مستقبل کا سیاسی منظر نامہ
15 اپریل 2018 2018-04-15

نا اہلی پہلے ہوئی مدت کا تعین بعد میں کیا گیا 57 دن پہلے فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا اس عرصہ میں ’’ہوم ورک‘‘ مکمل کرلیا گیا ، پورے اطمینان کے بعد فیصلہ سنایا گیا حیرت ہے کہ کسی کو حیرت نہیں ہوئی، کیوں ہوتی 1999ء میں طیارہ سازش کیس میں 14 سال قید اور 21 سال کے لیے ناا ہل قرار پائے تھے آٹھ نو سال بعدہی اہل ہوگئے۔ فیصلہ سے ایک دن پہلے ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر تھا کہ تا حیات نا اہلی ہوگی نواز شریف تاریخ کا حصہ بنا دیے گئے ’’جیسے مرجھائے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں‘‘ لیکن کیا واقعی؟ کسی نے مریم نواز سے پوچھا کہنے لگیں۔
شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہم
آندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے
نواز شریف کے چہرے پر ملال نہیں تھا بولے ’’اسی فیصلے کی توقع تھی ہدف میری ذات ہے فیصلے مشن سے نہیں ہٹا سکتے‘‘ مخالفین خوشی سے پھولے نہ سمائے باچھیں کھل گئیں بلکہ کُھل گئیں خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی، سیاست کے داؤ پیچ ہیں رل مل کے مستقبل کا سیاسی منظر نامہ تشکیل دینے کی کوششیں، چالیس پنتالیس دنوں میں سب کچھ کرنے کا عزم، بھاری پتھر کو راستے سے ہٹا دیا، سارے ’’بڑے‘‘ نالاں تھے بڑوں سے ’’متھا‘‘ لگانے کا انجام یہی ہونا تھا، متھا لگانے والے بھی اقتدار میں آنے کے بعد ہوش و حواس کھو بیٹھنے کے عادی، سب سے لڑائی ملک کو ترقی نہیں خوشنودی چاہیے، آصف زرداری نے کچھ نہیں کیا کوئی موٹر وے کوئی کارخانہ کوئی بجلی گھر، اسپتال، پانی بجلی صحت کچھ نہیں مگر پانچ سالون میں ’’خوش‘‘ رکھنے کا فن سیکھ گئے، نواز شریف عمر بھر جون ایلیا کے نقش قدم پر چلتے رہے جنہوں نے کہا تھا کہ
ایک ہی فن تو ہم نے سیکھا ہے
جس سے ملیے اسے خفا کیجیے
اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود وہیں کے وہیں کھڑے ہیں کہنے لگے ’’میرے ارد گرد وفاداروں کا ہجوم ہے‘‘ چوہدری نثار کھل کھلا کر ہنس پڑے وفاداروں کی بھی ایک ہی کہی سب بادشاہ سلامت کے جیل جانے کے منتظر، اڈیالہ جیل کی صفائی اپنے ہی کرا رہے ہیں کاش کوئی سمجھے کہ نا اہلی کے فیصلے پر کتنے لوگ سڑکوں پر آئے ڈیڑھ کروڑ ووٹ لینے والے لیڈر کیخلاف فیصلے پر نعرے لگانے والوں کی تعداد پچاس ساٹھ سے زیادہ نہیں تھی کال دے کر دیکھ لیں، سیاست بڑی ظالم چیز ہے لونڈی باندی بن کر رہ لیتی ہے کسی کے گھر مستقل قیام نہیں کرتی، اڈاری بھرنے والے پنچھی طاقت پرواز ملتے ہی اڑ گئے بھانت بھانت کے لوگ تھے ضرورتیں خریدنے والے معزز لوگ ،2013ء میں نواز شریف کو ضرورت تھی کچے دھاگے سے بندھے آئے بقول عدیم ہاشمی۔
اس نے کہا کہ ہم بھی خریدار ہوگئے
بکنے کو سارے لوگ ہی تیار ہوگئے
2018ء کے انتخابات سر پر آگئے تو ’’ڈوبتی کشتی‘‘ سے چھلانگیں لگا کر کنارے پر پہنچ گئے، 5 سال ساتھ رہے اقتدار کے مزے لوٹے، فنڈز ہضم کیے ڈکار لینے کی فرصت نہ تھی اقتدار کا موسم ختم ہونے کو آیا تو موسمی پرندوں کی طرح نقل مکانی کر گئے، نواز شریف 10 پارلیمنٹرنیز کے استعفوں پر ہکا بکا، کچھ کہنا بھی مشکل چپ رہنا بھی مشکل، بولے جانے والے ہمارے تھے ہی نہیں، واقعی نہیں تھے ق لیگ سے آئے تھے یا بھیجے گئے تھے مگر شامل اقتدار کیوں کیے گئے؟ کیسی جمہوریت ہے جس میں ایروں غیروں کو بھی شامل کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا، اس پر یہ دعوے کہ نواز شریف ایک نظریہ اور فلسفے کا نام ہے 35 سال اقتدار میں رہے فدائین کی فہرست نہ بن سکی جو معدودے چند تھے وہ بھی مایوس ہو کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگے طیب اردوان بننے کا خواب کیسے پورا ہو، اڑجانے والے پرندوں پر افسوس کیوں ایسے ویسے بہت سے دانستہ سیاسی جماعتوں میں نظریہ ضرورت کے تحت بھیجے جاتے ہیں ایسے ویسے جیسے تیسے بھی تھے عین وقت پر ایسی تیسی کر گئے ،کچھ پیر کے مرید تھے کچھ پیر مغاں کے پیروکار، کسی نے کہا کہ منحرف ارکان نے کبھی جنوبی پنجاب صوبہ کا ایشو نہیں اٹھایا، یہ لوگ برسوں سے قانون ساز اسمبلیوں کے رکن رہے اقتدار کے ایوانوں تک رسائی رہی لیکن جنوبی پنجاب میں پسماندگی برقرار، بے روزگاری ہر گھر کا مسئلہ ایک ماہ کے نگراں وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کو شاید علم بھی نہیں ہوگا کہ وہ جس صوبہ محاذ کے سربراہ بنے ہیں اس صوبہ کی ’’شہزادیاں ‘‘کراچی کے بیشتر علاقوں میں ماسیوں کے طور پر محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں جبکہ ’’شہزادے‘‘ کراچی کی سڑکوں پر جھاڑو دیتے ہیں الیکشن کے ہنگام غریبوں کو محلوں کے خواب دکھانے والے مخدوموں، مزاریوں اور دریشکوں کو اتنی توفیق نہ ہوئی کہ پنجاب اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے صوبہ کے لیے کوئی بل کوئی تحریک منظور کرالیتے پانچ سال تک منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھے رہے، صوبہ تو کیا بنتا انتظامی یونٹ تک نہ بنوا سکے۔
ملک کا آئندہ سیاسی منظر نامہ کیا ہوگا؟ عمران خان کو سب پتا ہے ’’سنا ہے مجمع بالشتیاں ہے گرد و پیش، تب ہی تو قد پہ اسے مان ہوگیا ہے بہت‘‘ لوگ دور دور سے خبریں پہنچاتے ہیں ما شاء اللہ اب تو روحانی ذرائع سے بھی ’’غیب سے مضامین‘‘ چلے آتے ہیں کہنے لگے آئندہ وزیر اعظم کوئی آزاد امیدوار ہوگا آپ کیوں نہیں؟ بادل چھٹ گئے مطلع صاف ہونے پر سب کچھ نظر آنے لگا ہے، ہنگ پارلیمنٹ کا شور بلند ہو رہا ہے سندھ میں پیپلز پارٹی چالیس سے پچاس یا پھر 60 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے ایم کیو ایم کے دھڑے متحد ہوگئے تو اپنی 24 سیٹیں بچالیں گے پیر پگارا قدرے سرگرم ہوئے ہیں کچھ حاصل کرسکیں گے یا نہیں، نقصان کا اندیشہ ہوگا بلوچستان میں کچھڑی پکے گی ،کوا لایا دال کا دانا چڑیا لائی چاول کا دانا ،سنجرانی نے کھچڑی پکائی کھانے والے پہلے سے موجود ،کے پی کے میں عمران خان کو خود پتا نہیں کہ پرویز خٹک کی حکومت نے پانچ سالوں میں کیا کیا ہے ،کھاتے کھلیں گے تو سینیٹ میں بکنے والے کئی شہ زور منظر عام پر آکر للکارنا شروع کردیں گے، اے این پی، جے یو آئی، جماعت اسلامی، ن لیگ اور دیگر جماعتیں خم ٹھونک کر مقابلہ کریں گی۔ حالات 2013ء سے مختلف ہوں گے، کہتے ہیں خیبر پختونخوا میں کسی پارٹی کی دوبار حکومت نہیں بنی 2013ء میں قومی اسمبلی کی 32 نشستیں تھیں بہت تیر مارے تو 50 تک کرلیں گے حکومت کیسے بنائیں گے وزیر اعظم کیسے بنیں گے؟ تب کیا بنے گا؟ چوں چوں کا مربہ ،جمہوریت کا پھل کھانے کتنے لوگ موجود ہوں گے، پنجاب میں صورتحال غیر یقینی قومی اسمبلی کی141 نشستیں جو یہاں جیتا وہی سلطان، بھاگ دوڑ یہیں ہوگی میدان جنگ پنجاب بنے گا، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی کارکردگی کے لحاظ سے شہباز شریف پر اعتماد، گزشتہ 57 دنوں سے پنجاب پر نظر کرم اور نظر گرم کے باوجود لوگ کارکردگی سے مطمئن لیکن وعدوں، دھرنوں، بیانات، جلسوں، ریلیوں کے معاملہ میں عمران خان سر فہرست، مذہبی جماعتیں سرگرم، طاہر القادری خطرہ نہیں، لیکن گرمانے کا گر جانتے ہیں ’’وہ آگئے تو گرمی بازار دیکھنا‘‘ حقیقت پسندانہ تجزیہ کیجیے ضمنی انتخابات کے دوران ن لیگ پہلے اور پی ٹی آئی دوسرے نمبر پر رہی تحریک لبیک نے بھی پانچ سے دس ہزار ووٹ توڑے، ن لیگ اور پی ٹی آئی کے ووٹوں کا فرق 15 سے 20 ہزار رہا عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل، تحریک لبیک اور دیگر جماعتوں نے مشترکہ دشمن ن لیگ کے 15 سے 20 ہزار ووٹ کاٹ لیے تو فرق ختم ہوجائے گا، ن لیگ جہاں جہاں جیتے گی مقدمات کے ماہر پی ٹی آئی والے انہیں چیلنج کرتے نظر آئیں گے۔ صورتحال جو بھی ہو ن لیگ نواز شریف کے بغیر پنجاب سے 2013ء جتنی نشستیں نہیں نکال سکے گی، صوبائی حکومت بھی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں، اشاروں کی بنیاد پر بنے گی، آئندہ پانچ سال کٹھن ہوں گے نواز شریف کے آزمائشی دور کا آخری مرحلہ قریب ہے جس دن اڈیالہ جیل کی صفائی اور تزئین و آرائش کا کام مکمل ہوگیا اسی دن سابق وزیر اعظم کو پورے ’’پروٹوکول‘‘ کے ساتھ بکتر بند گاڑی میں پہنچا دیا جائے گا سزا سنانے کا وقت قریب ہے لیکن 12 مئی سے پہلے یہ مرحلہ نہیں آئے گا تاکہ صدر مملکت اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے سزا معاف نہ کردیں نگراں حکومت کے آنے کے بعد صدر اپنا اختیار استعمال نہیں کرسکیں گے۔ تب معاملات آہ و فغاں آسان ہوں گے انتخابات ہوں گے ضرور ہوں گے لیکن ہنگپارلیمنٹ کے قائد ایوان کے لیے کسی ’’صادق‘‘ کی تلاش کی جائے گی چاہے وہ سنجرانی ہی کیوں نہ ہو، اسی طرح کسی ’’امین‘‘ کو ڈھونڈا جائے گا خواہ اس کا نام عبدالقدوس ہی ہو جس دن آرٹیکل 63,62 کی چھاؤں میں صادق اور امین نامی اشخاص مل گئے جمہوریت چل پڑے گی ایسے صادق اور امین لوگوں نے حکومت بنالی تو زرداری سینہ پھلا کر کہہ سکیں گے وفاق اور صوبوں میں پی پی کی حکومت ہے۔ مارشل لاء نہیں لگے گا جمہوریت سیاسی ، سفارشی یا سازشی ہی کیوں نہ ہو، پھلے پھولے گی انتخابات میں عوام کا کردار کیا ہوگا؟ پولنگ کے روز ہی پتا چل سکے گا ابھی عشق کے کئی پل صراط طے کرنے باقی ہیں۔


ای پیپر