پاک بحری سرحدیں محفوظ ہیں
15 اپریل 2018 2018-04-15

گزشتہ ماہ پاک بحریہ اور پاک فضائیہ نے بحیرہ عرب میں جاری بحری مشق رباط کے دوران لانگ رینج اینٹی شپ کروز میزائل کی فائرنگ کا کامیاب تجربہ کیا۔ پاکستان کی فضائیہ اور بحریہ کے اس کامیاب تجربے کو آپریشنل صلاحیتوں میں نہایت کامیابی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ پاک بحریہ کے ترجمان کے مطابق پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان اور پاک بحریہ کے چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے بذات خود پی این ایس نصر سے میزائلوں کے اس کامیاب تجربے کا مظاہرہ دیکھا۔ میزائل فضا اور سمندر سے داغے گئے۔ پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر ایئر کرافٹ اور پاک بحریہ کے F-22P فریگیٹ پی این ایس سیف سے میزائل فائر کئے گئے۔ پی این ایس سیف نے سطح سمندر سے سطح سمندر پر مار کرنے والا میزائل C-802 فائر کیا جبکہ پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر نے فضا سے سطح پر مار کرنے والا میزائل C-802AK فائر کیا۔ دونوں پلیٹ فارموں سے فائر کئے جانے والے ان اینٹی شپ میزائلوں نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ پاک فضائیہ کے ترجمان نے بتایا کہ بحیرہ عرب میں میزائل فائرنگ کا یہ تجربہ پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے مشترکہ آپریشن کی صلاحیت کا شاندار مظاہرہ تھا۔ ثابت ہوگیا کہ پاک بحریہ اور پاک فضائیہ ملکی سرحدوں کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
پاکستان گزشتہ بیس برسوں کے دوران دہشت گردی کے جس’ دیو‘ کا مقابلہ کر رہا ہے 2013ء میں حکومت کی تبدیلی کے بعد اس کے مقابلے میں نئے عزم کا اضافہ ہوا۔ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف مسلح افواج اور سکیورٹی فورسز کو مکمل اخلاقی ، مالی اور عوامی حمایت فراہم کی۔ سیاسی و عسکری قیادت واضح کر چکی ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے۔ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے دوران ملک کے تمام حصوں میں دہشت گردوں کے خلاف پاک افواج نے شاندار اور کامیاب آپریشن کئے جس کے نتیجے میں دہشت گردی کی کمر ٹوٹ گئی اور ملک میں اس حوالے سے نمایاں تبدیلی آئی۔ پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا کیا تاہم ملکی سرحدوں پر دباؤ کے باوجود کسی مقام پر کمزوری نہیں دکھائی۔
پاکستان کی بحری حدود کی سلامتی اور ان کا دفاع ہمیشہ سے پاکستان کے لئے ایک اہم معاملہ رہا ہے۔ گوادر پورٹ بننے اور آپریشنل ہونے کے بعد، سی پیک کے منصوبے پر عمل درآمد ہوتے ہوئے پاکستان کی سمندری حدود اور سرحدوں کی حفاظت اہم ترین معاملہ ہے۔ پاکستان نیوی اس میدان میں پوری طرح الرٹ اور تیار ہے تاہم نیوی سرحدوں کی حفاظت کے لئے اسے جدید اسلحہ کی ضرورت تھی۔ اس حوالے سے چند ماہ قبل نیوی نے سمندر سے سمندر میں مار کرنے والے ہتھیاروں کے تجربات کئے تھے مگر رواں سال مارچ کے پہلے ہفتے میں پاکستان کی نیوی اور فضائیہ نے جس مشترکہ آپریشن کو انجام دیا ، اس کے بعد ملک کی بحری سرحدوں کے بارے میں قوم پاک بحریہ اور فضائیہ پر مزید اعتماد کرنے میں حق بجانب ہے۔ بحری ذرائع کا کہنا ہے کہ بحری جہاز سے فائر کئے جانے والے جہاز شکن میزائل کی رینج 120 کلومیٹر ہے اور یہ بحری جہاز سے فائر ہونے کے بعد محض5 تا 6 میٹر کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے بحری جہاز کے اس حصے کو نشانہ بناتا ہے جو سطح سمندر کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ اس حصے کو نشانہ بنانے کی وجہ سے بحری جہاز کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ یہ دشمن کے جہاز کو 120 کلومیٹر دور تک اٹھانوے فیصد درست نشانے پر ہٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میزائل کو لڑاکا طیارے، میزائل بوٹ، بحری جہاز اور دیگر پلیٹ فارموں سے بھی فائر کیا جا سکتا ہے۔ بحریہ کو ان میزائلوں سے لیس کرنے سے بھارتی بحریہ کو احساس ہو گا کہ اس کے جہاز پاکستان کی حدود میں بلااجازت گھسنے کی صورت میں نشانہ بن سکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ اہم بات یہ ہے کہ اب فضائیہ بھی ان میزائلوں سے لیس ہونے کے بعد بحری حدود کے دفاع میں پاک بحریہ کے شانہ بشانہ ہے۔
یہ پاکستان کی دفاعی قوت میں شاندار اضافہ ہے جس سے امریکی ایف 16 نہ ملنے کے بعد پاکستان محروم تھا۔ پاکستان کو بحری سرحد کے دفاع کے حوالے سے خدشات ان تجربات کے بعد بہت کم ہو جائیں گے مگر ہمیں اپنے دشمن کے مقابلے میں ہر لحاظ سے ہردم تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ گوادر پورٹ آپریشنل ہونے کے بعد اور سی پیک کی وجہ سے پاکستان کے لئے سمندری حدود کی حفاظت اور ان میں کسی غیرملکی کی مداخلت روکنے کی صلاحیت ہونا بہت ضروری اور اہم تھا۔ اس تجربے کے بعد اس میں بہت بہتری آئے گی۔ نیوی کے طاقت ور ہونے سے ہمیں گوادر بندرگاہ کی حفاظت کے لئے کسی کا مرہونِ منت نہیں ہونا پڑے گا۔ پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے مؤثر اور متحرک اشتراک سے ملک کی بحری سرحد محفوظ ہو گی۔ اس تجربے کو دونوں سروسز چیفس نے بذات خود دیکھا جس سے ان کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ قوم پاکستان کے دفاع کے مشن میں مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے۔ پوری قوم دعا گو ہے کہ اللہ ہمارے محافظوں کو ملک کی حفاظت میں کامران رکھے۔


ای پیپر