استعمار پاک افواج سے خائف ہے
15 اپریل 2018

جہاں تک عالم اسلام میں بدامنی ،دہشت گردی اور فرقہ واریت کے فروغ کا تعلق ہے تو اس کے پیچھے امریکی و مغربی ممالک کا گندا اور غلیظ کردار دنیا کے کسی بھی باخبر شہری سے ڈھکا چھپا نہیں۔ یہ عالمی استعماری قوتیں ہی ہیں جو مسلم ممالک میں ایسے عناصر اور گروہوں کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے اسلحی اور مالی امداد فرہم کرتی ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ عراق میں امریکی و اتحادی افواج کے زمین پر قدم جماتے ہی سی آئی اے نے شیعہ سنی فساد کرانے کی کوشش کی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج عراق شیعہ عراق، سنی عراق اور کرد عراق میں عملاً منقسم ہوچکا ہے ۔ شام اور یمن میں یہی قوتیں حوثی قبائل اور ڈکٹیٹر بشارالاسد کی ممد و معاون بنی ہوئی ہیں۔ہر کہ و مہ جانتا ہے کہ ہیلری کلنٹن برملا تسلیم کر چکی ہیں کہ داعش امریکہ کی پروردہ تنظیم ہے ۔ ٹونی بلیئر بھی اسی سے ملتی جلتی بات کہہ چکے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ملم ممالک میں دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کا حقیقی سرپرست عالمی سامراج ہے ۔ دہشت گرد اور کاالعدم فرقہ پرست تنظیموں کے نیٹ ورک کے خاتمہ کے لیے اجتماعی کوششیں امت مسلمہ کا اجتماعی فرض ہے ۔ یہ کام از بس اشد ضروری ہے ۔
کون نہیں جانتا اور کون ہے جو اس حقیقت سے انکار کرسکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی نیشنل پالیسی سے قبل ہی امریکی انتظامیہ اس امر کا اہتمام کر چکی تھی کہ اسرائیل کی ہمسائیگی میں کسی بھی عرب ملک کو اتنا مضبوط اور مستحکم نہ رہنے دیا جائے کہ وہ کسی بھی وقت اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکے۔ ایک طے شدہ پالیسی کے تحت عراق ، شام اور لیبیا کی اینٹ سے اینٹ بجا ئی جا رہی ہے ۔ اسی پالیسی کے تحت مشرق وسطیٰ کے کسی ملک میں مضبوط جمہوری حکومت قائم نہیں ہونے دی گئی۔ 2012ء کے انتخابات میں مصر میں جب صدر مرسی کی قیادت میں جمہوری حکومت قائم ہوئی تو ایک ہی سال میں فوجی جرنیلوں کے ذریعے اس کا تختہ الٹ دیا گیا۔ آج مصر شام، لیبیا اور یمن داخلی انتشار اور خانہ جنگی سے دو چار ہیں۔اس کی وجہ وہاں پے در پے فوجی انقلاب ہیں، جنہوں نے حالات کا چہرہ مسخ کر کے رکھ دیا ہے ۔ ان حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالم اسلام کے مقتدر طبقات تاریخ کے اس اہم موڑ پر کوئی نتیجہ خیز اقدام کرنے کی اہلیت، استعداد اور صلاحیت رکھتے ہیں؟ بدقسمتی سے زمینی حقائق اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے نظر نہیں آتے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں پے در پے فوجی آمریتوں اور موروثی حاکمیتوں کا ساتھ دیا۔ امریکی اشاروں پر برپا کیے جانے والے انقلابوں نے مشرق وسطیٰ میں اہمیت کے حامل ممالک کو خانہ جنگی کے جہنم میں جھونک رکھا ہے ۔ مشرق وسطیٰ کے وہ ممالک جہاں فوجی آمریتیں، ملوکیت اور موروثی بادشاہت ہے ، انہوں نے بیت المقدس اور فلسطینیوں کی آزادی کے اہم ترین مسئلے پر کبھی توجہ نہیں دی۔عالم اسلام کے تمام مقتدر طبقات کو چاہیے کہ وہ مسلم امہ کو فرقہ واریت کے فتنے سے آگاہ کریں جسے امت کے دشمن سارے عالم اسلام میں پھیلاتے چلے جارہے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ شام پر ایک موروثی ڈکٹیٹیر کی حکومت مسلط ہے جو بے دریغ لاکھوں شہریوں کے قتل عام کا ذمہ دار ہے ۔ مسئلہ کا حل یہی ہے کہ بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کر کے تمام سٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ اس مسئلے پر پاکستان، ایران، ترکی اور عرب ممالک ایک ہی صفحے پر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان، ترکی، ایران اور متمول عرب ممالک پیش پا افتادہ مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اگر متحد و متفق ہو جائیں اور کسی ٹھوس اقدام کا فیصلہ کر لیں تو اس کے بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ عالم اسلام کے وہ تمام ممالک جو کسی بھی درجہ پر اہمیت کے حامل ہیں، عالمی استعمار انہیں داخلی سطح پر اپنے پلانٹڈ دہشت گردوں کے ذریعے کمزور بنانے کے ایجنڈے پر گزشتہ تین عشروں سے عمل پیرا ہے ۔ 1991ء کی عراق کے خلاف جنگ سے تادم تحریر یہ ممالک ابتلا، بحرانوں ، مصائب اور اندرونی و سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ ان تین عشروں میں 14لاکھ عراقی، لاکھوں افغان اور سات لاکھ سے زائد شامی زندگی سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہ سلسلہ جنوبی ایشیا میں بھی جاری ہے جہاں بھارت سرکار مقبوضہ کشمیر اور دیگر ریاستوں میں دہشت گرد ہندو تنظیموں کی سرپرستی کر رہی ہے ۔ سری لنکا، میں بھی بدھ انتہا پسندوں نے مسلمانوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے ۔ ان کے سیکڑوں گھر، دکانیں اور دیگر املاک نذر آتش کی جا رہی ہیں۔ اُن کی بستیوں پر مذکورہ انتہا پسند مسلح جتھے بنا کر حملے کر رہے ہیں۔ میانمار کا صوبہ راکان تو مسلمانوں کا مقتل بن چکا ہے ۔ ایسے میں افغانستان میں داعش کی موجودگی کی خبربھی کسی طرح ایک مہیب خطرہ سے کم نہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ امریکی، نیٹو، ایساف اور افغان فوج بھی ان کا راستہ روکنے میں ابھی تک ناکام ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ قوتیں اب پاکستان کو اپنا ہدف بنانا چاہتی ہیں۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ جس طرح بھی بن پڑے پاکستان میں بھی عراق اور شام کے سے حالات پیدا کردیے جائیں۔ وہ کب کا ایسا کر چکے ہوتے لیکن یہ امر عوام کے لیے حوصلہ افزاء ہے کہ پاک افواج کے افسران اور جوان ان کے راستے میں ایک بلند اور ناقابل تسخیر پہاڑ کی مانند ڈٹے ہوئے ہیں۔ ایک ایسا پہاڑ جس کے ساتھ ٹکراکر وہ خود توپاش پاش ہوسکتے ہیں لیکن اس کے وجود پو ایک خراش بھی نہیں ڈال سکتے۔ بھارت، اس کا سرپرست امریکا اور اس کے حلیف مغربی طاقتیں بھی بہ خوبی جانتی ہیں کہ 22کروڑ پاکستانی افواج پاکستان کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔


ای پیپر