تبدیلی نہیں تبادلے
14 ستمبر 2020 (13:38) 2020-09-14

گزشتہ  2 سال سے تبادلے ہو رہے ہیں تبادلوں سے جان چھوٹے تو تبدیلی آئے، تبادلوں کے لیے تبادلہ خیال ضروری لیکن تبادلہ خیال کے لیے ایسے لوگ میسر جن کا تبادلہ نا گزیر، زندگی بھر جن سے تبادلہ خیال کرتے رہے وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ تبادلہ خیال کے لیے روز طلبی، شام تک پانچواں آئی جی پنجاب بھی تبدیل، جس کی تعریف کی چند روز بعد وہی راندۂ درگاہ، بیورو کریٹ اور انتظامیہ کے ’’اعلیٰ افسران خوفزدہ ‘‘ہم پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا، بہی خواہ کم حاسد زیادہ ،جس کی تعریف ہوئی اسی کی طنابیں کٹنے لگیں۔ چند روز میں اس کا دھڑن تختہ، ایک مشیر با تدبیر کو تو بیورو کریٹس کی نگرانی کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں آتا پہلے جن لوگوں میں تھے افسوس انہوں نے حضرت کی اس ’’غیر معمولی‘‘ صلاحیت سے فائدہ نہ اٹھایا۔ ورنہ در بدر نہ ہوتے، سرخروئی بعد کی بات ابھی تو روئے مبارک پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ پروا چلنے لگی ہے۔ فرد جرم عائد ہوتے ہی گواہان ٹڈی دل اور ابابیلوں کی صورت برآمد ہونے لگتے ہیں۔ بات سے بات چلی اور بتنگڑ بن گئی۔ عرض کر رہے تھے، تبدیلی کا ایجنڈا تبادلوں پر زور، ہر دوسرے چوتھے روز تبادلہ یا تبادلے، پنجاب کے پانچ آئی جی کھڈے لائن بقول غالب ’’جو تیری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا‘‘ گننے والوں کے پاس دو سالوں کا حساب، ایک تجزیہ کار نے کہا تبدیلی سرکار نہیں تبادلہ سرکار، دو سالوں میں 5 چیف سیکرٹری، 5 آئی جی،  4 چیئرمین ایف بی آر، 4 چیئرمین بورڈ آف انوسٹمنٹ، 4 سیکرٹری تجارت، 9 ہائر ایجوکیشن سیکرٹری، 3 سیکرٹری خزانہ، 3 ایس ای سی پی چیئرمین، 3 وزیر اطلاعات و نشریات، 3 فوڈ سیکیورٹی وزیر، 3 فوڈ انڈسٹری کے وزیر تبدیل کردیے گئے اس پر بھی ادارہ جاتی اصلاحات کا شور، موجود وزیروں مشیروں کی اور بات ہے پسندیدہ لاٹ میں مزید وزیر مشیر میسر نہیں، انہیں ساتھ رکھنا مجبوری انہیں بھی نکال دیا تو کوئی اور گھر دیکھیں گے کسی اور در پر دستک دیں گے، لشکریوں کی تعداد کم ہوئی تو’’ پانی پت کی جنگ ‘‘کیسے جیتی جائے گی۔ یہ الگ بات کہ موجودہ ہاتھی اپنی فوجوں کو ہی روند رہے ہیں۔ چنانچہ انتباہ اور الٹی میٹم کے باوجود وزیروں مشیروں کی کارکردگی صفر، گفتار کے غازیوں کو کردار کے غازی بننے میں وقت لگے گا۔  حکم شاہی صادر ہوا، اپوزیشن کو گالم گلوچ کی رفتار تیز کردی جائے، ایک سینئر صحافی کی بات اچھی لگی کہ کابینہ کا ہر وزیر مشیر وزیر اطلاعات ہے۔ گالم گلوچ پر یاد آیا، یہی کوالی فیکیشن لازمی، جسے یہ فن نہیں آتا، صلاحیت نہیں وہ ’’اس کی گلی میں جائے کیوں‘‘ کوئی رابطہ کرے تو اکبر الہٰ آبادی کا شعر پڑھ کر معذرت کرلے۔ ’’یہی ٹھہری جو شرط وصل لیلیٰ، تو استعفیٰ میرا با حسرت و یاس‘‘ اپوزیشن میں جواب دینے والے پانچ چھ اتنے سارے وزرائے اطلاعات کا جواب کیسے دیں گے۔ اسی لیے اپوزیشن سرنگوں، ستون گر رہے ہیں۔ حافظ حسین احمد کہتے ہیں کہ سیٹ اپ لانے والے اپ سیٹ ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ کھل جا سم سم والا جنتر منتر حافظ حسین کو نہیں آتا، ورنہ وہ اور مولانا فضل الرحمان اپوزیشن کو مصلحتوں کے سراب سے نکال کر ایک مضبوط اور متحد قوت کے طور پر ’’فرشتوں‘‘ کے حضور پیش کردیتے، متبادل کی موجودگی میں اپ سیٹ ہونا قرین قیاس تھا لیکن ’’جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکہ کھائیں کیا‘‘ بد قسمتی یا بد بختی، کرپشن کے ایک لفظ نے اپوزیشن کے رہنمائوں کو محرم سے مجرم کردیا۔ نیب نے سب کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا 

ہے۔ ہر چھوٹے بڑے لیڈر کے سر پر گرفتاری کی تلوار، نیب سے بچیں یا سیاست کریں، اب تو مائیں، بہنیں، بیٹیاں بھی عدالتوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ حیرت ہے نیب کو  20 سال تک کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثوں پر پکڑ دھکڑ کا خیال نہ آیا۔ چھوڑیے رات گئی بات گئی، نواز شریف اقامہ پر تا حیات نا اہل، کبھی بچوں کے پیسے بھیجنے اور کبھی توشہ خانہ پر اشتہاری ملزم قرار، اب غیر ملکی شہریت رکھنے والون سے ایوان بھرنے کے ارادے کہا یہ لوگ زیادہ محب وطن ہیں۔ پتا نہیں لیکن اپنے لوگوں کا کہنا ہے کہ دہری شہریت والوں کا ویژن مقامی لوگوں سے زیادہ وسیع ہے وہی حکومت چلا رہے ہیں۔ بقول حضرت علامہ اقبالؒ، نگہہ بلند، سخن دلنواز، جاں پر سوز، یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے ’’سب میں یہ خوبیاں موجود اور کیا چاہیے بیاں کے لیے‘‘ میر کارواں کا یہ حال کہ اپوزیشن دشمنی پر کمر بستہ، ہاتھ ملانے بلکہ شکل دیکھنے دکھانے سے گریزاں، اپوزیشن کے بغیر حکومت اور ملک چل رہا ہے۔ ماضی کی حکومتوں میں اپوزیشن جمہوریت کا پہیہ ہوا کرتی تھی۔ کرپشن اور اثاثوں کے کیلوں کانٹوں سے پہیہ ہی پنکچر کردیا گیا۔ اس کے بعد ہی دہری شہریت والوں کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اب ذرا تلخ حقائق کا ذکر ہوجائے۔ تبادلوں کے الٹ پلٹ میں تبدیلی کیا آئی۔ لاہور سے گوجرانوالہ جانے والی خاتون سمجھی تھی کہ دہری شہریت والوں کی موجودگی میں یہاں بھی عزت و احترام کے معیارات فرانس اور یورپی ممالک جیسے ہوں گے فرانس سے آئی تھی رات کو موٹر وے پر نکل آئی بچے ساتھ تھے لاہور سے چلی گوجرانوالہ نہ پہنچ سکی۔ پیٹرول ختم ہوا، رابطہ کر رہی تھی کہ درندوں کے رابطے میں آگئی۔ انہوں نے بچوں کے سامنے درندگی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ جنگل کے درندے بھی چھپ گئے۔ ’’سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے‘‘ مگر درندہ صفت جنگلیوں نے انسانیت کے سر شرم سے جھکا دیے۔ نیا پاکستان، تبدیلی کا شور، سونامی، تباہی، اخلاقی اقدار کی بربادی، گراوٹ کی انتہا، معاشرہ مزید کرپٹ، اخلاق سے عاری بلکہ خالی، خواجہ حالی کہا کرتے تھے اے مائوں بہنو بیٹیو دنیا کی عزت تم سے ہے۔ اب کچھ نہیں، درندے جنگلوں سے نکل کر پر رونق شہروں اور موٹر ویز پر آگئے ہیں۔ سی سی پی او (تبادلہ میں آئے ہیں) عمر شیخ نے کیسے منہ بھر کے کہہ دیا کہ خاتون کو رات کے وقت موٹر وے پر آنے کی کیا ضرورت تھی۔ شاید انہیں علم نہیں کہ وہ جس ملک سے آئی تھیں وہاں لوگ گھنٹوں موٹرویز پر تن تنہا سفر کرتے ہیں لیکن درندے کلبوں اور عیش کدوں میں ہوتے ہیں۔ موٹرویز پر نہیں آتے۔ سی سی پی او نے سوچے سمجھے بغیر بات کردی بعد میں معذرت کرنی پڑی، اسی لیے کہتے ہیں کہ بہت سوچو کم بولو، ہم سوچتے کم بولتے زیادہ ہیں۔ سی سی پی او کی بات زخموں کو کرید گئی۔ خون رسنے لگا۔  ایک ٹویٹ مل کہاکسی نے رپورٹ درج کرائی گھر میں ڈکیتی ہوگئی۔ ہیڈ محرر نے کہا ایسی جگہ مکان کیوں بنایا جہاں ڈکیتی ہوجائے کہا گاڑی چوری ہوگئی ڈانٹ پڑی کہ ایسی گاڑی کیوں خریدی جو چوروں کو اچھی لگے اور وہ چوری کرلیں۔ سارا قصور دہری شہریت والی خاتون کا نکلا کہ وہ اتنے درندوں کی موجودگی میں اس ملک میں کیوں آئی۔ یہاں تو وزیر اعلیٰ کے شہر میں بھی خواتین سے اجتماعی درندگی کے واقعات ہوتے ہیں۔ دو سالوں میں اجتماعی درندگی، اغوا، زیادتی کے کم و بیش  5 ہزار واقعات، 5 سالہ مروہ اور بچی زینب تک کو نہ بخشا گیا۔ کیا مائیں بہنیں بیٹیاں سب کے لیے قابل احترام نہیں؟ درندوں کے گھر خالی ہیں؟ ہم کہاں آگئے ہیں معاشرہ کروٹ لے رہا ہے۔ زلزلے تو آئیں گے۔ ان بستیوں پر اللہ کی رحمت نہیں پتھر برسیں گے۔ درندے جہنم کا ایندھن بنیں گے لیکن عزت و عصمت کی چادر تار تار کرنے والے درندوں کو یہاں بھی نشان عبرت بنایا جائے۔ وزیر اعظم اقتدار سے پہلے کہا کرتے تھے کہ اس قسم کے شرمناک واقعات میں ملزم نا معلوم ہو تو حکمران ذمہ دار ہوتا ہے۔ پتا نہیں اب ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ علی محمد خان سمیت وفاقی وزرا کی غیرت (چند لمحوں کے لیے سہی) جاگی ہے انہوں نے سی سی پی او کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ علی محمد خان نے کہا کہ کیا وہ اپنی ماں بہن بیٹی کے ساتھ اس قسم کی درندگی برداشت کرسکتے تھے تبادلہ کے بعد آئے ہیں۔ استعفیٰ کیوں دیں۔ انسانیت سوز واقعہ آخری نہیں ہونے والے واقعات کا تسلسل ہے۔ چار دن تک شور مچے گا۔ جذبات کی آگ سرد ہوجائے گی لیکن درندگی کا شکار خاتون اور اس کے بچے زندگی بھر کے لیے نفسیاتی مریض ہوگئے زندگی بھر کا پچھتاوا روگ بن کر ڈستا رہے گا۔ ریاست مدینہ بنانے چلے تھے قبل از اسلام جاہلیت کے دور میں پہنچ گئے جب لوگ غیرت کے مارے بیٹیوں کو دفن کر دیا کرتے تھے۔ لوگوں نے آبدیدہ ہو کر کہا خدا کے لیے ریاست مدینہ کا نام نہ لیں، حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے، مجرموں کو نشان عبرت بنانے کا عزم ہے تو سعودی عرب کی طرح انصاف چوک بنائیے جہاں جمعہ کے جمعہ ایسے درندوں کے سر قلم کیے جائیں مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ’’عجیب حال ہے لوٹا ہے کارواں جس نے، یہ مصلحت ہے اسے میر کارواں کہیے‘‘۔


ای پیپر