ہوپیکر ِخلوص تو کافی ہے ایک شخص
15 اپریل 2018 2018-04-15

یہ شعر کس شاعر کا ہے، اگر افتخار مجاز کو بھی نہیں پتہ تو پھر میں خالد مسعود سے پوچھنے سے تو رہا۔ میری افتخار مجاز صاحب سے شناسائی واقفیت، دوستی ، بھائی چارگی اور آشنائی، کئی دہائیوں سے ہے، مگر ان کی آشنائی کا، پروڈیوسر ہونے کا اور وہ بھی پی ٹی وی کا پھر بھی کھوج نہ مل سکا، بلکہ عین ’عمرکائرانہ ‘ کے وقت وہ باریش ہو گئے ، اور یوں وہ نورالحسن کی ”ڈرامائی ڈاڑھی“ سے یکسر مختلف ہوگئے۔ افتخار مجاز ذومعنی مطالب ومفاہیم کے نام والے، جس کا مطلب ہی حقیقت اور اصلیت کے بالکل برعکس ہے، اس نام کا مطلب یہ بھی ہے کہ اختیار دیا گیا، گھمنڈی ، اور متکبر شخص مگر جیسا ہم ان کو جانتے ہیں وہ غیرت، اور بزرگی والے معنوں پہ پورا اُترتے ہیں۔ افتخار مجاز صاحب ہی کے دور میں، میں پی ٹی وی پہ نیوزکاسٹر اور ایک پروگرام کا میزبان بھی تھا، اور تب سے میں نے کالم نگاری بھی شروع کردی تھی، اس وقت جی ایم، پی ٹی وی رفیق وڑائچ ، اور اعظم خورشید دونوں سے دوستی تھی، گو وہ مجھ سے عمر میں خاصے بڑے تھے، مگر ان کے گھریلو اور معاشی ومعاشرتی راز ونیاز سے بھی آگاہ تھا۔ ایک دفعہ اعظم خورشید صاحب سے کسی نے پوچھا ، یار تم نے تو نام ہی بدل لیا، اور خودبھی بدل گئے ہو۔ انہوں نے جواب دیا، نہ میرا نام بدلا ہے، اور نہ ہی میں بدلا ہوں ، میں نے اپنے پہلے نام آفتاب اکبر کا ترجمہ کیا ہے، اور وہ اعظم خورشید بنتا ہے، مشہور اداکار مرحوم محمد علی ، اور اعظم خورشید کے اُستاد ایک ہی تھے پطرس بخاری کے بھائی جو ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل تھے، اور اپنی آواز، اور تلفظ کی وجہ سے مشہور ہوئے۔
میں نے جب کالم لکھنے شروع کیے، تو مین گیٹ سے لے کر نیوزروم اور میک اپ روم سے مسجد تک مجھے اس دن کے لکھے ہوئے کالم کے بارے میں ضرور بتاتے تھے، مگر خاص طورپر جو شخص میری حوصلہ افزائی کے لیے پیش پیش رہتا، اور جسے کالم عنوان سے لے کر اختتام تک لفظ بلفظ یاد رہتا، وہ افتخار مجاز ہیں۔ میں نے ”ازخود نوٹس“ لیتے ہوئے اچانک خبریں پڑھنی بند کردیں، ایک دن مجھے افتخار مجاز صاحب کافون آیا ، انہوں نے مجھے کہا کہ آپ ٹی وی سٹیشن آجائیں، گو یہ پیشکش آپ کے معیار کے مطابق تو نہیں مگر میری خواہش ہے، کہ ڈاکومنٹری جو حالات حاضرہ پہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ نے بنائی ہے، آپ کی آواز میں ہم فلمبند کرنا چاہتے ہیں، ان دنوں میرا گلا شدید خراب تھا، مگر ایک تو میں ان کے بے پناہ خلوص اور ہمدردانہ پن کی وجہ سے انکار نہ کرسکا ،اور دوسرے میں اپنی یادوں کو شروع ہی سے جو عملی زندگی کے آغاز سے اس ادارے سے منسلک تھیں تازہ کرنا چاہتا تھا۔ بہرکیف افتخار مجاز صاحب نے میری بے پناہ پذیرائی کی حتیٰ کہ مجھے پروین شاکر یاد آنے لگیں، اور ایک بادشاہ نے دوسرے سے بادشاہانہ سلوک کیا ، دوران گفتگو میں نے ان سے تبدیلی ِوضع قطع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اقبال ٹاﺅن کے ایک بزرگ کے بارے میں بتایا، کہ ان کی صحبت ِیاراں کا اثر ہے۔ میں نے ان سے گزارش کی تھی کہ حُسنِ ظن کسی کے ساتھ اپنی جگہ، مگر ایک انسان کو کسی دوسرے انسان کے سامنے اتنی جلدی آپ جیسے گرنتھی کو گرو ہوکر اپنے آپ کو گرا کر کسی کو گرومان کر گروی رکھ دینا کہ لوگوں کا گروہ ان کے گرد گھومتا رہتا ہے، میری سمجھ میں نہیں آتا۔
اور دوسرا اختلاف مجھے ان سے جناب اشفاق احمد کے بارے میں جب ان سے اردوسائنس بورڈ کے چیئرمین تھے، اچانک ان کی معزولی کی اطلاع پر ان کے ردعمل پر اختلاف ہوا، میرا ان سے تعلق اور ان کی شخصی پرکھ فرمانِ رسول اللہ کے مطابق ہے، کہ کسی بھی شخص کے بارے میں رائے تب قائم کرو، آپ نے اس سے لین دین کیا ہو، یا اُس کے ساتھ سفر کیا ہو، مجھے اُن سے اُن دونوں حوالوں سے تعلق رہا۔ مگر میں نے اپنی اس ”عمرِطفلانہ وبچگانہ “ میں ان سے بڑھ کر قول وفعل والا شخص نہیں دیکھا۔ میں ان کے پروگرام تلقین شاہ میں بھی کام کرتا رہا ہوں، ان کے نوکرکا کردار ادا کرنے والے معروف اداکار ”نذیر حسینی“ مرحوم اگر زندہ ہوتے تو ان سے ضرور اس حوالے سے بات کراتا، ریڈیو کے مشہور پروڈیوسر پنجابی دربار سے ان کے بارے میں استفسار کریں، تو وہ آپ کو اپنی رائے بدلنے پہ مجبور کردیں گے، کیونکہ خدائے کریم کے تمام عطیوں میں سے حکمت سب سے بڑھ کر ہے۔ اور حکیم وہ شخص ہے جس کے قول اور فعل دونوں یکساں ہوں، اس بات پہ جالینوس اور افلاطون مجھ سے اور میں ان سے متفق ہوں، کہ صرف باتوں کی حدتک حکیم نہ ہو، بلکہ قول وفعل دونوں کاحکیم ہونا چاہیے، کیونکہ صرف قول یعنی باتوں کی حکمت دنیا میں، اور عملی حکمت آخرت میں کام آتی ہے، اشفاق احمد ساری عمر ”مراقبے“ پہ زور دیتے رہے۔ خودامت مسلمہ کے بانی وباپ، محمد مصطفی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز اسی غوروفکر اور مراقبے سے کیا تھا، کیونکہ غوروفکر مراقبے کا درجہ رکھتا ہے، اور قرآن پاک میں غوروفکر کے بارے میں بار بار تاکید کی گئی ہے، کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ہر بات پر، اور ہر تخلیق پہ اور خود اپنی ذات پہ بھی غورکرنے کا حکم دیا گیا ہی۔ کیونکہ اس کی ضرورت دین ودنیا اور عاقبت کے ہرایک پہلو میں لاحق ہوتی ہے۔
اشفاق احمد صاحب کی ایک ایسی عادت ، جو میں نے ابھی تک تو کسی اور میں نہیں دیکھی کہ ٹیپ ریکارڈر لے کر دور دراز علاقوں، کھیتوں اور کھیلانوں میں نکل جاتے تھے اور کسانوں اور دہقانوں ، غرضیکہ ہرشعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کی باتیں، جن میں اکثر علم و حکمت بلکہ ”معرفت کے موتی“ کی شکل میں ان سے نکال لیتے، ان کا ہرہفتے چلنے والا پروگرام تلقین شاہ ریڈیو پاکستان کی تاریخ میں سب سے لمبی اور زیادہ دیر چلنے والا پروگرام تھا، شاید اس سے اختلاف ہونا ممکن ہو، کیونکہ مثبت اورمنفی دلیل کے لیے تو وکیل مل ہی جاتے ہیں، اور اعتزاز احسن تو ”سرعام“ بتاتے ہیں، کہ مجھے کوئی بھی شخص فیس ادا کرکے اپنا وکیل رکھ سکتا ہے، اور یہ بات انہوں نے میاں نواز شریف کے بارے میںکہی تھی۔ اگر دلیل پہ دلیل دینا ممکن نہ ہوتا، تو شاید اپیل دراپیل کا بھی تصور نہ ہوتا، اب جیسے قارئین میں سے کچھ دوست ، یا خود افتخار مجاز صاحب یہ نہ سمجھنے لگے ہوں کہ یہ اشفاق صاحب کے حق میں بولنے والا وکیل کہاں سے آگیا ہے ؟
اردوسائنس بورڈ جیسا ادارہ جب سے وجود میں آیا ہے، اس کے روح رواں اشفاق صاحب تھے، ان کے ہوتے ہوئے انہوں نے حکومت سے ”گرانٹ“ لینی بند کر دی تھی۔ اور وہ ”کماﺅ پتر“ حکومت کو منافع دیتا تھا۔ مگر ان کے جانے کے بعد اب تک کسی بھی چیئرمین نے کما کر نہیں دیا، بلکہ حکومت کو امداد دینے پر مجبور کردیا گیا۔ پہلے اردوسائنس بورڈ کا دفتر گلبرگ مین بلیوارڈ کی ایک کوٹھی میں ہوتا تھا، انہوں نے سوچا کہ ہرماہ کرائے سے بچنے کے لیے دفتر اپنا بنانا چاہیے، اور پھرانہوں نے رات دن دفتر کے لیے جگہ ڈھونڈنی شروع کردی، آخرکار انہیں گلبرگ ، اور کینٹ کے سنگم پرمیاں میر پُل کے ساتھ ایک جگہ بہت پسند آئی۔ اتفاق سے جب مالک کا پتہ چلا، تو وہ صاحب ان کے دوست نکلے، اشفاق صاحب نے منتوں اور ترلوں سے قیمت کم کرائی، وہ سمجھے کہ شاید ان کو اپنا گھر بنانے کے لیے جگہ چاہیے تھی، انہوں نے ممکن حدتک قیمت کردی، مگر جب بعد میں ان کو پتا چلا کہ وہ تو دفتر بنانے کے لیے انہیں دوستی کے واسطے دے رہے تھے، تو وہ سرپیٹ کر رہ گئے، جیسے میں افتخار مجاز صاحب کا کالم پڑھ کر سرپیٹ کررہ گیا کہ ان کی کتاب زندگی ”زاویے“ کو افتخار صاحب نے منفی زاوےے سے کیوں دیکھا، ایک دفعہ میں خبریں پڑھ کر جب فارغ ہوا، تو سٹوڈیو کا دروازہ کھول کر میں نے اندر جھانکا، وہاں پروگرام زاویے کی ریکارڈنگ ہورہی تھی۔ اشفاق صاحب نے مجھے دیکھ لیا، تو آواز دی نواز میاں اندر آجاﺅ، اُس دن ایک سے زیادہ پروگرامز کی ریکارڈنگ تھی۔ بعد میں، میں نے ان سے فرمائش کی کہ آپ اتنی محنت سے یہ پروگرام کرتے ہیں۔ آپ اِس کو کتابی شکل بھی دے دیں، تو انہوں نے میری بات سے اتفاق کیا، میری یادداشت میں، ان سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ مگر میں یہیں ختم کرتا ہوں، کہیں اس موضوع پہ بھی اور کالم نہ لکھنے پڑ جائیں۔ قارئین آپ رائے دیں شکریہ۔


ای پیپر