گلی محلے میں پھرنے والے ’’عوامی فنکار‘‘ کی نصیحت ؟
15 اپریل 2018 2018-04-15

باؤ ۔۔۔ فہیم انور چغتائی کے ساتھ لاہور کے رائل پارک میں ، اچھے موڈ میں کندھے سے کندھا ملائے میں جب سلیمان آرٹس پریس اور سبطین بھائی کے دفتر کے سامنے سے گزرا تو مجھے محسوس ہوا جیسے میں بھی کسی پرانی فلم کا ولن ہوں یا شاید ہیرو؟ ۔۔۔ وہی ماحول، وہی ہوا، وہی بدبو ۔۔۔ اور دیواروں پر اُسی انداز میں پان کی گندی تھوک کے چھینٹے، مجھے لگتا ہے بمبئی کے ارد گرد پھیلے سٹوڈیوز کے مضافات میں بھی ’’اسی خوبصورتی‘‘ دکھائی دیتی ہو گئی ایسی ہی صدائیں سنائی دیتی ہوں گی گویا عام قسم کی محلے داری اور فلمی دنیا کا رہن سہن ۔۔۔ یقیناًان میں واضح فرق ہونا تو ضروری امر ہے ۔۔۔؟!
لاہور کے روائتی کھانے، لاہور کے روائتی چوک اور پھر لاہور کے روائتی پان، سگریٹ کے کھوکھے اندازِ بیان، چال چلن اور گفتگو کا انداز؟ ۔۔۔ گرچہ ان میں کمی محسوس ہو رہی ہے، بناوٹ زیادہ داخل ہو چکی ہے مگر یہ روائتیں مرتے مرتے ہی مرتی ہیں ۔۔۔ رنگ، نسل اور قومیں اپنی خوبیاں خامیاں اور خاصیتیں کب بھولتی ہے، کب بدلتی ہیں؟ ۔۔۔ صدیوں سے یہ سب چلتا آیا ہے بمبئی اور ہالی وڈ کے اردو گرد بھی مجھے لگتا ہے ایسا ہی ماحول ہو گا؟
ماٹھا باؤ ۔۔۔ اپنے روائتی انداز میں ایک بوڑھے آدمی کو دبا رہا تھا، مالش کر رہا تھا اور ساتھ اُس کے ہاتھوں کی پھرتی اور قینچی سی زبان بھی چلتی ہی چلی جا رہی تھی ۔۔۔ بیان ہو رہی تھی لاہور کے نگار خانوں کی تاریخ اور ہیروئنوں کی کہانیاں ۔۔۔ ماٹھا ۔۔۔ باؤ ۔۔۔ اٹھا تو بوڑھابھی چلنے لگااور آہستہ مگر گرجدار لہجے میں بولا (یہ منظر صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے آپ سوچ کے انجوائے کریں؟) ’’کتھے مر گیا ایں بے غیرتا؟‘‘ ۔۔۔ ماٹھے باؤ نے کوئی جواب نہ دیا اور نہایت جذباتی انداز میں بولا ’’ فنکار پر جب کیفیت طاری ہو تو وہ کب کسی کی سنتا ہے؟ کب کسی کی مانتا ہے ملک مظفر (مجھے کندھوں سے جھنجھوڑتے ہوئے) میں پاکستان کا واحد فنکار ہوں جو تین بار ایک ہی فلم میں قتل ہوا ۔۔۔ مارا گیا لیکن فلم کے آخری سین میں لوگوں نے مجھے مجرے کے منظر میں طوائف پر نوٹ نچھاور کرتے بھی دیکھا‘‘ ۔۔۔؟ نوٹ جس طرح ماٹھا باؤ نے نچھاور کئے ۔۔۔ میں کیا بتاؤں کیا انداز تھا ۔۔۔ میری ہنسی نکل گئی ۔۔۔ ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے ۔۔۔ ہر طرف قہقہے بکھرنے لگے، سب ایک دوسرے پر ہنسی کے باعث گر رہے تھے ۔۔۔ سینما ہال میں ہوتے تو ہال تالیوں سے گونج اٹھتا، شور مچ جاتا ۔۔۔
’’سن چاچا ۔۔۔ میں مظفر ملک نہیں ۔۔۔ مغل فیملی سے تعلق ہے میرا‘‘ ۔۔۔ میں نے سینہ فخر سے بلند کرتے ہوئے اپنی صفائی پیش کی ۔۔۔
وہ زور سے ہنسا ۔۔۔ اور فخر سے بولا ۔۔۔
باؤ ملک مظفر ۔۔۔ اچھا ہوا میں نے تجھے ملک کہہ کر بلایا ۔۔۔ کیونکہ مغلوں کی پچھلی تاریخ کوئی بہت زیادہ عزت کے قابل تو نہیں؟ بچ برُے دی یاری توں ۔۔۔
ایسے بے ہودہ شخص کے منہ نہ ہی لگا جائے تو بہتر ہے ۔۔۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا ۔۔۔ اور وہ جب جب مجھے ملک مظفر کہتا رہا میں ہنستا رہا ۔۔۔ اور اپنے مغل ہونے پر ضد نہ کی ۔۔۔
باؤ ماٹھا جی ۔۔۔ آپ نے اب تک کتنی فلموں میں کام کیا ہے؟ ۔۔۔
میں نے اگلا سوال داغ دیا ۔۔۔
آپ صحافی لوگ بھی الجھ کر رہ گئے ہو ۔۔۔ سیاستدانوں نے تمہیں الجھا کر رکھ دیا ہے ۔۔۔ صحافی صحافت بھولتے جا رہے ہیں بنیادی طور پر ضروری تھا کہ تم میرے ’’فن‘‘ پر گفتگو کرتے، میرے پیشے میں دلچسپی لیتے، یہ تو پارٹ ٹائم فلمی دنیا میں نے جوائن کی تھی ۔۔۔ شوق تو میرا مالش کرنا ہے اور میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ میں نے اپنا پیشہ ہی اپنا شوق بھی بنا لیا اور زمانہ جانتا ہے کہ باؤ ماٹھا جب کسی کی مالش کرتا ہے کسی کو دباتا ہے چمپی کرتا ہے تو وہ ہواؤں میں جھومنے لگتا ہے خود کو اڑتا ہوا محسوس کرتا ہے ۔۔۔ ایک لذت ہے میرے ہاتھوں میں خوشی دیتا ہوں میں اپنے کلائنٹ کو ۔۔۔
میرے سوال پر باؤ ماٹھا نے بتایا کہ میں نے گجرسیریز کی تقریباً سبھی فلموں میں کام کیا ہے ۔۔۔ آپ بیٹھے ہوں لاہور کے رائل پارک میں ، باؤ ماٹھا سامنے ہو اور گجر سیریز فلموں کا تذکرہ ہو اور ذکر نہ چھیڑا جائے مرحوم سلطان راہی کا ۔۔۔؟ کیسے ممکن ہے آج بھی رائل پارک میں منور ظریف اور سلطان راہی کو ایسے یاد کیا جاتا ہے جیسے وہ شباب سٹوڈیو میں بیٹھے ہوں اور ابھی لوٹ آئیں گے۔۔۔
باؤ ۔۔۔ ملک مظفر ۔۔۔ میں نے جب بھی فن کے سلطان کو اُس وقت جب وہ تھکا ہارا آیا ۔۔۔ مالش اور پھر دبایا ۔۔۔ تو اُس نے دعائیں بھی دیں اور نوٹ بھی دل کھول کر نچھاور کئے ۔۔۔ باہر ہزاروں پرستاروں کا رش اور میں اکیلا مالش میں مگن ۔۔۔
باؤ ۔۔۔ ماٹھا ۔۔۔ میں نے طویل انٹرویو کے آخر میں اپنی طرف سے آخری سوال پوچھا ۔۔۔ ’’کیا پیغام دیتے ہو آپ نئی نسل کے لڑکے لڑکیوں کو جو فلم لائن کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں؟ کمپیوٹر سے محبت کرتے ہیں، موبائل فون جن کا اوڑھنا بچھونا ہے، پڑھائی سے دور بھاگتے ہیں ۔۔۔؟!؟
’’ذلیل و خوار ہونا ہے تو اس شعبے کی طرف آ جاؤ ۔۔۔ دو دقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی، دلیپ کمار، انجمن، شبنم، محمد علی، ذیبا، ندیم، امتیابھ جی کا وقت گزر گیا ۔۔۔ اب رسوائی ہے جگ ہنسائی ہے ۔۔۔ نئی نسل کو کہہ دو (اُس نے اُٹھ کے سلطان راہی کے انداز میں بھڑک لگاتے ہوئے کہا) ۔۔۔
’’لڑکے لڑکیو ۔۔۔ اگر تم میٹرک ود سائنس کر لو ۔۔۔ تو کوشش کرو کسی اچھے کالج میں داخلہ لے لو ۔۔۔ یا پھر کلرکی کر کے عزت کی روٹی کماؤ ۔۔۔ ورنہ یہ دیکھ لو ۔۔۔ تیل کی ’’چھ شیشیاں‘‘ اور رات کی تاریکی میں اندھیرے راستوں پر چلتے ہوئے ۔۔۔ نہایت درد بھری آواز ۔۔۔ جو اُس وقت لگائی جاتی ہے جب کتے بھی بھونک بھونک کے تھک چکے ہوتے ہیں ۔۔۔
’’تیل مالش ۔۔۔ تیل مالش‘‘ ۔۔۔


ای پیپر