جائیں، اور سارے سمندر سیاہی بن جائیں ایک دفعہ پھر دوبارہ سمندر، سیاہی اور درختوں کے قلم بن جائیں، تو پھر بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا تعارف مکمل نہیں ہوسکتا۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ذکر رسول بھی ضرور شامل ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ آقائے دوجہاں، باعث وجود کون ومکاں کی اہلیت کا تعین کرنا ناممکنات میں شامل ہے، تاہم ایک درود شریف جوکہ خود حضورنے اُمت کو فرمایا تھا، اس کے معنی ومفہوم سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اہلیت رسول اتنی ہے کہ ساٹھ فرشتے، رات دن مسلسل اگر ساڑھے تین سال متواتر یہ درودشریف پڑھتے رہیں، تو صرف ایک دفعہ درود پڑھنے کا یہ ثواب ملتا ہے۔

دنیا میں لاکھوں پیغمبر اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی رہبری وراہ نمائی کے لیے بھیجے مگر ایسی شان ایسی آن ، ایسی زیبائی وسرفرازی ہمارے آقا و مولاسرورکائنات کے حصے میں آئی، ذرا سوچئے لاکھوں پیغمبر دنیا کے لیے آئے، مگر اس عظیم وحدہ لاشریک ہستی نے دنیاءموجودات ومخلوقات ان کے لیے بنائی، ان کی آمد کے چرچے اس وقت دیکھنے کو آئے، کہ جب محب نے اپنے محبوب کے دیدار ذی وقار اور ان کی آمدوملاقات کے لیے اپنا عرش تافرش، اس سج دھج اور آن سے سجایا اور سنوارا کہ ملائیکہ چالیس دنوں تک آسمانوں کی تزئین اور آرائش وزیبائش کے لیے رات دن مصروف عمل اور شاداں وفرحاں نظر آئے، اور ایسا کیونکر نہ ہوتا کہ عاشق مصطفیٰ حضرت بلالؓ بھی جب حضورپر نورباہرتشریف لے جاتے، تو یہ عاشقِ صادق ، غلامیِ رسول کی محبت وعقیدت میں سرمست وسرشاری میں آقا ومالک سے آگے جھومتے جھامتے، اور حالت وجد وسرفروشی میں آجاتے ۔

قارئین ، کیا ایسی آن، ایسی بان وشان اور ایسی پذیرائی کسی اور نبی کے حصے میں آئی۔ کہ روز الست اور وجود آدمؑ ووجود کائنات سے ہزاروں سال پہلے محبوب کے تذکرے اور اس کی گونج آسمانوں میں گونجتی رہے، کیا تاریخ ہزار بار ورق گردانی کے باوجودہمیں اس مثال اور اس کا حال بتاسکتی ہے؟ کہ جو صرف اور صرف ہمارے اور آپ کے جانوں، مالوں اور ہماری اولاد کے مالک ومختارکے حصے میں آئی، کہ ہزاروں سال پہلے سے جن وملائیکہ سے لے کر انسان جس ہستی کے منتظر ہوں۔ بلکہ بادشاہ وقت بھی شہنشاہ دوجہان کے منتظر ہوں یمن کے ایک بادشاہ نے بھی حضورکی آمدو بعثت کا عالموں سے سنا، تو وہ وفور جذبات اور عقیدت ومحبت میں سرشار ہوکر آپ پہ بن دیکھے ایمان لے آیا، آپ کا انتظار کرنا شروع ہوگیا۔ اور پھر ایک خط لکھ کر بند کرادیا ، اور ڈبہ بند کرکے اس وقت کے سب سے بڑے عالم کو دے کر یہ نصیحت کی ، اور وصیت بھی لکھ دی کہ اگر میری زندگی میں محمد تشریف لے آئیں، تو یہ خط ان تک پہنچا دیا جائے، بصورت دیگر میرے مرنے کے بعد مدینے شریف کے اس عالم یا اس کی اولاد اور نسل میں جو بھی حضور کے دور کا اعزاز پائے، وہ یہ امانت آقائے دوجہاں تک پہنچا دے، خط میں تحریر کیا گیا تھا ”اللہ کے نبیانبیاءکے خاتم، رب العالمین کے رسول کی طرف ”تبع اول حمیری“ کی جانب سے ”میں آپ اور آپ پر نازل ہونے والی کتاب پہ ایمان لاتا ہوں، آپ کے دین اور طریقے پر ہوں، آپ کے رب پر اور جوکچھ آپ کے رب کی جانب اسلام اور ایمان کے سلسلے میں آیا ہے اس پر ایمان لایا ہوں، اگر آپ کا زمانہ پاﺅں تو بہتر ہے، وگرنہ قیامت میں میری شفاعت فرمانا، اور مجھے بھول نہ جانا کہ میں آپ کا پہلا امتی ہوں، آپپر ایمان لایا، اور بیعت کی ، میں آپ اور آپ کے باپ ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہوں۔ حضورکی ولادت سے ایک ہزار سال قبل شاہ یمن نے آپکے لیے نعتیہ اشعار بھی کہے اشعار کا ترجمہ یہ ہے۔

”میں نے گواہی دی کہ محمد اللہ کے نبی ہیں جو تمام نعمتوں کا خالق ہے اگر آپ کی زندگی تک میری عمر نے وفا کی تو میں آپ کا بھائی اور مددگار ہوں گا، تلوار سے میں آپکے دشمنوں کے خلاف جہاد کروں گا، اور آپ کے دل سے ہرغم کو دور کروں گا آپکی ایک امت ہوگی، جس کا نام زبور میں آیا ہے، آپ کی امت امتوں میں بہترین ہوگی، دوسری لغت میں لکھا کہ

”اس کے بعد ایک عظیم انسان تشریف لائے گا، وہ ایک نبی ہوگا، جو کسی حرام بات کی اجازت نہیں دے گا، ان کا نام احمد ہوگا۔

اے کاش کہ میں ان کی بعثت (آمد) کے بعد ایک آدھ سال ہی زندہ رہتا۔ جس عالم کو شاہ یمن نے آپکے نام یہ خط دیا تھا ، حضرت ابو ایوب انصاریؓ ان کی اولاد میں سے تھے، جب حضور اس دنیا میں تشریف لائے، تو انہوں نے ابویعلیٰ کو خط دے کر شاہ یمن کی وصیت کے مطابق حضورکے پاس بھیجا۔ قارئین کرام، صدقے جائیے ، قربان جائیے اپنے نبی محمد مصطفیٰ نے جنہوں نے قاصد کو دیکھتے ہی اس کا نام لے کر پکارا، وہ شخص حضورکے مبارک منہ سے اپنا نام سن کر بے حد حیران ہوا، اور بولا آپ نے مجھے کیسے پہچانا؟

فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، آپ نے شاہ یمن کا خط تین بار پڑھا، اور خوشی کا اظہار فرمایا ۔

اپنے کسی امتی کو اپنا بھائی کہنا، دنیا اور آخرت کا ایسا بے بہا خزانہ ہے کہ کوئی امتی اس پر جتنا زیادہ فخر کرے وہ کم ہے، اور شاہ یمن ایسا خوش نصیب ہے کہ جو بن دیکھے اور سینکڑوں اور ہزار سال پہلے ایمان لاکر پہلا امتی کا اعزاز پاکر اللہ تعالیٰ کے حضور سرخرو ہوگیا۔

قارئین ، اللہ کے محبوب کا امتی ہونا، اتنا بڑا اعزاز ہے کہ اگر ہم میں صلاحیت ملائیکہ ہوتی ، تو بطور شکرانہ ہم قیامت تک حالت سجود میں رہتے، کہ یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی دعا اور فرمائش حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی کی تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے قبول نہیں فرمائی،.... قارئین کرام اپنے اعزاز امتی کی خوشی میں نوافل شکرانہ ضرورادا کریں، کیونکہ اللہ کا فرمان ہے کہ میں شکر کرنے والے کو دوگنا دیتا ہوں۔


ای پیپر