قوم کے گمنام محسن ۔۔۔
15 اپریل 2018

یہ قصہ ہے 1987ء کا ۔۔۔ راج گڑھ ، ریواز گارڈن اور چوبرجی کے قرب و جوار کا بلدیاتی حلقہ ہے ۔۔۔ حلقہ نمبر 103۔۔۔ ایک جوشیلا جوان صحافی جس کی رگوں میں اسلام اور پاکستان لہو کی طرح گردش کرتا ہے ۔۔۔ اور جو اپنے ارد گرد منشیات، جوئے اور کرپشن کے اڈے دیکھ دیکھ کر پریشان ہے ۔۔۔ اس کے افعال و اعمال کے باعث ہر جا احترام ہے اس کا ۔۔۔ علاقے کے بزرگ و با اثر افراد اسے ملتے ہیں اور علاقے سے کرپشن اور منشیات کے گڑھ کو ختم کرنے کے لئے اس کی مدد چاہتے ہیں۔۔۔ اسے کونسلر کا الیکشن لڑنے کی ترغیب دیتے ہیں ۔۔۔ اس صحافی کے پاس شرافت اور دیانت کے سوا کچھ نہیں ۔۔۔اور ہمارے معاشرے میں الیکشن لڑ نے کو ان خوبیوں کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔۔۔مگر لوگوں کے اصرار اور کچھ خدمت خلق کے جذبے کے تحت وہ الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیتا ہے ۔۔۔اس وقت کے حاکم پنجاب کا بھائی اسے طلب کرتا ہے اسے کونسلرکا انتخاب لڑنے سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے بصورت دیگر سیٹ کی اس وقت کے حساب سے قیمت یا '' جگا ٹیکس'' ساڑھے تین لاکھ بتاتا ہے ۔۔۔ نوجوان صحافی دلیری سے انکار کردیتا ہے اور الیکشن میں حصہ لینے کا پختہ عزم بھی ظاہر کردیتا ہے بلا خوف و خطر۔۔۔وہ الیکشن جیت جاتا ہے بریانی یا لفافے بانٹے بغیر ۔۔۔ ایک میگافون میں 2 روپے کے سیل ڈال کر گلی گلی پیدل پھر کر ۔۔۔اپنے دردمند الفاظ اور سچے جذبوں کے ذریعے ۔۔۔ ایک دھچکا لگتا ہے لوٹ مار کرنے والوں کو ۔۔۔ لیکن نا خداؤں کی نئی چال یہ ہوتی ہے کہ علاقے کے ترقیاتی فنڈز کا اختیار وہ اپنے ہی بندوں کے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ تمام قانونی اور اخلاقی ضابطوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے۔۔۔ لیکن وہ بندۂ خدا کسی نہ کسی طرح اپنے تئیں علاقے سے اپنی مدد آپ کے تحت جرائم کی بیخ کنی کرنے پر جتا رہتا ہے ۔۔۔ قوم کے اس گمنام ہیرو نے بہت حد تک علاقے میں آباد گھرانوں کی مدد سے منشیات مافیا اور اسلحہ اور گارڈ لے کر گھومنے والے بکاؤ غنڈوں کا داخلہ بند کر دیا۔۔۔یہ لاہور کا واحد بلدیاتی حلقہ تھا، جہاں منشیات فروشی کا مکمل خاتمہ ہوا۔ اس کی خبر امریکی قونصلیٹ جنرل تک بھی پہنچی۔ نواز شریف کے حلقہ سے جیتنے والے واحد آزاد امید وار کو بلایا اور پوچھا کہ ’آپ نے منشیات فروشی کے حوالے سے بدنام بلدیاتی حلقے میں اس جرم کا انسداد کیسے کیا‘۔ اس نے کہا: ’اللہ کی مدد اور دوستوں کے تعاون سے‘۔ ایم پی اے کے الیکشن میں بھی اسے بہت کوشش کی گئی روکنے کی۔۔۔ وہ جانتا تھا نہیں جیت پائے گا طاقت اور پیسے کے اس کھیل میں ۔۔۔ مگر اس نے پھر بھی اپنی ہمت سے کرپٹ ایم پی اے کے ووٹ توڑ کر اسے ہروا دیا ۔۔۔ یہ وہی ایم پی اے تھا جس نے اس نوجوان کونسلر کو ترقیاتی فنڈز دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا I am not your boundہار کا احساس ہوتے ہی جب وہ پریشان حال ووٹوں کا سودا کرنے اسی نوجوان کے پاس آیا تو نوجوان نے تاریخی الفاظ کہے '' ملک صاحب زندگی ایک گنبد ہے جس میں آج آپ کو اپنے الفاظ کی بازگشت سنائی دے گی I am not your bound
آج بھی وہ شخص کئی دہایوں بعد موٹر سائیکل پر ہی ہے۔۔۔ وہ نواز شریف کے حلقے امین پارک کا باسی ہے۔ آ ج بھی اپنی زندگی اسی طرح محنت اور ایمان داری سے گزار رہا ہے۔۔۔اس کے ساتھ کے پیدل چلنے والے کئی صحافی آج قلم بیچ کر لینڈ کروزرز میں سفر کرتے اور محلوں میں عیش کر رہے ہیں۔۔۔ قوم کے اس گمنام ہیرو کی سادہ مسکراتی بیوی کو اپنے شوہر اوربیٹی کو باپ پر مان ہے ۔۔۔ اس کا ہونہار سنجیدہ سا بیٹا میرٹ کے باوجود میڈیکل نہیں کر سکا کہ اس کو اپنے باپ کی ایماندار مگر خالی جیب کا اندازہ تھا ۔۔۔ان کے چہروں پر دکھ کی لکیر کے ساتھ ایمان کی روشنی بھی ہے جو میں کچھ اپنی آنکھوں میں چھپا لائی ۔۔۔ میں نام نہیں لکھ رہی کہ قوم کا یہ گمنام ہیرو اپنی تعریف نہیں چاہتا مگر بہت سے لوگ اسے جان گئے ہوں گے۔۔۔ کاش ہم ایسے قیمتی لوگوں کو '' پہچان '' بھی سکیں ۔۔۔ہاں تو بات ہورہی تھی امین پارک کی ، جہاں 30 سالہ اقتدار کے باوجود حکمرانوں نے کیڑوں مکوڑوں کی زندگی میں بہتری لانے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔تنگ و تاریک گلیاں بدبودار تعفن زدہ نالیاں ، جگہ جگہ گڑھے گزرنے کو راستہ نہیں ، بجلی کی لٹکتی تاریں۔۔۔ کھمبوں کے نیچے بیٹھے پیسوں اور زندگی کی بازی ہارتے ہوئے جواری اور نشئی۔۔۔ بس الیکشن کے دنوں میں انہی کیڑوں مکوڑوں جیسے عوام کے لوٹے پیسے سے خریدی کروڑوں کی گاڑیوں میں بیٹھے '' حکمران '' دور دور سے ہاتھ ہلا کر انہیں خوش کر کے چلے جاتے ہیں ۔۔۔ جہاں دن دہاڑے لوگ اپنے گھروں کی دہلیز پر پستول کی نوک پر لوٹے جاتے ہیں، اغوا ہوتے ہیں پر کانوں آنکھوں اور دلوں پر مہریں ہیں ۔۔۔ اگر میں چند دن پہلے یہ سب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھتی تو شاید نہ یقین کرتی کہ اکیسویں صدی میں پاکستان کے امیر ترین حکمران کے اپنے حلقے میں انسان ایسی برائے نام '' انسانی زندگی '' بسر کر رہے ہیں ۔۔۔ جہاں گردو غبار چند لمحوں میں سانس لینا دوبھر کردیتا ہے۔۔۔ جہاں پینے کا آلودہ پانی چہروں پر بیماری اور موت کی زردی مل رہا ہے۔
اسی ہمارے گمنام ہیرونے 1987ء میں اپنی مہم کے دوران کہا تھا '' سڑکیں بن رہی ہیں رابطوں کے لئے مگر زندگی کے رابطے میں قطع کر کے ۔۔۔چند کھمبوں پر روشنیاں لگ رہی ہیں گھروں کے چراغ گل کر کے '' ہم آج بھی اسی جملے کی فضا میں سانس لے رہے ہیں اگرچہ یہ 2018ء ہے۔۔۔نہ ہماری سیاسی قدریں بدلیں نہ معاشرہ ۔۔۔نہ تعلیم و شعورنے ہمارے دروازوں پر دستک دی نہ اخلاقیات نے جھانکا ۔۔۔ بلکہ ہم بچھا کھچا بھی لٹانے پر تلے ہیں ۔۔۔وہی حکمران ہیں اور وہی سڑکوں کا جال ۔۔۔. جو اب عوام کے گلے کا پھندہ بن چکا ہے۔
سوچوں کے گرداب میں پھنسی جب میں وہاں سے نکلی تو جس گاڑی میں بیٹھی وہ آج کا نوجوان تھا ۔۔۔اور امین پارک میاں نواز شریف کے حلقے کی حالت پر نالاں ۔۔۔ میں نے یونہی بات چیت شروع کی علاقے کے حوالے سے تو وہ پھٹ پڑا ۔۔۔ میرا پوچھنا غضب ہو گیا ۔۔۔بھرا بیٹھا تھا کہنے لگا '' میڈم میں ایم اے کر رہا ہوں کام کے ساتھ ساتھ ا بھی چند سال پہلے انہی لوگوں کے چنگل میں تھا ۔۔۔ بڑی بڑی مونچھیں اسلحہ لے کر غنڈوں کے غول میں چھوٹی موٹی بدمعاشی کرتا تھا۔۔۔ تھپکیاں دے کر ہمیں استعمال کیا جاتا تھا لیکن جب میں نے دیکھا کہ کس طرح انسانوں کا یہ سیاسی لوگ استحصال کرتے ہیں ۔۔۔کس طرح شاباشی دے کر اپنی کرسیوں کی خاطر بوقت ضرورت چھوٹے بڑے مہروں کو مرواتے ہیں ۔۔۔ میرا دل کھٹا ہو گیا ۔۔۔ میں نے جوان لاشوں پر بوڑھے ماں باپ کو تڑپتے دیکھا ۔۔۔ انہی لوگوں کے ہاتھوں مجبور کا رکنوں کے گھرانوں کی عزتیں پامال ہوتی دیکھیں ۔۔۔ خود پرشرم آئی اور میں ان لوگوں سے دھمکیوں کے باوجود دور ہو گیا ۔۔۔ .نیت صاف تھی اللہ نے مدد کی ۔۔۔ آج اپنا باعزت روزگار ہے ۔۔۔پھر سے تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور ماں باپ کی دعاؤں کا سایہ ساتھ ہے '' جانے یہ سب سن کر کیوں میری آنکھیں نم ہونے لگیں؟ مرے دل سے دعا نکلی '' یااللہ مرے وطن کے ہر بھٹکے ہوئے نوجوان کو یہی روشنی عطا کر دے۔۔۔ ظالموں اور غاصبوں کو بے نقاب کر دے کہ اب بہت ہو چکی ہیں آزمائشیں ہم انسان بہت کمزور ہیں''۔ یہ آنسو خوشی کے بھی تھے کہ میں جو ان گلیوں میں تاریکی میں بھٹکتے جسم اور ذہن دیکھ کر افسردہ تھی ۔۔۔اس پچھلی نسل کے گمنام ہیرو اور اس کے گھرانے کے کردار کے ساتھ ساتھ اس نوجوان کی باطنی روشنی نے مجھے امید کی وہ کرن دکھا دی جو شاید معاشرے کی بہت سی نظروں سے اوجھل ہے یا ہم نے آنکھیں موند لی ہیں ؟


ای پیپر