جنوبی پنجاب کا انتخابی معرکہ
15 اپریل 2018 2018-04-15

پیپلز پارٹی کا خیال تھا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا ترپ کا پتا ان کے ہاتھوں میں ہے۔ ان کا خیال تھا کہ انتخابی مہم کے دوران جنوبی پنجاب صوبے کا نعرہ ان کے مضبوط اور نامور امیدواروں کو انتخاب جیتنے میں مدد دے گا۔ پارٹی قیادت پر اعتماد تھی کہ وہ جنوبی پنجاب سے 15 (پندرہ) کے قریب قومی اسمبلی کی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
تحریک انصاف کو یقین تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کو خیر باد کہنے والے مضبوط اور نامور امیدوار پکے ہوئے پھل کی طرح اس کی جھولی میں آن گریں گے اور وہ جنوبی پنجاب کی زیادہ تر نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ مسلم لیگ (ن) کا خیال تھا کہ وہ اپنے ارکان اسمبلی کی اکثریت کو اپنے ساتھ رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی اور اس کے ساتھ وہ کچھ نہیں ہو گا جو کہ بلوچستان میں ہوا۔ جہاں راتوں رات مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی نے بغاوت کر دی اور چند دنوں کے اندر بلوچستان کی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت اس صوبے کے انتخابی منظر سے ہی غائب ہو گئی۔
مگر چند دن قبل لاہور کے ایک پنج تارہ ہوٹل میں ہونے والی پریس کانفرنس نے جنوبی پنجاب کا انتخابی منظر ہی بدل دیا۔ جنوبی پنجاب کے مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی اور دو بزرگ سیاستدانوں کی اس مشترکہ پریس کانفرنس نے تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی امیدوں ، خواہشات اور توقعات پر پانی پھیر دیا۔ ان چھ ممبران قومی اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) تو چھوڑ دی مگر یہ تحریک انصاف کی جھولی میں نہیں گرے۔
جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ان روایتی سیاستدانوں نے پیپلز پارٹی کے ہاتھوں سے جنوبی پنجاب صوبے کا ترپ کا پتا چھین لیا اور ساتھ ہی تحریک انصاف کے ممکنہ مضبوط اور جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کو بھی اچک لیا۔ جنوبی پنجاب صوبے کا نعرہ ایک بار پھر سے بلند ہوا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے قیام کا فیصلہ ہوا۔ جنوبی پنجاب صوبے کے نعرے اور محاذ کے قیام نے جنوبی پنجاب کے روایتی جاگیردار سیاستدانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے قیام نے پرانی صف بندی کو تتر بتر کر دیا ہے اور نئی صف بندی شروع ہو چکی ہے۔ نئے صوبے کا مطالبہ اب جنوبی پنجاب کی انتخابی مہم میں سرفہرست ہو گا۔ اگلے عام انتخابات کی انتخابی مہم میں جنوبی پنجاب کے علاقوں میں یہ نعرہ اور مطالبہ پوری شدت سے گونجے گا۔
جنوبی پنجاب صوبے کی چال جس نے بھی چلی ہے اس نے تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کو شاہ مات دی ہے۔ بلوچستان کی طرح یہ بھی مکمل سیاسی معجزہ اور کرامت ہے جس کے اثرات بہت دور تک جائیں گے۔ اس کا الزام آپ جسے چاہیں دے سکتے ہیں۔ آپ اس کا الزام مقتدر قوتوں کو دینا چاہیں تو آپ کی مرضی ۔ آپ اسے پس پردہ متحرک قوتوں کا کارنامہ قرار دینا چاہیں تو بھی چلے گا۔ اگر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ والے اس سیاسی چال کے دعویدار ہوں تو بھی ماننا پڑے گا۔ کیونکہ اس سارے کھیل میں ایک بات تو طے ہے کہ مقتدر قوتوں نے ایک بار پھر اپنی برتری ثابت کر دی ۔ سیاستدانوں نے اپنی کمزوری ایک بار پھر عیاں کر دی۔
جو کھیل بلوچستان سے شروع ہوا تھا وہ اب جنوبی پنجاب تک پہنچ گیا ہے۔ اس سارے کھیل میں اگر کسی کی ہار ہوئی ہے تو وہ ہیں پاکستان کی بڑی سیاسی قوتیں۔ اس سارے معاملے میں جمہوری روایات مزید کمزور ہوئی ہیں جبکہ موقع پرستی ، ابن الوقتی اور مستقل اقتدار میں رہنے والی سوچ اور نظریے کی فتح ہوئی ہے۔ بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں جو سیاسی توڑ پھوڑ ہوئی ہے اس کے نتیجے میں پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں کمزور ہوئی ہیں۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اس بات پر تو خوش ہو سکتی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کمزور ہو رہی ہے۔ اس کے مضبوط اور جیتنے والے انتخابی امیدوار اسے چھوڑ رہے ہیں۔ اس کا سیاسی حجم کم ہوتا جا رہا ہے مگر اس کے نتیجے میں ان دونوں جماعتوں کو جتنا مضبوط اور طاقتور ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہو رہا۔
اگر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اس بات پر خوش تھیں کہ بلوچستان سے مسلم لیگ (ن) کا عملاً صفایا ہو گیا ہے تو یہاں تک تو ٹھیک ہے مگر اس کے نتیجے میں یہ دونوں جماعتیں بھی مضبوط نہیں ہوئیں۔ بلکہ بلوچستان عوامی پارٹی ایک نئی انتخابی طاقت کے طور پر سامنے آئی۔ اسی طرح جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) تو ضرور کمزور ہو رہی ہے مگر اس کے نتیجے میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی بھی مضبوط نہیں ہو رہیں بلکہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ ایک نئی انتخابی طاقت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ ویسے تو میرے جیسے عام لوگوں کی باتیں سننے اور پڑھنے کا نہ تو سیاسی قیادتوں کے پاس وقت ہے اور نہ ہی روایت۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے سنجیدہ سیاسی لوگ اچھی طرح سے سمجھ پا رہے ہوں گے کہ ان سیاسی تبدیلیوں کے پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تحریک پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اگلے عام انتخابات کے بعد جو بھی سیاسی جماعت یا جماعتیں حکومت بنائے گی اسے کئی بیساکھیوں کا سہارا لینا پڑے گا۔ نیا سیاسی بندوبست چوں چوں کا مربہ ہو گا۔ بظاہر وزیر اعظم کوئی اور ہو گا مگراصل طاقت کہیں اور ہو گی۔ بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں کچھ ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ جمہوریت اور آئین کے دائرے میں رہ کر ہو رہا ہے۔ کسی بھی ملک کے جمہوری نظام پر غلبہ پانے کی کاوشیں اور کوششیں ہمیشہ جمہوریت اور آئین کے اندر رہ کر ہی ہوتی ہیں۔ جب جمہوریت قائم ہے۔ آئین پورے کا پورا موجود ہے، سیاسی لوگ وزارتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں تو پھر اعتراض کیسا ، تنقید کیسی، بلوچستان کی طرح جنوبی پنجاب کا انتخابی منظر بھی کافی حد تک واضح ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) جس نے 2013ء کے انتخابات میں جنوبی پنجاب کی زیادہ تر نشستیں حاصل کی تھیں اب محض گنتی کی چند نشستوں تک محدود ہو جائے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے مزید ارکان اسمبلی آنے والے دنوں میں صوبہ محاذ میں شامل ہو جائیں گے۔ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی بھی چند نشستوں تک محدود ہو جائیں گی جبکہ پوری کوشش کی جائے گی کہ صوبہ محاذ جنوبی پنجاب کی بڑی قوت کے طور پر ابھرے۔ جنوبی پنجاب میں 50 کے قریب قومی اسمبلی اور 110 کے قریب صوبائی اسمبلی کی نشستیں ہیں۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ اگر قومی اسمبلی کی 20 اور صوبائی اسمبلی کی 50 کے قریب نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو مرکز اور پنجاب میں اقتدار کی کنجی اس کے ہاتھ میں آ سکتی ہے۔ کیونکہ اس وقت مرکزی اور شمالی پنجاب میں اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان ہی ہو گا۔ پنجاب کے شہروں میں مسلم لیگ (ن) کو ابھی تک برتری حاصل ہے جبکہ دیہی حلقوں میں فیصلہ جماعتوں اور ووٹروں نے نہیں بلکہ مقامی گروپوں اور طاقتور امیدواروں نے کرنا ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے چند طاقتور امیدوار مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ کر آزاد حیثیت میں انتخابات لڑیں اور صوبہ محاذ کا حصہ نہ بنیں۔ ایک بات تو بہت واضح ہو گئی ہے کہ سیاسی کھیل اب سیاسی قیادت کے ہاتھوں سے نکل کر کسی اور کے پاس چلا گیا ہے۔ اگلی حکومت کون بنائے گا اس کا فیصلہ اب سیاسی قیادت نہیں بلکہ سیاسی معجزے اور کرامات دکھانے والی قوتیں کریں گی۔ جنوبی پنجاب کے 16 اضلاع کی 50 سے زائد نشستوں کے لئے مقابلہ اب پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف ، مسلم لیگ (ن) اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے درمیان ہو گا۔
جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی قیادت پر یہ اعتراض اٹھایا جا رہا ہے کہ وہ 5 سال تک اسمبلیوں میں خاموشی سے کیوں بیٹھے رہے اور نئے صوبے پر آواز بلند کیوں نہ کی۔ اس اعتراض میں وزن ہے مگر مسلم لیگ (ن) نے وعدے کے مطابق نئے صوبے کے قیام کے لئے عملی اقدامات کیوں نہ کئے اور اس دیرینہ مطالبے کو پورا کیوں نہ کیا۔ احساس محرومی ، غربت ، تعلیم ، صحت ، روز گار، پینے کے صاف پانی جیسے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ معاشی اور سماجی پسماندگی بھی اٹل حقیقت ہے مگر جو لوگ خود کو مسیحا اور ان دیرینہ مسائل کے حل کے طور پر پیش کر رہے ہیں وہ تو خود اس صورت حال کے برابر کے ذمے دار ہیں۔ جنوبی پنجاب کے چند طاقتور جاگیردار اور زمیندار خاندان انگریزوں کے دور سے ان علاقوں کی نمائندگی کرتے چلے آئے ہیں۔ آزادی کے بعد بھی 70 سالوں سے یہ خاندان مستقل اقتدار میں ہیں۔ اگر یہ لوگ اتنے مخلص ہیں اور اپنے علاقوں کے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں تو 70 سالوں سے انہوں نے کوئی عملی اقدامات اور کوششیں کیوں نہیں کیں۔ نئے صوبے بننے چاہئیں۔ نچلی سطح تک اقتدار اور طاقت تقسیم ہونا چاہئے مگر اس کے ساتھ ساتھ معاشی اور سماجی ڈھانچہ بھی تبدیل ہونا چاہئے۔ جاگیرداری کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ زرعی اصلاحات کے ذریعے زمینیں بے زمین کسانوں اور ہاریوں میں تقسیم ہونی چاہئیں۔ ورنہ سیاسی نعرے اور چالیں مخصوص وقت پراپنی وقعت کھو دیتی ہیں۔


ای پیپر