ماضی کے مزار
15 اپریل 2018 2018-04-15

ان گنت جماعتیں،دھڑے،اتحاد قائم ہوئے۔ خبریں شائع ہوئیں۔تجزیے کیے گئے۔پراپگینڈہ کی ایسی گرد اٹھی کہ آسمان تک کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ لیکن کیا ہوا۔زمانے کی گردشوں اور حالات کی کروٹوں نے ان سب کو مٹا ڈالا۔ایسی سا ری پارٹیاں،اتحاد اور گروپ ماضی کے مزاروں میں دفن ہو گئے۔ بے نشان قبروں میں ہمیشہ کیلئے گم ہو گئے۔ کسی کی قبر پر شناختی کتبہ تک نظر نہیں آتا۔ کوئی تردد کرے تو شاید کسی اخبار کے خصوصی ضمیمہ میں کسی بھولی بسری یاد کی مانند ایک آدھ تصویر نظر آجائے۔لیکن اتنا تردد کون کرے۔وہ تو مہرے تھے۔ ان پیادوں کا کام تو شاہ وقت کیلئے قاتل کا کردار ادا کرنا تھا۔ سیاست کی بساط پر اپنی چال چلی اور وقت آنے پر خود بھی پٹ گئے۔ مہروں کے پیچھے چھپے شاطر بار بار تجربہ کرتے ہیں لیکن تاریخ کا سبق تو یہی ہے کہ اکثر مہرے تو اپنا کردار ادا کرنے سے پہلے ہی پٹ گئے۔ فیض کے اس شعر کی مانند کہ ’’اپنی ہار نئی ہے نہ ان کی جیت‘‘۔تاریخ کے ہر موڑ پر کوئی ایک سیاسی گروہ آگے بڑھتا ہے۔شاطروں کو اپنا کندھا رضا کارانہ طور پر پیش کر تا ہے۔خوشی اور اہتمام کے ساتھ استعمال ہو تا ہے۔ یہ سوچ کر کہ اس کی باری کبھی نہیں آئے گی۔ یہ سوچے بغیر کہ آج حریف نشانے پر ہے کل وہ تیر ستم کی زد پر ہوں گے۔
سبق سیکھنا ہو تو اس میں کیا مشکل۔تاریخ کے اوراق میں اخبارات کے صفحات پر سب کچھ محفوظ ہے۔ ابتلا کے ان ادوار سیاسی ملا کھڑوں کے وہ سنسنی خیز شب و روز چشم دید گو اہوں کی یاد داشتوں میں محفوظ ہیں۔میری عمر کے لوگوں نے 80 کے عشرے سے پہلے کے سیاسی کھیل تماشے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھے۔لیکن پڑھا سنا تو ضرور ہے۔ پاکستان تو ویسے بھی ایسے انڈور کھیل تماشوں کے معاملے میں بہت خود کفیل ہے۔ کبھی لسٹ بنانے بیٹھ گئے تو کوئی ایسا نہیں کہ جو مکمل صحت کے ساتھ ایسی سیاسی جماعتوں کی لسٹ تیار کرے جو بدلتی رتوں کی طرح آئیں اور پھر نئے موسموں کے ہنگام میں ہمیشہ کیلئے فنا ہو گئیں۔بس کسی محلے کی پرانی دیوار پر کی گئی چاکنگ کے سوا ان کا کوئی نشان تک باقی نہ رہا۔ قلم اور کیمرے کی دنیا کا یہ متبدی بندہ مزدور لکھنے بیٹھا تو یادداشت نے مکمل طور پر ساتھ نہ دیا۔ تحقیقی مواد با قاعدہ تاریخوں اور ناموں کے ساتھ ایسی لسٹ بنانا مشکل ہے۔جو ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہوئیں۔گلیوں میں اڑتے آوارہ تنکوں کی طرح منظر عام سے محو ہو گئیں۔ 26 سال سے تو خاکسار بھی ایسی ان گنت پریس کانفرنسوں،بریفنگز آف دی ریکارڈ گفتگووں،بریکنگ نیوز کا شاہد ہے۔جب اچانک سیاسی جماعت نے ست ماہے بچے کی طرح جنم لیا اور پھر انڈر ایج نومولود کی طرح دنیا سے رخصت ہو گئیں۔تاریخ کے اوراق میں لکھا ہے کہ خود ساختہ فیلڈ مارشل کو ضرورت پڑی تو فدویان عصر سیاستدان سینوں پر ہاتھ رکھ کر خمیدہ کمروں کے ساتھ دربار شاہ میں پیش ہوئے۔اپنی اسناد تقرری پیش کیں۔حاکم وقت نے ان رضا کارانہ خدمات کو شرف قبولیت بخشا اور اپنے اقتدار کی مدت میں اضافہ کر لیا۔استعمال ہونے والوں کیلئے بھی کوئی نئی بات نہ تھی۔ان کے اجداد نے یونینسٹ پارٹی میں رہ کر یہی سیکھا تھا سلام صرف چڑھتے سورج کو۔مسلم لیگی پہلی دفعہ کنونشن اور کونسل لیگ کے دھڑوں میں تقسیم ہوئے۔کنونشن والے راتوں رات اقتدار کے جھولے پر سوار ہوئے۔کونسل والوں کے ہاتھ اپوزیشن میں رہنے کا اعزاز آیا۔لیکن اقتدار کو دوام نہیں ہونا۔ازل سے لمحہ رواں تک اربوں انسان اقتدار کو دوام دینے کی خواہش میں رزق خاک ہو گئے۔سدا اقتدار تو مالک کائنات کا ہے۔باقی سب تو بہتے پانی پر تیر تے بلبلے ہیں۔ان کی کیا اوقات،کیا بساط۔ایوب خان کی خواہش اقتدار کے بطن سے پہلی عوامی جماعت پیپلز پارٹی نے جنم لیا۔ پھر 1977 کا پر آشوب دور یاد آتا ہے۔ جب پی این اے نامی اتحاد یاد آتا ہے۔نو ستارے جس کے جھنڈے پر جگمگاتے تھے۔نشان جس کا ہل تھا۔وہ نو فریقی اتحاد بھٹو کو شکست نہ دے سکا۔لیکن اصل منصوبہ کچھ اور تھا۔مارشل لاء کی راہ ہموار کرنا۔دھاندلی کے نام پر چلی تحریک پھسپھسی تھی۔الیکشن میں دھاندلی کی تحریک میں مذہب کو ڈالا گیا۔امریکہ نے کچھ سالوں بعد ہمارے ہمسائے میں ڈیرہ ڈالنا تھا۔لہٰذا پاکستان میں مرضی کی حکومت بہت ضروری تھی۔ معصوم سادہ لوح عوام کے مذ ہبی جذبات کو ایکسلائیٹ کرتے ہوئے تحریک میں نظام مصطفی کا مطالبہ ڈالا گیا۔امریکی ڈالر وں کی ریل پیل ہوئی۔بھٹو اور پی این اے کے مذاکرات کامیاب ہوئے۔لیکن اصل منصوبہ تو کچھ اور تھا۔ 5 مئی کی شب مارشل لاء لگا۔پی این اے کی تحریک نظام مصطفی کامیاب ہوئی۔نفاذ اسلام میں نہیں بلکہ رد جمہوریت میں۔شاید اسلام کے نام پر سیاست کرنے کی سزا ہے کہ آج تک پی این اے کے سارے مہرے عوامی پذیرائی سے محروم ہیں۔ کچھ مستحقین کو اقتدار کا شور با پینے کو ملا۔وہ بھی عارضی مدت کیلئے۔1988 میں ایک مرتبہ پھر الیکشن کا مرحلہ در پیش تھا۔پیپلز پارٹی ایک مرتبہ پھر اقتدار پرقابض گروپ کے اعصاب پر سوا ر تھی۔کوئی راستہ نظر نہ آتا تھا۔آخر کار وہی پرانا آزمودہ نسخہ استعمال ہوا۔کسی نیم تاریک دفتر میں آئی جے آئی نامی اتحاد بنا۔مشن سٹیٹمنٹ صرف ایک تھی۔ پیپلز پارٹی کا راستہ روکا جائے۔ میاں نواز شریف تب سیاست میں نوارد تھے۔مقصد حصول اقتدار تھا۔وزارت سے وزارت اعلیٰ تک کا سفر وہ بآسانی طے کر چکے تھے۔ کوئی خاص مشکل در پیش نہ آئی کچھ کمپر و مائنر ہی کرنے پڑے ہونگے۔صرف دو سال کے عرصہ میں آئی جے آئی کامیاب ہو ئی۔ بینظیر بھٹو فارغ اور نوا ز شریف اقتدار میں۔حسب معمول اتحاد کے عظیم قائدین جوتیوں میں دال تقسیم کرتے دیکھے گئے۔ کچھ عرصہ کیلئے پاکستان اسلامی فرنٹ بھی بنا۔ پراپیگنڈے سے یوں لگتا تھا کہ موغا دیشوں سے لیکر کابل تک غلبہ اسلام یہی اتحاد قائم کرے گا۔ لیکن خواہشیں کب پوری ہوتی ہیں۔ان ماہ و سال میں سر پرستوں کے اشارے پر کئی اتحاد بنے۔کبھی پاکستان عوا می اتحاد، کبھی ملت پارٹی،کبھی جے ڈی اے،کبھی چاند تارہ گروپ،کبھی گھڑا پارٹی،کبھی تانگہ پارٹی۔پاکستان تحریک انصاف بنی تو اس کے پیچھے فاتح جلال آباد حمید گل مرحوم کا سانٹ انقلاب کا نظریہ پنہاں تھا۔ 2002 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن)کا راستہ روکنے کیلئے مسلم لیگ (ق) بنی۔ لیکن پیپلز پارٹی غیر متوقع پر خاصی اقتدار میں سیٹیں جیت گئی۔لہٰذا شب کی تاریکی میں اچانک کچھ ارکان پارلیمنٹ پیٹریاٹس ہو گئے۔ ان پیٹریاٹس نے اپنے طے شدہ کردار کے عوض وزارتیں اور منصب پائے۔لیکن 2008 کے بعد یوں غائب ہوئے کہ جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔اب ایک مرتبہ پھر عام انتخابات کا مرحلہ در پیش ہے۔نئے اتحاد سیاسی جماعتیں بن اور ٹوٹ رہی ہیں۔ بلوچستان میں بی اے پی نامی جماعت وجود میں آ چکی ہے۔جبکہ جنوبی پنجاب کے آزمودہ کھلاڑی صوبہ محاذ کے پلیٹ فارم پر اکھٹے ہو رہے ہیں۔شنید ہے کہ حکمران جماعت کی صفوں میں مزید شگاف پڑنے والے ہیں۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو۔ ماضی گم گشتہ کا سبق تو یہی ہے کہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی مقررہ مدت سے پہلے ہی ایکسپائر ہو جاتا ہے۔عارضی طور پر فتح و شکست ضرور ہوتی ہے۔لیکن وہی جماعتیں باقی رہی ہیں جن کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں۔


ای پیپر