عمی سے عمران تک کا سفر 
14 ستمبر 2020 (19:40) 2020-09-14

میری بات ۔۔۔اسد شہزاد

یہ غالباً 1977ء کی بات ہے، میں ان دِنوں روزنامہ نوائے وقت کے سپورٹس ایڈیشن کے ساتھ منسلک تھا۔ سلطان عارف (مرحوم) سپورٹس انچارج ہوا کرتے تھے اور میں نے ان کی سرپرستی میں سپورٹس رپورٹنگ کا نہ صرف انتخاب کیا بلکہ انہوں نے مجھے باقاعدہ نیز روم سے کھیل کے میدان تک پہنچنے کے راستے اس انداز سے دکھائے کہ خبر کیا ہوتی ہے، خبر حاصل کرنے کے بعد خبر کو کیسے بناتے ہیں، کھلاڑی کے ساتھ رابطوں کا طریقہ کار میدان کے اندر کس طرح ہے، میچ کی رپورٹنگ کرنا وغیرہ۔ اسی دوران مجھے کرکٹ اور شوبز کی بیٹ میں بہت کام کرنے کو ملا۔ پھر ایک دور ایسا بھی آیا جب میں نے کرکٹ کے امور کو زیادہ کور کرنا شروع کیا۔ اور ایک طویل عرصہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ گزر گیا۔ 75ء سے 98ء تک کرکٹ دُنیا کے بے شمار واقعات کا چشم دید گواہ ہوں۔ اسی دوران مجھے ٹیم کے کپتان عمران خان کے زیادہ قریب رہنے کا موقع ملا۔ 1973ء میں میری صحافت کا آغاز ہوتا ہے۔ عمران خان 1971ء میں کرکٹ میں آئے اور پھر تین سال کرکٹ سے باہر رہنے کے بعد 1974ء میں دورۂ انگلینڈ کے دوران ان کو دوبارہ کرکٹ میں آنے کا موقع دیا گیا۔ یہاں نظام قدرت دیکھے کہ 25 جولائی برطانیہ میں ایڈلیڈ میں شروع ہون والے ٹیسٹ کو جو 25 جولائی 1974ء کو شروع ہوا اور 26 جولائی کو عمران خان نے ٹونی گریگ کو وسیم باری کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرا کے پہلی ٹیسٹ وکٹ لی اور پھر 44 سال کی کرکٹ اور سیاست کی انتھک محنت سے نہ صرف 25 جولائی 2018ء کو تحریک انصاف پورے ملک میں اکثریتی پارٹی بن کر ابھری بلکہ 26 جولائی کو عمران خان نے وکٹری تقریر کر کے وزیراعظم پاکستان بننے کے خواب کی تعبیر پا لی! 18 سال کرکٹ اور 22 سال سیاست کو دینے والے اس انسان کو میں نے اٹھارہ سال تک کرکٹ سے شوکت خانم اور وہاں سے تحریک انصاف کی سیاست تک جب سکاچ کارنر کینال ویو میں تحریک انصاف کا پہلا سیاسی دفتر کھلا تو اس کے میڈیا سیل کے انچارج مجاہد منصور (صحافی) اور میرے ذمہ عمران خان کے ساتھ میڈیا کے لوگوں کی ملاقاتوں کا اہتمام کرانے کے علاوہ خبروں کی کوریج اور پریس کانفرنسوں کا اہتمام کرانے کے علاوہ خبروں کی کوریج اور پریس کانفرنسوں کا اہتمام کرنا شامل تھا۔ تقریباً ایک سال میڈیا سیل میں کام کرنے کے بعد میں دوبارہ روزنامہ جنگ میں چلا گیا۔ گو عمران خان سے گھریلو تعلقات تک کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ سوائے عمران خان کے گزشتہ پانچ سال سے ٹوٹا سلسلہ چند اختلافات کا سبب بنا جن کا ذکر ان کالموں میں ضروری نہیں کہ ذاتی معاملات اور ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کے سبب میرے ذیل کے کالموں میں عمی سے عمران تک کے سفر کی کہانی اور عمران کے بارے میں چند واقعات کے ذکر حال شامل ہے۔

پاکستان میں روز اول ہی سے سیاسی قیادتوں کا خلا رہا، 1947ء کے بعد قائداعظمؒ اور لیاقت علی خان کی صورت میں نئے وطن، نئی قوم اورنئے لیڈر کا ملنا ایک خوشگوار عمل تھا، 1948ء میں قائداعظمؒ کے انتقال اور  لیاقت علی خان کے قتل کے بعد بدقسمتی سے یہ ملک اورقوم بڑی لیڈرشپ سے محروم ہو گیا اور پاکستان کے مسائل پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے گئے پاکستان ایک نظریاتی ملک توبن گیامگر وہ کوئی ایسا  لیڈر جنم نہ دے سکا جو بڑے ویژن کے ساتھ قوم کو لے کر آگے چلتا پوری دنیا میں لیڈر ہی قوموں کو ویژن کے سہارے بلندیوں تک لے جاتے ہیںاور لیڈر ہی ان کی شناخت اور ہیرو ہوتے ہیں لیڈر ہی قیادت کرتے ہوئے پوری دنیا میں آتے اور پھرچھا جاتے ہیں۔ ایوب خان کے مارشل لاء دور سے لے کر مشرف کے مارشل لاء اورپھر جمہوری حکومتوں کی جوڑ توڑ پالیسیز نے جہاں ملک کو توڑا، اداروں میں ٹکرائو پیدا کیا ملک کوقائداعظمؒ نے انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرایا اور ہمارے حکمرانوں نے اسی ملک کوامریکہ اور بڑی سپرپاورز کے ہاتھوں گروی رکھوا دیا، یہاں بھی لیڈرشپ کا فقدان دکھائی دیا، اگر روز اول سے ہمیں قائداعظمؒ جیسے لیڈر کی قیادت میسر ہوتی تو پھر پاکستان کے حالات بہت مختلف ہوتے، آج پاکستان یورپی ممالک کی ترقی کے مقابلے میں کھڑا نظر آتا دور جدید میں وہی ملک کامیاب کہلائے جنہوں نے اچھی قیادتوں کو سامنے لا کر اپنی ترقی کے راستے استوار کئے۔ میرے نزدیک لیڈر کی ذات کسی بڑی عبادت سے کم اور نہ قیادت کبھی آسان ہوتی ہے، کوئی لیڈر اپنے کام میں کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو اس کی راہ ہمیشہ چیلنجز اور حیرتوں سے بھری پڑی ہوتی ہے گو وہ اکیلا ان چیلنجز کا مقابلہ تنہا نہیں کر سکتا، قیادت کی تعریف ہے کہ کسی بھی قائد کے ساتھ ایک گروہ یا تنظیم ضرور ہوتی ہے جو ہدف کو حاصل کرنے میں کوشاں رہے، دیکھیں اچھے لیڈرز کے پاس ہر سوال کا جواب نہیں ہوتا، وہ اپنے کام اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی آبیاری کرتے رہتے ہیں۔ یاد رکھئے کہ کوئی بھی انسان اپنی ماں کی کوکھ سے لیڈر بن کر پیدا نہیں ہوتا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مثبت سوچ اور مثبت عمل ایک اچھا لیڈر قوم کو دنیا میں منوا جاتا ہے مگر ہمارے ساتھ کیا ہوا کہ ہم نے مفادات اور اقتدار کے نشے میں ایسے لیڈر اپنے اوپر مسلط کر ڈالے جن کا اپنا ماضی ہمیشہ داغدار رہا اور انہوں نے دور اقتدار میں اقدار کی پامالی کرتے ہوئے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہمیں ہر دور میں اچھے لیڈر کاخلا دکھائی دیا، سوائے ذوالفقار علی بھٹو کے جو آج بھی ایک بڑے لیڈر مانے جاتے ہیں کہ انھوں نے روز اول ہی سے یہ بات محسوس کر لی تھی کہ سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر عوام تک لایا جائے ،یہ بھٹو کا ایک ویژن تھا اور پھر ایک طویل جدوجہد کا آغاز ہوا، غریب آدمی نے بھٹو کے روٹی کپڑا مکان کو اپنی ضرورت بنا کر بھٹو کو بڑا لیڈر بنا دیا، بھٹو کے نعروں نے قوم کو ایک لیڈر دے دیا، یہ  وہ حقائق ہیں جنہیں تسلیم کرنا ہی دانشمندی ہے، بھٹو کے بعد اگر عوام نے کسی کو چاہا، کسی کو پسند اور  دل سے تسلیم کیا تو وہ عمران خان ہے، جس نے تبدیلی کا ویژن دے کر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نہ صرف بڑا دھماکہ کیا بلکہ دو بڑی موروثی پارٹیوں کے درمیان میں سے نکل کر ایک تیسری بڑی قوت بن کر تحریک انصاف کو پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت کی صف میں لا کھڑا کیا، اس کے ساتھ ہی قوم کو ایک بڑا لیڈر بھی مل گیا… عمران خان حقیقت سے حقیقت تک کے سفر میں پس پس کر حالات و واقعات کی ماریں کھاتا کھاتا 22 سال کی کشت اور جہد مسلسل کے بعد بالآخر بڑی لیڈرشپ کے دھارے میں آن کھڑا ہوا اور اقتدار اس کا مقدر بن گیا۔

اس کو لیڈرشپ کی صف میں آنے کیلئے کرکٹ ٹیم کے کپتان سے شوکت خانم ہسپتال کے بنانے تک اور پھر تحریک انصاف کو ایک طویل جدوجہد سے گزارنے کے بعد ایک بڑے ویژن کو عملی شکل دیتے ہوئے انھوں نے جن مشکلات کا سامنا کیا وہ اور عمی کے دوست جانتے ہیں، اس سے پہلے کہ بات آگے بڑھائوں یہاں عمران خان کے ساتھ اور اپنے تعلقات کے بارے میں بتاتا چلوں کہ 1974ء سے 1998ء اور پھر شوکت خانم کی مٹی سے لے کر اس کی افتتاحی تقریب تک اور پھر ہالیڈے ان ہوٹل لاہور میں تحریک انصاف کے وجود کے جنم دن سے لے کر عمران خان کے سیاسی لیڈر بننے تک مجھے ان کے ساتھ ایک طویل وقت گزارنے کا موقع ملا اور یہ بات بھی آن دی ریکارڈ ہے کہ عمران خان کی جمائمہ کے ساتھ شادی کی خبر کو بریک کرنا میرے اور رئیس انصاری کے نام کے ساتھ روزنامہ جنگ میں سپرلیڈ کے طور پر شائع ہونا ایک اعزاز ہے جو روزنامہ جنگ کے ریکارڈ میں موجود ہے۔

کرکٹ کے میدان میں عمران خان کی قیادت کو اورپھر بطور چیئرمین شوکت خانم کے آفس میں ورکنگ کرتے ہوئے دیکھا تحریک انصاف کے چیئرمین کو سیاسی دائو پیچ سیکھتے ہوئے واقعات کو یادکرتا ہوں تو مجھے کل اور آج کے عمران خان میں کوئی بڑا فرق نظر نہیں آتا وہ کل بھی ٹیم کے اندر تبدیلی کا خواہ رہتا تھا وہ آج بھی عوامی تبدیلی کا نعرہ لگا کر تبدیلی لے آیا۔

میں نے روزاول سے عمران کو انتھک دیکھا ،زمان پارک کرکٹ گرائونڈ سے قذافی سٹیڈیم تک اور… وہاں سے شوکت خانم کے سنگ بنیاد سے لے کر اس کی افتتاحی تقریب تک اور پھر پانچ سکاچ کارنر گلبرگ جہاں تحریک انصاف کا سفر شروع ہوا اور پہلا مرکزی آفس بنا طویل جدوجہد، طویل مسافت اور کٹھن مراحل طے کرتے کرتے عمران خان آج سب کے دل کی آواز بن چکا ہے۔

پاکستان کے فوجی اور جمہوری عمل میں سات عشروں سے زائد عرصے میں ہم کوئی ایسا لیڈر پیدا نہ کر سکے جو صحیح معنوں میں قومی لیڈر ہوتا، بھٹو کے بعد عمران خان، ہمارے بہت سے ناقدین بھٹو اور عمران خان کا موازنہ کرتے ہیں مگر میرے نزدیک بھٹو اور عمران خان کے دیئے ہوئے ویژن میں صرف ایک فرق تھا کہ بھٹو نے غریب کو جگایا اس کو زندہ تحریک دی روٹی کپڑامکان کا نعرہ دیا جبکہ عمران خان نے نوجوانوں کے اندر تبدیلی کا نعرہ دے کر پاکستانیوں میں پہلی بار ایک ایسا شعور ڈویلپ کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں ساٹھ سے ستر فیصد نوجوان اپر کلاس کو ووٹرز کی لائن میں کھڑا کر دیا جو کبھی گھروں سے نکلتی نہیں تھی اور تبدیلی کی ایسی ہوا چلی کہ ان کواندر سے جاگنے کا حوصلہ بھی پیدا کیا۔

میں بڑے دنوں سے سوچ رہا تھا کہ بھٹو کے بعد پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے منفرد عہد آفرین اور سلب اسلوب سیاسی رہنما عمران خان سے اپنی زندگی کے اہم گزرے وقت کو تحریر میں لائوں۔ عمران خان کے بارے میں وہ لوگ زیادہ جانتے ہیں جنہوں نے اس کے ساتھ ایک طویل وقت گزارا، اس کی طبیعت کا وہی لوگ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کل اور آج کے عمران میں کوئی فرق ہے یا نہیں میرے نزدیک کرکٹ کے میدان سے سیاست کے ایوان تک کے عمران خان میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی… اس کے انداز ندگی میں، اس کی طبیعت میں، اس کی باتوں میں خاص کر گزرتی زندگی میں حالات اور ماحول ضرور بدلے مگر وہ نہیں بدلا۔ کہتے ہیں کہ آدمی کو اپنے امیج کا قیدی نہیں ہونا چاہئے۔ عمران کے بارے میں بہت سے لوگوں کی مختلف آراء ہیں۔ میرے خیال میں ایک وہ زمانہ جب اس کی جماعت میں صرف عمران خان اکیلا ہی تھا اور اس نے ببانگ دہل اس بات کا اعلان کر رکھا تھا کہ وہ کسی ایسے بدنام سیاستدان کواپنی جماعت میں نہیں لے گا جو اس کے عزم کو توڑ دے اور پھر وہ اس عزم پر 22 سال قائم رہے، اور آج عمران خان کی جماعت میں زیادہ تر وہی لوگ جن سے پوری قوم واقف ہے اور وہ تحریک انصاف پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں، اکثریت پر برے الزامات ہیں اور وہ ان کے ہاتھوں ریموٹ کنٹرول بن چکے ہیں، وہ پارٹی کے اندرونی معاملات، اختلافات اور  سرمایہ داروں کا پارٹی پر غلبہ ہے، گو کہنے کو تو یہ نوجوانوں کی پارٹی ہے۔ مگر 2018ء کے انتخابات میں نوجوانوں کا فقدان نظر آیا  اور ن لیگ کے وہ لوگ جن کو عمران بدمعاشیہ  قرار  دیتا  تھا  وہ  اس کے اردگرد کھڑے نظر آ رہے ہیں، کیا 22 سال والا عمران خان بدل گیا یا اس کو مجبور کر دیا گیا ہے،   عمران خان کو جاننے والے جانتے ہیں کہ کل والے عمران خان میں بھی پہلی بار تبدیلی آ گئی ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا تبدیلی آئی ہے۔

عمران خان کا باغیانہ رویہ، بات بات پر جلد غصہ میں آ جانا، یہ عمران خان کا فطری عمل جو آج سے نہیں بلکہ اس کی جوانی سے چلا آ رہا ہے کہ وہ ایک دم ریش ہو جاتا ہے، سوچتا بعد میں جب غلطی کر گزرتا ہے۔ یہ خان کی پرانی روش اور وطیرہ ہے۔ کرکٹ کے میدان میں اس نے جو اصول اپنائے جو جارحانہ رویے اختیار کئے اور بورڈز سے کھلاڑیوں تک جو محاذ آرائیاں ہوئیں اختلافات جس قدر ابھرے وہ بھی عمران خان کی زندگی کی تاریخ کا ایک حصہ ہیں وہ جانتے ہیں جو اس دور میں میرے اور عمران خان کے ساتھی تھے۔ وہ میری باتوں کی تصدیق و تردید کر سکتے ہیں۔ کرکٹ ٹیم کے اندر عمران خان کا یہی تو خوف تھا کہ وہ معمولی غلطی پر بھی جارحانہ رویہ اختیار کر لیتااور جو کہہ دیا اس پر عمل کر دکھایا۔

عمران خان کی طویل جدوجہد، اس کی شخصیت کا منفرد انداز، اس بات کا احاطہ کرتی ہے کہ آج وہ مقبول سیاست دان تو ہے مگر ابھی وہ سیاست کے اصل کھلاڑی کے طور پر میدان میں نہیں اتر سکا۔ جس کا اندازہ اس کی 2013ء سے لے کر 2018ء تک کی تقاریر، بیانات اور فرنٹ فٹ سے ایک دم بیک فت پر آ جانے سے ہوتا ہے یہ اس کی تیز طبیعت کا ایک خاصا ہے جس عمر میں وہ وزیراعظم بنے ہیں اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ اب اپنی طبیعت میں تحمل مزاجی پیدا کر لیتے اور سکون کے ساتھ امور چلاتے۔ اب ان پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے اب وہ ایک جماعت کا نہیں پورے ملک کے وزیراعظم ہیں۔

(جاری ہے)

ایک دیرینہ دوست ہونے کے ناطے میری تمام ہمدردیاں عمران خان کے ساتھ ہیں، خدا تعالیٰ نے آج قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان کو جو عزت، شہرت بخشی یہ ان کی دیانتداری اور ایمانداری کا پھل ہے جو ان کو وراثت میں ملا، عمران کے بارے میں ایک اور بات کرتا چلوں کہ ملک اور عوام کے بارے میں عمران خان کے اندر اس وقت فکر کی سوچ ابھری جب وہ شوکت خانم کی فنڈریزنگ میں مصروف تھا۔ اس دوران ان کو لوگوں نے پاگل تک قرار دے دیا کہ یہ ہسپتال بنائے گا اور پھر پوری دنیا کو ہسپتال بنا کر دکھا دیا، اس دوران بہت سے چشم دید واقعات کا میں گواہ ہوں، جب قذافی سٹیڈیم الحمراء لاہور میں فنڈریزنگ کا بڑا شو جس میں ریکھا، بیدی، ونود کھنہ وغیرہ بھارت سے آئے اس وقت عمران کاجذبہ قابل دیدنی تھا۔ ہسپتال بنانے کے بعد تحریک انصاف کو بھی وہی محبت اورجذبے دیئے اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بڑی سیاسی قوت بن کر ابھرنے والی تحریک انصاف نے جس طرح نوجوانوں میں جو شعور ڈویلپ کیا اور اس کو گھر سے نکال کر سڑکوں پر دھرنوں کی سیاست کی جو راہ دی ہے وہ راہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں نہ دے سکیں میرے  نزدیک اس کی وجہ عمران خان کی مقناطیسی شخصیت کا بھی بڑا کردار ہے اور کرکٹ کا یہ دیوانہ آج بھی کرکٹ ہی کی طرح پوجا جاتا ہے۔ کرکٹ لوورز کی تعداد آج بھی عمران خان کی بڑی شیدائی اور اس کی تبدیلی اور سونامی کے نعرے تلے اکٹھی ہو چکی ہے لیکن موجودہ حالات میں عمران خان کہاں کھڑا ہے؟ آج ان کے مقدر میں جو کامیابی لکھ دی گئی ہے کیا وہ اس کو سنبھال پائیں گے؟ اس کا تمام دارومدار صرف عمران خان کی شخصیت پر منحصر ہے کہ وہ اپنی جلالی طبیعت کو کس طرح کنٹرول کر پاتے ہیں اور بجائے سنی سنائی باتوں پر توجہ دیں، ان کو اپنے اندر سے وہ فیصلے کرنا ہوں گے جو تحریک انصاف کے موجودہ تسلسل کو آگے بڑھا سکیں۔

آج عمران خان اور تحریک انصاف کہاں کھڑی ہے؟ قوم کو آج عمران خان کی کمپلیکس فری قیادت سے بہت سی امیدیں ہیں۔ خوش نصیبی اور بدنصیبی کا مرکب پیچیدہ پاکستان چل ہی اچھی امیدوں پر رہا ہے اور بدنصیبی تو اپنا رنگ خوب دکھا ہی رہی ہے۔ عمران خان کی دیانت بھی مسلمہ ہے جس کا یقین ان کے بددیانت سیاسی حلیفوں کو بھی ہے، جسے وہ دل سے تو تسلیم کرتے ہیں لیکن بددیانتی کا غلبہ انہیں زبان سے یہ اعتراف نہیں کرنے دیتا۔ لمبے چوڑے تجزیوں پر محنت کی ضرورت نہیں۔ یہ اب کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان آج جن جملہ بحرانوں کا شکار ہے اس صورت حال نے ہمارے قائدین کی بددیانتی سے ہی جنم لیا ہے۔ یہ عمران خان کی اپنی خوش قسمتی ہے کہ بددیانت سیاستدان اس کی دیانت کا اعتراف نہ کر کے اپنے کھوکھلے پن میں اضافہ کرتے ہیں کیونکہ حقائق کے اعتراف کی اپنی طاقت ہے اور ان سے نظریں چرانے کی مکاری چور کے کردار کو اور مسخ کرتی ہے، عمران خان کے ذہن نشین رہے کہ انھوں نے اپنی سیاست کا آغاز تو کرکٹ کے سحر سے کیا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عمران خان برسوں کے بعد قوم کو ملنے والا ایک حقیقی عوام دوست سیاسی رہنما ہیں، جن کے نام کے ساتھ جناب، صاحب اور سر نہ عوام لگا کر ان کے اور اپنے درمیان فاصلہ بڑھاتے ہیں نہ لکھنے والے اس درباری تکلف کو ضروری سمجھتے ہیں۔ عمران خان نے قوم اور بین الاقوامی برادری کے انسان دوستوں کے ساتھ مل کر اپنی ماں کے نام پر جو ہسپتال قائم کیا اور پسماندہ علاقے میں نمل یونیورسٹی، عوامی خدمات کے ان ہر دو اداروں میں خدمت کی فراہمی کا جو انتظام اختیار کیا اس سے خان کی عوام دوست سوچ، جذبے اور اداروں کو مستحکم رکھتے اور آگے بڑھاتے ہوئے چلانے کی صلاحیت کا پتہ ملتا ہے۔

فقیر نے خاں صاحب کو بہت قریب سے دیکھا اور دیکھتا ہے۔ وہ تعریف و توصیف اور خودستائشی کے عذاب سے محفوظ قومی پارلیمانی سیاست کا خوش قسمت سیاستدان ہے جو واہ واہ پر شک کرتا ہے۔ وہ عوام کا فقط ہمدرد ہی نہیں اور انہیں محض ڈلیور ہی نہیں کرنا چاہتا، بلکہ وہ ان کی خودی اور خودداری کا شدت سے متمنی ہے۔ سب سے بڑھ کر وہ ہمارے ٹیکنالوجی سے سیاست کا کھیل کھیلنے اور دنیا کا شعور حاصل کرنے والے تازہ ذہن اور سٹیٹس کو سے شدت سے شاکی نوجوانوں کا پسندیدہ سیاسی رہنما ہے۔ انھوں نے آج کراچی کا کفر توڑا اور خیبر پختونخوا میں باچاخاں اور بھٹو کی باسی سیاست کوالٹ پلٹ کر کے رکھ دیا۔ عمران خان پاکستان کے پوٹینشل کو خوب سمجھتے ہیں اور گماں ہے کہ وہ قیادت کے مطلوب انداز کے اس پوٹینشل سے ملک کو سنوار دیں گے۔ یوں یہ  ایک قیمتی قومی سرمایہ ہیں ۔ اللہ نہ کرے اکڑ سے نااہل ہو کر ضائع ہو جائے۔

قوم خوش قسمت ہے کہ شخصیت کی جملہ کمزوریوں کے ساتھ ابھی عمران خان کو پوری حکومت ملی ہے۔ عمران خان کی کمزوریاں اور خامیاں الیکشن 2018ء سے پہلے ان کے نہ سمجھ آنے والے فیصلوں اور خیبرپختونخوا میں ملے راج کے انداز حکومت سے عیاں ہو گئیں۔ فقیر اس کی صدا پہلے ہی لگا کر واضح کر چکا ہے کہ عمران خان مردم شناسی سے عاری ہیں۔ وہ یہ بھی یاد رکھیں کہ دولت مندوں کی کالی سیاست سے ملک کو بچانے کیلئے نہ صرف دولت مندوں کی مکار اورلالچ میں لپٹی معاونت سے کام نہیں چلے گا۔ بلاشبہ خیبر پختونخوا کے جو انداز سامنے آئے وہ عمران خان سے زیادہ تحریک انصاف کے کھاتے میں درج ہوئے، لیکن آج یہ نہ بھولنا چاہئے کہ عمران خان پاکستان کی حکمران جماعت کے قائد ہیں۔ جس نے ایک طاقتور کو اڈیالہ جیل بھجوا کر ثابت کر دیا کہ اگر احتجاج اور تحریک میں ولولہ ہو توپھر کرپشن ختم ہو سکتی ہے اور انھوں نے یہ کر کے دکھایا ہے۔

پاکستان اس وقت ٹرانزیشن (تبدیلی کے عمل) میں ہے۔ کیا سیاسی قائد اور کیا ریاستی ادارے اور کیا عوامی رویے، سب ہی کی اصلاح مطلوب ہے۔ سب نے گروم ہونا ہے۔ سب نے سیکھنا ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید و تجزیے کی تو گنجائش ہے جو احتیاط سے اور بغیر کسی سیاست سے ضمیر کی روشنی میں ہونی چاہئے لیکن توہین کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں خصوصاً سپریم کورٹ کی جو پاکستان کی بہتری کی جانب ٹرانزیشن میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انصاف کی بات ہی ہے کہ عمران خان کو بہت ذمہ دار بننا ہوگا اور انصاف کا دامن ہی پکڑے رہنا ہے کہ اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، عمران خان کو چمچوں، کھرچوں اور لولی پاپ دینے والے رسہ گیروں سے بچنا ہو گا ابھی تو آغاز محبت ہے، انھوں نے اپنی پہلی ہی تقریر میں جو عہد کئے وہ ساری قوم کی امید بن چکے ہیں۔ میرے نزدیک اب پرانی روش اور گندی زبان کو ختم کرنا ہو گا یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنا اور عمل صرف عمران خان نے کرنا ہے۔ 

عمران خان کی ذات سے کسی کو انکار نہیں کہ وہ کرپٹ نہیںہے،  مگر افسوس یہ ہے کہ انھوں نے تبدیلی کانعرہ تو لگایا مگر اپنے اندر جس سیاسی ویژن کی تبدیلی کی ضرورت تھی کیا وہ خود کو تبدیل کر پائیں گے؟ سیاست اپنی بات منوانے کا نام نہیں سیاست کے لئے تمام دروازے کھلے رکھنے پڑتے ہیں اور سب سے بڑھ کر لیڈرز کی بجائے ’’ورکر‘‘ کو سنبھال کے رکھنا ہوتا ہے جس نے جہاں آپ کو اسمبلیوں کے اندر لے کر جانا وہاں جماعت کوبھی مضبوط رکھنا ہے لیڈر تو آتے جاتے رہتے ہیں سیاسی جماعتوں کا وجود قائم رہتا ہے۔ عمران خان سے میرا سوال ہے کہ جن ورکروں نے تحریک انصاف کو سیاسی بنیاد فراہم کی اور وہ 22 سال تک جماعت کواپنا قیمتی وقت اور خون دے کر جماعت کی آبپاری کرتے رہے پھر جیسے ہی ’’سونامی‘‘ کانعرہ لگا اورپھر ہر طرف سے لوگوں نے آنا شروع کر دیا اور 22 سال ایک بات پر قائم رہنے والے عمران خان کی وہ اکیلا جماعت کو چلائے گا مگر کرپٹ سیاستدان اور جماعتیں تبدیل کرنے والوں کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔ اسی عمران خان نے کرپٹ لوگوں کے لئے اپنے دروازے کھول دیئے۔

عمران خان کوسونامی اور تبدیلی کے نعرے کے بجائے سنجیدگی کے ساتھ ان پہلوئوں پر غور کرنا ہو گا کہ لوٹوں کے آنے سے تحریک انصاف اپنی سیاسی بصیرت سے ہٹ چکی ہے۔ یہ جماعت اس وقت صحیح ورکروں کے پاس آئے گی، جماعت سے لینڈ کروزر مافیا اور امراء مافیا کو ختم کیا جائے گا، اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر یہاں وہی جماعتیں قابض ہوجائیں گی جن سے عوام چھٹکارا چاہتے ہیں۔ یہاں بھٹو اور عمران خان کا موازنہ نہ کیا جائے کہ میرے نزدیک بھٹو کا طرز سیاست عمران خان کی طرز سے سیاست سے بہت آگے تھا۔ میرے نزدیک جیت سے بڑی ذمہ داری کوئی نہیں ہوتی اورتحریک انصاف جتنا جیتی وہی ذمہ داری نبھائی جائے تو بڑی بات ہو گی، جس کی شدید پارٹی اختلافات کی موجودگی میں امید نظر نہیں آ رہی اوراگر اگلے پانچ سال کے اندر تحریک سیاسی اور حکومتی رویوں میں نہ ڈھل سکی تو قوم کیلئے یہ بہت بڑا المیہ ہو گا۔ قوم کے ساتھ جمہوریت کے ساتھ اور تبدیلی کے سلوگن کے ساتھ!

ناکامی بڑی شاندار چیز ہے اگر سبق سیکھا جائے ،کامیابی تباہ کرتی ہے اگر زعم میں مبتلا کر دے۔ اللہ کے رسولؐ کا طریقہ کار مختلف ہے، اپنی خامیاں گنتے جائو اور خود کو یاد دلاتے رہو، کہتے ہیں کہ جو مکا جنگ کے بعد یاد آئے وہ اپنے منہ پر مارنا چاہئے، عمران خان صاحب! امید ہی ایمان کے آگے سب سے بڑی علامت ہے ،کسی حال میںمایوس نہیںہونا چاہئے، خدا کی کتاب کہتی ہے، سب گناہ معاف ہو سکتے ہیں لیکن شرک اورناامیدی نہیں، یہ خدا تعالیٰ پر عدم اعتماد ہے۔

٭٭٭


ای پیپر