نہ تیرے آنے کی خوشی نہ تیرے جانے کاغم
15 اپریل 2018 2018-04-15



آج کل سوشل میڈیا کی شہرت یافتہ ویب سائٹ فیس بک پر نام نہاداور خودساختہ ’قوم کی بیٹی ‘ کاخطاب پانے والی انیس سالہ ملالہ یوسف زئی عرف گل مکئی کے ’فیس‘اور’کریکٹر‘کے بارے میں مسلسل پوسٹس شیئر ہورہی ہیں ،ملالہ سے ہمدردی رکھنے والے فیس بک یوزر کی تعداد دوفیصد سے بھی کم ہے جب کہ ملالہ سے نفرت کرنے والوں کی تعداد 98 فیصدسے بھی زائد دکھائی دے رہی ہے۔ میرا یہ مشاہدہ اور تجزیہ میری نظروں سے گزرنے والی تین ہزارپانچ سوانیس فیس بک پوسٹس پر مبنی ہے۔ ان پوسٹس میں میک پوسٹس کے رومن اوراُر دو رسم الخط کے فیس بک یوزر رائٹرز حکومت پاکستان سے چیخ چیخ کر پوچھ رہے ہیں آخر ملالہ نے ایساکون سا کارنامہ سرانجام دیا تھا کہ پاکستان آمدپراسے پروٹوکول دیا گیا؟ وزیراعظم خاقان عباسی ملالہ سے کیوں ملے؟ ملالہ کی آمد پر برقی میڈیاباربار فلش نیوزچلاکرنئی نسل کوکیا پیغام دینا چاہتا ہے؟ ’ملالہ‘ کا ملال کرنے والوں سے معصومانہ سوالات جوابات کے متقاضی ہیں کہ بچوں کی تعلیم کی جدوجہد کرنے پر امریکا اور مغربی طاقتوں نے ملالہ کو ’نوبل امن انعام2014ء‘سے نوازا اوراسے اقوام متحدہ میں بچوں کی تعلیم کا’اعزازی سفیر‘ مقرر کیا، افغانستان کے صوبہ قندوزمیں قرآنِ مجید فرقانِ حمیدکی تعلیم حاصل کرنے کی راہ میں شہید ہونے والے 157سے زائد معصوم پھولوں جیسے بچوں کی شہادت پراقوام متحدہ میں بچوں کی یہ اعزازی سفیرکیوں خاموش ہے؟ اور کب یہ مذمتی بیان جاری کرے گی؟عورتوں کے باحجاب نقاب کو ظلم اورپتھر کے دور کانام دینے والی ملالہ کی اوقات کیا ہے؟ساڑھے پانچ سال کے بعد آنے والی ملالہ کے مذموم مقاصد کیا ہیں؟اسے مستقبل میں پاکستان کی وزیرتعلیم بنانے کا کیا مقصد ہے؟ اس نے کون سے ایسے تیرمارے ہیں کہ ساری دُنیا اس کی معترف ہوگئی ہے؟ ناک صاف کرنے والی کم سن عمر میں ڈائری لکھنے والی ذہین و فطین گل مکئی کی کتاب کس نے لکھی؟ملالہ کی نیورو سرجری کرتے وقت اس کے بال کیوں نہیں کاٹے گئے؟ عزیزقارئین فیس بک پر اس طرح کے بے شمار سوالات کی ایک طویل فہرست ہے جن کے جوابات دینے کے لئے بہت سا وقت چاہئے اورجن کے پاس بہت سا وقت ہے وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں میں نے توان فیس فرینڈزکو ملالہ کی پاکستان آمدکے بارے میں ایک کمنٹ دیا ہے کہ۔۔۔
نہ تیرے آنے کی خوشی
نہ تیرے جانے کاغم
میرے احساس پسند اوردردِل رکھنے والے دانشور فیس بک فرینڈز نے بے علم بے عمل ملالہ کو قوم کی بیٹی تسلیم کرنے سے صاف انکارکردیا ہے اورقوم کی اصل بیٹی کا خطا ب باعلم باعمل مظلوم حافظہ عافیہ صدیقی کودیا ہے، اوربہن عافیہ صدیقی کوخراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے فیس بک پر اپنی پروفائل پکچر کی جگہ عافیہ صدیقی کی تصویرڈسپلے کررکھی ہے احساس پسند فیس بک فر ینڈز نام نہادمیڈیا سے چیخ چیخ کرپوچھ رہا ہے اصل قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کوامریکی عدالت نے تاریخ کی سخت ترین سزاسنائی اسے تب انسانیت کیوں یاد نہیں آئی جب عافیہ صدیقی پرہونے والے امریکی مظالم ڈھائے گئے اس پر خاموش کیوں رہے؟آخر ملالہ کوگل مکئی کانام دے کراسے مظلوم بنا کردنیا کو بیوقوف کیوں بنارہے ہو؟درددِل اورتیز یادداشت رکھنے والے دانشورفیس بک فرینڈزسابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے بھی سوال کررہے ہیں کہ میاں صاحب نے 2013ء کے الیکشن میں ’’عافیہ صدیقی کی رہائی سودِن کے اندراندرہوجائے گی‘‘کا عوام سے کیا گیا وعدہ پوراکیوں نہیں کیا؟کیا محض ووٹ حاصل کرکے وزیراعظم ہی بننا تھا؟اب فیس بک فرینڈزنے عوام کو انتباہ کیا ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں کسی بھی سیاسی اورمذہبی جماعت سے عافیہ صدیقی کی رہائی کے نام پر دھوکا مت کھائیں اوران سیاسی پنڈتوں کی چکنی چپڑی باتوں اورخوشنما نعروں سے بچیں۔ عزیز قارئین! ایسا لگتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا اصل جرم ملالہ نہ ہونا ہے۔ یقین فرمائیں اگر ایسا ہوتا تو آکاس بیل کی طرح پھلنے پھولنے اور کھمبیوں کی طرح اُگنے والی ’این جی اوز‘سراپا احتجاج بن جاتیں، آخر اس مظلوم بہن کا قصور کیا ہے۔۔۔؟مسلمان ہونا۔۔۔؟باحجاب ہونا، مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی پر دُکھی ہونا،اعلیٰ تعلیم ہونا یا پھر نوم چومسکی کا بیان اور قول کہ ’’یہ لڑکی جہاں جائے گی سسٹم کو بدل کررکھ دے گی‘‘یاپھر 144اعزازی ڈگریوں کا حسد۔۔۔ میری بہن ’قوم کی بیٹی‘ عافیہ صدیقی،اسلام کی عظمت عافیہ صدیقی تیرے ملک میں اب نہ تو کوئی حجاج بن یوسف ہے اور نہ کوئی ایوبی، نہ عمربن عبدالعزیز ہے اور نہ ہی طارق بن زیاد ہے افسوس صدافسوس بہن عافیہ مسلمان قوم بانجھ ہوچکی ہے۔۔۔
سو جا بے بسی کی چادر اوڑھ کر تو عافیہ
ماؤں نے محمد بن قاسم پیدا کرنا چھوڑ دِےئے


ای پیپر