آ نے وا لا بجٹ اور حا لا ت کی پیچید گی
15 اپریل 2018

یو ں تو ہر سا ل وطنِ عز یز میں بجٹ جو ن کے مہینے کے آ خر میں پیش کیا جا تا ہے، تا ہم اس کی تیا ری، بلکہ کہنا چاہیے کہ پیشگی اثرا ت اپریل کے مہینے سے ہی شرو ع ہو جاتے ہیں۔ اس سا ل صو ر ت ِ حال کچھ یو ں بھی پیچیدہ ہے کہ مو جو دہ حکو مت اپنی آ ئینی مد ت پورا کر نے کے انتہا ئی نزدیک ہے۔چنانچہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آ یا 2018-19ء کے بجٹ بنا نے کا اختیا ر مو جو د ہ حکو مت کو حا صل ہو نا چاہیے یا نہیں؟خصو صاً ان حا لا ت میں جبکہ با لفز ض مسلم لیگ ن برسرِ اقتدا ر نہیں آ تی تو کیا کو ئی دو سر ی آ نے وا لی حکومت مو جو د ہ حکو مت کے بنا ئے گئے بجٹ سے سمجھو تہ کر پا ئے گی ؟ گو یا یہ ایک گو مگو کی سی صو ر ت ِ حا ل ہے۔اب ا گر اس نکتے سے ہٹ کر بجٹ کی تیا ریو ں کا جا ئزہ لیا جا ئے تو معلو م پڑ تا ہے کہ مو جو د ہ حکو مت آ نے وا لے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشن اور مراعات کے چار نکاتی پیکیج پر کام کر رہی ہے۔ اس با ب میں دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے اس حوالے سے کچھ اقدامات کا اعلان بجٹ میں کیا جائے گا۔ مجوزہ پیکیج میں 10 سے 20 فیصد تک ایڈہاک ریلیف الاؤنس اور گریڈ پندرہ تک کے ملازمین کا ماہانہ میڈیکل الاؤنس 1500 روپے سے بڑھا کر 2000 روپے کرنے جیسی تجاویز شامل ہیں۔ سرکاری ملازمین و افسران کو 2000 تا 16000 روپے ماہانہ یوٹیلٹی الاؤنس دینے کی تجویز کو بھاری اخراجات کے سبب پیکیج سے باہر کردیا گیا ہے۔ ملک بھر کے پنشنروں کو اس سال بہتر پیکیج دینے پر غور کیا جارہا ہے جس میں پرانے پنشنروں کی پنشن میں 25 فیصد اضافہ جبکہ نئے پنشنروں کی پنشن میں 20 فیصد اضافہ کی تجویز ہے۔ ان تجاویز پر حتمی فیصلہ وزیراعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
بے شک بڑھتی ہو ئی مہنگا ئی کے پیشِ نظر یہ اقدامات خو ش آ ئند د کھا ئی د یتے ہیں۔مگر ہما رے ملک کے تا جر حضرات کا یہ وتیر ہ ر ہا ہے کہ سر کا ری ملا ز مین کی تنخو ا ہو ں میں اضافے کی خبر سنتے ہی ا شیا ئے صر ف کی قیمتو ں میں دائیں بائیں د یکھے نئے سر ے سے ا ضا فہ کر د یتے ہیں۔ اس طور تنخواہو ں میں ا ضافے کا فائدہ بھی تاجر طبقے ہی کو پہنچتا ہے۔ جیسا کہ اوپر تحریر کیا جا چکا ہے کہ موجودہ حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے میں دو ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ آئندہ انتخابات میں کون سی پارٹی اکثریت حاصل کر کے آگے آتی اور حکومت بناتی ہے، اس بارے میں کچھ بھی حتمی طو ر پر نہیں کہا جا سکتا۔مو جو دہ حکومت کے کیے گئے بجٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد اور طے کیے گئے اقتصادی ہدف پورے کرنا آنے وا لی حکومت کے لیے مشکل ہوسکتا ہے، کیونکہ بہرحال ہر پارٹی کی قائم کردہ حکومت کی اپنی ترجیحات اور الگ پالیسیاں ہوتی ہیں۔ چنانچہ موجودہ حکومت کو چاہیے معاشی فیصلے کرتے وقت اس بات کو پیش نظر رکھے کہ یہ ملک کے بہتر ین مفا د میں ہوں اور اگلی حکومت کو ان پر عمل درآمد میں مشکلات پیش نہ آئیں۔ 10 تا 20 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کا اعلان اچھا فیصلہ ہو سکتا ہے، لیکن حکمران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ہمارے میں مہنگائی ایڈہاک نہیں ہوتی، مستقل ڈیرہ جمانے کے لیے آتی ہے۔ یہاں ایک بار جو چیز مہنگی ہوجا تی ہے، وہ پھر سستا ہو نے کا نا م نہیں لیتی۔ کسی بھی حکومت میں اتنی طاقت نہیں ہو تی کہ کسی چیز کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس کر سکے اور اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ حکومت کا ہر اقتصادی فیصلہ مہنگائی بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔ وہ پٹرولیم کی مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ ہو یا کسی عالمی اقتصاد ی ادارے سے حاصل کردہ ریلیف پیکیج، کرنسی قدر کم ہونے پر بے بسی کا اظہار ہو یا برآمدات بڑھانے میں ناکامی کا اعتراف، توانائی کا بحران دور نہ کیا جاسکے یا رشوت اور کرپشن پر قابو نہ پایا جاسکے، ہر ایشو مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا عمل بڑھانے کا ہی باعث بنتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایڈہاک ریلیف کے بجائے اسے سرکاری تنخواہوں کا مستقل حصہ بنایا جائے اور اس میں مزید اضافہ کیا جائے۔ ملازمین کا ماہانہ میڈیکل الاؤنس بڑھانے کی تجویز مناسب ہے۔ مگر کیا میڈیکل ا لا ؤ نس بڑ ھا نے سے ملازمین کو بہتر طبی سہو لیا ت د ستیا ب ہو سکیں گی ؟ تو اس سوال کا جو ا ب اس لیئے نفی میں ہے کہ جب تک میڈیکل سٹاف کی تنخو ا ہوں اور مر اعا ت میں ان کے حق کے مطا بق اضافہ نہیں کیا جا تا، وہ کبھی اپنے فر ا ئض دِل جمعی سے ادا نہیں کر پا ہیں گے۔ میڈ یکل سٹا ف میں سب سے زیا د ہ بر ے حا لا ت ینگ ڈا کٹر ز کے ہیں۔ انتہا ئی کم تنخوا ہو ں کی بنا ء پر وہ فر سٹر یشن کا شکا ر ہو کر ملک چھو ڑ نے پر بتد ر یج مجبور ہو تے جا ر ہے ہیں۔ لہٰذ ا آ نے وا لے بجٹ میں ان کی تنخو ا ہو ں اور مر ا عا ت میں اسقد ر اضا فہ کر دینا چاہیے کہ وہ آ ئند ہ کبھی سڑ کو ں پر آ نے پر مجبو ر نہ ہو پا ئیں۔ علا و ہ ا ز یں ملا ز مین کی تنخو ا ہو ں میں ا ضا فے کے اگر اس میں اگر ماہانہ یوٹیلیٹی الاؤنس بھی شامل کرلیا جائے تو عام آدمی کے لیے روز افزوں مہنگائی کے اثرات سہنا ممکن ہوسکتا ہے۔ پنشنروں کو شکایت رہی ہے کہ مہنگائی ان کے لیے بھی اتنی ہی بڑھتی ہے جتنی حاضر سروس ملازمین کے لیے، لیکن ان کی پنشن حاضر سروس ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی شرح سے نہیں بڑھائی جاتی۔ امسال پرانے پنشنروں کی پنشن میں 25 فیصد اضافہ جبکہ نئے پنشنروں کی پنشن میں 20 فیصد اضافے کی تجویز نہایت مناسب ہے۔ پنشنوں میں اتنا اضافہ ہوجائے تو ریٹائرڈ ملازمین کو مہینہ بھر کے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملے گی ۔ آئندہ بجٹ کے لیے چند تجاویز اس طرح ہیں: اس میں درآمدات کم کرنے اور برآمدات بڑھانے کا قابل عمل پروگرام پیش ہونا چاہیے، کیونکہ معاشی بحران پر قابو پانے کا اس سے بہتر طریقہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ ان اشیاء کی درآمد پر ڈیوٹی یا ٹیکس بڑھادیا جائے جو لگژریز میں شمار ہوتی ہیں۔ ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے اور متمول افراد اور خاندانوں سے بزور ٹیکس وصول کیا جائے کہ یہ ریاست کا حق ہے۔ توانائی کے شعبوں کے لیے رقوم مختص کی جائیں کہ اسی سے صنعت کا پہیہ گھومے گا اور معیشت ترقی کرے گی ۔ زرعی شعبہ پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل نظر انداز ہورہا ہے۔ یہ غفلت ختم ہونی چاہیے۔ ضروری ہے کہ نئے بجٹ میں زرعی پیداوار بڑھانے کے اقدامات کیے جائیں کہ ہماری معیشت کا زیادہ تر انحصار تاحال اسی شعبے پر ہے۔ د یکھنے میں آ تا ہے کہ ہما ری حکو متو ں کے اخرا جا ت ہما رے عمو عی معا شی حالات سے کبھی میل نہیں کھا تے، اور کئی گنا بڑھ کر ہو تے ہیں۔ لہٰذا ان اخر ا جا ت میں کمی لا نے کے سلسلے میں خصو صی طو ر پر غو ر کر نا ہو گا۔ بجٹ میں اس امر کا خیا ل ر کھنا ہو گا کہ � آ نے وا لی حکومت کو نئے قرضے نہ لینے پڑیں کیونکہ یہی و ہ نا سو ر ہے جو قومی خزانے پر بوجھ کا با عث بنتا ہے۔


ای پیپر